مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے ۔ زید محسن
جب محبت کرنے والے نہ پاس آتےنہ آنکھیں ملاتے تھے،مگردلوں میں تڑپ لیے کن اکھیوں سے دیکھتے اور منتظر رہتے۔اس کی کہانی جس پر زمین تنگ ہوگئی تھی
یہ اس زمانے کی بات ہے جب جہالت کا دور دورہ تھا اور ہر سو ایک وحشت ناک اندھیرا تھا ۔پھراس مہیب اندھیرے میں آمنہ کے لعل کے ہاتھوں ایک روشنی سی پھیلنا شروع ہوئی ۔گند میں رہنے والا کیڑا خوشبو سونگھے تو بے ہوش ہو جاتا ہے ، ادھر بھی یہی حال تھا کہ جہالت کے ماروں کو علم کی روشنی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
مگر آہستہ آہستہ فردِ واحد کا پیغام مٹھی بھر لوگوں تک پہنچا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سلیم الفطرت لوگوں کی طبیعتوں کا میلان اس ماہتاب کی طرف ہونا شروع ہؤا، چلتے چلتے ایسا دور آیا کہ مکہ کی بلند پہاڑی پر کھڑا وہ اکیلا شخص اب وضو بھی کرتا تو اس کا ہر قطرہ مانندِ مشک و عنبر سنبھالا جاتا ، اس کے لعابِ دہن سے شفایابی ہوتی۔اور بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا؟ کل وہ جس رب کی خاطر تنِ تنہا نکلا تھا آج اسی عظیم ذات نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا تھا۔پہلے چہار سو دشمنِ جاں نظر آتے تھے تو اب ہر…

