بتول میگزین ۔ جویریہ ریاض
ننھے پھول
جویریہ ریاض
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
بچپنا کب کیسے اتنی جلدی گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتابند مُٹھی سے جیسے ریت سرکتی چلی جاتی ہے ویسے ہی پلک جھپکتے ہی بچے بڑے بھی ہو جاتے ہیں۔ قدرت کا بیش بہا قیمتی تحفہ والدین کے لیے اولاد ہے۔ آنگن میں بھاگتے دوڑتے، شور و غل مچاتے بچے زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔ اٹھکیلیاں کرتی یہ تتلیاں۔چونچ لڑاتے ننھے منھے سے طوطے۔ افسردہ دل میں جان ڈال دیتے ہیں۔ بچے جب اپنے دماغ کی ننھی سی پوٹلی میں سے، محفوظ ہوئے چند الفاظ نکال کر اپنا مدعا بیان کرتے ہیں تو دنیا بھر کی زبانیں گونگی لگنے لگ جاتی ہیں۔ ان جملوں سے زیادہ شیرینی شاید ہی کسی اور چیز میں ہو۔ بچوں کی معصومیت بھری ادائیں، ان کی چھوٹی چھوٹی تخریب کاریاں، ان کی اپنی پہنچ سے بڑھ کر کوئی کام کرنے کی جستجو۔ یہ سب معمول کا حصہ نہ ہوں تو زندگی کتنی روکھی پھیکی سی لگے۔
وہ کہتے ہیں نا’’خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘‘ اس لیے جب یہ مخلوق خدا خاموش ہو تو سمجھ جائیں کہ سونامی آنے والا ہے۔ ایسی کئی خاموشیوں کے بعد…

