(دولہا کی بارات ۲) بھاری تحفہ ۔ سعد حیدر

کوئی تبصرہ نہیں

وقت بھی کیا عجیب شے ہے۔ کبھی تو یہ ایسا لطیف ہو جائے گا کہ باد صبا کی طرح سبک رفتاری سے گزرنے لگے گا۔ اور کبھی یہی وقت ایسا بھاری کہ آپ کو ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو جائے گا اور آپ کو یوں معلوم ہو گا جیسے آپ کے کمرے میں لگی گھڑی کی سوئیوں کی رفتار نہایت بوجھل اور سست ہو گئی ہے۔ اس فالج زدہ ٹانگ کی طرح جو بمشکل گھسٹ گھسٹ کر چلتی ہے اور ہر قدم پر سر تا پا تکلیف و اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔
میرا بھی ان دنوں کچھ یہی حال تھا کہ وقت گزرتا ہی نہیں تھا۔ ہر دم بے چینی ، قلق اور پریشانی نے مجھ پر سایہ کر رکھا تھا۔عمار کی شہادت کے بعد چند دن تو فاطمہ اور عائشہ سے بذریعہ انٹرنیٹ رابطہ قائم رہا مگر پھر اچانک ہی یہ رابطہ ایسا منقطع ہؤا کہ بہتیری کوششوں کے باوجودبحال نہ ہو سکا۔ اور میرا دل ایک مرتبہ پھر وسوسوں اور بے شمار خدشات کی آماجگاہ بن گیا۔چار ماہ ایسے گزرے کہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میری بہترین دوست فاطمہ اور اس کی لاڈلی بہن عائشہ کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔روزانہ کی بنیاد پر غزہ سے آنے والی اندوہناک خبروں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور میری حالت یہ بنا دی کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہا۔میں عجیب ذہنی اذیت کا شکار تھی اور میرا دل بے قراری کی حدوں کو چھو رہا تھا ۔اور ایسا لگتا تھا کہ غم کی شدت سے دل پھٹ جائے گا۔
لاشوں کے انبار پر انبار لگ رہے تھےاور اب تک لگ رہے ہیں۔مگر…..مگر…..آہ…..امتِ مسلمہ اب تک سو رہی ہے….. قہقہے لگ رہے ہیں….. دعوتیں چل رہی ہیں۔۔ سب اسی طرح روٹین کے مطابق ہے جیسے کچھ ہؤا ہی نہ ہو۔ اتنی بے گانگی تو خواب میں نہ دیکھی تھی۔اس قدر بے حسی کا گمان تک دل میں نہ گزرا تھا۔
٭
  ” لیجیے ا خت عندلیب! آپ کے کہنے سے پہلے ہی آپ کی اس لاڈلی بہن عائشہ نے کان پکڑ لیے۔‘‘
ہفتہ قبل جب بالآخر عائشہ نے مجھے واٹس ایپ پر ویڈیو کال کی تو سلام کرتے ہی کان پکڑ لیےاور ایسا معصوم منہ بنا لیا کہ دل بھر ا بھرا ہونے کے باوجودمیں کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’تم دونوں بہنوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ مجھے پریشان کر کر کے مار دینا ہے۔ پتہ ہے تمہاری فکر میں میرا وزن پورے بیس کلو کم ہو گیا ہے۔ ہائے اللہ! شکر ہے تمہاری شکل دیکھی‘‘
شکوہ کرتے کرتے میری آنکھیں جذبات ِتشکر سے جھلک پڑیں۔الحمد للہ! میری بہترین سہیلیا ں….. میری دل کی دھڑکنیں سلامت ہیں۔
’’ہیں؟ پورے بیس کلو وزن کم ہو گیا؟واقعی؟پھر تو آپ کو ہمارا شکریہ اداکرنا چاہیےناراض ہونے کی بجائے۔ ورنہ آپ سے خود کہاں وزن کم ہونا تھا!جتنی کیلو ریز واک کر کے ختم کرتی تھیں ، رات کو سونے سے پہلے تک اس سے دوگنی دوبارہ ہضم بھی کر چکی ہوتی تھیں…..ہاہاہا….. ماشاءاللہ….. ماشاءاللہ۔‘‘
عائشہ نے حسبِ عادت چہکتے ہوئے کہا۔
ماشاءاللہ….. ماشاءاللہ۔ میں نے دل ہی دل میں کئی مرتبہ کہا کہ کہیں اس زندگی سے بھر پور گڑیا کو نظر نہ لگ جائے۔ یہ کیسا سدا بہار پھولوں بھرا شجر ہے جسے محض دیکھ کر ہی جینے کی امنگیں دل میں انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔
’’تم لوگ ابھی کہاں ہو؟غزہ تو…..وہ تو …..‘‘
’’ہاں اخت عندلیب! غزہ تو مکمل کھنڈر بن چکا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے وحشیانہ ظلم اور امتِ مسلمہ کی حد سے زیادہ آزار دیتی بے حسی پر گواہ تباہ حال بستی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ویسے اخت عندلیب!مجھے بتائیے تو سہی…. کیا واقعی غزہ کےپار امتِ مسلمہ کا وجود ہے؟ کیا وہ واقعی نبی ﷺ ہی کی امت ہے؟ جنہوں نے ایک مسلمان سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خبر آنے پر اپنے ساتھ آئے پندہ سو جانثار صحابہ کرام ؓ سے موت و جہاد پر بیعت لے لی تھی….یا تو غزہ کے پار امتِ مسلمہ کا وجود ہی نہیں ہے یا پھر امت ہمیں اپنے وجود کا حصہ ہی تسلیم نہیں کرتی۔‘‘
عائشہ کے لہجے میں درد بھرا شکوہ سا تھا ۔ اس کی آواز میں ارتعاش بڑھتا جا رہا تھا اور میرے کلیجے کو چھلنی کئے جا رہا تھا۔
’’عائشہ میری جان !ہماری ہی مسلمانی مشکوک ہے۔‘‘
’’ہم تو اب بھی لڑ رہے ہیں اختی عندلیب…..بحمدللہ …..ڈرپوک یہودیوں نے ان خبروں پر عالمی طور پر مکمل بلیک آؤٹ کر دیا ہے جن میں ان کے مالی اور جانی نقصان کا ذکر ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں پتہ ہے کیا ہؤا؟اللہ کے شیروں نے جنگی چال چل کر اسرائیلی فوجیوں کو ایک سرنگ میں ٹریپ کر لیا۔اور پھر ان کو وہ مارا ،وہ مارا کہ دنبہ ہی بنا دیا۔ الحمدللہ۔ اختی! ہم نے شکست تسلیم نہیں کی….. ہماری جنگ اب تک جاری ہے….. اور پتہ ہے کیا؟ میرے اللہ کی اتنی نصرت نازل ہو رہی ہےکہ بس….. ایک ماہ قبل ایک اسرائیلی چیک پوسٹ پر کھڑے فوجیوں پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا…..سبحان اللہ…..کوئی ہماری مدد کو نہ آئے تو کیا اللہ ہمیں تنہا چھوڑ دے گا؟ نہیں!! اس کے لشکروں میں کوئی کمی ہے کیا؟ اللہ چاہے تو نمرود پر مچھر مسلط کر دے اور چاہے تو ان باطل پرست یہودیوں کے لشکر پر شہد کی مکھیاں مسلط کر دےیا آسمان سے فرشتے بھیج کر ان کی سرکوبی کر دے۔
اور ہاں ! آپ نے پوچھا تھا کہ ہم اب کہاں ہیں؟ ویسے تو اس جگہ کو عالمی برادری نے کمال ملمع کاری سے کام لیتے ہوئے’’ سیف زون‘‘ کا نام دیا ہے ، مگر اسے ’’شعب ابی طالب الجدید‘‘ (نئی شعب ابی طالب) کہتے ہیں۔ یہ ایسا ’’سیف زون ‘‘ہے جہاں بقیہ ’غیر محفوظ زونز ‘ سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نہتے خواتین و بچوں پر بمباری ہوتی ہے۔ یہ رفح بارڈر سے بالکل متصل ہے، جس کے دروازے ہمارے لیے بند ہیں۔
’’این فاطمۃ یا عائش؟ ‘‘(فاطمہ کدھر ہے اے عائشہ!)
 یکدم مجھے یاد آیا کہ اتنی دیر ہو چلی ہے مگر اب تک فاطمہ اسکرین کے سامنے نمودار نہیں ہوئی۔
’’اخت عندلیب ! آج آپ نے اب تک کافی نہیں بنائی؟ لگتا ہے کہ آپ واقعی سمارٹ ہونے کی کوشش کر رہی ہیں….. ویری گڈ۔‘‘
عائشہ نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے بات بدل دی۔
’’عائشہ !میں پوچھ رہی ہوں کہ فاطمہ کدھر ہے؟‘‘
میری آواز یکدم بلند ہو گئی۔نجانے کس احساس سے میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ عائشہ کے چہرے پر غم کی پرچھائیاں نمودار ہونے لگی ہیں۔
’’میرا مصحف آپ کی بات کا جواب دے گا۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے لیپ ٹاپ کے قریب پڑا اپنا جیبی مصحفِ قرآنی کھولا۔میں حق دق ہوئی اس کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی اور مجھے معلوم ہو چلا تھا کہ وہ کون سی آیات تلاوت کرنے لگی ہے۔ منظر میری آنکھوں کے سامنے دھندلا ہونے لگا اور آنسوؤں کی بارش ساون کے بھرے بادلوں کی طرح پے در پے برسنے لگی۔
ترجمہ: ”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں۔ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اُس پر خوش وخُرم ہیں ، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کاموقع نہیں ہے،وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔“ (سورہ ال عمران: 169-171)
آہ….. قرآن دل کی بہار…..کیسا غمگسار اور عظیم مونس ہے۔ اس پر مستزاد کہ پڑھنے والی ایمانی حرارت سے معمور ۔ اس کی میٹھی پُر سوز حلاوت بھری تلاوت نے جیسے لمحے بھر میں میرے دل کی ساری کثافتیں دھو ڈالی تھیں اور اس غمناک خبر کے پیچھے مسرت بھری بشارت نے زخم سے چور چور دل پر بے حد سکون آور مرہم رکھ دیا تھا۔ مجھے لگا جیسے کوئی بہت ہی میٹھی آواز میں میرے کان میں چپکے چپکے یہ نغمہ جانفزا پڑھنے لگا ہو۔
 کوئی شہید غم کی تار رات دل میں بھر گیا
سعید ہو کے ہاں مگر نشاط دل میں بھر گیا
جدائیوں کے زخم بھر گئے خیالِ خلد سے
حسین منزلوں کی خواہشات دل میں بھر گیا
اب اس کی یاد منسلک ہے جنتوں کی یاد سے
سفیر جنتاں مبشرات دل میں بھر گیا
عائشہ نے مصحف کو بند کر کے چوما، آنکھوں سے لگایا اور میری طرف دیکھتےہوئے بولی۔
’’یہ میرا کتنا پیارا دوست ہے ناں؟کبھی نہ ساتھ چھوڑنے والا….. میرا غم دور کرنے والا۔ مجھے جنتوں کی سچی امیدیں دلانے والا …..میرا یقین پختہ کرنے والاکہ بالآخر آخری فتح ہماری ہی ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے مصحف اس کے آنسوؤں سے بھیگ گیا۔
’’م مم…..میری بہترین دوست….. میری بہن ….. میری فاطمہ مجھے چھوڑ کر عمار کے پاس چلی گئی…..؟ انا للہ وانا الیہ راجعون !“
مجھ سے کچھ بولا ہی نہ جا رہا تھا ۔ غم مہیب رات کی طرح مجھ پر چھا چکا تھا۔
’’ عندلیب! ہم رفح بارڈر کی طرف ایک بہت بڑے قافلے کی صورت آرہے تھے۔ فاطمہ کی حالت دیدنی تھی۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتیں اور رونے لگ جاتیں۔ اور کہتی جاتیں کہ ہم ارضِ شہادت سے دور ہوتے جا رہے ہیں مگرمجھے تو شہید ہونا تھا۔ اور اس کی خواہش راہ میں ہی پوری ہو گئی۔ اختی! کاش آپ اس کو دیکھ سکتیں ۔۔۔ شہادت کے بعد گویا دلہن لگ رہی تھی اور اس کے خون سے ایسی مبارک خوشبو آرہی تھی کہ بس…..!اور اس نے آپ کے لیے ایک قیمتی تحفہ بھی دیا ہے۔‘‘
’’تت….. تحفہ….. ؟‘‘
عائشہ کچھ لمحوں کے لیے سکرین سے غائب ہوئی اور جب وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک مصحفِ قرآنی تھا اور یہ فاطمہ کا مصحف تھا۔ میں اسے اپنی ہاتھوں کی لکیروں سے بہتر پہچانتی تھی۔ اسلام آباد جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ اسلامی یونیورسٹی میں پڑھنے آئی تھی تو سفر و حضر ، کلاس روم ہو یا ہوسٹل، ہر وقت یہ جیبی مصحف اس کے پاس ہوتا تھا اور جیسے ہی اسے موقع ملتا وہ دھیمی دھیمی آواز میں تلاوت کرنا شروع ہو جاتی۔ عائشہ نے وہ مصحف لیپ ٹاپ کے کیمرے کے سامنے کیا تو میرا دل دھک سے رہ گیا۔فاطمہ کے مصحف کا رنگ تو براؤن تھا۔ یا اللہ! مصحف گہرے سرخ رنگ کا ہو چکا تھا۔مجھے اپنی سانس پھولتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’اختی عندلیب!یہ مصحف ہماری پیاری بہن فاطمہ کے معطر خون سے رنگین ہو چکا ہے۔اور یقین جانیے کہ اب تک اس سے انتہائی مسحور کن خوشبو آ رہی ہے۔ فاطمہ ز خمی حالت میں آپ کو بہت یاد کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ عندلیب کو میرا مصحف بھجوا دینا اور میرا پیغام دینا کہ میں نے جو کچھ اللہ کی اس کتاب میں پڑھا ہے ، اس کی تصدیق اپنے بہتے لہو سے کی ہے اور اب میں اپنے رب کی جنت کی خوشبو پا رہی ہوں ۔یہ مصحف اپنے پاس رکھنا ، اور اس بے حس امت کو بھی دکھانا ۔ یہ میرے خون سے تر مصحف ان پر اتمام حجت ثابت ہو گا۔ جنتوں میں تمہاری منتظر رہوں گی۔‘‘
ایسا قیمتی خوشبوؤں بھرا تحفہ ….. ایسا بھاری تحفہ….. ایسی بھاری امانت….. جسے اٹھا نے کی تاب آسمان و زمین اور فلک بوس پہاڑ نہ رکھ سکے۔ جس امانت کا بار اٹھاتے ہوئے حبیبِ کبریا ؐ کے دندانِ مبارک شہید ہو گئے….. جس امانت کو قائم کرنے کے لیے بدر و احد، احزاب و حنین کے میدان سجے ….. جس امانت کی لاج رکھنے کے لیے یہ بے دست و پا ، سامان ِ حرب و ضرب سے تہی داماں غزہ کے غیرت مند ممولے شہباز سے جا لڑے۔ مجھے لگا جیسے یکدم ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا بوجھ میرے کندھے پر ڈال دیا گیا ہو۔ مگر اس بارِ گراں کو اٹھائے بغیر چارہ بھی تو نہیں، کہ جنت کا سودا سستا تو نہیں!
’’عائش! میں خود یہ قیمتی تحفہ لینے تمہارے پاس رفح بارڈر آؤں گی، ان شاءاللہ۔ اور اللہ کے اذن سے دعوت ِجہاد کے اس بر حق پیغام کو اپنے علاقے میں پھیلاؤں گی ۔اللہ سے امید ہے کہ اس دعوت کی برکت سے ایسی پود ہماری گود میں پرورش پائے گی جو کل کو امتِ مسلمہ کے لیے امیدِ نو کا پیغام بنے گی اور حق کا نور اجالا چہار سو کرنے کے لیے فاطمہ کی طرح اپنا مبارک لہو پیش کرے گی۔‘‘
’’اختی عندلیب! میں آپ کی منتظر رہوں گی۔ فاطمہ کے بعد آپ ہی میری بہن اور دوست ہیں۔‘‘
عائشہ کی آنکھوں میں چمکتے موتی جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔
لیپ ٹاپ بند کرنے کے بعد میں نے وضو کیا ، دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد اپنے ہاتھ اپنی عظیم دوست فاطمہ کے لیے اٹھا لیے جس کے معطر خون سےتر مصحفِ قرآنی نے اب میرے لیے تا دمِ آخر مشعل راہ اور نشان ِمنزل بنے رہنا تھا۔
٭٭٭
Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp