سنیہ عمران

الوداع ۔ سنیہ عمران

بعض دفعہ زندگی بہت عجیب سا تجربہ دیتی ہے۔زندگی نام ہی تجربات کا ہے۔کچھ حقیقتوں کو الفاظ کا پیراہن پہنانا ممکن نہیں ہوتا بس ذرا کوشش ہوتی ہے بیاں کی ۔
زندگی میں الوداع کا لفظ جب بھی آتا ہے کچھ دیر کے لیے ہم ساکن ہوا کی طرح ٹھہر سے جاتے ہیں ۔جدائی ہمیشہ ابدی نہیں ہوتی ا س کی کئی شکلیں ہیں۔ کبھی ذمہ داریوں کی تبدیلی کی صورت کبھی جگہ کی تبدیلی کی صورت کبھی شہر کی تبدیلی کی صورت غرض یہ جس شکل میں بھی ہو اس فرد کو الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا۔جانے والا بھی ظاہر ہے اس جگہ اپنا وقت ، طاقت ،صلاحیت لگا چکا ہوتا ہے اسے بھی فطری بات ہے محسوس تو ہوتا ہے اپنی اپنی شخصیت کی بات ہے ۔
کچھ الوداع بھی یوں کرتے ہیں یاد رہتا ہے کہ کسی نے الوداع کہا تھا ۔
ہماری زندگی کی تبدیلیاں ہماری شخصیت پہ اثر چھوڑتی ہیں ہم خود کو روبوٹ ثابت کرنے کی بجائے انسان سمجھیں تو آسانی رہے گی تا کہ جو خود کو انسان سمجھ کر ردعمل دے رہا ہے، ابنارمل نہ لگے ۔ایک بلی مقررہ وقت پہ ہمارے گھر روز آتی ہے فطری بات ہے ہم اس کے عادی ہو جاتے…

مزید پڑھیں

انسان کا نشہ – سنیہ عمران

ایسا نشہ جس میں آ پ کا ریموٹ کنٹرول ایک فرد کے پاس ہوتا ہے!
دنیا میں بہت سے نشے ہیں ،منشیات کا،موبائل کا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن انسان کا نشہ سب سے برا نشہ ہے ۔یہ آپ کا وقت، صلاحیتیں سب کچھ کھا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اب تعلق رہ ہی ضرورت کا گیا ہے ۔بغیر غرض کا تعلق بچا ہی نہیں چاہے رشتہ کوئی بھی ہو۔ ہماری ایک روایت بن گئی ہے کہ جب تعلق جوڑنا پڑتا ہے تب تک ہم فرد کو بہت وقت دیتے ہیں اور یہ ضرورت ہی طے کرتی ہے کہ لہجہ کتنی دیر اور کب تک میٹھا رکھنا ہے۔ اور تعلق کب تک رکھنا ہے اور کتنا مضبوط یہ بھی ضرورت ہی طے کرتی ہے ۔
میرے نزدیک انسان کا نشہ سب سے برا نشہ اس لیے ہے کہ اس میں آ پ کا سارا ریموٹ کنٹرول اسی فرد کے پاس ہوتا ہے۔ کب ہنسنا ہے، کب رونا ہے، کب خوش ہونا ہے، اور اگر وہ آ پ کو بہت زیادہ وقت دیتا ہے اور آ پ کو لگتا ہے کہ آ پ اس کے لیے بہت اہم ہیں، بہت خوب صورت لہجہ اور بہت خوب صورت باتیں،تو آ پ خود کو آ سمان پہ محسوس…

مزید پڑھیں