۸اکتوبر کو تقریباً گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان ویمن ایڈٹرسٹ کا چار رکنی وفد جیل پہنچا ۔ سوشل ویلفیئر آفیسر ہماری منتظر تھیں ۔ جیل کے احاطے میں غیر معمولی گہما گہمی تھی ۔ معلوم ہؤا سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال اور اس کے ساتھی نے رات جیل میں خود کشی کرلی ہے ۔
اس خبر کو سنتے ہی دل بے طرح افسردہ وہ گیا ۔ کیا سو بچوں کے قاتل کو اس طرح مرنا چاہیے تھا؟ کیا اس کا انجام وہی ہؤا جس کے وہ قابل تھا اور اس طرح کے بے شمار سوالات ہمارے ذہن میں آنے لگے ۔ ہم لوگ گفتگو کرتے ہوئے ویمن سیل کی جانب روانہ ہو گئے ۔ راستے میں ایک خاص قسم کے سناٹے اورخاموشی کو سبھی نے محسوس کیا ۔ ہوا میںعجب سی پر اسراریت شامل تھی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے فضا میں ان معصوم بچوں کی سسکیاںشامل ہیں ۔ وہ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اذیت ناک موت سے دو چار کرنے والے کا اتنا آسان انجام کیوں ہوا؟ اس کے جسم کے سو ٹکرے کیوں نہ کیے گئے ؟ اس کے ٹکڑوں کو تیزاب میں کیوں نہ پھینکا گیا ؟ اسے سر عام پھانسی پر کیوںنہ لٹکایا گیا کہ اس کی لاش عبرت ناک ہوتی؟ اس کا کون سا ایسا ہمدرد تھا جس نے اسے نشان عبرت بننے سے بچا لیا ؟ کیا قانونی معاملات میں اتنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ ایک شخص بر ملا اپنے سو گناہوں کا اعتراف کر لے اور پھر بھی اسے تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے ؟
کیا قانون کے ہاتھ اس قدرکمزور ہیں جو سومعصوموں کے سفاک قاتل اخلاقی مجرم اورسوخاندانوں کی بربادی کے ذمہ دارکو پھانسی پر نہ لٹکا سکا اوریہ کام بھی اسے اپنے ضمیر سے ہٹ کرکرتے ہوئے خود ہی کرنا پڑا؟
قانون کی بیچارگی کی پہلی گواہی ہمیں جیل کے احاطے میں داخل ہوتے ہی مل گئی تھی!
اب ہم اس معصوم چہرے والی مجرمہ عالیہ کی طرف آتے ہیں جس نے اپنی معصومیت کے لبادے میں ایک ایسی در د ناک کہانی کو جنم دیا جس کی مثال شاید ہی کوئی دوسری ملتی ہو۔ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کو خدا نے اپنی تمام تر نعمتوں نسوانی حسن ، خوبصورت ، محبت کرنے والا شوہر ، بے پناہ دولت اور اولاد کی خوشیوں سے نوازا مگروہ ان کی قدر نہ کر سکی۔
سنٹرل جیل کے احاطے میں عالیہ گھٹنوں میں سردیے زمین پر میرے سامنے بیٹھی تھی ۔ حسین چہرے کی تعریف میں جو الفاظ کہے جا سکتے ہیں وہ ان سب الفاظ کا مجموعہ تھی ۔ انتیس تیس برس کی ہونے کے باوجود حسن اس کی رگ رگ سے پھوٹتا محسوس ہو رہا تھا ۔میلی کچیلی کالی چادر میں لپٹی عالیہ گدڑی میں لعل کی عملی تصویربنی میرے سامنے بیٹھی تھی ۔ میں اس سے اس کی بربادی کی داستان سننے اس کے سامنے بیٹھی اس کا چہرہ تک رہی تھی جوسچ کوجھوٹ بنا کربیان کرنے کے باوجوداپنی معصومیت کی روشنیوں سے منورتھا۔
کیا قاتل ایسے ہوتے ہیں ؟ میرے دل نے سوال کیا ۔ وہ جیل میں پچیس سال کی قید کاٹ رہی تھی ۔ اسے جیل میں آئے ہوئے پانچواں سال تھا۔ وہ گفتگو کرتے ہوئے بے چینی سے پہلوبدلتی ، اس کی آنکھیں اس کی زبان کا ساتھ نہیں د ےرہی تھیں ۔
آپ مجھ سے میری کہانی کیوں سننا چاہتےہیں ؟ اس نے استفسار کیا۔
جب تم اپنی کہانی سنائو گی تو تمہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا۔
اچھا…. اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی کہانی یوں شروع کی جیسے کسی نے بند پنجرے کو کھول دیا ہو اورتمام پرندے یکے بعد دیگر پھڑ پھڑاتے ہوئے اس کی بربادی کا باب در باب سنا رہے ہوں۔
٭
وہ مغلپورہ کے ایک گنجان آباد علاقے میں اپنے ماں باپ اورپانچ بہن بھائیوں کے ساتھ دوکمروں کے ایک پرانے سے مکان میں رہتی تھی ۔ اس کا باپ کریانہ کی دکان کرتا تھا ۔ اس کی ماں کے ساتھ باپ کا ہر روز جھگڑا ہوتا ۔کبھی پیسوں پرکبھی اس دال روٹی پرجو روزانہ گھر میں پکتی تھی ۔ کبھی چھوٹے بھائیوں کی فیس پر کیونکہ اس کے تینوں چھوٹے بھائی اسکول جاتے تھے ۔ رضیہ اورعالیہ کو ابا نے اسکول نہیں بھیجا تھا ۔ اس کے نزدیک لڑکیوں کوپڑھانا فضول تھا ۔ آخر کو انہوں نے چولہا چوکا ہی توسنبھالنا ہوتا ہے ۔
رضیہ اورعالیہ تمام دن گھر کے کام کاج میں اماں کا ہاتھ بٹاتیں ۔ فارغ وقت میں محلے کی سہیلیاں آجاتیں یا وہ ان کے گھر چلی جاتیں۔محلے کی بہت سی لڑکیوں کے عشق و عاشقی کے قصے ایک دوسرے کو سنائے جاتے ۔ خاص طورپرنائلہ اورریحان کے عشق کی داستان سب مزے لے کر ایک دوسرے کوسناتیں ۔
انڈیا کے گانے اورفلمیں ان کی کمزوری تھیں ۔ شاہ رخ کی فلم دیکھنے کے لیے عالیہ سارے کام کاج چھوڑ دیتی ۔ہفتے میں دوبارکرائے پر وی سی آر لایا جاتا ۔ ابا کے آنے سے پہلے پہلےوہ لوگ دوتین فلمیں توضروردیکھ لیتے تھے ۔ رضیہ باجی تو خود انڈین فلموں کی مادھوری لگتی تھی ۔ جب رضیہ گلی سے گزرتی تو سب لڑکے کام کاج چھوڑ کر اسے دیکھنے لگتے ۔ تب عالیہ کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی کہ کاش وہ سب اسے بھی ایسے ہی دیکھیں ، مگر وہ توبہت چھوٹی تھی۔
انہی دنوں رضیہ کے لیے بہت اچھا رشتہ آگیا ۔ انور ایک بڑی سی ورکشاپ میں موٹر مکینک تھا ۔ وہ ایف اے پاس تھا ، اس کے تمام رشتہ دار گائوں میں تھے ۔ شہرمیں اکیلا رہتا تھا۔ ایک کمرہ کرایہ پرلے رکھا تھا ۔ ابا نے اس کی نیکی اورشرافت دیکھتے ہوئے رشتہ طے کر دیا ۔ انور محنتی اورایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ شکل وصورت کا بھی اچھا تھا ۔ اماں کے نزدیک خوبصورتی اوراچھی کمائی دونوں ہی اکٹھے مل گئی تھیں اوریوں رضیہ جھٹ پٹ اپنے گھر کی ہو ئی۔
انور نے شادی کے بعد رضیہ کا ہر طرح سے خیال رکھا تھا، اس کی ہرخوشی کواپنی خوشی سمجھا تھا ۔ تین سالوں میں ان کے ہاں دوبچے ہوگئے تو انورکو اپنے بہتر مستقبل کی فکر ستانے لگی۔ اس نے ورکشاپ کے مالک سے کہہ کر بیرون ملک اپنے لیے نوکری کی تلاش شروع کردی تھی۔پھراس کی قابلیت اورمحنت کی وجہ سے جلد ہی اسے دوبئی کی ایک فرم میں ملازمت مل گئی ۔ انور خوشی سے دیوانہ ہؤا جا رہا تھا ۔
’’ رضیہ اب ہمارا اپنا گھر ہو گا ، اپنی گاڑی ہو گی ‘‘۔
رضیہ تو شروع سے ہی ٹھاٹ باٹ والی زندگی کے خواب دیکھتی آئی تھی ۔ انور کی نوکری کا سنا توپھولے نہ سمائی ۔ کیا اب وہ بان کی کھر دری چارپائی کی بجائے فوم کے نرم گدے پرسویا کرے گی ؟ کیا اب اس کے گھر میں بھی پھٹ پھٹ کرتے پیڈسٹل فین کی مچھروں سے گھلی ہوا کے بجائے ائیر کنڈیشنز کی ٹھنڈی ہوائیں لوریا ںدیں گی ؟اس کے بچے بھی انگلش میڈیم سکول میں جائیں گے ؟ یہ سب اسے ایک خواب کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
اور پھر انوردوبئی چلا گیا ۔ رضیہ نے اگلے پانچ سالوں میں کرائے کا مکان چھوڑ دیا تھا ۔ تھوڑے اچھے علاقے میں پانچ مرلے کا مکان بنا لیا تھا ۔ بنائے تو صرف دو کمرے ہی تھے مگر مکان تو اپنا تھا ۔ انور سال کے بعد آتا دو ماہ رہ کر چلا جاتا ۔
رضیہ اکثرعالیہ کو اپنے پاس بلا لیتی ۔ دونوں بہنیں خوب باتیں کرتیں ۔ عالیہ کوبننے سنورنے کا بہت شوق تھا ۔ یہ شوق رضیہ کے گھر جا کرخوب پورا ہوتا ۔ اب تووہ بھی رضیہ کے برابر لگنے لگی تھی ۔ رضیہ کے اچھے اچھے کپڑے پہن کر خوب بنتی سنورتی کیونکہ اس نے ہر کام میں رضیہ کے پیچھے چلنا ہوتا تھا ۔ رضیہ اس کا آئیڈیل تھی ۔ رضیہ کے گھر میں ہر وہ چیز تھی جودوبئی جانے والے بھیج سکتے ہیں انور نے رضیہ کے آرام کی خاطر اسے بہترین گھر اورزندگی کی ہر سہولت دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔
عالیہ کو رضیہ کے گھر رہنا اچھا لگتا تھا ۔ کیونکہ یہ آرام وآسائش اس کے اپنے گھر میں نہیں تھا اور نہ ہی ایسی آزادی میسر تھی جو یہاں پر تھی۔ محلے کے تمام لوگ رضیہ کا بہت خیال رکھنے لگے تھے ۔ جب ایک جوان اور خوبصورت عورت دوچھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ تنہا رہتی ہو تومحلے والوں کواس سے خوامخواہ ہمدردی ہو جاتی ہے ۔ خاص طور پرسامنے والے مکان کے شیخ صاحب کا لڑکا عقیل تو بلا ناغہ صبح وشام رضیہ سے آکرپوچھتا کہ آپ کوکوئی چیز بازار سے تو نہیں منگوانی ۔ کیونکہ عقیل آج کل فارغ تھا ۔ میٹرک میں دو بارفیل ہو جانے کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی تھی ۔ اب وہ صرف رضیہ کے آرام کا خیال رکھتا تھا۔
رضیہ پہلے پہل توکچھ جھجکی مگر بعد میں بلا تکلف اس سے چیزیں منگوانے لگی ۔ پھر اس کی نفسانی خواہش نے اسے عقیل کے طرف لڑھکادیا جس کی نگاہیں بہت دنوں سے اس سے کچھ سوال کر رہی تھیں اوروہ دانستہ ان کا جواب دینے سے گریزاں تھی ۔ اوروہ ان پستیوں میں گرتی چلی گئی جس میں گرنے کے بعد انسان انسان نہیں رہتا بلکہ حیوان بن جاتا ہے ۔ انسانیت کا درجہ توبہت بلند ہوتاہے مگرشیطان اپنی مکاریوں کے جال میں ہرمعصوم کولپٹنے کی کوشش میں ہمیشہ مصروف رہتا ہے ۔گناہ کا یہ جال ایسا گورکھ دھندہ تھا جس میں ایک بارپھنسنے کے بعد انسان کا باہرنکلنا محال ہو جاتا ہے ۔
رضیہ کے گھرعقیل کے آنے جانے کی وجہ سے محلے والوں نے باتیں بنانا شروع کردیں مگر رضیہ نے اسے منہ بولا بھائی بنا کرسب کے منہ بند کر دیے تھے کیونکہ ہمارے معاشرے میں بوائے فرینڈ تو بنا نہیں سکتے اس لیے منہ بولا بھائی بنانا سب سے آسان کام ہے۔
عالیہ نے چونکہ غربت کے ماحول میں آنکھ کھولی تھی ، ذرا ذرا سی بات پر ابا اوراماں کو ہمیشہ پیسوں کی خاطر لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا ، رضیہ کی آسودہ حالی کے بعد اس نےسوچ لیاتھا کہ میں کسی امیر آدمی سے شادی کروں گی۔
اور آخر ایک دن خدا نے اس کی خواہش پوری کردی جب عقیل کی بہن کی شادی میں بشیر نے اسے دیکھا اورپسند کر لیا ۔ بشیر ایک امیر آدمی تھا۔ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا مگراس کی اولاد نہیں تھی ۔ دس سال سے وہ اولاد کوترس رہا تھا ۔ دوسری شادی اس کی مجبوری تھی اوروہ اسے پسند بھی توآگئی تھی ۔ عالیہ کی اماں تو پہلے ہی بہت فکر مند تھی جیسے ہی رشتہ کا پیغام آیا وہ سکتے میں رہ گئیں ۔ اتنا امیرکبیرآدمی انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا ۔ ایک کنال کا اتنا بڑا گھر، لاہور میں کئی پلاٹ ، زرعی زمینیں ، سریے کی فیکٹری ، دو دو گاڑیاں ، کروڑ پتی آدمی تھا ۔ عالیہ جو کل تک اماں کو نصیبوں جلی دکھائی دے رہی تھی یکدم خوش قسمت نظر آنے لگی ۔ اماں کو ایسا لگا جیسے کسی نے عالیہ کے سرپر ہما بٹھا دیا ہو، دنیا کی بادشاہت اس کے نصیب میں لکھ دی گئی ہو۔
عالیہ کی ماں نے لڑکے والوں سے کہا کہ ایک بار آکرہمارا گھر باردیکھ لیں ، اپنی غربت کا احساس انہیں دامن گیر تھا اورپھربشیر کی بہنیں آکرعالیہ کو پسند کر گئیں اورشادی کی تاریخ طے پاگئی۔
بشیردرمیانی عمرکا خوب صورت جوان آدمی تھا ۔شادی پراس نے کھلے دل سے خرچ کیا ۔ عالیہ کو سر سے پائوں تک سونے میں پیلا کردیا ۔ بشیر کی بہنوں نے اس کے بہت چائو کیے ۔ اس کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی کیونکہ بشیران کا اکلوتا بھائی تھا ۔ ماں باپ تھے نہیں ، بہنیں اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں ۔
کبھی کبھی عالیہ کو ایسے لگتا جیسے وہ کوئی سپنا دیکھ رہی ہے ۔ذرا سی آہٹ پر وہ چونک جاتی ۔ کیا اس کے مقدر میں اتنا کچھ لکھا ہے ۔بس وہ تھی بشیر تھا اوراس کی راجدھانی تھی۔
مگراس راجدھانی میں ایک سایہ ہروقت اس کے ساتھ رہتا تھا اوروہ تھی اس کی سوکن ثمینہ جو چپ چاپ اسے دیکھا کرتی ۔ ابھی تک سارے گھر پر اس کی حکمرانی تھی ۔ تمام نوکر چاکراس کے اشاروں پرچلتے تھے ۔
عالیہ کوگھر کے کام کاج سے خاص دلچسپی نہ تھی ۔ اسے توبس آئینے کے سامنے کھڑا ہونا اچھا لگتا تھا ۔ اتنے اعلیٰ لباس اورزیورات جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے وہ انہیں کیسے نہ پہنتی ۔ اسے اپنی بے پناہ خوبصورتی کا اب شدت سے احساس ہونے لگا تھا۔
عالیہ گیارہ بجے سو کر اٹھتی تو ملازمہ چائے بنا کر اسے دےجاتی ۔ چائے پہلے تواس نے کبھی نہیں لی تھی مگر اب چائے کے بغیر اس کی آنکھ نہ کھلتی تھی ۔ بارہ ایک بجے نہا دھو کرکپڑے بدل کرکمرے سے باہرنکلتی تواتنی دیر میں ثمینہ گھر کے تمام کام کاج سمیٹ چکی ہوتی اوردوپہر کے کھانے کی تیاری کی جا رہی ہوتی تھی ۔ عالیہ وی سی آر یا ڈش پرکوئی نئی مووی دیکھتی رہتی ۔ چاربجے سے بشیر کا انتظار شروع ہوجاتا اوراکثرشام کو وہ دونوں سیر وتفریح کے لیے چلے جاتے اوررات کا کھانا باہرکھاتے ۔
اب توگھر میں ایک نئی خصوصی ملازمہ کا اضافہ ہو گیا تھا ۔ جب سے بشیر کویہ پتاچلا تھا کہ عالیہ امید سے ہے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس نے عالیہ کو بسترسے پائوں بھی نیچے اتارنے سے منع کردیا تھا۔ اسے ہرہفتے ڈاکٹر کودکھایا جاتا ، اس کی خوراک کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ۔ خصوصی ملازمہ توصرف اس کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتی ۔ آخر وہ دن بھی آہی گیا جس کا بشیر کو بہت انتظار تھا ۔ اللہ نے پہلی بار میں ہی جڑوا ںبیٹے دیے۔
بیٹوں کی خوشی میں بشیرنے داتا دربارپرجا کردیگوں کی نیاز دی ، محلے بھرکیا ، پورے خاندان میں مٹھائی بانٹی گئی ۔ خدا کا شکرادا کرنے کا اس سے بہترطریقہ بشیرکی نظر میں نہ تھا اورنہ ہی عالیہ کی نگاہ میں تھا ۔ کیونکہ نماز توکبھی کسی نے پڑھی نہ تھی ۔خدا کے آگے توسرجھکانا کوئی جانتا ہی نہ تھا۔ عید بقر عید پردوسروں کی دیکھا دیکھی نماز پڑھ لی جاتی تھی ۔ اس کے گھر میں توصرف ابا جمعہ کی نماز پڑھ کر آتے تھے اورمولوی صاحب کے خطبے میں جودوچارلفظ سن آتے وہ گھر والوں کوبھی سنادیتے ۔ بس انہیں دینی تعلیم یہیں تک ملی تھی ۔ اماں کو توگھر کے کاموں اور محلے کی جانچ پڑتال سے ہی فرصت نہ تھی ۔ خدا کا وجود بس نذر نیاز تک محدود تھا ۔یا شبرات کواللہ کو خوش کردیا جاتا تھا۔
اگلے چھ سالوں میں عالیہ چھ بچوں کی ماں بن گئی ۔ اسے یوں لگتا جیسےاس کے بچوں کی پیدائش سے اس کی سوتن ثمینہ اندر ہی اندر سلگ رہی ہے۔ اس کا خیال تھا اس کی آہیں عالیہ کے بچوں کو کھا جائیں گی ۔ عالیہ نے ثمینہ کی ذرا ذرا سی لا پروائیوں کوبشیر کے سامنے بڑھا چڑھا کربیان کرنا شروع کردیا تھا جس سے گھر میں آئے دن جھگڑا ہونے لگا تھا ۔ اسے ثمینہ شروع دن سے ہی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔ اب تواس کے ہاتھ معقول بہانہ تھا اوروہ بشیر کے دل اورگھر میں اپنے قدم بھی جما چکی تھی۔آخرایک روز اس نے بشیر سے کہہ ہی دیا کہ اس گھر میں یا میں رہوں گی یا ثمینہ اور بشیرکوعالیہ کی بات ماننا پڑی اوراس نے ثمینہ کو طلاق دے دی ۔ بے قصور ثمینہ طلاق نہیں لینا چاہتی تھی اس کا واحد قصوربے اولاد ہونا تھا ۔ ثمینہ بشیرکی خالہ زاد بھی تھی ۔ ثمینہ کے بھائی اظہر سے بشیر کی دوستی بھی بہت تھی مگر بشیر نے کسی بات کی پروا نہ کی ….اظہر نے ثمینہ کو لے جاتے ہوئے کہا بشیرتم نے میری بے گناہ بہن پر ظلم کر کے اچھا نہیں کیا اسے گھر کے کسی کونے میں پڑا رہنے دیتے ، اب خدا تمہارا گھربھی بسنے نہیں دے گا۔
ثمینہ کے جانے کے بعد عالیہ نے گھر میں بے پناہ سکون محسوس کیا اور یوں زندگی رواں دواں ہو گئی۔
ایک روز عالیہ کومعلوم ہؤا اس کے انوربھائی دبئی سے آ رہے ہیں۔ وہ کافی دنوں سے رضیہ کے ہاں بھی نہیں گئی تھی ۔ اوپر تلے چھ بچوں کی پیدائش نے اسے بہت مصروف کردیا تھا ۔ انور کے آنے کا سنا تو وہ رضیہ کے گھر صبح نو بجے کے قریب پہنچ گئی ۔ گھرکی بیل بجائی تو اندر سے رضیہ نے جھانکا بہن کو دیکھ کروہ کچھ گھبرا گئی اورجھجکتے ہوئے دروازہ کھول دیا ۔ بسترپر انورکی بجائے عقیل کو سوتا دیکھ کر عالیہ بھونچکی رہ گئی ۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے رضیہ کی طرف دیکھا تو رضیہ بہت اطمینان سے بولی۔’’ عقیل رات دیر تک بچوں سے باتیں کرتا رہا تھا اس لیے دیر ہونے کی وجہ سے میں نے کہا یہیں سو جائو ‘‘۔
اس نے رضیہ کورنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا اوراب خود ہی اسے مجرم سمجھتے ہوئے ہچکچا رہی تھی ۔ عالیہ نے انور بھائی کا پوچھا تو رضیہ نے برا سا منہ بنایا ۔ ’’ انور ! وہ اگلے ہفتے آئے گا ‘‘۔ اس نے رضیہ کے روپ میں ایسی گھنائونی عورت کودیکھا تھا جس نے امانت میں خیانت کی تھی ۔ جس نے اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں اس کی پیار سے بنائی گئی جنت کو دوزخ میں بدل دیا تھا اوربہت اطمینان سے اس آگ میں جل رہی تھی جس کا انجام بہت بھیانک تھا۔
اور پھر وہی ہؤا ۔ اگلے ہفتے وہ حادثہ پیش آیا جس کے لیے پہلے سے تیاری کر لی گئی تھی ۔ جس رات انور دبئی سے آیا اسی رات اس کے گھر ڈاکوآگئےاور ڈاکوئوں سے مقابلے کے دوران انورمارا گیا ۔ وہ ڈاکو تو گھر میں پہلے سے ہی موجود تھے ۔ محلے والوں کی گواہی سے پولیس بات کی تہہ تک پہنچ چکی تھی ۔ رضیہ اورعقیل کو گرفتارکرلیا گیا تھا ۔ مقدمہ چلا توعقیل کو اس کے مالدارباپ نے چھڑوا لیا اوررضیہ کو عمر قید کی سزا ہوئی۔
بعد میں رضیہ نے عدالت میں ایسا شرمناک بیان دیا جس میں انورکی پاکیزگی کو داغدار کیا گیا کہ انور رضیہ سے عصمت فروشی کروانا چاہتا تھا اس لیے اس نے اپنی عزت بچانے کے لیے انورکو قتل کردیا ۔
اس بیان پر رضیہ کوچار سال کی قید کے بعد رہائی مل گئی ۔رہائی کے بعد رضیہ اپنی دنیا میں مگن تھی ۔ اس کے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا ۔ عقیل کے لیے تو اب سارے در کھلے تھے۔
عالیہ اکثرسوچتی کہ دیکھو کب بے گناہ انور کا خون رنگ لائے گا مگرکچھ بھی نہ ہؤا تھا ۔ اسے تو کبھی کبھاررضیہ ہی بے گناہ لگنے لگتی۔
ادھربشیرکا رویہ عالیہ سے دن بدن برا ہوتا جا رہا تھا۔ وہ اپنے کسی بچے کی طرف سے ذرا سی لا پروائی کوبرداشت کرنے کو تیار نہ تھا ۔ اس کا اورعالیہ کا ہر وقت جھگڑا رہتا ۔ گھر میں اگرچہ کام کاج کے لیے کئی ملازم تھے بچوں کی پرورش میں بھی اسے ملازمین کی مدد ملتی رہی تھی مگر عالیہ جسے آرام کرنے اور سجنے بننے سے خاص دلچسپی پیدا ہو گئی تھی ، اتنی بڑی ذمہ داریوں سے گھبرانے لگی تھی ۔ کچھ بشیر نے بھی اس کی عادات بگاڑ دی تھیں۔ بچوں کی پیدائش پر اس کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ تھا ۔ اس نے زیورات اور کپڑوں کے انبار عالیہ کے قدموں میں بکھیر نے شروع کردیے تھے ۔ عالیہ کا اب یہی جی چاہتا تھا کہ وہ بن سنور کر بیٹھی رہے اوربشیر اس کے حسن کے قصیدے گاتا رہے مگروہ دن رات ختم ہوچکے تھے۔ عالیہ کی لا پروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی تھیں ۔ ماں بننے کے بعد اس کے حسن میں اوربھی اضافہ ہو گیا تھا ۔ مامتا کا تقدس اس کے چہرے سے چھلکنے لگا تھا ۔ مگر وہ اس نور کو پہچان نہ سکی ۔
چاربچے اب سکول جانے لگ گئے تھے ۔ جب تک وہ اسکول میں رہتے اس کا کچھ وقت آرام سے گزر جاتا ۔ دوچھوٹوں اسد اورعبید کو اس نے قریبی نرسری میں داخل کروا دیا تھا جن کووہ خود ہی سکول چھوڑنے اور لینے جاتی تھی۔
ایک روز وہ اسد اورعبید کو سکول چھوڑ کرگھر واپس آ رہی تھی کہ ایک نوجوان لڑکے نے اس کا راستہ روک لیا ۔ وہ ایک دراز قد اچھی شکل وصورت کا نوجوان تھا ۔ اس نے عالیہ کے حسن کی تعریف میں ایک شعر گنگنایا تو عالیہ گھبرا کر راستہ کاٹ کر گھر چلی آئی۔
اس روز آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے اسے محسوس ہؤا کہ شاہد کے اس شعرنے اس کے حسن میں چار چاندلگا دیے ہیں اور پھر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شاہد کی طرف بڑھنے لگی۔
اس نے ایک روز شاہد سے کہا یہاں کے سب لوگ مجھے جانتے ہیں کہ یہ بشیر کی بیوی ہے ایسا نہ ہو کہ بشیرکوپتا چل جائے۔ وی سی آر اورڈش پرفلمیں دیکھ دیکھ کر اسے چھپ چھپ کر ملنے کے بے شمار طریقے معلوم ہو چکے تھے ۔ مگر شاہد ہر بار اس کے خدشات کو اپنی چالبازیوں اورمیٹھی میٹھی باتوں سے رفع دفع کردیتا ۔
ساون کی ٹھنڈی پھوار چلچلاتی دھوپ میں بدل چکی تھی ۔ اس کی ذمہ دار خود عالیہ تھی۔ آخر کب تک یہ بادل چھائے رہتے ۔ عالیہ اورشاہد کی ملاقاتوں کے بارے میں بشیر کو علم ہوچکا تھا ۔ پہلے پہل تو بشیر کو یقین نہ آیا کہ جس حسین عورت کے قدموں میں اس نے ذر وجواہر لٹا دیے تھے وہ بے وفا بھی ہو سکتی ہے اور پھر عالیہ اور بشیر کا خوب جھگڑا ہؤا ۔ بشیر نے عالیہ کو بہت برا بھلا کہا ، لعن طعن کی ، مارا پیٹا ، سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں ، اس سے زیادہ وہ اورکر بھی کیا سکتا تھا ۔ وہ اسے چھوڑ بھی تو نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ اس کے چھ بچوں کی ماں تھی اورشاید اسے عالیہ سے محبت بھی تھی ۔ اس نےعالیہ کو پیار سے بھی سمجھایا مگرعالیہ نے ایک بہت بڑا فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب اس گھر میں نہیں رہے گی لیکن بچے اس کے پائوں کی زنجیر بن چکے تھے ۔ کیا اسد اس کے بغیر رہ لے گایا دانیہ ماں کویاد نہیں کرے گی؟
کچھ روز بعد اس نے شاہد کو فون پر ساری بات بتائی تو شاہد نے بے حد سفاکی سے کہا کہ میں تمہارے بغیرنہیں رہ سکتا اورتم بچوں کے بنا زندگی نہیں گزارنا چاہتی ۔ ہم سب کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ ہے اور وہ بشیر ہے۔کیوں نہ ہم بشیر کوختم کردیں۔
وہ یہ سب سن کر لرز گئی ۔ رضیہ نے بھی تو یہی کچھ کیا تھا وہ تو انورکو ہمیشہ سے مظلوم سمجھتی آئی تھی ۔ کیا بشیر بھی مظلوم تھا ؟ نہیں انوربھی مجرم تھا اوربشیربھی ! رضیہ نے بھی مجبور ہوکر یہ قدم اٹھایا ہو گا ۔ رضیہ بے گناہ تھی تبھی وہ بچ گئی تھی میں بھی بچ جائوں گی ۔ یہ سوچ کر اسے اطمینان سا ہو گیا۔
وہ سردیوں کی ایک کالی رات تھی ، جس رات شیطان نے اپنی چال میں کامیابی کے بعد ایک اورہنستے بستے گھر کواجاڑنا تھا ۔ باہرہو کا عالم تھا ۔ دور دورتک سناٹے کا راج تھا عالیہ نے اپنے گھر کی تمام ڈوپلیکیٹ چابیاں شاہد کودے رکھی تھیں تاکہ وہ جب اور جس دروازے سے چاہےاندرآجائے ۔
اس رات بھی شاہد دروازے کو چابی لگا کراطمینان سے دروازہ کھول کراندر آگیا ۔ بشیر اپنے کمرے میں سو رہا تھا ساتھ والے کمرے میں بچوں کے ساتھ عالیہ لیٹی تھی ۔ بچے سورہے تھے ، عالیہ کا ضمیربھی سو چکا تھا ، وہ خود جاگ رہی تھی ۔ وہ اس کہانی کو دہرانے جا رہی تھی جس کی بنیاد رضیہ نے رکھی تھی۔
شاہد کے ساتھ اس کا ایک دوست ساجد بھی تھا ۔ وہ دونوں بشیر کے کمرے میں داخل ہوئے ۔بشیر بے خبر اپنے بسترپر محو خواب تھا ۔شاہد نے اپنی جیب سے ریوالورنکالا اور تین فائر کیے اور تمام گولیاں یکے بعد دیگرے بشیر کے سینے میں پیوست ہوگئیں ۔ وہ اف بھی نہ کر سکا اورڈھیر ہو گیا ۔
شاہد نے عالیہ کو کمرے میں بلایا وہ دہشت زدہ تھی بشیر بستر پر مرا پڑا تھا ۔ بسترپر چاروں طرف بشیرکا خون بکھراہؤا تھا ۔ خوف سے عالیہ کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔ شاہد نے بشیر کے ہاتھ تروڑ مروڑ دیے تھے ۔ اس کی کمر پر ضربیں لگا کراس کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیے تھے ۔
’’ عالیہ دیکھو میں نے ان ہاتھوں کے ٹکڑے کردیے ہیں جو تم پراٹھے تھے ۔ جن ہاتھوں نے تمہیں اذیت پہنچائی تھی وہ اب کبھی بھی نہیں اٹھ سکیں گے ‘‘۔ شاہد بولا۔
مگر عالیہ خاموش تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت اسے رونا چاہیے یا خوشیاں منانی چاہئیں ۔شاہد کچھ توقف کے بعد بغور عالیہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا ۔’’ بشیر نے کل ایک زمین کا سودا کیا ہے جس میں اسے پچیس لاکھ روپے ملے ہیں وہ اس کی الماری میں رکھے ہیں ۔وہ مجھے دے دو تاکہ میں کل ہی ملک سے باہر چلا جائوں ۔پھر میں تمہیں بھی وہیں بلا لوں گا ۔
تب عالیہ کو معلوم ہؤا کہ شاہد نے پیسے کی خاطر یہ کھیل کھیلا ہے ۔ اسے عالیہ سے نہیں بشیر کی دولت سے محبت تھی ۔ مگر اب توکچھ نہیں ہوسکتا تھا ۔
’’ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ پیسوں کی خاطر مجھ سے محبت کا کھیل رچایا ہے ۔ تم توبیرون ملک چلے جائو گے ۔ مگرپولیس مجھے پکڑلے گی ‘‘۔ عالیہ ہذیانی انداز میں چلائی۔
’’ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ ہم نے ایسا پلان بنایا ہے کہ لوگ دوتین ماہ تک تو بشیر کوتلاش کرتے رہ جائیں گے ، اسی اثناء میں میں تمہیں باہربلا لوں گا ‘‘۔ شاہد نے ہمیشہ کی طرح عالیہ کو اپنی لچھے دارباتوں میں الجھالیا۔ ویسے بھی عالیہ اب ان کے رحم و کرم پرتھی۔ شاہد اور ساجد کمرے سے باہرنکل گئے تاکہ بشیر کی لاش کوٹھکانے لگا سکیں۔
رات کا پچھلا پہرہوچلا تھا ۔کُہر کی چادرمیں لپٹا اجالا اپنا چہرہ دکھانے میں ناکام ہو رہا تھا ۔ آخر کب تک ناکام رہتا ۔ جب دھند چھٹ جاتی ہے تو اجالا عیاں ہو کر ہی رہتا ہے۔ شاہد اورساجد ایک پک اپ لے کر آگئے ۔ ان دونوں نے بشیرکی نعش کے دونوں ٹکڑے بوری میں ڈالے اوربوری کوپک اپ میں رکھا تاکہ اس کی نعش دریا برد کر آئیں۔
خدا کا کرنا کیا ہؤا کہ وہ ابھی چند فرلانگ کے فاصلے پر ہی پہنچے ہوں گے کہ گاڑی کے انجن میں سے آواز یں آنا شروع ہوگئیں اور گاڑی چلنا بند ہوگئی ۔ پک اپ کے خراب ہوجانے پر یہ دونوں گھبرا گئے اورپک اپ کو بیچ سڑک پرچھوڑ کرفرارہوگئے ۔
اسی اثنا میں پولیس کی موبائل گاڑی وہاں سے گزری اس موبائل نے جب بیچ سڑک میں کھڑی پک اپ کو دیکھا تواس کی تلاشی لی ۔ تلاشی میں اس علاقے کا بااثراوردولت مند شخص تھا لہٰذا پولیس نے اسے فوراً پہچان لیا ۔ اگلے روز پولیس نے عالیہ شاہد اورساجد سبھی کوگرفتارکرلیا۔
عدالت میں مقدمہ چلا اور دفعہ ۳۰۲ کے تحت عالیہ اورشاہد کوپچیس پچیس سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ ساجد کووعدہ معاف گواہ بننے پررہائی مل چکی ہے۔بشیر کے قتل اورعالیہ کی گرفتاری کے بعد بشیر کے گھر باراورجائیداد کا منتظم ثمینہ کا بھائی اظہرہے اور ثمینہ بچوں کی پرورش کے لیے اس گھر میں دوبارہ آچکی ہے۔ عالیہ نے سپریم کورٹ میں رحم کی اپیل کی ہے۔آخر میں عالیہ نے کہا ’’ میں اگلی پیشی پرعدالت میں اپنا بیان بدل لوں گی ‘‘۔
اتنا کہہ کروہ چپ ہوگئی ۔
یہ سب سننے کے بعد میں نے اپنا سر کرسی کی پشت پرٹکا دیا اورسوچنے لگی۔
کیا عالیہ بھی عدالت میں وہی کچھ کہے گی جورضیہ نے کہا تھا ؟ کیا مرد کی خوبصورت باتیں عورت کوہوش و خرد سے بیگانہ کر دیتی ہیں ؟ کیا ذہنی آوارگی اوراخلاقی تربیت کی کمی ایسے واقعات کی ذمہ دارہے ؟ کیا ہمارا قانون اندھا ہے ؟ اگر رضیہ کواس کے کیے کی سزا مل جاتی توشاید عالیہ بھی ایسا قدم بڑھانے سے ڈرتی ۔
آئیے ہم سب مل کراصل وجوہات کوتلاش کرتے ہیں جو اس کی بربادی کی ذمہ داربنیں۔
٭ ٭ ٭