بتول میگزین ۔ جویریہ ریاض

کوئی تبصرہ نہیں

ننھے پھول
جویریہ ریاض
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
بچپنا کب کیسے اتنی جلدی گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتابند مُٹھی سے جیسے ریت سرکتی چلی جاتی ہے ویسے ہی پلک جھپکتے ہی بچے بڑے بھی ہو جاتے ہیں۔ قدرت کا بیش بہا قیمتی تحفہ والدین کے لیے اولاد ہے۔ آنگن میں بھاگتے دوڑتے، شور و غل مچاتے بچے زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔ اٹھکیلیاں کرتی یہ تتلیاں۔چونچ لڑاتے ننھے منھے سے طوطے۔ افسردہ دل میں جان ڈال دیتے ہیں۔ بچے جب اپنے دماغ کی ننھی سی پوٹلی میں سے، محفوظ ہوئے چند الفاظ نکال کر اپنا مدعا بیان کرتے ہیں تو دنیا بھر کی زبانیں گونگی لگنے لگ جاتی ہیں۔ ان جملوں سے زیادہ شیرینی شاید ہی کسی اور چیز میں ہو۔ بچوں کی معصومیت بھری ادائیں، ان کی چھوٹی چھوٹی تخریب کاریاں، ان کی اپنی پہنچ سے بڑھ کر کوئی کام کرنے کی جستجو۔ یہ سب معمول کا حصہ نہ ہوں تو زندگی کتنی روکھی پھیکی سی لگے۔
وہ کہتے ہیں نا’’خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘‘ اس لیے جب یہ مخلوق خدا خاموش ہو تو سمجھ جائیں کہ سونامی آنے والا ہے۔ ایسی کئی خاموشیوں کے بعد میں نے کافی خطرناک مناظر دیکھے ہیں، جیسے لوشن یا کریم کی ڈبیا کا خالی پایا جانا، کوڑا دان کا سارا کوڑا اپنے سر پر انڈیل لینا۔الماری کے پٹ کھول کر جوتوں کی دکان سجا دینا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
بعض اوقات تو یہ ننھے ہاتھ اس قدر تباہی پھیلا دیتے ہیں کہ اس تابکاری اثرات پر پورا دن بھگتنے پڑتے ہیں۔
اللّٰہ عزوجل سب کے گھروں کو ان آوازوں سے ہمیشہ آباد رکھے آمین یارب العالمین۔
٭ ٭ ٭
دسمبر آن پہنچا
عظمی نسیم احمد
ہلکی ہلکی خنک ہواوں اور انسانی رویوں جیسی خشک فضا نے گھر کے جھروکوں سے جھانکنا شروع کر دیا ‘ سورج کی آنکھ مچولی تو ابھی اپنے خاص رنگ میں نہ آ سکی لیکن جلدی منہ پھیر جانے کے لیے اس نے کمر کس لی شامیں پھر سے اداسی کی چادر اوڑھے ابھی سے ہی جلوہ گر ہیں یہ سارے استعارے بتانے لگے ہی اب دسمبر کا اداس مہینہ یہیں کہیں قریب میں ہی آن موجود ہے۔’’ دسمبر ‘‘ یہ پانچ حرفی لفظ ہمیشہ سے اداس کر دیا کرتا ہے بچپن میں سوچتے تھے کہ شاید سر شام گھروں میں دبک جانے کی وجہ سے اس مہینے میں زندگی کی روانی سست لگتی ہے۔ لیکن شعور آتے آتے سمجھ میں آنے لگا کہ کچھ حادثات و سانحات نا صرف انسانی وجود بلکہ دن ‘مہینوں تاریخوں اور صدیوں کو بھی گھن لگا دیتے ہیں اور وقت جتنا چاہے مرہم لگا لے لیکن زخموں کی جلن ان کے نشانات کو ہمیشہ سرخ رکھتی ہے کبھی یاداشت سے محو نہیں ہونے دیتی۔ بالکل اسی طرح دسمبر میں لگے دلوں کے زخم شاید کبھی اپنے نشانات کو مٹنے نہ دیں۔ ‘سولہ دسمبر انیس سو اکہتر سانحہ مشرقی پاکستان جس میں وطن عزیز دو لخت ہئوا اس سے جڑے تکلیف دہ واقعات کی بازگشت تو کبھی پرانی ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ پھر اسی تاریخ پر سال کے فرق سے ایسا ہی تکلیف دہ واقعہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہرایا گیا اور کئی ماوں کے کلیجے دولخت نہیں بلکہ چھلنی چھلنی کیےگئے ۔شاید وطن عزیز کی فضائیں ان سانحات پر انسانی جذبات سے زیادہ حساس رہیں اور خود پر سے دسمبر کی اداسی کو کبھی اتار پھینک ہی نہ سکیں اور نہ جانے ایسا کب تک رہے گا خدا کرے کہ سر زمین پاک کا یہ نیلا آسماں کبھی وہ منظر دیکھ سکے جس سے دسمبر میں اتری خنکی اور خشک فضائیں اپنی اداس شاموں کا لباس تبدیل کر کے نرم نرم پر نم روشنیوں سے جگمگانے لگیں ۔
مامتا
نگہت فرمان۔کراچی
سارہ آخر کب تک تمھاری نیند کا یہی حال رہے گا؟
امی کبھی کبھار کیا اکثر ہی اس پر جھنجھلا جاتی تھیں، امی اس کے لیے انتہائی فکر مند رہتی تھیں، بچپن ہی سے وہ نیند کی بے انتہا پکی تھی، نیند کا غلبہ ایسا طاری ہوتا کہ نہ مقام دیکھتی اور نہ وقت۔ بس اُسے سونا ہوتا چاہے پھر وہ شادی ہال ہو یا کوئی پارک۔
اکثر تو امی کی کوشش ہوتی، جہاں دیر ہونے کا اندیشہ ہو، اسے ساتھ نہ لے کر جائیں، بلکہ کسی کے پاس چھوڑ کر جائیں، سب کو لگتا تھا کہ وہ وقت کے ساتھ اپنی اس کمزوری پر قابو پالے گی، لیکن اب جب کہ شادی کے دن قریب تھے، اس کی عادت نہ بدلے تھی اور امی کا تو سوچ کر ہی خون خشک ہو رہا تھا کہ یہ کیا کرے گی بعد میں! اور تو اور دلہن بیگم کے مہندی لگنا بھی کسی معرکے سے کم نہ ٹھہرا ان کی دوستوں اور کزن کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ اتنا شور شرابا کرنا ہے کہ وہ سو نہ سکے، لیکن سب ہار گئیں اور وہ باوجود کوشش کے نہ جاگ سکی، بڑی مشکل سے ہم جولیوں نے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ پکڑ کر مہندی نہ صرف مکمل کرائی، بلکہ مہندی والیوں کے مزید نخرے بھی سہنے پڑے۔
شادی کا وقت جان کر دن کا وقت رکھا گیا کہ کہیں محترمہ اسٹیج پر ہی نہ سو جائیں اور اس کی رخصتی تک سب قریبی عزیز کی نظریں اسی کا طواف کرتی رہیں کہ ’وداع‘ کے وقت امی کو اس کے دور جانے کا دکھ کم یہ پریشانی زیادہ تھی کہ سسرال میں جا کر کیا کرے گی، اگرچہ انھیں اس کمزوری کا بتا دیا گیا تھا، لیکن کمزوری کس شدت کی ہے، اس سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
قسمت اچھی تھی اس کی کہ اس کی اس کمزوری کا سسرال والوں نے کبھی مسئلہ نہیں بنایا، دعوتیں ہو یا کوئی اور موقع اسے جہاں جگہ ملتی وہ سو جاتی اس کے شوہر نامدار پر بھی آفرین ہے کہ اس نے بھی کبھی برا نہیں مانا، ہنی مون سے جلدی واپسی پر سب حیران تھے کہ کیا وجہ ہوئی، تو صاحب نے ہنس ہنس کر جو قصہ سنائے تو سب سے دل چسپ سارہ کی نیند سے متعلق تھے، ایک تصویر میں مارگلہ کی پہاڑی پر وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر سو رہی ہیں، تو دوسری میں موٹروے پر بنے ہوئے پوائنٹس میں کرسی پر ڈھیر ہیں اورسامنے میز پر چائے دھری ہے۔ وہ کہنے لگے یار کہاں کہاں سنبھالتا اسے نیند میں اس لیے بہتر یہ تھا واپس آجائیں۔
وقت گزر گیا اور سال بھر بعد سارہ کی گود میں ننھا شہزادہ آگیا، پہلا دن تو اسپتال میں گزرگیا امی اس فکر میں کہ اسے اپنی نیند پر قابو نہیں اسپتال سے اپنے ساتھ ہی گھر لائیں سسرال نہیں جانے دیا۔ رات کو امی نے اسے دودھ دیا اور اس سے کہا سوجاؤ، میں یہیں لیٹوں گی تمھارے ساتھ تاکہ بچے کا خیال رکھ سکوں، وہ دودھ پیتے ہی نیند کی وادی میں کھو گئی، امی نے ایک آہ بھر کر دیکھا اور سوچا ماں بن گئی، لیکن نیند پر قابو پانا نہیں آیا،جانے کیا کرے گی گھر جا کر !اور ساتھ ہی بے بی کاٹ میں لیٹے ہوئے بچے کو چوم کر خود نماز کی نیت باندھ لی۔
ابھی انھوں نے ایک رکعت ہی ادا کی تھی کہ بچے کی دھیمی سی رونے کی آواز آئی، وہ جلدی جلدی نماز مکمل کرنے کا سوچ ہی رہی تھیں کہ سارہ پھرتی سے جاگ گئی۔ وہ سارہ جو سر پر ڈھول کی آواز پر نہیں اٹھ پاتی تھی، بچے کی خفیف سی آواز پر اس کی مامتا نے اسے فوری جگا دیا۔ انھوں نے سکون سے نماز مکمل کی سلام پھیر کر سارہ کی طرف دیکھا، انھیں اپنی بیٹی پر اس لمحہ بے پناہ پیار آیا اور ان کے سارے خدشات دور ہوگئے، انھیں یقین ہوگیا کہ مامتا نے نیند کو شکست دے دی ہے۔
٭٭٭
جرم
مریم فاروقی
ہماری دوست سفینہ نے اپنا بیٹا بچپن میں میاں کے کہنے پر دل پرپتھر رکھ کر میاں کے بہت گہرے دوست کوتحفہ دے دیا کیونکہ سسرال زبردست ! اللہ کی مہربانی کہ بڑا اورچھوٹا بیٹا اور بڑی دوبیٹیاں کسی کودینی نہ پڑیں۔ جب بھی سسرال میں جھگڑا ہوتاماں باپ کے گھر نہ جاتیں کہ غریب ماں پربوجھ کیوں بنیں ۔ اگرشوہر چھوڑ آتے تو واپس خود ہی آجاتیں 6 نندوں کے ساتھ اچھا ساتھ نبھایا ۔ساس اماں کی اتنی خدمت کی کہ آخری زمانہ بیٹیوں نےتوکچھ بھی ماں کا خیال نہ کیا انہی کے ذمے خدمت رہی چاہےپمپر بدلنے کی ڈیوٹی کیوں نہ تھی ۔نیک طبیعت ہونے کی وجہ سے درگزر کرکے شوہرکی کچھ ہمدردیاں حاصل ہو ہی گئیں ۔ وہ بھی بہنوں کی شہ پر زیادہ شیر ہوتے تھے۔
میاں اپنے بہن بھائیوں کے زیادہ ہم درد رہے۔اپنی دکان جس پر اپنا روز گارکا مدار تھا ، بہن دوسرےشہر سے ہجرت کرکے آئیں توان کے بیٹوں کو دے دی حالانکہ سب اچھا کھاتے کماتے لوگ تھے جب دوسرےنمبر کی بیٹی18 سال کی ہوئی انہوں نے رشتہ مانگ لیا ۔ جوبچپن میں پیارکرتے تھے وہی پھوپھو زاد بہن بھائی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کیڑےنکالنے لگے، پھو پھوبھی ان کی حمایت کرتیں ۔اُسے اللہ نے پہلی بیٹی دی ۔ اگلے سالوں میں دوسرے بھائی کی شادی ہوئی اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی ۔تین چار سال بعد اللہ نے دوسری مرتبہ مہربانی کی ۔ میاں سمیت سب کا یہی کہنا تھا کہ اب جوبچہ ہو گا وہ بے اولاد بھائی کودینا ہے۔ بہت پریشان رہتی کہ میرا حوصلہ نہیں پڑتا ، پھپھو کہتیں کیا تمہاری ماں نے نہیں دل بڑا کیا تھا ؟ اس نے بھی تودیا تھا بیٹا…. تم بھی دو گی ، کیسے نہ دوگی دیکھیں گے ہم ! آخرطبیعت ایک مرتبہ اس قدرخراب ہوئی کہ بےہوش ہوگئی ہسپتال لے کرگئے ۔ڈاکٹرز نے کہا ان کوکوئی صدمہ پہنچا ہے ۔ پھر سب کہنے لگے نہ دینا ہم توویسے ہی کہہ رہے تھے ۔پھر اللہ نے جب ایک اوربیٹی دے دی توسب کودکھ کہ بیٹی کیوں آئی۔ میاں کو جب غصہ آتا بڑی کولگا دیتا ۔کبھی بیگم کی چٹیا کھینچ دی کام میں دیر سویر ہو جائے تو غصہ دوسرے بھائی کی شادی کے بعد تیسرےکی شادی غیروں میں کی ۔ان کا اتنا لحاظ کہ نہ توکوئی ڈانٹ ڈپٹ ، نہ عیب نکالے۔ دوسری بہو پھربھی گھرکے کاموں میں کچھ ہاتھ بٹانے والی لیکن تیسری بہو کا کمرہ دوسری منزل پر، اس نے نیچے ہی نہیں آنا ۔نند نیچے سے کھانا بھی اپنے کمرے میں دے کرآئیں گی ۔ جب اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی وہ بچی کو بھی نیچے پکڑا جاتی کہ اس کو سنبھالیں میری نیند رات بھر خراب رہی ۔ سب اس کے صدقے واری کیونکہ اس کا میاں اپنی بیوی کے خلاف کچھ سننا پسند نہیں کرتا ۔ دوسری طرف سگی بھتیجی کا میاں سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا گھر والے جوجھوٹی سچی سنائیں اس پر اپنی بیوی کی خبرلیتا ۔سارا دن کا بیڈ روم کھلا رہے گا کیونکہ سارے پورشن میں اسی کے کمرے میں واش روم ہے۔ اس بے انصافی کے نظام پر حیرت ہوتی ہے ۔ ماں کی مداخلت کرنے سے کچھ معاملات میں بہتری پیدا ہوئی ۔حیرت ہوتی ہے کہ کیا غربت اورمامتاکمزوری اتنا بڑا جرم ہے !

ہینگ لگے نہ پھٹکری
لبنیٰ مزمل
بازار سے واپسی پر گھر کی دہلیز پر جنت بی کو بل پڑا نظر آ یا ۔ لپک کر اٹھایا اور اندر آ گئیں۔ سامنے ہی ریحانہ سبزی کاٹ رہی تھی ۔ جنت بی نے بل ریحانہ کے سامنے رکھ دیا اور بولیں، کتنا ہے بل ؟
ریحانہ جو بل کی رقم دیکھ کر غصے میں آ گئی تھی تڑک کر بولی، بارہ ہزار۔! ہیں آ پ کے پاس ؟
جنت بی نے ریحانہ کو دیکھا اور اس کی بد لحاظی پر ایک لفظ نہ کہا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
ریحانہ جنت بی کی بہو اور ان کے اکلوتے بیٹے کی بیوی تھی۔ریحانہ اور نوید کی پسند کی شادی تھی۔ زندگی اچھی گزر رہی تھی۔ شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے مگر نوید اور ریحانہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ڈاکٹر حکیم ہر جگہ دکھایا مگر ابھی تک کوئی افاقہ نہ تھا۔
اشاروں کنایوں میں اکثر خواتین مشورے دیتیں۔لگے ہاتھوں کسی گھڑیال والے بابا تو کبھی پھولوں والے با با کی کرامات کا تذکرہ کر دیتیں۔اور ریحانہ کبھی اس مزار تو کبھی اس مزار ۔ کبھی دھاگہ باندھتی کہیں تالا لٹکاتی تو کہیں دیگ چڑھاتی نظرآتی ۔ ریحانہ ہر آ ستانے پر امید بھرا دل لے کر جاتی مگر امید بر نہیں آ تی۔ جبکہ پیسہ پانی کی طرح بہتا چلا جا رہا تھا۔ کبھی کبھی تو ریحانہ تنگ آ جاتی اور اسے یہ آ ستانے اور بابا ڈھونگ لگنے لگتے جو مختلف حیلوں بہانوں سے اس کے شوہر کی حلال کمائی بٹور رہے تھے مگر پھر خواہش کے آ گے مجبور ہو کر کسی اور آ ستانے پر گھٹنے ٹیکنے پہنچ جاتی ۔ مہنگائی نے بھی گزارا مشکل کر دیا تھا۔بجلی گیس کے بلوں کو تو پر ہی لگ گئے تھے ۔ ہر ماہ ہی اضافی ہو کر آ تا۔ ان حالات نے نہ صرف ریحانہ بلکہ نوید کے مزاج پربھی گہرا اثر ڈالا ۔ اکثر و بیشتر دونوں میں تو تو میں میں ہو جاتی۔
آ ج بھی ریحانہ بل دیکھ کر پریشان ہو اٹھی تھی۔اسی لیے جنت بی کو تڑاک تڑاک جواب دے بیٹھی ۔
شام کو نوید کے گھر آ نے پر ریحانہ نے بل نوید کے ہاتھ میں تھما دیا –
بارہ ہزار؟ کیسے جمع کرواؤں گا….اب تو ایڈوانس کا بھی آ سرا نہیں۔ مالک نے کہہ دیا کہ جسے کام کرنا ہے خاموشی سے کرے ورنہ اپنے آ پ کو فارغ سمجھے ۔
نوید نے ریحانہ کی جانب مدد طلب نگاہوں سے دیکھا۔
نوید تم جانتے ہو میرے پاس اب کوئی سونے کی چیز نہیں، بالیاں میں تمہیں تین ماہ پہلے دے چکی ہوں۔یہ انگوٹھی میں تمہیں قطعی نہیں دوں گی ۔ یہ تم نے مجھے منہ دکھائی میں دی تھی۔ تم اندازہ کر سکتے ہو یہ میرے لیے کتنی اہم ہے….تم اماں سے ان کی انگوٹھی لے لو۔
نوید فوراًہی ماں کے کمرے میں پہنچا اور بولا۔
اماں تمہیں تو معلوم ہےنابجلی کا بل بارہ ہزار کا آ یا ہے ۔ میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں اور نہ ہی کہیں سے آ سرا ہے ۔ اماں تم مجھے اپنی انگوٹھی دے دو میرے پاس پیسے آ ئیں گے تو تمہیں ایسی ہی بنوادوں گا۔
اماں نے ایک نظر نوید کو دیکھا اور انگوٹھی انگلی سے اتار کر نوید کے ہاتھ پر رکھ دی۔ بل تو جمع ہو گیا مگر شاید اللہ کو ماں کی انگوٹھی فروخت کرنا اچھا نہیں لگا ۔ نوید کی جاب چھوٹ گئی۔اب مسلسل تگ و دو کے باوجود کوئی اورجاب نہیں مل رہی تھی ۔ تنگ آ کر نوید نے گھر فروخت کر کے کسی نچلے طبقے کے علاقے میں گھر لینے کا فیصلہ کیا تا کہ قرض بھی اتارا جا سکے اور کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بھی کیا جا سکے – ۔
گھر فروخت کرنے اور خریدنے میں چند ماہ کا عرصہ لگا،شفٹنگ کے مراحل بھی پایہ تکمیل کو پہنچے۔اب صرف کاروبار کا مسئلہ تھا نوید جلد از جلد کاروبار سیٹ کرنا چاہ رہا تھا۔اسی سلسلے میں سارا دن مختلف لوگوں سے رابطے میں رہتا اور معلومات حاصل کرتا رہتا۔
ریحانہ گھر داری میں مصروف اور رہ گئیں جنت بی تو دو کمروں کے گھر میں گھبرا سی جاتیں اور باہر آ بیٹھتیں۔ محلے کی خواتین بھی علیک سلیک کے لیے آ جاتیں۔ جنت بی کم گو ان کے سوالوں پر بھی خاموش ہی رہتیں ۔ آ ہستہ آہستہ خواتین کا آ نا جانا گھر میں بھی شروع ہو گیا ۔ گھنٹوں ریحانہ سے باتیں ہوتیں خواتین جنت بی کے حوالے سے بھی بات کرتیں تو ریحانہ اللّہ والی کہہ دیا کرتی۔
دھیرے دھیرے محلے کی خواتین نے اپنے مسائل جنت بی کے سامنے دہرانے شروع کر دیے ساتھ دعا تعویذ کا کہتیں ریحانہ یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کا دماغ دور کی کوڑی لایا اب وقت آ گیا تھا کہ حساب برابر کیا جائے ایک ہفتے بعد ہی جنت بی گھر کے ایک کونے میں سفید چاندنی پر سبز رنگ کا گاؤ تکیہ لگائے برا جمان تھیں ۔اگر بتی کی خوشبو اور دھواں ہرجانب پھیلا ہئواتھا۔ قریب ہی نذرانے کا ڈبہ دھرا تھا۔ علاقے کی چند کمزور ایمان خواتین جنت بی کےسامنے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ دوزانو بیٹھی تھیں ۔
اور رہی ریحانہ۔ تو وہ بے انتہا خوش تھی کیونکہ اس کا کاروبار چل پڑا تھا!
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp