مدیحہ نورانی

رم جھم لاج – نور جنوری ۲۰۲۱

ٹھیک اڑھائی بجے ابراہیم ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں داخل ہوا ۔ اندر ہیڈ ماسٹر کے ساتھ سر قاضی، سرمرتضیٰ اور عثمان کے والد بیٹھے تھے ۔ عثمان کے والد لمبے ، چوڑے ،رعب دار شخص تھے جو اپنے غصے کی وجہ سے مشہور تھے ۔ ان کو دیکھ کرابراہیم کے پائوں تلے زمین نکل گئی ۔ اس نے خودکو سنبھالتے ہوئے کہا :
’’السلام علیکم ہیڈ ماسٹر صاحب ۔ آپ نے مجھے بلایا؟‘‘
’’ جی ہاں ! اور آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ کیوں! میں آپ سے ایک ہی دفعہ پوچھوں گا اور مجھے صرف سچ سننا ہے ۔ ابراہیم ہارون ! کیا آپ نے وہ بوتل کھڑکی سے پھینکی تھی جو عثمان کے سر پر گری ؟‘‘ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
’’ ج…ج…جی سر ! لیکن سر مجھے ہر گز علم نہ تھا کہ وہاں سے اس وقت کوئی گزر رہا ہوگا۔ سچ سر ‘‘ ابراہیم کے لبوں سے کپکپاتے ہوئے نکلا۔
’’آپ کو بوتل پھینکتے ہوئے ذرا خیال نہ آیا کہ آپ کتنی غیر ذمے دارانہ اور خطر ناک حرکت کررہے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے غصہ سے کہا ۔
’’ نہیں سر ! آئی ایم ویری سوری سر ! مجھے نہیں پتا…

مزید پڑھیں

رم جھم لاج – نور اپریل ۲۰۲۱

مومو نے امی اور دادی جان کو آمنہ کے اسکالر شپ کے امتحان میں پاس نہ ہونے کی خبر دی تو امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
’’ آمنہ اسکالر شپ حاصل نہیں کر سکی؟ مگر کیسے ؟ آمنہ تو ہمیشہ ہی اول آتی رہی ہے ۔‘‘ ان کا صدمے سے برا حال تھا۔
دادی جان البتہ بالکل حیران نہ ہوئیں ’’ ہمیں اسی بات کا ڈر تھا ۔‘‘ مگر پھپھو جان ۔ اب آمنہ کیا کرے گی ؟ ہم یونیورسٹی کی فیس کیسے ادا کریں گے ؟ یا خدا! ہماری پریشانیاں کب ختم ہو ں گی ؟‘‘آسیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
’’ جو بھی ہو آسیہ ، آمنہ کو اپنے آپ کو خاندان کا حصہ بنانا چاہیے اور گھر کی ذمہ داریوںمیں شریک ہونا چاہیے ۔ رات کو عشاء کے بعد سب بچوں کو اکٹھا کرو تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے ۔‘‘
’’ جی پھپھو جان ، جویریہ اور جنید کو سُلا کر ہم سب بیٹھ جائیں گے ‘‘ انھوں نے سر ہلایا۔
’’ نہیں آسیہ ، جویریہ اور جنید کا بھی اس میٹنگ میں ہونا ضروری ہے ۔وہ کوئی دودھ پیتے بچے نہیں ہیں ، سمجھدار ہیں ۔ ہارون ایک دو سال تک سرجری…

مزید پڑھیں