الوداع ۔ سنیہ عمران
بعض دفعہ زندگی بہت عجیب سا تجربہ دیتی ہے۔زندگی نام ہی تجربات کا ہے۔کچھ حقیقتوں کو الفاظ کا پیراہن پہنانا ممکن نہیں ہوتا بس ذرا کوشش ہوتی ہے بیاں کی ۔
زندگی میں الوداع کا لفظ جب بھی آتا ہے کچھ دیر کے لیے ہم ساکن ہوا کی طرح ٹھہر سے جاتے ہیں ۔جدائی ہمیشہ ابدی نہیں ہوتی ا س کی کئی شکلیں ہیں۔ کبھی ذمہ داریوں کی تبدیلی کی صورت کبھی جگہ کی تبدیلی کی صورت کبھی شہر کی تبدیلی کی صورت غرض یہ جس شکل میں بھی ہو اس فرد کو الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا۔جانے والا بھی ظاہر ہے اس جگہ اپنا وقت ، طاقت ،صلاحیت لگا چکا ہوتا ہے اسے بھی فطری بات ہے محسوس تو ہوتا ہے اپنی اپنی شخصیت کی بات ہے ۔
کچھ الوداع بھی یوں کرتے ہیں یاد رہتا ہے کہ کسی نے الوداع کہا تھا ۔
ہماری زندگی کی تبدیلیاں ہماری شخصیت پہ اثر چھوڑتی ہیں ہم خود کو روبوٹ ثابت کرنے کی بجائے انسان سمجھیں تو آسانی رہے گی تا کہ جو خود کو انسان سمجھ کر ردعمل دے رہا ہے، ابنارمل نہ لگے ۔ایک بلی مقررہ وقت پہ ہمارے گھر روز آتی ہے فطری بات ہے ہم اس کے عادی ہو جاتے…

