دل وہیں رہ گیا ۔ کوثر خان

کوئی تبصرہ نہیں

’’۲ جون کی صبح تھی۔ گھر میں افرا تفری پھیلی ہوئی تھی۔ یہ اس وجہ سے تھی کہ ہماری امی کی دعاؤں کی قبولیت کا وقت آن پہنچا تھا۔ بیت اللہ کی زیارت ہماری امی کی سب سے بڑی خواہش تھی اور اس خواہش کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔سامان تیارتھا، امی دو بجے گھر سے نکلیں اور جناح ٹرمینل پہنچیں وہاں سے جہاز میں سوار ہوئیں اور سعودی عرب روانہ ہوگئیں۔ یہ ہماری امی کا جہاز میں پہلا سفر تھا اور ہمارے لیے ایک یادگار واقعہ‘‘۔
یہ احساسات تھے ایک بچے کے جس کی ماں کے دل میںکئی سال سے بسی ایک مقدس خواہش پوری ہونے جا رہی تھی ۔ وہ ماں میں ہی ہوں اور وہ بچہ میرا چھوٹا بیٹا ہے جس نے اسکول کی کاپی کے ایک صفحے پر اپنے معصوم احساسات تحریر کیے۔
طبرانی کی حدیث مبارکہ ہے’’حج اور عمرے کے لیے جانے والے اللہ کے خصوصی مہمان ہوتے ہیں، وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ قبول فرماتا ہے اور مغفرت طلب کریں تو بخش دیتا ہے‘‘۔
یہ مبارک سفر میں نے اپنی والدہ اور ماموں کے ساتھ کیا۔ شریک حیات ناگزیر وجوہات کی بنا پر نہ جا سکے لیکن ان کی اجازت اور تمام تر تعاون قدم قدم میرے ساتھ رہا ۔ اس کے بدل میں میرے پاس ان کے لیے حرمین میں مانگی جانے والی دعاؤں کاتحفہ تھا۔
2 جون جمعۃ المبارک کا دن تھا۔آج میری دلی خواہش کی تکمیل کا آغاز ہونے جارہا تھا۔پانچ بج کر پانچ منٹ پر سیٹ اوکے ہوئی ،زبان سے تسبیح و تحمید کے کلمات ادا ہوئے ،اس کے بعد تمام مراحل تیزی سے طے کرتے ہوئے جہاز کی نشستوں تک پہنچ گئے۔ جہاز نے پرواز شروع کی تو میں نے پر سکون ہوکر نشست پر سر ٹکا دیا۔ شکر کے کلمات زبان پر جاری ہو گئے کہ مجھ گنہگار کو رب عظیم اپنے درپہ بلا رہا ہے اپنا مہمان بنا رہا ہے۔ دل پہ عجیب رقت طاری ہو گئی۔ آنسو جوآنکھوں میں تھمے ہوئے تھے جاری ہوگئے۔ دل نے کہا ابھی سے…. ان کو تواللہ کے دربار میں جا کر بہانا تھا…. مگر یہ آنسو ہی تو وہ انوکھا زاد راہ تھاجسے جتنا خرچ ہونا تھا اتنا ہی بڑھتے چلے جانا تھا!
جدہ کے مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے ہم جدہ ایئرپورٹ پہنچے۔ الحمدللہ سفر کا پہلا مرحلہ طے ہؤا وہاں اتر کر وضو وغیرہ کیا تھوڑا سا کھا پی کر تازہ دم ہوئے اور پھر مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رات 12 بجے ہم ہوٹل پہنچے۔ اتنے سفر کے باوجود تھکن غائب ہو چکی تھی۔دل بے قرار تھا کہ جلد از جلد حرم کے مقدس احاطے میں داخل ہو جائیں۔ ضروریات سے فراغت کے بعدرات دو بجے ہم نے دھڑکتے دل کے ساتھ حرم میں قدم رکھا ۔روح پرور منظر سامنے تھا ۔ بیت اللہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ سامنے موجود تھا۔ جس رب پر بنا دیکھے ایمان لائے ہیں یہ اس کا گھر تھا۔ اللہ نے مسجد الحرام کو مرکز امن و ہدایت اور باعث خیر و برکت بنایا ہے یہاں ایک نماز کا اجر ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ یہ امت مسلمہ کا مرکز شوق اور وحدت کی علامت ہے،جہاں عبادت کبھی نہیں رکتی اور ….میرےرب نے مجھے یہاں مہمان کے طور پر بلایا تھا۔۔ اللہ اللہ میرے نصیب ….بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی رقت طاری ہو گئی۔ آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا۔ زبان پر دعا جاری ہو گئی اور قلب ذکر و شکر کے احساس سے لبریز ہو گیا ـ۔
زم زم پی کرحالت سنبھلی اور پھر عمرہ کے ارکان ادا کیے۔ طواف کعبہ ،حطیم میں نفل پڑھنا،سیراب ہوکے زم زم پینا اللہ اللہ….اپنی خوش نصیبی پر رشک آنے لگا۔ ٹھنڈے فرش پر چلتے ہوئے نبیؐ پاک کی مشقتیں یاد آئیں ۔ بلال کا تپتے فرش پر گھسیٹا جانا یاد آیا ۔نبیؐ پاک کی مدینہ ہجرت کے مناظر آنکھوں میں اتر آئے۔سعی کے دوران ہموار سبک فرش پر چلتے ہوئے سنگلاخ پہاڑوں پربی بی ہاجرہؑ کی بھاگ دوڑ یاد آئی۔ حطیم میں نوافل ادا کیے ۔اللہ کے گھر میں تسبیح و تہلیل،مغفرت کی دعاؤں کی کیفیت ہی جدا تھی۔
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
تہجد کا وقت تھا جب عمرہ مکمل ہوا ۔ صلوٰۃ الفجر کے بعد ہم واپس ہوٹل پہنچے۔
اگلے دن پیروں میں خوب درد رہا ۔ لیکن لگن ایسی تھی کہ تھکن کے باوجود ہم حرم جا پہنچے ۔ نفل طواف کیے۔ طواف کے دوران طواف کی برکت سے درد بھی جاتا رہا۔ سیڑھیوں پہ بیٹھ کر کعبے کو پر شوق نگاہوں سے تکتے رہےاور دعاؤں اور تسبیحات میں مشغول رہ کر واپس ہوٹل آگئے۔
اگلا دن زیارتوں کےلیے مخصوص کیا تھا۔ کوسٹر میں داخل ہوئے جہاں کچھ زائرین پہلے سے موجود تھے۔ ایک گائیڈ بھی موجود تھاجس نے تسلی کے ساتھ ہمیں ہر زیارت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ جبل رحمت پر پہنچے ،یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کا خطبہ دیا تھا ۔ ہم نے یہاں دو رکعت نفل ادا کیے۔
اب ہم میدان عرفات کی طرف رواں تھے۔ وہاں روز حشر کا تصور باندھ کر تا دیر استغفار کرتے رہے، مسجد نمرہ دیکھی۔ عرفہ کے دن حضورؐ اکرم نے یہیں خیمے میں قیام فرمایا تھا۔ آج وہ سب تاریخی مقامات آنکھوں کے سامنے تھے جن کا ذکر سیرت کی کتب میں پڑھتے آئے تھے۔ مسجد جن، جہاں جنات کی ایک بڑی جماعت نے رسول ؐاللہ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا ــ مسجد خیف دیکھی یہ مسجد منٰی کے نزدیک پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ اس مبارک مسجد میں بہت سے انبیاء کرام نے نماز ادا کی ہے، رسولؐ اللہ اور صحابہؓ کرام نے یہاں حج کے دوران نمازیں پڑھیں۔ کہتے ہیں کہ یہاں 70 انبیاء کرام مدفون ہیں ــ وادی منیٰ پہنچے جو خیموں کا شہر کہلاتی ہے۔ تمام خیمے بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔ گرمی بہت شدید تھی لیکن اللہ کی رحمت شامل حال تھی جو سارے کام کروا رہی تھی۔ مسجد عائشہ پہنچ کر ہم نے احرام باندھا اور واپس حرم میں آ کر دوسراعمرہ ادا کیا، پھر واپس ہوٹل پہنچے ۔ تھکن ہوئی تو کیا ہؤا رب کریم قدم قدم پر آسانیاں اور آرام کا موقع بھی عطا فرما رہے تھے۔ ہم ان کے مہمان جو ٹھہرے تھے۔
آج شہر نبیؐ کے لیے روانہ ہوئے۔ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ مکۃ المکرمہ سے مدینۃ المنورہ کا فاصلہ اتنا زیادہ نہ ہوگا۔لیکن تصور کے برخلاف یہ فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ساڑھے چھے سو کلو میٹر کا یہ سفرپیارے نبیؐ اور صحابہؓ کرام نے بھوک پیاس سہتے ہوئے ،اونٹوں پرسفر کرتے ہوئے کئ دنوں میں طے کیا تھا۔ اور آج ہموار شاہراہ پر پانی کی طرح رواں گاڑی نے تقریباً چھے گھنٹوں میں ہمیں مدینہ پہنچادیا تھا۔ تمام راستہ ذکر اور درود شریف پڑھتے ہوئے گزرا۔ سہ پہر کے وقت مدینۃ المنورہ پہنچے، رہائش حاصل کی ،پھرتازہ دم ہو کر مسجد نبوی پہنچے ۔وہ سبز گنبد میرے سامنے تھا ….ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی….وہ جسے اب تک تصاویر میں دیکھا تھا آج ادب ،محبت،عقیدت،اپنے گناہوں پہ شرمساری کے احساسات کے ساتھ میں وہاں قدم رکھ رہی تھی۔ جہاں ایک نماز کا ثواب 50 ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ اس کی بنیاد سید الانبیاء نے اپنے دست مبارک سے رکھی تھی ۔روضہ مبارک پر حاضری کے لیے خواتین کا وقت مقرر ہے۔ بہت مشکل سے وہاں تک رسائی ہوئی بہت رش تھا لیکن خواتین منتظمین موجود تھیں جو پلاننگ سے خواتین کو اندر لے جا رہی تھیں۔ ویل چیئروالوں کے لیے خصوصی راستہ مقرر ہے۔یہاں فرش کا ایک حصہ ریاض الجنہ ہے جہاں دو نفل پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔ ریاض الجنہ جنت کا ایک ٹکڑا ہے ۔روزے کی جالیوں کو ہاتھ لگانا ناممکن ہے۔ پردوں کے پاس کھڑے ہوکر درود و سلام پیش کرتی رہی۔ سب عزیز و اقارب اور متعلقین کا سلام پہنچایا جو میرے پاس امانت تھا۔
اگلا دن مدینے میں موجود زیارات کے لئے مخصوص کیا۔ یہاں چلتے پھرتے ہوئے بس نبیؐ پاک کی مدنی زندگی نگاہوں میں پھرتی رہی۔معاشرتی ،عائلی اور دیگر احکامات الٰہی کا تیزی سے نازل ہونا ،مہاجر و انصار کو بسانا،مساجد کی تعمیر ،یہود و منافقین کی سازشیں ،پے درپے ہونے والے غزوات۔ کس قدر متحرک زندگی اور بھرپور جدوجہد تھی یہاں….چپہ چپہ جس کا گواہ تھا۔مسجد قبا تاریخ اسلام کی پہلی مسجد دیکھی۔ جسے نبیؐ اکرم کے دست مبارک سے تعمیر ہونے کا شرف حاصل ہؤا۔ نبیؐ کریم نے یہاں دو رکعت نماز ادا کرنے کا اجر ایک عمرے کے برابر قرار دیا ہے ۔
مسجد قبلتین میں نبیؐ اکرم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرما رہے تھے کہ قبلے کی تبدیلی کا حکم نازل ہؤا جس کی آپ کو شدید تمنا تھی۔ آپؐ نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں وحی کے ذریعے تحویل قبلہ کی آیت نازل ہوئی ۔اس وقت آپؐ کی اقتدا میں جماعت کے تمام افراد نے بیت المقدس سے رخ موڑ کر بیت اللہ کی سمت کر لیا اس لیے یہ دو قبلوں والی مسجد کہلاتی ہے ۔ ہم نے بھی یہاں نوافل ادا کئے۔ دیگر زیارتوں کے بعد ہم ڈبڈباتی ہوئی الوداعی نظروں سے سبز گنبد کو دیکھتے ہوئےمسجد نبوی سے رخصت ہوئے اور مکہ مکرّمہ کے لیے عازم سفر ہوئے۔
سفر کی تھکن اتار کراگلے دن عمرے کا ارادہ کیا۔اس کے لیے آرام دہ بس میں بیٹھ کر مسجد عائشہ پہنچے ۔ قیام مکہ کے دوران زائرین عمرے کی ادائیگی کے لیے یہیں سے احرام باندھتے ہیں۔ عمرہ مکمل ہؤا اور میں وہیں ایک پلر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔کعبۃاللہ میرے سامنے تھا ۔ میں اپنی خوش نصیبی پر ناز کرنے لگی۔ کیا میں کبھی اتنا سارا پیدل چلی تھی؟ اللہ کی رحمت اور مدد سے سارے مناسک ادا کیے ؎
شوق کھینچے لیے جاتا ہے میں کیا جاتا ہوں!
سعی کا ایک چکر تقریبا ًایک میل کے برابر ہے اس طرح ہم سات چکروں میں سات میل چلتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے طواف بھی خوب کئے۔زمزم بھی سیر ہو کر پیا۔ ہر عمرے کی ادائیگی کے بعد صدقہ ضرور دیتے تھے تاکہ نادانستگی میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اس کا کفارہ ادا ہو جائے ۔ حجر اسود کے قریب بھی پہنچنے کا موقع ملا۔ ہاتھ نہ سہی آنکھوں نے تو بوسہ دے ہی لیا تھا۔رکن یمانی پہ غلاف کعبہ کو ہاتھ لگانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ جیسے ہی غلاف کعبہ کو ہاتھ لگایا اس کے جلال سے جسم میں جھر جھری سی آگئی۔ میں نے کئی طواف کیے بیشتر عزیز و اقارب کے نام تھے جو یہاں آکر ان کو بطور ہدیہ پیش کیے۔
آخری دن بعد نماز عشا طوافِ وداع کیا، گڑگڑا کر خوب دعائیں مانگیں ۔خانہ کعبہ کی جدائی کے احساس سے دل غم سے بھر گیا ،ہچکی بندھ گئی۔ ایسا روح پرور نورانی منظر اور کہیں نہیں مل سکتا۔ آج بھی میں چشم تصورمیں اکثر اسی خوابوں کی سرزمین پر موجود ہوتی ہوں۔ پہلے نماز کی ادائیگی کے وقت طائر ذہن نہ جانے کہاں اڑا اڑا پھرتا تھا مگر اب اللہ کے حضور نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہی پلکوں کے آبی پردوں پر خانہ کعبہ کی سیاہ شبیہہ نمودار ہو جاتی ہے۔ سجدے بھی پہلے کی طرح بے ذوق نہیں رہے اور اس خدائے ذوالجلال کی موجودگی کا زندگی بخش احساس ہر لمحے میرے ساتھ رہتا ہے ۔ہر حاجت کے لیے ہاتھ اسی کے آگے پھیلتے ہیں جس نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا نہ کبھی خالی ہاتھ لوٹایا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ دوبارہ یہاں آنا نصیب فرمائے اور اس کے لیے اسباب پیدا فرمائے آمین؎
دل وہیں رہ گیا جاں وہیں رہ گئی
خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp