اک ہاتھ جو رہتا تھا دعا کی طرح سر پہ ۔ شمیم لودھی

کوئی تبصرہ نہیں

عوام الناس کا آنا جانا لگا رہتا تھا اُس ادارے میں ۔ مروجہ اور سرسری طریقے پر آمد و رفت جاری ہی تھی کہ یکا یک کچھ تبدیلیاں سب کی نظروں میں آگئیں مثلاً طالبات کا مرد کلرک کے کمرے تک جانا ہوتا تو اس کے دفتری میز تک پہنچ ہوتی مگر اب بیرونی کھڑکی کا صرف اتنا حصہ کٹوا کر راستہ رکھ دیا گیا جہاں طالبات کمرہ کلرک سے باہر رہ کر اپنے واجبات اورفنڈز جمع کرائیں ۔ ہوسٹل کی لڑکیاںبراہ راست گیٹ پر آکر مطلوبہ اشیا چوکیدار سے کہہ کر بازار سے منگوایا کرتیں ۔ انہیںروک دیا گیا اور حد بندی کی پابندی لگادی گئی ۔ کالج کے تمام مرد نوکروںکا داخلہ ممنوع قرار دیا جن کی رہائشی کمروں تک سیدھی رسائی تھی ۔ مجھے یعنی شمیم لودھی کو پرنسپل صاحبہ کے کمرے میں طلب کیا جہاں سارا سٹاف نصف دائرے میںموجود تھا ۔ مجھے متعا رف کروانا مقصود تھا ۔ انگلش کی لیکچرار گورڈن کالج پنڈی سے تعلیم یافتہ ، فزکس کی گولڈ میڈلسٹ ، بیالوجی کی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سند یافتہ…..یوں سب شخصیات سے آگاہی کروائی ۔مندرجہ بالا کالج میں سب تبدیلیاں جس بڑی شخصیت کی مرہون منت تھیں وہ تھے میرے پیارے ابا جان ۔ یہ اُن کا بڑا پن تھا کہ اپنی مصروفیت اور پیشہ ورانہ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے تعلیمی اداروں کا مشاہدہ کرنا اوراپنی تجاویز دینا ۔یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری و ساری رہا ۔ ہوسٹل کی ہیڈ گرل نے کہا کہ شمیم لودھی تمہارے ابا جان اگر آرمی میں ہوتے تو آج ہم انہیں میجر جنرل کے عہدے پر دیکھتے ۔ جس نے بھی ریلوے میں بھرتی کروایا صحیح نہ کیا ۔ ایسی ہی عظمتوں کے امین ٹھہرے ابو جی میرے ۔
اک ہاتھ جو رہتا تھا دعا کی طرح سرپہ
تذکرہ ہے محمد شفیع خاں لودھی صاحب کا ۔ اس تحریر کا محرک میرے شوہر کیپٹن فاروق لودھی بھی ٹھہرے ۔ میری امی کے بارے میںمیری تحریر ’’ مطمئن چہرے کی خوشبوئیں ‘‘ پڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ابو کے بارے میں لکھا جائے ۔ پونے پانچ سال قبل 24 رمضان المبارک کو عالم فنا سے عالم بقا کو سدھارے جہاں سب نے جانا ہے باری باری۔ 98سال کی طویل عمر پائی ۔ اپنی دعائوں سے فیض یاب کرتے رہے ہمیشہ کہتے ہر خاندان میں ملٹری افسر ، ڈاکٹر ضرور ہونا چاہیے ۔اپنی تینوں بیٹیوں کو بیٹوں کی مانند چائو لاڈ سے پالا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بنایا ۔ بیٹا ڈاکٹر بنا ۔ اپنی اولادوں سے پہلے اپنے چھوٹے بھائی کو بی اے آنرز کروایا اور اُسے یتیمی کااحساس تک نہ ہونے دیا ۔ اپنے والد یعنی دادا کی شکل بھی یاد نہ تھی۔
کم سنی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ عقل مند والدہ نے لدھیانہ کے گائوں میں اپنی حویلی میں پرائمری سکول کے استاد کو ٹھہرالیا اور ابا جی چچا کی یوں تعلیم کا بندو بست ہو گیا ۔ اپنے گائوں کے پہلے میٹر یکو لیٹ تھے اور چچا جان پہلے فرد جو بی اے آنرز کر سکے ۔ اسی طرح میں پہلی لڑکی اپنے پاکستانی گائوں کی جس نے بی ایس سی بی ایڈ کیا ۔ اپنی زندگی سادگی مگر پر وقار طریقے سے گزاری ۔ بیڈ منٹن کے نامور کھلاڑی تھے اسی (80) سال تک کھیلتے رہے ۔ بعد ازاں ہمیں کہتے آپ کھیلیںمیں بیٹھ کر دیکھوں گا ۔اُن کی دعائوں کا ثمر ہے کہ نواسہ ( میرا بیٹا) کرنل کے عہدے تک پہنچا ۔سفر نہ کر سکے تونواسہ اپنے تمغے(Rank)لے کر ان کے کمرے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچا اور ان کے ہاتھوں سے رینک لگوایا ۔ان کا بیٹا ڈاکٹر زاہد لودھی ، نواسہ ڈاکٹر یاسر ، نواسی ڈاکٹر ناعمہ اورپوتی ڈاکٹر کرن ہیں ۔ داماد ریٹائرڈ فلائٹ لیفٹیننٹ ایئر فورس ہیں ۔ انہیں مل کر اور دیکھ کر مسرت سے لبریز ہوتے ۔ کمال مہر بانی سے تینوں بیٹیوں کو عمرہ کروایا اور انکسار کا یہ عالم کہ ایک بار ملنے گئی تو کہنے لگے ، یہ بیٹی شمیم نے مجھے عمرہ کروایا ۔ گمنام نیکیاں کمانے کے شائق، خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ، بھائی کے کلینک پرجا کر خوش ہوتے ،فری شفیع ڈسپنسری چلاتے رہے ۔
ہر کام کو اور اپنے قریبی ہر خاندانی فرد کو نقطہ کمال تک پہنچنے کی تلقین کرنا اُن کا شیوہ زندگی تھا ۔یہ ان کا قول رہا کہ دنیا میں نا ممکن کا وجود نہیں ہر کام اور ہر منزل آسان اور ممکن ہو سکتی ہے جب عزم صمیم ہو ۔ جسمانی ورزش اور صحت کے اصولوں کی پاسداری کی ۔سستی اور کاہلی کو سخت ناپسند کرتے ۔اپنی والدہ یعنی میری دادی جان کی خوب خدمت کی۔اُس دور میں زیتون کا تیل کمیاب تھا ۔ بمشکل چھوٹے چھوٹے ٹین نما ڈبوں میں دستیاب ہوتا ۔ وہ اہتمام سے لا کر اپنے ہاتھوں سے دادی کی مالش کرتے۔ آخری عمر میں دادی جان کے ہاتھ پائوں اور بازو، ٹانگیںنرم و ملائم تھیں۔باقاعدہ ڈاکٹر سے چیک اپ کرواتے ۔ سیب کے جوس کا اتنا اہتمام کہ ان کی وفات کے بعد کثیر مقدار میں سیب موجود تھے ۔ روح افزا ان کے لیے گائوں میں لاتے ۔ ایک بار پتہ چلا کہ گائوں میںدودھ کا ڑھنی (مٹی کی ہنڈیا جس میں اُپلوں کی دھیمی آنچ پردودھ رکھا جاتا ہے یا تھا ) کا کنارہ دادی کے ہاتھوں میں رہ گیا اور دودھ نیچے گر کر بہہ گیا ۔ ہمیں یعنی امی جان کو تاکید کی کہ اپنے گائوں میں جا کر اُن کی دل جوئی کریں ۔دودھ مکھن کی اہمیت اور خالص غذائوں کی قدر دانی اس قدر تھی ۔ دادی جان ہمارے پاس ملنے آئیں تو ایک عورت سے حج کی باتیں بغور سنا کرتیں ابو کو پتہ چلا تو فوراً اپنی والدہ کو حج پر بھیجنے کا پروگرام بنا ڈالا ۔ یوں تقریباً پہلی بیوہ حاجن حمیدہ بی بی بنی۔ خال خال کسی دیہات میں کوئی حج پر جاتا تو سب نواحی گائوں میںدھوم مچ جاتی ۔ یوں بزرگوں کا احترام کرنا نمایاںوصف تھا ۔ اپنے استاد جن کے لیے بھارت میں یعنی قیام پاکستان سے قبل ان کی والدہ نے اپنا احاطہ پیش کیا تھا ہمیشہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا یوں وہ ہمارے بھی ابتدائی استاد رہے ۔ اردو قاعدہ اور تختی گاچنی کا بھرپور استعمال تھا یوں کہ لکڑی کی تختی پر گیلی ملتانی مٹی ( گاچنی) لگا کر سرکنڈے کے قلم سے گیلی پر ہی خوش خطی کروائی جاتی ۔ ہمارےلیے تو خیر شفقت ہی تھی ورنہ ابا اور چچا جان کے یہ مشہور استاد نور محمد اپنی سختی اور جسمانی سزائوں کے لیے اس قدرشہرت کے حامل تھے کہ شاگرد بھاگ کھڑے ہوتے یوںاکثریت گائوں کی میٹرک نہ کر سکی ۔ ابو ، چچا کی استقامت کی داد دینا بنتی ہے جو ڈٹے رہے اور کامیابی سمیٹتے رہے ۔نور محمد کے4 بیٹے تقریباًان پڑھ رہے ۔ نور محمد ماسٹر سبق یاد نہ کرنے والے شاگرد کو لٹا کر اوپر چڑھ بیٹھتے اور باریک چٹکی کاٹے رکھتے ۔ کڑی سزا پر سبھی روتے ۔یہ ابا جان کی تعلیم دوستی ہی تھی کہ ان کے پوتیاں ، نواسے اور نواسیاں آگے ان کی اولادیں یعنی اگلی نسلیں تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں ۔ صدقہ جاریہ ہیں۔
داستاں گوئی میری نہ کام آسکی
اس قدرمنفرد تھی کہانی تیری
ابا محترم کی قد آور شخصیت پہاڑی کے چراغ کی مانند تھی ۔ ایسے ہی انسان زمین کا نمک ہوتے ہیں۔ عمرہ میں مدینہ سے واپسی پرمسجد نبوی کے صحن میں ہاتھ پھیلائے بہت دیر تک کھڑے رہے ۔ مجھے گمان گزرا کہیں گرہی نہ جائیں کیونکہ دوران سعی صفا پر ویل چیئر زور سے پائوں پر لگ چکی تھی ۔ یہ آخری نذرانہ عقیدت تک اپنے پیارے نبیؐ کے لیے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ایسے جذبات ہر اُمتی کے ہوتے ہیں ۔ دوبارہ ان حرمین شریفین میں آنا نصیب میں ہے یا نہیں ۔ ہم فیصل آباد سے ٹوبہ ملنے جاتے تو اکثرمغرب کی اذان کے وقت خدا حافظ کہہ کر باہر دروازے سے نکلتے تو برہمی کااظہار ہوتا کہ اس وقت نمازی مساجد کا رُخ کر تے ہیں اس لیے نمازیوں سے پہلے یا بعد میں گھروں سے آمدو رفت رکھیں ۔ بچپن سے نو نہال ، تعلیم و تربیت ، بچوں کی دنیا اور عمر کے ساتھ ساتھ ادبی رسائل زیر مطالعہ رکھے ۔آج یہ میرے قلم کی روانی اس کی عکاس ہے ۔ یقیناً علم کا ذوق و شوق جنت کا حقدار بنائے گا ان شااللہ ۔
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp