ذیابیطس بنیادی معلومات -ڈاکٹرناعمہ شیرازی

کوئی تبصرہ نہیں

ذیابیطس کی دو بڑی اقسام ہیں
ٹائپ وَن: جو چھوٹی یا کم عمری میں وجود میں آتی ہے اس کی وجہ جسم میں انسو لین کی انتہائی کم مقدار کا پیدا ہونا ہے لبلبے کے وہ خلیے یعنی بیکٹریا ہیں جو انسو لین پیدا کرتے ہیںان میں موروثی طور پر کمی ہوتی ہے اور یہ بیماری جب ہمارے سامنے آجاتی ہے اس کا علاج عام طور پر انسو لین کے انجکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے اور انسو لین کے استعمال کے ساتھ یہ لوگ ایک مکمل متوازن غذا لے کر لوگ ایک مکمل صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں
ٹائپ ٹُو:یہ ذیابیطس کی دوسری قسم ہے۔ یہ عام طور پر خاندانی یاجینیاتی ہوتی ہے۔ چالیس سال کے اوائل میں اگر زیادہ میٹھا استعمال کیا جائے اور خاندانی شوگر بھی ہو تو یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے ۔ زیادہ میٹھا کھانا اورموٹاپا بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔ ایک اہم بات کہ جن خواتین میں حمل کے دوران (GDM)یعنی شوگر کا مسئلہ ہوتا ہے ان میں آگے چل کر شوگر کی بیماری کا چانس زندگی میں زیادہ ہوتا ہے ۔
شوگر کی بیماری کے خطرے کے عوامل
۱) خاندان میں یعنی ماں باپ ، بہن بھائی ، دادا ، دادی یا نانا نانی میں شوگر کا مرض ہونا۔
۲) موٹاپا یا وزن کا زیادہ ہونا۔
۳) عمر 45 سال سے اوپر یا اوائل عمر میں علامات کا ظاہرہونا ۔
۴) کئی خطوں میں اور لوگوں میں کچھ ایسی قومیں ہیں جن میں شوگر کا تناسب زیادہ ہے۔ شوگرکے مرض کا انحصار نسلوں پر ہوتا ہے یہ بیماری نسل در نسل چلی آرہی ہوتی ہے ۔
۵) خواتین میں pco,sیعنی ہار مونل تناسب میں خرابی بھی شوگر کی وجہ بنتی ہے ۔
۶) خون میں کولیسٹرول اور چکنائی کا تناسب زیادہ ہونا بھی شوگر کی وجہ بن سکتا ہے ۔
۷) کم وزرش کرنا ، زیادہ بیٹھے رہنا یا لیٹے رہنا ۔
۸) بی پی کا تیز ہونا ہائی رہنا۔
۹) حمل کے دوران شوگر کا ہونا بعد کی زندگی میں شوگر کے مرض کو لیڈ کر سکتا ہے ۔
ذیابیطس کی علامات
ذیابیطس کی عام علامت میں یہ چیزیں شامل ہیں ۔
۱) رات کو اٹھ اٹھ کر پیشاب کے لیے جانا ۔
۲) زیادہ پیاس لگنا ۔
۳)وزن کا اچانک کم ہونا
۴) زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنا
۵)نظر میں مسئلہ آنا
۶) ہاتھ یا پائوں میں جھنجلاہٹ محسوس ہونا
۷) جلد کا بہت زیادہ خشک ہونا
۸) بتدریج ٹھیک ہونے والے زخم کا دیر سے بھرنا
۹) معمول سے زیادہ انفیکشنز کا ہونا
ذیابیطس کے مرض کی تشخیص
دوطرح کےٹیسٹ کر کے ذیابیطس کے مرض کی تشخیص ہو سکتی ہے۔
۱۔ خالی پیٹ 8 گھنٹے کیfastingکے بعد یعنی صبح ناشتے سے پہلے شوگر چیک کرنا اس کو ہم (Fasting Blood ) یا خالی پیٹ بلڈ شوگر ٹیسٹBSFبھی کہتے ہیں یہ عام طور پر 70-99 نارمل سمجھی جاتی ہے۔
2۔اینذم بلڈ شوگر یا BSRکرانا جو کھانے کے دو گھنٹے بعد کی جاتی ہے اس کی سطح عام طور پر190-110 ہوتی ہے ۔ اگر یہ 140-200کے درمیان ہے تو یہ شوگر بلندسطح پر ہے اور 200سے اوپر ہائی شوگر کہلائے گی ۔
OGTT-3اس ٹیسٹ میں گلو کوز ہر آدھے گھنٹے بعد پلا کر عام طور پر چھ خون کے نمونے لیے جاتے ہیں اور یہ خاص طور پر حمل کے ساتویں مہینے میںان مائوں میں کیا جاتا ہے جن میں شوگر کا چانس زیادہ ہوتاہے ۔
4۔Hbaicیہ ایک انتہائی موثر ٹیسٹ ہے اور جسم میں تین ماہ کے شوگر لیول کا نتیجہ دیتا ہے ۔
اس کی ویلیو اگر7.5 ہے تو یہ نارمل تشخیص سمجھا جاتا ہے اگر یہ 7.5سے4.6تک ہے تو آپ میں شوگر کا چانس موجود ہے پرہیزانتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ5.6 یا اس سے اوپر ویلیوہے تو پھرمریض کو شوگر ہے۔
یہ تمام ٹیسٹ اپنے معالج کے مشورے کےساتھ کرائیں تاکہ وہ تفصیل سے آپ کی علامات سن اورجان سکے اورپھر مختلف ٹیسٹ تجویز کرے اوررپورٹ آنے کے بعد معالج کے مشورے سے علاج شروع کریں۔ شروع میں شوگرکو خوراک اورورزش سے کنٹرول کیا جاتاہے اگر نہ ہو سکے تو پھر ادویات یا خوراک کی ضرورت کے بارے میں معالج یا ڈاکٹر ہی بہترین فیصلہ کر سکتا ہے ۔
ذیابیطس کی پیچیدگیاں
۱) دل کی بیماریاں جیسے کہ silentہارٹ اٹیک شوگر کے مریضوں میں زیادہ عام ہے ۔
۲) اعصابی نقصان کا ہونا ۔ محسوس کرنے کی حس کا پائوں کی اورہاتھوں کی انگلیوں میں کم ہو جانا ۔
۳) گردوں کا زیادہ شوگر خارج کرنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہونا اوربے قابو شوگر کی وجہ سے آخر میں گردوں کا فیل ہوجانا ۔
۴) آنکھوں میں دھندلا نظر آنا اور نظر کاکمزور پڑ جانا ۔
۵)foot damage یعنی پائوں میں مختلف بیماریوں کا ہو جانا ۔
۶) جلد کا خشک اور بے رنگ ہو جانا ۔
۷) کانوں کی سنوائی کا وقت کے ساتھ کم ہو جانا ۔
۸) ایل زائمرزڈیزیز بھولنے کی بیماری کا شکار ہونا ۔
۹) افسردگی یعنی ڈپریشن کا شکار ہونا ۔
۱۰)اچانک شوگر کا بہت کم ہو جانا خاص طور پر انسو لین والے مریضوں میں بہت نقصان دہ ہے ۔
شوگر سے بچنے کی چند احتیاطی تدابیر
(روز مرہ زندگی کے لیے )
صحت مند طرز زندگی اپنائیں
۲) وزن کو متوازن رکھیں ۔ زیادہ بڑھنے نہ دیں
۳) ہمیشہ متوازن غذا کا استعمال کریں ۔
۴)بےجا چکنائی کا استعمال نہ کریں ۔صحت مند چربی استعمال کریں ۔
۵) سگریٹ نوشی اورشراب سے پرہیز کریں۔
۶) ورزش ضرور کریں ۔
۷) پانی کااستعمال زیادہ رکھیں۔
۸) وٹا من ڈی اور سی کا استعمال کریں ۔
امید ہے کہ اس مضمون سے آپ کو ذیابیطس کے مرض کے بارے میں آگاہی ملی ہوگی اور ہم سب صحت مند طرز زندگی اپنا کراس تیزی سے پھیلنےوالے مرض سے بچ سکتے ہیں ۔ انشاء اللہ
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp