چچاجان کے نام ! – عالیہ حمید

کوئی تبصرہ نہیں

السلام علیکم!
 امید ہے بخیریت ہوں گے۔
یہ ایک بھتیجی کا اپنے’’ چاچا جی‘‘ کے نام بذریعہ ماہنامہ بتول،ایک خط کا چھوٹا سا تراشہ ہے ۔
آپ کی بہو اور بیٹا، عزہ اور سعد کافی عرصہ بعد کراچی سے پنجاب آئے ہیں تو ہم سے بھی ملاقات ہوئی۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے اور رسمی حال احوال پوچھنے کے بعد عزہ نے مجھے بتایا کہ چچا جان آپ کو بہت یاد کرتے ہیں اور بتول میں آنے والی آپ کی ہر تحریر کو پڑھتے ہیں اور مجھے بھی پڑھنے کے لیے دیتے ہیں کہ یہ پڑھو یہ عالیہ نے لکھی ہے۔
اس بات پر ایک شاک سا لگا مجھے ۔ میں بہت حیران ہوئی ۔ اور دل خوش بھی ہؤا ۔ ایک جھماکے سے سالوں پہلے والا چاچا جی اور بھتیجی کا وہ رشتہ پھر سے تروتازہ ہو گیا ،جس پر مجھے یوں لگتا تھا جیسے وقت کی لمبی مسافت کی گرد پڑ گئی ہے۔ کیونکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہونے کے باوجود آپ سے بہت ہی عرصہ ہؤا کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ لیکن یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ’’بتول‘‘ کے ذریعے آپ ابھی تک مجھ سے کنیکٹڈ ہیں ۔ سعد عزہ کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ میں بھی بتول کے ذریعے آپ سے رابطہ کرتی ہوں۔
بہت سی پرانی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ سعد کی وہی پرانی عادتیں ، سیاست کی بحث میں مخالف کو زچ کرنا اور چھالیہ کھانے کی وہی پرانی عادت، ویسی کی ویسی ….جو شاید آپ بہت کوشش کے بعد بھی نہیں چھڑوا سکے۔
وہ دن بھی کیا ہوئے جب گرمیوں کی چھٹیاں منانے آپ سب کراچی سے آتے تھے۔ کئی طرح کے پکوان اور کھانے پکتے ، آپ کو خوب پھینٹی ہوئی ’’کافی‘‘ پسند تھی جس کی خوشبو خشک روٹیوں جیسی ہوتی تھی۔ ویسے تو آپ میرے پھوپھا لگتے ہیں لیکن آپ ابو کے کزن بھی ہیں تو ابو کا کوئی بھائی نہ ہونے کی وجہ سے میں آپ کو ’’چاچا جی‘‘ کہا کرتی تھی کیونکہ مجھے اس بات کا شوق تھا کہ میرے بھی چچا ہوں ۔ تو گھر والوں کو میں نے بتا دیا کہ آپ کو میں نے چاچا جی ہی کہنا ہے ۔ سب نے آپ سمیت اس چاچا بھتیجی کے رشتے کو مانا اور آپ نے تو ہمیشہ انتہائی شفقت فرمائی۔ آپ کی پنج وقتہ نماز کی ہر صورت مسجد میں ہی ادائیگی کی پختہ عادت مجھے بہت پسند تھی۔ سعد بتا رہا تھا کہ ابھی بھی مسجد میں ہی نماز پڑھنے جاتے ہیں اور میرے منع کرنے کے باوجود جاتے ہیں کہ جب تک چل سکتا ہوں مسجد ہی جاؤں گا ۔ شعر وشاعری کا شوق بھی تھا آپ کو اور آپ نے میری ڈائری میں مجھے شعر بھی لکھ کر دیے تھے۔ آج تک وہ سب شعر مجھے یاد ہیں، جیسے؎
تو کیا وہ ہم کو ہراک جرم کی سزا دے گا
پھر اپنے رحم و کرم کا ثبوت کیا دے گا
اور ؎
یہ مسافر لوگ پت جھڑ میں چلے جاتے ہیں دور
ان کی خاطر شیشہ ِدل کو لہو مت کیجیو
یہ وہ شعر ہے جسے میں کلاس دہم کی الوادعی تقریب میں ہر سال سناتی ہوں۔
سب سے زیادہ خوشی مجھے اس وقت ہوتی تھی جب آپ میری لائبریری کی کتابیں پڑھتے تھے اور میری کتابیں جمع کرنے کی عادت کو پسند کرتے تھے۔ آپ کو ریٹائرمنٹ پر شیح عبد الرحمٰن السدیس کی تیس پاروں پر مشتمل کیسٹ سیٹ کا جو تحفہ ملا وہ آپ نے تحفتاً مجھے پنجاب بھیج دیا۔ وہ آج تک میری لائبریری کی زینت ہے۔ آپ کی کچھ نفیس عادتیں تھیں جن پر آپ بالکل کوئی سودےبازی نہیں کرتے تھے ۔ مثلاً کپڑوں کی استری ، ذرا سی سلوٹ بھی ہوتی تو دوبارہ خود ہی استری کر لیتے کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔ آپ کو صرف خبرنامہ سننے سے دلچسپی تھی ، کسی قسم کا کوئی ڈرامہ آپ ہر گز دیکھنا پسند نہ تھا لیکن آپ دوسروں کو منع نہیں کرتے تھے۔
 سعد اور عزہ سے آپ کی صحت کا پوچھا، سڑک والے حادثے کے بعد آپ کا یوں دوبارہ جلدی صحت یاب ہو کر اپنے پاؤں پر پھر سے چلنے کا سن کر خوشی ہوئی۔آپ عشا کے بعد جو ایک بار دانت صاف کر لیتے پھر کوئی چیز کسی قیمت پر نہ کھاتے تھے۔ میں نے ایک دن رات کو چائے بنا لی اور آپ کو پیش کی ، سب حیران ہو گئے کہ آپ نے چائے لے کر پی لی اور اپنے اصول میں لچک پیدا کر لی۔ چائے پینے کے بعد آپ نے کلی کر لی۔
کئی سال پہلے جمعیت کے شوریٰ کے اجلاس میں کراچی ادارہ نور حق جانے کا اتفاق ہؤا ۔ آپ لمبا سفر کر کے پھوپھو کو ساتھ لے کر مجھ سے ملنے آئے تھے۔ جب پھوپھو نے میری جمعیت کی ساتھیوں پر تبصرہ کیا تھا کہ:
’’ اس کی سب دوستیں بہت معصوم معصوم ،شریف شریف اور پیاری پیاری ہیں ‘‘۔
اپنی پیاری ساتھیوں کے لیے یہ تبصرہ سننامجھے بہت اچھا لگا تھا۔ ڈھیروں ڈھیر فروٹ جو آپ لے کر آئے تھے ہم سب دوستوں نے شام کی محفل میں مل کر کھایا تھا۔
یہ وہ وقت تھا جب کراچی کی روشنیاں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے مانند پڑ گئی تھیں۔ لیکن کراچی آپ کو اتنا پیارا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے پنجاب واپسی کی بجائے وہیں رہنے کو ترجیح دی۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اور اہلِ کراچی کو کچے پکے سب ڈاکووں سے محفوظ رکھے۔
میں کافی وقت ہوگیا بتول میں بھی کوئی تحریر نہ بھیج سکی ۔ لیکن اب اس میں کوتاہی نہیں کروں گی۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے آپ وہاں کراچی میں میری تحریر کا انتظار کرتے ہیں اور ابھی بھی اپنی اس بیٹی کو بہت یاد کرتے ہیں۔ میں نے اگر پھوپھو زہرہ ،ماموں اسحٰق ،کراچی کی سڑکوں پر ان کے ویسپا پر گھومنے کی باتیں ، ابو اور امی کو یاد کیا تو خط کافی لمبا ہو جائے گا۔
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
اللہ تعالیٰ سے آپ کی صحت سلامتی اور لمبی زندگی کی دعائیں کرتی ہوں، کیونکہ میں اپنے ابو کو کھونے کے بعد آپ کو کبھی بھی کھونا نہیں چاہوں گی۔
سلامت رہیں ، آمین۔
جلد ہی فون پر رابطہ کر کے بتانے والی ہوں کہ آپ کے نام بتول میں خط لکھا ہے ۔ پڑھ کر جواب دیجیے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ مدیرہ صاحبہ بھی خطوطِ غالب نہ سہی ، خطوطِ عالیہ سمجھ کر میرا یہ تراشہ لگا دیں۔
والسلام علیکم
پنجاب سے آپ کی بھتیجی
 ٭٭٭
Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp