محمد سعید شیخ

کھیل ۔ محمد سعید شیخ

چائے پیتے ہوئے اچانک اسے وہ خواب یاد آگیا جسے وہ پچھلے کئی ہفتوں سے دو دو چار چار راتوں کے وقفے سے کئی بار دیکھ چکی تھی اور جسے وہ بیدار ہوتے ہی بھول جاتی تھی۔
چھن چھن ، چھنانن چھن ، اس کے کانوں میں خواب کی آواز گونجی کیونکہ یہ وہ خواب تھا جسے وہ سنتی زیادہ دیکھتی کم تھی۔
چائے کا ایک گھونٹ اس کے حلق میں اٹک کے رہ گیا جسے نیچے اتارنے کے لیے اسے زور لگانا پڑا ۔ اس کے گلے میں پھانس کی سی چبھن چھوڑتا ہؤا چائے کا گھونٹ گزر گیا اور اس کی آنکھوں میں نمی سی آگئی۔
چھن چھن کی آواز جسے وہ اکثر باہر کی آواز سمجھا کرتی تھی اس کے اس خواب کی آواز تھی جسے سنتے ہوئے اس نے آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اسے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ صرف کانوں میں چھنک پڑتی تھی ۔ صبح اٹھتے ہی روز مرہ کی گہما گہمی میں وہ اس خواب کو بھول جاتی ۔ آج نہ جانے کس طرح اسے یہ خواب یادآگیا تھا۔
اس کی ماں اس کے سامنے بیٹھی بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔ وہ…

مزید پڑھیں