جب محبت کرنے والے نہ پاس آتےنہ آنکھیں ملاتے تھے،مگردلوں میں تڑپ لیے کن اکھیوں سے دیکھتے اور منتظر رہتے۔اس کی کہانی جس پر زمین تنگ ہوگئی تھی
یہ اس زمانے کی بات ہے جب جہالت کا دور دورہ تھا اور ہر سو ایک وحشت ناک اندھیرا تھا ۔پھراس مہیب اندھیرے میں آمنہ کے لعل کے ہاتھوں ایک روشنی سی پھیلنا شروع ہوئی ۔گند میں رہنے والا کیڑا خوشبو سونگھے تو بے ہوش ہو جاتا ہے ، ادھر بھی یہی حال تھا کہ جہالت کے ماروں کو علم کی روشنی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
مگر آہستہ آہستہ فردِ واحد کا پیغام مٹھی بھر لوگوں تک پہنچا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سلیم الفطرت لوگوں کی طبیعتوں کا میلان اس ماہتاب کی طرف ہونا شروع ہؤا، چلتے چلتے ایسا دور آیا کہ مکہ کی بلند پہاڑی پر کھڑا وہ اکیلا شخص اب وضو بھی کرتا تو اس کا ہر قطرہ مانندِ مشک و عنبر سنبھالا جاتا ، اس کے لعابِ دہن سے شفایابی ہوتی۔اور بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا؟ کل وہ جس رب کی خاطر تنِ تنہا نکلا تھا آج اسی عظیم ذات نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا تھا۔پہلے چہار سو دشمنِ جاں نظر آتے تھے تو اب ہر طرف جان نثار ہی جان نثار تھے۔
اسلام کا سورج اب خوب بلندی سے روشنی پھیلا رہا تھا لیکن تخت و تاج کا نشہ کہاں کوئی ہلکا ہوتا ہے ، عرب وعجم میں چند سلطنتوں کا بڑا رعب و دبدبہ تھا ، جس میں سلطنتِ روم کا بھی بڑا نام تھا ، دور دور تک ان کا نام چلتا اور مختلف حکام کے ذریعہ کئی ایک خِطوں پر حکومت کرتے۔برائی یہ آئی کہ اصحابِ رسول ﷺ کے بازوؤں کو آزمانا چاہا اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں ، سر بکف رکھنے والوں کو للکارا تو گویا موت سر پر دوڑی آئی ، ادھر جنابِ رسول اللہ ﷺ نے اعلانِ جنگ کر دیا ، آپ کے اصحاب دنیا وما فیہا سے آنکھیں موند کر تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔
قصہ مختصر کہ کعبؓ بن مالک نے بھی دو اونٹنیاں تیار کر لیں ، اب کی بار ایسی تیاری تھی کہ پیچھے رہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ، ویسے بھی آپ پیچھے رہ جانے والوں میں نہ تھے بیعتِ عقبہ سے لے کر آخری معرکے تک ہر ہر جنگ میں حصہ لیا تھا ، گو کہ بدر میں پیچھے رہ گئے تھے کہ وہاں ارادہ جنگ کا نہ تھا۔لیکن پھر کبھی اس شہسوار کو پیچھے نہ دیکھا گیا۔
اور اب کی بار تو سوچ رکھا تھا کہ ضرور جانا ہے اور ضرب و حرب کا جوہر دکھانا ہے ، حوصلے بلند تھے ، آپ عمر میں بھی کم تھے۔
ادھر قافلہ تیار ہؤاچاہتا تھا اور انتظارِ حکمِ ربانی تھا ، پھر ایک دن سب ہی نبی کریم ﷺ کی قیادت میں تبوک کی طرف چل پڑے ، شمعِ رسالت کے پروانے ماہتابِ رسالت کے گردا گرد دیوانہ وار چلے جا رہے تھے کوئی پیدل تو کوئی پیادہ کوئی بزرگ تو کوئی جوان ، دیکھتے دیکھتے قافلہ مدینہ کے دھندلکے سے بھی اوجھل ہو گیا۔راستہ طویل ضرور تھا لیکن تعداد بھی اچھی خاصی تھی ، اتنی تھی کہ دفاتر و دواوین میں لکھنا چاہیں نہ لکھ پائیں۔پورا راستہ گزر گیا اور رسول اللہ ﷺ کی زبان پر کعبؓ کا ذکر نہ آیا۔۔اصحاب کی تعداد ہی اتنی تھی۔
لیکن یہاں قائد جنابِ رسول ۖاللہ ﷺتھے ، بڑی محنتوں سے اپنے یہ سپاہی تیار کیے تھے ، بھلا کسی کو بھول کیسے سکتے تھے۔تبوک میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو اپنے شہسوار کی یاد آ گئی۔پوچھا:
کعبؓ بن مالک کہاں ہے؟
کہنے والے نے کہا کہ: ناز ونعم میں رہ کر ، اچھا لباس پہن کر اب لڑنے کی عادت نہ رہی۔ تو معاذؓ بن جبل کھڑے ہو گئے۔کہا: کوئی عذر ہوگا ، ورنہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تو نہیں۔
یہ تو میدان میں کعبؓ کے تذکرے کے احوال ہیں ، ادھر کعبؓ مدینہ میں ہیں۔روز سوچتے کہ نکل جاؤں گا تو تیزی سے سواری دوڑاتا ہوا قافلے والوں سے جا ملوں گا۔لیکن پھر مدینہ کے لہلہاتے کھیت روک لیتے۔
آخر یقین ہو گیا کہ اب میں پیچھے رہ گیا ہوں ، سوچا مدینہ کا چکر لگاؤں ، کسی سے دل ہلکا کروں تو وہاں یا تو اصحابِ اعذار تھے کہ لڑنے کے قابل ہی نہیں ، یا پھر وہ تھے کہ جو پچھلی جنگوں میں گھر کھلے ہونے کا کہہ کر میدان چھوڑ آئے تھے۔
ادھر معرکہ ہؤا ، گھمسان کا رَن پڑا ، مسلمانوں نے جرأت کی داستان رقم کی اور نصرتِ خداوندی سے رومیوں کو شکستِ فاش دے کر واپسی مدینہ کی راہ لی۔ہائے کیا منظر ہوگا کہ فخرِ انسانیت آگے آگے ہوں گے اور ساتھ سپاہیوں کی صف میں ابو بکر وعمر اور عثمان وعلی (رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہوں گے ، دنیا کے خوبصورت ترین جنگی قافلوں میں سے ایک قافلہ ہوگا کہ جہاں جنتی ہی جنتی نظر آتے ہوں گے ، زمین بھی رشک کرتی ہوگی آسمان بھی واہ کہتا ہوگا۔
ادھر قافلے والوں کو مدینہ نظر آتا تو تیزی سے چلے آتے کہ محبتوں کا گہوارہ آ گیا ہے ، لوگوں نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور اور جنابِ رسول اللہ ﷺ اپنی محبوب مسجد میں آ بیٹھے ، مبارکباد دینے والوں کا سلسلہ شروع ہؤاتو اب باری آئی پیچھے رہ جانے والوں کی۔بات یہ تھی کہ جان نثاری کی تو بیعت دے رکھی تھی کہ قربان ہو جائیں گے لیکن اسلام و مسلمان پر انچ بھر آنچ بھی نہ آنے دیں گے۔پھر کیوں پیچھے رہ گئے؟
لوگ آتے رہے ، بہانے تراشتے رہے اور ’’رؤفا رحیما‘‘کے اوصاف رکھنے والے سید ولد آدم معافی دیتے رہے۔بلکہ ساتھ ساتھ رب العالمین سے معافی مانگتے بھی رہے۔
ادھر کعبؓ بھی قطار میں ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ذرا سی سستی نے کہاں لا کھڑا کیا؟یہ کوئی قابلِ رشک قطار تو نہیں کہ یہاں کھڑے ہو کر فخر کیا جائے۔
اور ساتھ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ میں کیا بہانہ تراشوں؟جسمانی قوت میں کوئی کمی نہیں ، مالی طور پر بھی بھرپور تیاری تھی ، وقت بھی تھا ، جذبہ بھی تھا۔لیکن پھر بھی پیچھے رہ گیا۔فیصلہ کیا سچ ہی بتا دیتا ہوں ، کہ اس سے زیادہ عافیت کا راستہ کوئی نہیں۔
باری آئی تو پوچھا: کعبؓکہاں تھے؟ہم تو تمہیں شہسوراروں کے درمیان ڈھونڈتے رہ گئے۔
مارے شرمندگی کے سر نیچے تھا ، بڑی ہمت کی اور گویا ہوئے۔
کہنے لگے: اگر بات کو ذرا گھما پھرا کر کہوں تو یقین جانیے آپ میری بات پر یقین کر لیں گے ، لیکن آج کعبؓ سچ کے سوا کچھ نہ کہے گا۔پتا ہے کیوں؟ اگر میں نے ذرا آگے پیچھے کی باتیں کر کے ابھی آپ کو رام کر بھی لیا اور معافی کا پروانہ لے بھی لیا تو کل قیامت کا روز ہوگا ، راز عیاں ہوں گے ، حقائق سامنے آئیں گے تو آپ اس مقام پر ناراض ہو جائیں گے کہ کعبؓ نے غلط بیانی کی تھی!
لیکن اللہ کی قسم ، چاہے آپ میری بات سے وقتی طور پر ناراض ہو جائیں ، میرے پاس کوئی عذر نہ ہونا آپ کو تھوڑی تکلیف دے ، میں اس کو قبول کر لوں گا۔تاکہ اس کے بدلے ازلی محبت حاصل کر سکوں ، کل ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں بھی سرخرو ہو سکوں۔
اور جو معاملہ تھا ، سستی تھی ، تکاسل تھا ، وہ سچ سچ کہہ سنایا۔کہ اسی حالِ دل کو کہنے کے لیے تو کب سے کسی کی تلاش میں تھے ، اور بھلا نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر حالِ دل کو سن کر تشفی کرنے والا ، تسلی دینے والا کون ہو سکتا تھا!
اپنا حالِ دل کہہ سنایا تو گویا آزمائشوں کے دروازے پر دستک دے دی ، اب کعبؓ پر آزمائشیں آنی تھیں ، سخت امتحان سے گزرنا تھا ، حکم ہؤاکہ ربِ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرو۔اور پھر بہت جلد ہی حکم نازل ہو گیا۔ایک سخت حکم ، ایسا حکم کہ کعبؓ کہتے ہیں وسیع ترین زمین مجھ پر تنگ ہو گئی۔
ایسا نہیں کہ جیل بھیج دیا ہو کہ لوگوں سے دور ایک گوشہِ گمنام میں وقت گزرے۔نہ ہی ایسا کہ ملک بدر کر دیا ہو کہ اپنوں سے دور رہ کر جی سکیں۔
بلکہ اس سے بھی سخت سزا ، اس سے بھی کڑا معاملہ ، اور ایسا معاملہ کہ جس کی زد میں اکیلے کعبؓ نہ آئے بلکہ آپ کے دو اور ساتھی ھلالؓ بن امیہ اور مرارہؓ بھی آ گئے ، بلکہ یوں کہیے کہ سارے مدینے والوں کا امتحان شروع ہؤا۔
حکم ہوا کہ سوشل بائیکاٹ کر دیا جائے ، آج کے بعد اگلے حکم تک ان تینوں (کعبؓ ، مرارہؓ ، ہلالؓ) سے کوئی راہ ورسم نہیں رکھے گا ، کوئی بات تک نہیں کرے گا۔
اب بھرے مدینے میں یہ اکیلے ہو گئے ، اپنوں میں ہی اجنبی بن گئے ، ایسا بھی نہیں کہ گھر میں جا بیٹھیں ، بلکہ نمازیں پڑھنے آیا کرتے ، مدینہ کی گلیوں میں گھوما کرتے ، بازار میں بھی چکر لگایا کرتے ، لیکن بات تو در کنار کوئی سلام کا جواب تک نہ دیتا۔اور یہ صرف ایک حکمِ ربانی کی پاسداری میں تھا ، رویے میں آتے اس بدلاؤ کو زیادہ دیر نہ لگی تھی ، بلکہ ابھی پچھلی نماز میں سب باتیں کرتے تھے ، آگے بڑھ بڑھ کر تبوک کے احوال بتاتے تھے ، انہیں میں کسی نے ان کا تذکرہ میدانِ کارزار میں آنے کا بتایا ، تو کسی نے معاذؓ بن جبل کی طرف سے پیش کی جانے والی صفائی کی بات کی ، لیکن اگلی نماز تک حکم صادر ہو گیا اور دیکھتے دیکھتے سارے ساتھی ایسے ہو گئے جیسے کعبؓ کو جانتے ہی نہ ہوں ، بھری جوانی ، بھرپور مال ودولت ، پر سکون گھر ، پر تعیش زندگی یہ سب بے کار ہو گیا ، زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ پھیکی پڑ گئی ، زمین اپنی وسعتوں کے با وجود تنگ ہو گئی۔
اور اسی حالت میں پورا مہینہ گزر گیا۔
ایک مہینہ!
ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے ، کبھی کسی کے گھر والے صرف دو دن بات نہ کریں تو انسان ٹریک پر آ جاتا ہے ، خود انسان کی اس نزاکت کو دیکھتے ہوئے شریعت نے تین دن سے زیادہ بات چیت ختم کرنے سے روک دیا ہے ، لیکن یہ امتحان تھا۔اور جس کو اللہ چاہتا ہے اس کو آزماتا ہے ، اور ایسے آزماتا ہے کہ دل دہل جائے ، رونگٹے کھڑے ہو جائیں ، ادھر بھی آزمائش تھی ، صرف کعبؓکی ہی نہیں آپ کے سارے چاہنے والوں کی آزمائش۔
خود محبوبِ ربانی ﷺ کا ذرا حال دیکھیےکہ کعبؓ کو مسجد میں دیکھتے ، نماز پڑھ رہے ہیں تو دیکھتے رہتے ، کہ اتنے میں کعبؓ سلام پھیر دیتے یا نظر اٹھا لیتے تو فوراً آپ نظریں چرا لیتے ، کسی اور طرف متوجہ ہو جاتے ، کعبؓ کی تڑپ بھی ایسی ہی تھی ، کُن اکھیوں سے سرورِ کائنات کی نظروں کا تعاقب کرتے رہتے ، اور دل میں بس یہی اطمینان لیے چلے جاتے کہ:
چلو بات نہیں کرتے تو دیکھتے تو ہیں نا!
اس بے اطمینانی میں یہ اطمینان بھی اسی رب کی طرف سے تھا جو جس نے آزمائش میں ڈالا تھا ، یقینا آزمائش میں ڈالنا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ، اس پر صبر کی طاقت دینا بھی اسی کا کام ہے اور پھر سرخرو کر دینا بھی اسی کی رحمت ہے ، ورنہ انسان کہاں اتنا طاقت ور!
دس دن اور گزر گئے ، چالیس روز مکمل ہو گئے۔کعبؓ کی زندگی یونہی تھمی ہوئی تھی ، بس روز سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب کو ڈھل جاتا ، روز رات کو چھت پر جا کر نوافل ادا کرتے ، چاند ستاروں کی محفل دیکھتے تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کی محفل یاد آ جاتی ، گویا آپ چاند ہوں اور ارد گرد بیٹھے اصحاب ستارے ہوں ، اور پھر دور ٹوٹتے ہوئے ایک ستارے پر نگاہ پڑتی تو اس میں کعبؓ کو اپنا آپ تصور ہونے لگتا ، کہ مجلس سے الگ ، محفل سے دور وہ ستارہ مزید دور ہوتا جا رہا ہے ، اسی حال میں شب و روز کی تبدیلی تو جاری تھی لیکن کعبؓ کی زندگی وہی تبوک کے بعد والے دن پر رک گئی تھی۔چالیس روز گزرے ، پھر سوچا بازار کا چکر لگا لوں ، شاید کوئی سلام کا ہی جواب دے دے تو کچھ قرار آئے ، لیکن کعبؓ بھی جانتے تھے کہ جن کی تربیت کی بدولت میں اتنا صبر کر رہا ہوں یہ سارے بھی انہیں کے تربیت یافتہ ہیں ، جنہوں نے اطاعت و فرمانبرداری کو میری طبیعت کا جزو لا ینفک بنایا ہے یہ سارے بھی انہیں سے درسِ اتباع و پیروی لیتے ہیں ، جانتے تھے کوئی بات نہیں کرے گا ، کوئی التفات نہیں کرے گا ، پھر بھی مدینہ کے بازاروں میں چکر لگا رہے تھے، کہ اپنوں کو دیکھ لینا بھی شاید بڑی نعمت ہوتی ہے ، ان کو سننا بھی باعثِ سکون ہوتا ہے ، ان کو محسوس کر لینا بھی شاید جِلا بخشی کا ذریعہ بنتا ہے۔
ابھی آپ بازار سے گزر ہی رہے تھے کہ کہیں سے ایک اجنبی آواز آئی ، جس میں کعبؓ بن مالک کے بابت پوچھا جا رہا تھا ، آواز کا تعاقب کیا تو کوئی غیر ملکی تاجر تھا ، بیچنے کو اپنا سامان آیا تھا اور خریدنا کعبؓ کا ایمان چاہتا تھا۔
لوگوں نے کعبؓ کو گزرتے دیکھا تو تاجر کو بتایا کہ یہی کعبؓ ہیں ، آگے بڑھا اور شاہِ غسان کی طرف سے ایک خط آپ کو تھما دیا۔تاجر ایسے بھی ہؤاکرتے ہیں ، سامان کی آڑ میں ایمان کے سوداگر بن جاتے ہیں۔کعبؓ کے پاس بھی خط آ گیا۔ایمان کا سوداگر آ گیا۔
خط کیا تھا کھلا دعوت نامہ تھا ، اپنی قوم سے بد ظن کرنے اور پر تعیش زندگی کے وعدے کا ایک نامہ تھا۔شاہِ غسان نے لکھ بھیجا کہ:
’’سنا ہے تمہاری قوم نے تم پر جیون کو مشکل کر رکھا ہے ، تمہاری کڑیل جوانی یونہی بے کار سڑ رہی ہے ، ایک کام کرو بوریا بستر سمیٹ کر ہمارے پاس چلے آؤ ، دینِ محمدی چھوڑو اور عیسائی ہو جاؤ ، ہمارے پاس تمہارے لیے پر سکون زندگی کا انتظام ہے ، بادشاہوں جیسا آرام میسر ہوگا ، پسندیدہ طعام حاضر ہوگا ، دنیا جہاں کی رونقیں اور نعمتیں تمہارے لیے صرف کی جائیں گی‘‘۔
ذرا سوچئے تو سہی کہ بھرے بازار میں ایک ایسے فرد کی تلاش کی گئی جس سے مسلمانوں کا میل ملاپ بند ہے ، پھر کسی غیر مسلم نے اسے خط بھی پیش کیا ، کیا یہ بات جنابِ رسول اللہ ﷺ تک نہ پہنچی ہوگی؟
کیا یہ خطرہ نہیں ہوا ہوگا کہ کوئی ساز باز نہ ہو جائے ، کہیں اپنی فوج کا آدمی دشمنوں کی صف میں نہ جا ملے ، کہیں دینِ اسلام کا ایک ستارہ ٹوٹ نہ جائے؟
خیال تو کتنے آ سکتے ہیں ، مفروضے تو کتنے قائم ہو سکتے ییں۔لیکن پھر بات وہی کہ تربیت آخر کس نے کر رکھی تھی؟
آپؐ کو بھی یقین ہوگا کہ کچھ بھی ہو جائے کعبؓ ہمارا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھے گا۔
اور پھر ایسا ہی ہؤا ، کعبؓ نے خط پڑھا۔چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری ، دشمن کے تارِعنکبوت کو روندا ، خط اٹھایا اور تندور کی آگ کو اس سے مزید بھڑکایا کہ یہی وہ خط تھا جو آگ کے راستے کی طرف بلا رہا تھا ، اور جو چیز آگ کی طرف لے جانے کی کوشش بھی کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہیے کہ پسِ پشت ڈال دی جائے۔یا سپردِ آتش ہی کر دی جائے۔
اِدھر خطِ شاہی موصول ہؤا، ناز ونعم کے وعدوں کی نوید سنائی گئی ، اُدھر حکمِ ربانی میں ایک سختی اور آ گئی۔جی! بالکل اتنے نازک مرحلے پر کہ جب غیروں کی طرف سے دروازے کے ہر کواڑ کو کھولا جا رہا تھا ، اس وقت ایک آزمائش اور اتری ، امتحان در امتحان اور آزمائش در آزمائش!
منادی نے آواز لگائی کہ کعبؓ!سارے مدینہ سے بائیکاٹ ہے ، لیکن گھر میں بیوی تو ہے نا!۔اس کو بھی چھوڑ دو۔
ایلچی کا پیغام کانوں میں پڑا اور فوراً عمل پر آمادہ ہو گئے ، پوچھا:حکم سنانے والے ذرا یہ تو بتا کہ عارضی طور پر چھوڑ دوں یا طلاق ہی دے دوں؟اس کو کہتے ہیں جان نثاری ، اس کا نام ہے قربانی ، چاہتے تو بس خاموشی سے عارضی وقفہ لے لیتے لیکن حکم کی تعمیل مکمل طور پر بجا لانے کا جذبہ ہی ایسا تھا کہ پوچھنا مناسب سمجھا۔
جواب آیا: عارضی علیحدگی کر لو۔اگلے ہی لمحے بیوی کو میکے بھیج دیا۔
سنا کہ باقی دو ساتھیوں کے لیے بھی یہی احکام آئے تھے ، لیکن ہلالؓ بن امیہ نے بڑھاپے کی وجہ سے صرف خدمت گزاری کی خاطر بیوی کو روکنا چاہا تو رخصت مل گئی ، آوازیں کان میں پڑیں ، ذہن میں خیال کوندا کہ جب رخصت مل ہی رہی ہے تو کیوں نا منادی سے اپنی سفارش کا بھی کہہ دوں ، لیکن سوچا کہ میں تو جوان جہاں ہوں۔اگر نبی ﷺ ناراض ہو گئے تو؟
ویسے بھی بھٹی میں سونے کا یہ ٹکڑا اتنا جلایا جا رہا تھا کہ نکلے تو چمکتا ہؤا، صاف ستھرا ، خوبصورت اور شاندار ہو۔تو بھلا آگ پر سلگنے میں کیا نرمی کی امید!سو امتحان مکمل کرنے کا ہی فیصلہ کیا۔
ابھی بائیکاٹ جاری تھا ، ایک روز اپنے چچا زاد کے ہاں پہنچ گئے کچھ پوچھنا چاہتے تھے ، کچھ گفت وشنید کی چاہت تھی ، ایک سوال پوچھا ، کئی بار پوچھا ، کئی بار اپنی بات دہرائی ، کوئی جواب نہ ملا تو واپس لوٹ آئے۔
لیکن اب سختیاں انتہا کو پہنچ چکی تھیں ، محسوس ہوتا تھا کہ اندھیروں کی یہ دبیز چادر جلد سِرکنے والی ہے ، امید تھی کہ جلد ہی صبحِ روشن کا ستارہ نمودار ہوگا ، کہ مارے شرمندگی کے اب تو جسمِ ناتواں بھی کراہ اٹھا تھا۔
بالآخر پچاس روز مکمل ہوئے۔ایک طویل عرصہ گزرا ، اپنوں میں بے گانہ ہوئے ، اجنبیت کی زندگی گزارتے ہوئے۔اِدھر کعبؓ اپنی چھت پر نماز پڑھ رہے تھے ، مسلسل گڑگڑا کر رب کے حضور معافی مانگ رہے تھے ، اپنی بے بسی کا اعتراف کر رہے تھے ، اپنی کمیوں کا تذکرہ کر رہے تھے ، اپنی جان کنی حالت پر رحم کی اپیل کر رہے تھے کہ اُدھر جنابِ رسول اللہ ﷺ پر کیفیت طاری ہو گئی ، فرشتوں کے سردار انسانیت کے سردار کی جناب میں کلاموں کے سردار کی چند آیات لے کر اترے ، چند آیات کیا تھیں۔سچوں کی سچائی کا انعام تھا ، صابرین کے صبر کا بدلہ تھا ، اداس مدینہ میں خوشی کی ایک لہر تھی۔
قرآن نازل ہؤا:
’’اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں بیشک اللہ تعالٰی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے‘‘ (۱۱۸)
سننے والوں نے آیت سنی اور تینوں اصحاب کے گھروں کی طرف دوڑ لگادی ، کسی نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور کوئی سرپٹ دوڑتا ہؤا اس طرف آیا ، بھاگنے والے کی تڑپ اتنی کہ گھڑ سوار کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر آواز لگائی:
’’کعبؓ خوش ہو جاؤ ، رب نے قرآن نازل کر دیا ، رب کا حکم آ گیا‘‘۔
یہ سنا تو کعبؓ اٹھ کھڑے ہوئے ، اپنی پوشاک اتار کر خوشخبری سنانے والے کو پہنائی ، اور تیزی سے گھر سے نکل پڑے ، مدینہ سے اجنبیت کے بادل چھٹ چکے تھے ، ہر طرف سے خوشخبری دینے والوں کا تانتا بندھاتھا ، ہر کوئی آگے بڑھتا اور مبارکباد دیتا لیکن کعبؓ کو ابھی کسی سے ملنے کی کوئی چاہت نہ تھی ، ابھی تو سیدھا اپنے محبوب نبی ؐکے دربار میں حاضری دینے کا دل چاہتا تھا ، آپ دیوانہ وار مسجدِ نبوی کی طرف چلے جا رہے تھے ، قدم خود ہی اٹھ رہے تھے ، تن بدن از خود کھچا چلا جا رہا تھا ، سامنے محبتوں والے نبی کی محبتوں والی مجلس تھی ، اور شمعِ رسالت کے پروانے گردا گردبیٹھے ہوئے تھے ، وہی چاند کے گرد ستاروں کے محفل کا منظر تھا ، جہاں ٹوٹتا ہؤاستارہ ایک تازہ زندگی لیے واپس لوٹ رہا تھا ۔ ادھر سے کعبؓ تیزی سے مسجد میں داخل ہوئے تو جنابِ طلحہ نے آگے بڑھ کر استقبال کیا ، اور پھر آپ سیدھا رسول اللہ ﷺ کی جناب میں جا بیٹھے۔
یہ تو کعبؓ کی تڑپ تھی کہ کھنچے چلے آئے تھے ، ادھر سید الکونین کی خوشی دیکھیےکہ آپ کا چہرہ چمک رہا تھا ، اتنی چمک ، اتنی دمک کہ چاند ستارے بھی اس چہرے کے آگے ماند پڑ جائیں۔کعبؓ نے پوچھا:
رسول اللہ! یہ اعلانِ معافی آپ کی طرف سے ہے۔؟
آپ نے کہا: نہیں کعبؓ ، یہ تو اللہ کا اعلان ہے۔گویا کہ کہہ رہے ہوں کہ کعبؓ بھلا ہمیں تم سے کیا گِلا ، ہم تو تمہاراکن اکھیوں سے بھی تعاقب کیا کرتے تھے ، ہم تو خود تمہارے حق میں دعا بھی کیا کرتے تھے ، یہ تو حکمتوں والے رب کی طرف سے حکمتوں والا فیصلہ تھا کہ ہم بھی اس کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے تھے اور یہ سارے مدینے والے بھی ، ورنہ دیکھو تو سہی مدینے والے آج کتنا خوش ہیں ، آج ان کے چہروں پر بھی رونقیں بحال ہو گئی ہیں!
معافی نامہ کیا نازل ہؤاگویا پچاس کٹھن دنوں اور طویل راتوں کی تکلیفیں یکسر ختم ہو گئیں ، گویا وہ ساری مصیبتیں آپ بھول ہی گئے۔کہنے لگے:
حضور: یہ معافی !کس لیے ملی ہے؟
کہا: تمہاری سچائی کی وجہ سے۔
کہا: تو سنیے، آپ کعبؓ کی حق گوئی بھی دیکھ چکے ہیں اور پھر صبر و ثبات بھی ، تو آج سے سارا مال رب کی راہ میں اور آئندہ کبھی کعبؓ کی زبان پر سچ کے علاوہ کچھ نہ آنے کی ضمانت بھی لے لیجیے۔ رب کو کعبؓ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ ایمان والوں کوحکم فرما دیا:
’’ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘ (۱۱۹)
(حوالہ:صحیح مسلم کتاب التوبہ باب: سیدنا کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توبہ کا بیان ، حدیث نمبر: 7016کے علاوہ یہ واقعہ تقریباً تمام ہی کتبِ حدیث میں موجود ہے)۔
٭٭٭