منور، میری سہیلی – ام راشد
رخشندہ کوکب مرحومہ کی یادیں زہرہ عبد الوحید صاحبہ کے قلم سے
ڪمنورمیری ہم راز تھیں ، میری اور ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ آسمان کاستارہ تھیں آسمان کے ستارے بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ستارے وہی بنتے ہیں جو سنت نبویؐ پر عمل پیرا ہوں۔
انہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں وہ کچھ چھوڑا جوایک نوجوان لڑکی کبھی نہیں چھوڑتی انہوں نے وہ کام کیے جو اس عمر کی لڑکیاں کم ہی کرتی ہیں ۔
منور سے میری پہلی ملاقات مولانا مودودیؒ صاحب کے گھر پر ہوئی۔1948ء سے1959تک ہم سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہے یہ 1948ء کی بات ہے میںان دنوں مولانا مودودی صاحب کے ہاںقرآن پڑھنے جایا کرتی تھی۔ میں اور باجی منور آمنے سامنے بیٹھے تھے ( وہ عمر میں مجھ سے کچھ بڑی تھیں اس لیے میں انہیں باجی کہا کرتی تھی) انہیںدیکھتے ہی میرے دل نے کہا یہ کسی بہت اچھے خاندان کی اعلیٰ مزاج والی لڑکی ہے ۔ ان کے چہرے سے اس بات کی شناخت ہو رہی تھی کہ یہ کسی بہت اچھے خاندان کی روح رواں ہیں ۔ درس کے دوران ایک آیت ایسی آئی جب مولانا مودودی صاحب نے اس آیت کی تشریح کی تو میںاور…

