شاید میں چار سال کی تھی جب میری امی نے ادھر ادھر سے معلومات لے کر میری تعلیم کے آغاز کے لیے میری انگلی پکڑی اور خالو جی کے گھر کی طرف چل پڑیں۔
ان کا گھر کوئی 15 منٹ کی پیدل مسافت پر ہو گا۔ گلیوں میں سے چلتے ہوئے ان کے گھر پہنچے جس کے باہر پیلے اور سفید رنگ کی سفیدی ہوئی تھی۔ دروازے کے پاس شہتوت کا درخت لگا تھا۔ دروازے سے اندر داخل ہوئے تو کم چوڑائی والا مگر دو گلیوں کے آر پار لمبا گھر تھا۔ شروع میں صحن تھا جس میں ایک طرف انار کا درخت اور دیوار کے ساتھ ساتھ سبزیاں اگائی ہوئی تھیں۔ دونوں آمنے سامنے کی دیواروں کے ساتھ دو رویہ ٹاٹ بچھے تھے جس پر بچے مناسب فاصلے پر قطار میں بیٹھے سبق یاد کرنے یا تختی لکھنے میں مصروف تھے۔ صحن سے گزر کر بر آمدہ تھا، بر آمدے سے متصل تین کمرے مسلسل آگے پیچھے تھے۔ برآمدے میں بائیں طرف بڑے سائز کی موٹے پایوں والی باریک بان کی چارپائی بچھی تھی جس پر ایک صاحب تشریف فرما تھے جنہیں سب خالو جی کہہ رہے تھے۔
خالو جی جن کا نام( بہت بعد میں مجھے پتہ چلا) شیخ عبد الکریم تھا، وہ سکول کےریٹائرڈ استاد تھے۔ لمبا قد، بڑی بڑی آنکھیں اور ان پر بڑے فریم والی عینک، چہرے پر ماہ و سال کے نقوش، کچھ دانت جھڑ چکے تھے، سر پر جناح کیپ، ، سرہانے رکھی تین سائز کی چپٹیاں (سٹکس) اور ان کی پاٹ دار آواز مجھ جیسی کمزور اور نازوں میں پلی بچی کو ڈرانے کے لیے کافی تھی۔ متزاد یہ کہ ہمارے سامنے جن بچوں کا سبق سنا، ان کی غلطیوں پر ان کو ڈانٹ، مکے، دھمکے اور چپٹیاں بھی پڑ رہی تھیں۔ میں تو امی کے پیچھے چھپ گئی، جسم سے جیسے جان ہی نکل گئی۔ امی نے ان سے درخواست کی کہ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں، انہوں نےفراخدلی قبول کی اور شرائط بیان کیں۔ روزانہ گھر سے تختی پوچ کر، صاف ستھری سلیٹ اورقاعدہ لے کر آنا ہے۔چھٹی بالکل نہیں کرنی۔ کچی پنسل، چھوٹے ٹکے والی قلم ، بڑے ٹکے والی قلم،(جو وہ خود تراش کر دیتے تھے)، سلیٹی، روشنائی والی دوات پہلے دن گھر سے لانی ہے اور بعد میں روزانہ ان کے گھر میں رکھے ہوئے مخصوص ڈبے میں رکھ کر جانی ہے۔ اس بات کی حکمت بعد میں سمجھ آئی کہ جو بچے چیزیں گم کر لیتے تھے ، گم جانے پر چھٹی کا بہانہ بناتے تھے، یہ اس کا سدباب تھا۔خیر تیس روپے ماہانہ اور چینی کی پیالی معاوضہ طے ہؤا۔ وہ سب بچوں سے یہی لیتے تھے۔ بہر حال ان کا پہلا تاثر میرے دل میں ایک خوفناک اور ظالم شخص کا بنا جو بچوں کو بیدردی سے مارتا ہے۔
گھر آ کر میں بہت روئی کہ وہ تو بہت مارتے ہیں ، میں نہیں ان کے پاس پڑھنے جانا، کہیں اور ڈال دیں۔ میں اکثر بخار رہنے کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور اور دل کی بھی ڈر پوک تھی۔ امی نے میری بات مان کر ایک اور خاتون سکول ٹیچر کے گھر بھیجنا شروع کر دیا۔ مجھے تو نہیں پتہ چلا کہ وہ اچھا پڑھا رہیں ہیں یا برا، کیونکہ یہ بالکل ابتدا تھی مگر امی مطمئن نہ تھیں۔ میرے ددھیال سے کچھ اور بچے خالو جی کے پاس ہی پڑھ رہے تھے۔ ایک دن امی بڑی تائی کی طرف گئیں جن کے بیٹے خالو جی سے پڑھ چکے تھے اور اب ان کے پوتے بھی وہیں پڑھتے تھے، تو دوستو…. میری پھر شامت آگئی اور مجھے روتی کرلاتی کو گھسیٹتے ہوئے امی پھر خالو جی پاس چھوڑ آئیں۔
پہلے دن میں بستہ سنبھالتی امی کے ساتھ خالو جی گھر میں داخل ہوئی۔ وہ دوسرے بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ امی نے مجھے خالہ جی کے حوالے کیا۔ خالہ جی یعنی خالو جی کی بیوی بھی ایک سرکاری سکول کی ریٹائرڈ استانی تھیں۔ وہ پستہ قامت اور ڈھلتی عمر کے باعث فربہی مائل تھیں۔کھچڑی بال اور ناک پر موٹے شیشوں والی عینک۔ حلیم مزاج اور محبت سے پیش آنے والی۔ مجھے لگا کہ اس جگہ پر میری جائے پناہ یہی ہیں۔ امی نے ان سے درخواست کہ بچی کمزور سی ہے اسے مارا نہ جائے۔ انہوں تسلی دی(طفل تسلی) اور امی مجھے چھوڑ کر گھر واپس چلی گئیں۔
خالہ جی نے ٹاٹ پر ایک جگہ مجھے بٹھا دیا۔ سب بچے ایک قطار میں آگے پیچھے بیٹھتے تھے فاصلے پر۔ کسی کو کسی کے ساتھ شرارت یا چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں تھی ورنہ سخت سزا ملتی۔ خیر جب میری باری آئی تو میں خالوجی کی چارپائی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ ان کے سامنے رکھے سٹول پر قاعدہ رکھا ۔انہوں نے قاعدے پر انگلی رکھوا کر الف انار، ب بکری، پہلا سبق دیا۔ کئی دفعہ اپنے پیچھے پیچھے بول کر دہرایا اور کہا اپنی جگہ پر بیٹھ کر یاد کرو۔ تھوڑی دیر بعد بلا کر سنا۔ میں نے حروف پر انگلی رکھ کر سنا دیا۔ اس طرح پہلا سبق بخیرو عافیت انجام کو پہنچا مگر مجھے لگتا کہ ان کے ہاتھ میں کھجلی تو ہو رہی ہو گی کہ اس نے غلط جگہ پر انگلی کیوں نہیں رکھی، اٹکی نہیں…. جی ہاں قاعدے پر غلط حرف یا خالی جگہ، یا غلط تصویر پر انگلی رکھ کر دوسراحرف بولنے پر مار پڑتی تھی۔ اب سمجھ آتی ہے یہ حروف کی صحیح پہچان کے لیے سختی تھی۔
پھر تختی لانے کو کہا۔ پہلے دن میرے اباجی نے وہ چھوٹی تختی لا کر دی تھی جس کے ایک طرف حروف تہجی اور دوسری طرف گنتی چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ تختی دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئے۔ شکر ہے مجھے نہیں مار پڑی۔ کہنے لگے کل سے سادہ تختی لےکر آنی ہے۔ فی الحال بیٹھ کر سبق یاد کرو۔ میں منہ بسورتے پھر بیٹھ گئی اور ادھر ادھر سر گھما کر باقی بچوں کو دیکھنے لگی۔ مگر وقفے وقفے سے ایک دھاڑ سنائی دیتی،’’تمھاری آواز نہیں آ رہی‘‘ میں پھر اونچی اونچی آواز میں الف انار، ب بکری کا ورد شروع کر دیتی۔
خالو جی کی ہر بچے پر نظر تھی۔ وہ ہل ہل کر سبق یاد کرنے کے سخت خلاف تھے۔ جو بچہ ایسے کرتا اسے دو تین دفعہ وارننگ دیتے پھر بھی بعض نہ آتا تو اپنی جگہ سے بیٹھے بیٹھے چاک یا سلیٹی سے تاک کر نشانہ لیتے۔ پھر بھی نہ سدھرے تو مولا بخش اس کا علاج ہوتا۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنے کی بھی اجازت نہیں۔ تھی لہٰذا میں بھی سیدھی کمر کے ساتھ آلتی پالتی مارے بیٹھی رہی۔ سبق کی نشانی لگانے کے لیے کتاب کا صفحہ موڑنے پر سخت ڈانٹ پڑتی ۔وہ کہتے کتاب کے کتے والے کان نکال دیے ہیں۔
خدا خدا کر کے چھٹی ہوئی تو گھر کی راہ ناپی۔ اب اکیلی تھی تو راستے کے ماحول پر غور کرنا شروع کیا۔ خالو جی کے گھر کے سامنے گلی کے اس طرف جو میرا راستہ تھا سرکاری پانی کی ایک بہت بڑی ٹینکی تھی جو مجھ سے بہت بڑی تھی۔ کئی منٹ تو سر اٹھا کر اس کے گرد گھوم کر اسے دیکھتی رہی۔ ایک طرف شہد کی مکھیوں کا چھتہ نظر آیا تو جھرجھری لے کر چل پڑی۔ آگے گائے بھینسیں راستے روکے کھڑی تھیں ان سے بچ کر آگے بڑھی تو دال سویاں فرائی ہونے کی خوشبو نے گھیر لیا۔ دکان والا لوہے کے چھاننے پر ایک ملیدہ سا ڈالتا وہ جب کڑاہی میں گھی میں گرتا تو بوندی یا سویوں کی شکل اختیار کر لیتا۔ میں نے پہلی بار یہ عمل دیکھا تھا بڑا دلچسپ لگا اور کھانے کو دل مچلا مگر میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ کل سے پیسے لانے کا تہیہ کر کے آگے چلی تو برتن قلعی کرنے والے ہنر مند کے ہاتھوں سے دہکتی آگ میں گھومتی پتیلی نے قدم روک لیے۔ حیرانی سے اڑتے انگارے اور اجلا ہوتا برتن دیکھتی رہی۔ ننھا دماغ ابھی اس طریقہ واردات کو سمجھ نہیں پا رہا تھا مگر دھونکنی سے اس آدمی کا ہوا دینا اور چنگاریاں اڑنے کا عمل خوبصورت لگ رہا تھا۔ امی کی ڈانٹ کا خیال آیا تو پھر چل پڑی ۔ اب کوشش کی کہ گردو پیش کی دوکانوں پر نہ نظر ڈالوں کیونکہ پیسے نہیں ہیں اور گھر جا کر نئی تختی بھی تو منگوانی ہے۔ تو یوں گھر کی طرف اکیلے یہ میرا پہلا سفر میرے لیے کئی دلچسپیوں کا سامان لیے ہوئے تھا۔ اس وجہ سے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ کل نہیں آنااور خوشی خوشی گھر پہنچ گئی۔
شام کو میرے ابا جی میرے لیے سادہ تختی لے آئے۔ بڑے اہتمام سے بڑے بھائی نے تختی پوچ کر دی۔(معلوم نہیں اردو میں پوچنے کے لیے کیا لفظ ہے۔ مگر اس کا مطلب ہے تختی گیلی کر کےگاچی ملنا اور ہاتھوں سے ہموار اور مناسب تہہ چڑھانا جس پر روشنائی سے قلم کی مدد سے لکھا جا سکے) اگلے دن میں عین وقت پر تختی اور قاعدہ سنبھالے چل پڑی مگر امی سے پیسے لینا نہیں بھولی۔ مگر اپنی گلی کا پہلا موڑ مڑتے ہی بابے اوڑ کی دوکان آ گئی جس نے برفی کا تھال باہر ہی سجایا ہؤا تھا۔ لہٰذا وہیں سے برفی کی ٹکڑی ہاتھ میں لیے تھوڑی تھوڑی کھاتے راستہ کٹ گیا۔ خالو جی کی چوکھٹ سے گزرتے ایک لمحے کے لیے خوف کی لہر جسم سے گذری مگر ہمت کر کے صحن میں داخل ہو گئی۔ اونچی آواز میں سلام پیش کیا اور مخصوص ڈبے سے اپنی قلمیں دوات وغیرہ نکال کر ٹاٹ پر جا بیٹھی۔ اپنی باری آنے پر پچھلا سبق سنایا اور نیا سبق لیا۔ سبق سنانے سے میرے اندر کچھ اعتماد پیدا ہؤا ۔ پھر تختی بھی لے آئی۔ خالو جی تختی پر کچی پنسل سے لکیریں لگاتے جاتے اور گنتے جاتے۔ ان کے پیچھے پیچھے دہرانا تھا، ایک دو، تین….. یوں گنتی کا پہلا سبق ملا۔ املا والی سائیڈ پر چھ افقی لکیریں کھینچیں پھر دوسری طرف دس تنگ لکیریں افقی سمت اور دس ان کو قطع کرتی عمودی لکیریں کھینچیں کہ گنتی لکھنے کے لیے مربع شکل کے خانے بن گئے۔ پہلے انہوں کچی پنسل سے’’ ا‘‘سے لیکر ت تک پہلی سطر پر نقطے لگا کر لکھا۔ ہم اسے پورنے ڈالنا کہتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ بول رہے ہیں۔ ب کے نیچے ایک نقطہ، پ کے نیچے تین نقطے ت کے اوپر دونقطے۔ یہ ان کے ساتھ ساتھ اونچی آواز میں دہرانا تھا۔
پھر ہاتھ پکڑ کر پہلی دفعہ پورنے کے اوپر قلم سے لکھنا سکھایا(اللہ پاک ان کی قبر کو روشن کرے) پہلی سطر اس طرح خود لکھوائی۔ لکھتے ہوئے بولنا ضروری تھا ورنہ مار پڑتی۔ پھر نیچے والی سطروں پر خود لکھنے کو کہا۔ ان کے پاس کھڑے ہو کر مشکل سے لکھنے کی کوشش کرتی رہی کیونکہ قلم پر گرفت نہیں تھی۔روشنائی کا کتنا ’’ڈوبا‘‘ لگوانا ہےابھی اس کا اندازہ نہ تھا۔ قلم کیسے جھاڑنا ہے ، یہ سب آہستہ آہستہ غلطیاں کر کے سیکھا۔ خالو جی نے ہدایت کی کہ قلم صاف کرنے کے لیے کل سے رومال بھی ساتھ لانا ہے۔جیسے تیسے تختی کا املا والا حصہ مکمل ہوا۔ اب تختی پلٹی گئی اور گنتی والے خانوں میں صرف 1، 2 کے پورنے ڈال کر دیے گئے۔ پھر ہاتھ پکڑ کر 1 اور 2 لکھنا سکھایا۔ پھر کہا کہ اب اپنی جگہ پر بیٹھ کر سارے خانوں میں خود لکھو۔ اور لکھتے ہوئے اونچی آواز میں لازمی دہرانا ہے۔ میں آج سوچتی ہوں تو ان کی یہ ٹیکنیک کتنی اعلیٰ تھی کہ ساتھ ساتھ حروف اور اعداد کی پہچان ہو جاتی تھی۔ اب زیادہ تر عام سکولوں کے بچوں کو دیکھتی ہوں تو ان کو لکھنا تو آتا ہے مگر حروف کی پہچان نہیں کیونکہ بچے چپ کر کے اوپر لکھے کو بغیر بولے نقل کرتے رہتے ہیں ۔
تو اس طرح میری کچی جماعت کا آغاز ہؤا۔ بغیر مار کھائے میں نے پورا قاعدہ بھی یاد کر لیا اور شایدپچاس تک گنتی۔ لڑکوں کی پٹائی زیادہ ہوتی تھی کیونکہ وہ سبق یاد نہیں کرتے تھے اور شرارتیں کرتے تھے۔ پھر باری آئی پکی جماعت کے قاعدے کی جس میں اب حروف جوڑ کر الفاظ بنانے تھے خالو جی بہت اچھے طریقے سے جوڑ کر الفاظ بنا نا سکھاتے ۔ ان کا مطلب سمجھاتے پھر لفظ کا جملے میں استعمال مثال دے کر بتاتے۔ گنتی سو تک ہو گئی اور اب پہاڑے یاد کرنے کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ اور یہاں سے میرے مار کھانے کا آغاز ہؤا۔
اس مرحلے پر پہنچتے پہنچتے ہمارا گروپ یعنی کلاس بن گئی تھی۔ منزہ جاوید، شازیہ شریف، مینا، زمان نثار اور وسیم نواز۔ اب خالو جی نے ہمیں پہاڑے یعنی ٹیبلز یاد کروانے شروع کیے ۔ پہلے دن 2 کا پہاڑہ 16 تک خود چند ایک دفعہ کہلوایا، پھر کسی سینئیر بچے کو کہا کہ انہیں کہلوائیں۔ ہم کورس کی شکل میں تکرار کرتے رہے۔ اگلے دن سنانا تھا مگر وہ کورَس میں نہیں انفرادی بھی نہیں بلکہ جوڑی بنا کر۔ خالو جی اپنے سنٹرل سٹول کے دونوں طرف دو بچے کھڑے کرلیتے دونوں نے باری باری ایک ہی پہاڑے کو مکمل کرنا ہوتا ۔ جیسے
نمبر1۔ اک دونی دونی
نمبر 2: دو دونی چار
نمبر1 :دو تیے چھ
نمبر2: دو چوکے اٹھ
جو ذرا سا اٹکا پیچھے سے جہازی سائز مکا پڑتا ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا، آنسو گرنے لگتے مگر اپنی جگہ نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ جیسے بھی دماغ کے خانوں سے نکال کر زبان سے ادا کرنا ہی ہوتا تھا۔ صحیح معنوں میں ٹانگیں کانپ رہی ہوتی تھیں مگر دماغ اور زبان کا ایسا تال میل بنتا کہ باقی جسم کے ہونے کا احساس ہی ختم ہو جاتا۔ ایک غلطی پر مکہ۔ دو غلطیوں پر چھوٹی چپٹی۔ زیادہ غلطیوں پر موٹی چپٹی۔ پھر کھڑے ہو کرسارا وقت دوبارہ یاد کرنے کی سزا۔ مختلف غلطیوں پر بچوں کو مرغا بنا کر بھی سزا دی جاتی۔ مگر ہؤا یہ کہ چند مہینوں میں 16 تک پہاڑے ازبر ہو گئے اور ضربیں دینے میں ہم تاک ہو گئے۔ ان سے تقسیم کے سوال بھی آسانی سے حل کر لیتے۔
دوسرا مرحلہ شروع ہؤا لفظی گنتی لکھنے کا۔ اٹھارہ تک تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، مصیبت پڑتی تھی انیس بیس سے جن کے بعد ہر حرف کے دندانے گن کر پورے کرنے اور نقطے صحیح حصے میں لگانے ہوتے تھے۔ جہاں کہیں سین یا ی کا دندا کم زیادہ ہوا یا نقطے غلط جگہ لگے پھر آپ بھی اپنے مقام پر ٹھہر نہیں سکتے تھے کیونکہ کمر پر پڑنے والا دھموکہ شدید ہوتا تھا۔ پھر سلیٹ پر کٹواں گنتی اور تختی پر زبانی املاء لکھواتے۔ اب املاء قاعدے پر لکھے لفظوں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنے پاس سے کوئی لفظ پکار دیتے جو سوچ کر لکھنا ہوتا۔ جملہ لکھواتے تو جملے کے اختتام پر بولتے …وقفہ… ہم بلند آواز سے جواب دیتے…. دے دیا…اب آپ میں سے پتہ نہیں کتنے لوگ یہ کارروائی سمجھ سکیں۔ لیکن وقفہ ڈالنے کی عادت پختہ ہو گئی تھی ہماری۔ ہمارا تھوڑا اور درجہ بلند ہؤا تو لکیریں لگا کر جمع اور تفریق سمجھانے لگے۔ پھر اپنی ایک پر اسرار کتاب سے ہمیں جمع تفریق کے نئے نئے سوالات دیتے۔ ہم سلیٹ پر لکیریں گن کر جمع یا تفریق کرتے۔ ان کے پاس ایک آلہ بھی تھا جس میں تاروں میں رنگین گیندیں پروئی ہوئی تھیں ۔ کبھی کبھی ان کی مدد سے بھی حساب سمجھاتے۔
آخر کوئی ایک سال میں ہماراگروپ دوسری جماعت میں ترقی پا گیا۔ خالو جی نے ہمیں دوسری جماعت کا بھی کافی سلیبس پڑھا دیااور اب ہمیں سکول میں باقاعدہ داخل کروانے کےلیے تیار کیا جا رہا تھا۔
آخر کار وہ دن بھی آگیا جب خالہ جی منور بیگم مجھےاور منزہ کو لے کر تھانے والے مڈل سکول میں داخل کروانے کے لیے لے گئے۔
دوسری کلاس میں پہنچنے تک زندگی رواں ہو چکی تھی۔ اردو تو پسند تھی، حساب بھی کچھ سیکھ لیا تھا یعنی مار پڑنے کے مواقع کم تھے۔ آہستہ آہستہ راستے کے کچھ اوردلکش راز بھی افشا ہو چکے تھے جن میں سے ایک برف جیسے سفید رنگ اور روئی کے گالوں جیسے بالوں والی، سفید خشک دودھ بیچنے والی، پتلی سی،اپنے نام کی طرح خوبصورت اماں جمیلہ تھیں۔ امی سخت ڈانٹتی تھیں خشک دودھ کھانے سے ۔ کبھی پیٹ درد سے ڈراتیں تو کبھی نفرت دلانے کے لیے کہتیں کہ یہ بندر کھاتے ہیں لوگ ان کے سامنے سے ان کا جھوٹا اٹھا کر لاتے ہیں اور یہ بات مجھے مزید اس دودھ کی محبت میں مبتلا کر دیتی کہ مجھے تو بندر اچھے لگتے تھے۔
ایک اور سفید بال، لمبے قد، اپنے آپ میں مگن ، پر اسرار خاموشی اوڑھے باباجی جو ذکی منزل کے سامنے اپنا مختصر آلو چنے اور کھٹے والی یا گنڈیریوں کی چھابڑی لگاتے تھے اور روشنائی جسے ہم سیاہی کہتے تھے، بیچتے تھے۔ میں ان سے آٹھ آنے کے آلو چنے لیتی جو لیموں کے ست اور نمک،مرچ ملا کھٹا ڈال کر دیتے۔ آٹھ آنے کی روشنائی کی پڑیاں لےکر لہکتی لہکتی چلتی جاتی۔ تب یوں لگ رہا تھا کہ بس یہی زندگی ہے، یہی پڑھائی خالو جی کا گھر اور اس کا راستہ۔ یہ نہیں پتہ تھا کہ پکچر تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
ایک دن خالو جی کو لگا کہ میں اور منزہ اب اگلے سفر کے لیے تیار ہیں۔ ان کا طریقہ تھا کہ کچی ،پکی جماعت اپنے پاس پڑھا کر بچے کو دوسری کلاس میں سکول داخل کرواتے تھے۔ اب ہمیں سکول بھیجنے کے لیے ہمارے گھر والوں سے مشاورت جاری تھی۔ آخر وہ دن آ پہنچا جب میری بڑی بہن مجھے سکول لے کر پہنچی۔ خالہ جی ، منزہ جاوید اور اس کی امی بھی وہاں آ چکی تھیں۔ خالہ جی نے ہیڈ مسٹریس سے بات کی۔ انہوں کہا کہ چند دن پکی کلاس میں بٹھائیں گے پھر ٹیست لے کر دوسری کلاس میں بھیج دیں گے۔ لہٰذا سکول کے داخلی دروازے کے پاس ہی بوہڑ کے درخت کے نیچے ، ٹاٹ بچھائی بیٹھی پکی کلاس کے بچوں کے ساتھ ہمیں بٹھا دیا گیا۔ ابھی یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ ہمیں دوسری کلاس میں کیوں نہیں بھیجا تو میری ، بہن ، منزہ کی امی اور خالہ جی تینوں نے ہمیں چھوڑ کر واپسی کی راہ پکڑی۔ انہیں جاتا دیکھ کر تومیری جان نکل گئی۔ مجھے لگا کہ میں جنگل میں اکیلی کھڑی ہوں۔ میں بھاگ کر باجی کی ٹانگوں سے لپٹ گئی اور دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا۔ میں نے نہیں رہنا یہاں، مجھے ساتھ لےکر جائو۔ بڑی مشکل سے سب لوگوں نے مجھے تسلیاں، بہلاوے دےکر کلاس میں بٹھایا اور سب چلے گئے۔ مجھے یونہی لگ رہا تھا ک سب چلے گئے، دنیا ویراں ہو گئی اور اتنے بڑے سکول میں میں تنہا رہ گئی۔ خیر رو دھوکر خود ہی صبر آ گیا اور باقی وقت ادھر ادھر دیکھتے چھٹی ہونے کے انتظار میں گزارا۔ سکول میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں تھا کہ خالو جی نے اپنے بچے چھوڑ دیے۔ شام کو ان کے گھر جانا ہی تھا۔ اب وہ روزانہ سکول کا کام کرواتے اور اپنی خفیہ حساب کی کتاب سے مشکل مشکل سوال حل کرنے کو دیتے ۔ سارا گروپ نیم دائرےمیں بیٹھتا اور خالو جی باری باری سب کتابوں سے ہمین سبق دیتے، سنتے۔ اردو بلکہ ہر کتاب کا سبق ہر بچہ باری باری پڑھ کر سناتا، خالو جی تلفظ درست کرواتے، مشکل الفاط کے مطلب بتاتے، مثالوں سے سمجھاتے۔ پھر ہم اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر زبانی یاد کرتے۔
ایک دن اردو کا سبق تھا جس میں ایک سطر تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ لیہ وسلم بچپن میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔ بچے نے لفظ چ پر زبر کے ساتھ ہی ادا کیا تھا مگر میرا ذہن چ پر پیش کے چوری کے معنی میں چرایا پڑھ رہا تھا۔ پتہ نہیں خالو جی نے اس کی وضاحت کی ضرورت نہ سمجھی تھی۔ میں پریشان کہ امی جی کہتے ہیں ہمارے نبی بہت نیک ہیں، کتاب میں بھی ان کی تعریف ہے تو بکریاں کیسے چرا سکتے ہیں (چ پر پیش کے ساتھ) اب میں ڈر کے مارے خالو جی سے نہ پوچھوں۔ گھر بھی نہ بات کروں کہ بے ادبی ہو جائے گی۔ مگر دل سے خلش نہیں جا رہی تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ہمارے نبی نعوذ باللہ بکریاں چوری کیسے کر سکتے ہیں۔
میری فکری پریشانی اللہ نے چند دن بعد ہی دور کر دی جب میں بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ قربانی کے بکرے کو کھیتوں میں چرانے کے لیے جاتی۔ اس ایک بات نے اعراب کی اہمیت سمجھادی جو گاہے بگاہے مثالوں کے ساتھ خالو جی بتاتے رہتے تھے کہ اعراب بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ جب پانچویں کے بورڈ کے امتحان ہوئے تو میری کلاس میں سے صرف میں نے ہی اعراب والا سوال حل کیا تھا۔ باقی نے چھوڑ دیا تھا۔
اردو کی نظموں کی تشریح خالو جی خود شروع کرواتے پھر ہم سب سے باری باری شعروں کی تشریح کے لیے کہتے ۔ ہم سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق وضاحت کرتے اور وہ ساتھ ساتھ درست کرواتے جاتے۔ کتاب کی مشق کے علاوہ بھی ہمیں معنی لکھنے اور جملے بنانے کے لیے ہمیں الفاظ دیتے ۔ کہانی کا موضوع بتاتے اور خود کہانی لکھنے کو کہتے۔ جب اردو کے مضمون لکھنے کی باری آئی تو ہم سب سے پوچھتے اس میں کیا کیا لکھا جا سکتا ہے۔ ہم سب اپنی اپنی ہانکتے۔ پھر وہ کہتے اب یہ اپنے الفاظ میں ترتیب سے لکھیں۔ تیسری کلاس سے ہی ہم میں خود سے لکھنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے بڑی جماعتوں میں جانے کے بعد سلیس اردو، سیاق و سباق ہم خود ہی لکھنےکے قابل تھے خالو جی گائیڈ اور خلاصہ وغیرہ کے سخت خلاف تھے۔ اگر کسی کے پاس نظر آ جاتی تو پھاڑ کر پھینک دیتے۔ ٹیکسٹ بک سے معاشرتی علوم اور سائنس وغیرہ یاد کرواتے۔
آہستہ آہستہ ہم ان کے مزاج آشنا ہو گئے۔ مناسب موقع دیکھ کر کوئی مذاق کی بات بھی کر دیتے تو وہ ناراض نہ ہوتے۔
کبھی بچوں سے خوش ہوتے تو بچوں میں ٹافیاں بانٹتے، تو کبھی باہر والے درخت سے شہتوت توڑ کر دیتے یا ہمیں اجازت دیتے کہ خود توڑ لو۔ کبھی کبھی جھولا بھی ڈال دیتے۔ اس دن تو ہماری عید ہوتی۔
ایک دن میں جھولا جھول رہی جب انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک شاگرد شازیہ ڈاکٹر بن کر سعودی عرب چلی گئی ہے۔ تم بھی ڈاکٹر بننا۔ تب سے دل میں شوق بیٹھ گیا کہ ڈاکٹر بننا ہے۔ قسمت میں ڈاکٹربننا نہیں تھا۔ مگر اس وقت بھی جس مقام پر ہوں یہ خالو جی کا احسان ہے۔ آج جب طالبات کی غلط املاء دیکھتی اور تلفظ سنتی ہوں تو دل سخت برا ہوتاہے۔ ہم میٹرک تک کیلکولیٹر کے بغیر سب سوال حل کر لیتے تھے آج کے بچے معمولی سی ضرب تقسیم خود کرنے کے قابل نہیں۔ بنیادی تعلیم کا زوال دیکھ کر خالو جی بہت یاد آتے ہیں۔ اب پتہ نہیں خالو جی جیسے استاد نہیں یا طالب علم ہی کچھ سیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمیں آج کے دور میں جدید تکنیک کے ساتھ خالو جی والا تعلیم دینے والا جذبہ بھی درکار ہے۔
میں چوتھی کلاس میں تھی جب خالو جی کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ ان سے پڑھایا نہیں جارہا تھا۔ پھر ان دنوں خالہ جی پڑھاتی تھیں۔ پانچویں میں پہنچنے کے چند ماہ بعد خالو جی نے بچوں کو پڑھانے سے معذرت کر لی۔ آخری مہینے سکول تو جاتے ہی تھے مگر ادھر اُدھر سے کچھ دیر ٹیوشن پڑھی مگر وہ بات نہیں بنی جو خالو جی کے پڑھانے میں تھی۔ پانچویںکے بورڈ کے امتحان کی تیاری تو کرنی تھی۔
23 اپریل 1984 کو میں سکول سے گھر آئی تو پتہ چلا کہ خالو جی اس دنیا میں نہیں رہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔ میں دیوانہ وار خالو جی کے گھر کی طرف دوڑی۔ ان کا صحن کھچا کھچ بھرا ہؤا تھا۔ سب نئے پرانے طالب علموں کا جم غفیر موجود تھا۔ خالہ جی چارپائی کے سرہانے کھڑی تھین اور قطار در قطار آخری دیدار کرنے کے لیے آنےوالے سے کہتیں کہ اپنے خالو جی کو معاف کردو…. اللہ اللہ۔ خالہ جی کے یہ الفاظ دل چھلنی کر گئے۔ میں بغیر آواز کے روتے ہوئے کہہ رہی تھی ، خالو جی آپ ہمیں معاف کر دیں ۔ ہم نے آپ کو بہت ستایا۔ بعض بچے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس وقت یہ بھرا صحن اور ہر اشک بار آنکھ یہ گواہی دے رہی تھی کہ اللہ خیر الوارثین ہے۔ ان کی دعا کے لیے اللہ نے سینکڑوں لوگوں کو مسخر کر دیا۔ جب اللہ نے مجھے حرم پاک میں حاضری کا موقع دیا تو میں نے خالہ خالو جی کے لیے طواف کیے۔ پتہ نہیں اور کتنے ہوں گے جو ان کے نام پر طواف کرتے ہوں گے، قربانی اور صدقات دیتے ہوں گے۔ ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہوں گے۔
خالو جی کی سختی ہمیں منظم، منضبط اور اپنے درجے کے علم پر ماہر بنانے کے لیے تھی۔ وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ جو بچے ان کی مار کے ڈر سے شروع میں ہی بھاگ گئے یہ ان بچوں کی بد نصیبی تھی۔ مجھے امید ہے خالو جی سے پڑھے ہوئے لوگ بہت اعلیٰ عہدوں پر ہوں گے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ خالو جی شیخ عبدالکریم کا بانٹا ہؤا علم ان کی بلندیِ درجات کا باعث بنائے۔ ہم میں سے ہی کسی کے قرآن پڑھنے کو ان کی قبر کا نور بنادے۔ ہمارے ملک و قوم کے لیے کسی بھلے عمل سے ان کے لیے جنت میں باغ لگا دے۔ ہم میں سے کسی کے پھیلائے ہوئے علم کو ان کے لیے ان کے سر کا چمکتا ہو تاج بنادے۔ آمین ثم آمین
٭٭٭