پروفیسر خواجہ مسعود ۔ اسلام آباد
’’ چمن بتول‘‘ شمارہ نومبر 2024ء اب کے خوشنما پھولوں سے سجا ’ چمن بتول‘‘ کا ٹائٹل نگاہوں کو بھلا لگ رہا ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ سب سے پہلے آپ نے لاہور کی مسموم فضا پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کے تمام شہروں کو سموگ اور جرائم سے محفوظ بنا دے (آمین) آپ کے تبصرے کا دوسرا اہم موضوع غزہ کی صورت حال ہے۔ آپ نے وہاں کی تشویش ناک صورت حال کا صحیح نقشہ پیش کیا ہے ۔ آپ کے یہ جملے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں ۔ ’’فلسطین کا ہر بچہ اب حماس ہے اور اپنے وطن پر قبضے کے خلاف مزاحمت کا جذبہ بن کر ڈٹ گیا ہے ….دن رات غزہ کے معصوم پھول اور غمزدہ والدین آنکھوں کے سامنے آتے رہتے ہیں ، ایک بے بسی نے گھیر رکھا ہے ہمیں نعمتیں استعمال کرتے ہوئے ضمیرمجرم محسوس ہوتا ہے‘‘۔
’’ بد گمانی ‘‘ ( ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ کا بصیرت افروز مضمون) ڈاکٹر صاحبہ نے وضاحت سے بتایا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بد گمانی سے پرہیز کرنے کی تلقین کی ہے کیونکہ بعض بد گمانیاں گناہ ہوتی ہیں اچھاگمان رکھنا ہی مستحسن ہے بلا شبہ بد گمانی کرنا فتنہ و فساد کی جڑ ہے اور معاشرے میں شراور فساد پھیلاتاہے ۔بد گمانی شیطان کا ایک قوی ہتھیار ہے جو وہ انسانوں پر استعمال کرتا ہے ۔
’’ ذکرالٰہی‘‘( فریدہ خالد ) آپ نے بجا لکھا ہے کہ اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے اور اس کا اجر بے پناہ ہے بشرطیکہ ذکر صدق دل کے ساتھ کیا جائے اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ بھی یاد رکھتا ہے ۔ نماز ، دعا ، تلاوت کلام پاک ، کلمہ اسمائے الٰہی بہترین ذکر ہیں ۔ لیکن ذکر کی عملی صورت بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل بھی کریں ۔
’’ اسلامی ممالک میں ہیومن ملِک بنک کا قیام ‘‘ (شگفتہ عمر صاحبہ کا ایک مدلل تحقیقی مضمون) بین الاقوامی فقہ اکیڈمی ، دارلاافتا کراچی ، اسلامی نظریاتی کونسل اور علما کونسل پاکستان سب نے ہیومن ملک بنک کو موجودہ صورت میں قبول نہیں کیا کیونکہ اس سے بے شمار قباحتیں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔
’’ شعر و شاعری: حبیب الرحمٰن نے اب کے سورۃ التکاثر کی تشریح خوبصورت اشعار میں کی ہے ۔ ایک منتخب شعر ہے ۔
یہ کثرت میں کیسا صلہ پا گئے تم
یہاں تک کہ قبروں تلک آگئے تم
طوبیٰ نور خانم کی پیاری نعت سے ایک شعر
میں کنیز بتول ہوں خانم
کیسے ممکن ہے مات ہو جائے
ثروت ساجد کی نعت سے ایک خوبصورت شعر
نبیؐ کی اطاعت مرا راستہ ہو
میرے رب اسی رہ پہ مجھ کو اٹھا لے
’’ افسانہ و کہانی :’’ اوریقیںفتح یاب‘‘ ( شگفتہ ضیاء) آپ نے اپنی شفیق و مہر بان و نیک دادی اماں کا تذکرہ بڑی چاہت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ جملہ خوبصورت ہے ’’ سوہنی بیٹا جنت کے دروازوں میں ایک دروازہ شکر کا بھی تو ہے ۔ میرے پاس تو اس پروردگار کے شکران ِ نعمت کے سوا کچھ بھی نہیں ‘‘۔
’’ سویٹر ‘‘ ( ام ایمان) غزہ میں ظالم اسرائیلیوں کے ہاتھوں معصوم مسلمان بچوں کی شہادتوں کے تناظر میں لکھی گئی ایک کہانی ۔ ظالموں نے ہزاروں ننھی کلیوں کو مسل ڈالا ، روند ڈالا اللہ ان ظالموں کے ہاتھ توڑ دے ۔
’’ اے بسا آرزو کہ‘‘ ( قانتہ رابعہ صاحبہ کی تحریر ) واقعی ایک مشرقی خاتون ساری عمر مجبوریوں کا شکار رہتی ہے اور اس کی کتنی حسرتیں پوری ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں اور سب سے خوبصورت سفر حرمین شریفین کا ہے ۔
’’ نہیں کوئی ایسا ‘‘ ( نصرت یوسف ) فیملی میں سپیشل بچے کی پیدائش بے شمار نفسیاتی اور سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے ۔
’’ قید تنہائی‘‘( آسیہ راشد) ان بزرگوں کے بارے میں ایک درد بھرا مضمون جنہیں ان کی جوان اولاد بھلا دیتی ہے اور اولڈ ہومز میں چھوڑ آتی ہے ۔ یہ جملے رلا دیتے ہیں’ ’ وہ روزانہ اپنی اولاد کو یاد کرتی ہیں اور کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں جب وہ اپنے ماضی کے خوشگوارلمحات کو یاد کرتی ہیں ‘‘۔
’’ دلہا کی بارات‘‘( سعید حیدر) غزہ کے پس منظر میں لکھی گئی ایک خوبصورت کہانی یہ پیارے جملے خوب ہیں ’’ ان کے شہید جسموں سے چار دن بعد بھی تازہ خون نکل رہا تھا اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ سب کہتے تھے جنت کی خوشبو ہے میں نے ان کے خون میں اپنا رومال بھگویا اور یقین مانیں اب بھی اس سے خوشبو آ رہی ہے ‘‘۔اور قسط کے آخر میں درد ناک لمحہ تھا جب دولہا بھائی دلہا کے روپ میں نہیں بلکہ ایک شہید کے روپ میں گھر لایا جاتا ہے ، بہن ان پر پھولوں کی پتیاں ڈالتی ہیں ۔ زبردست کہانی ہے ۔
’’زبیر کی کہانی‘‘( نادیہ سیف کے سلسلہ وار ناول کی پہلی قسط) مسجد کے مدرسوںمیں پڑھنے والے بچوں کے بارے میں کہانی کا آغاز ہؤا ہے ۔ واقعی ختم شریف میں بچے بھی اور مولوی صاحب بھی پیشہ ورانہ طریقہ سے ایک سپارہ پانچ منٹ میں پڑھ لیتے ہیں ناول کا یہ موضوع خواتین قارئین کے لیے عموماً لکھے جانے والے گھریلو ناولوں سے ہٹ کر ہے ۔
’’منہ دکھائی سے منہ دھلائی تک ‘‘(فرحی نعیم ) شگفتہ پیرائے میں دلہنوں کے پر تکلف سراپا پر سوال اٹھاتا ہؤا مضمون ۔
’’ آوازِ دوست اک مطالعہ‘‘( اسما معظم ) مختار مسعود صاحب کی مشہور کتاب ’’ آواز دوست ‘‘ پر مختصر لیکن جامع تبصرہ ۔ اس تبصرے کا خلاصہ ان جملوں میں بیان کیا جا سکتا ہے ’’ مجموعی طور پر اس کتاب کا مطالعہ اسلام اور پاکستان سے وابستگی ، مسلمانوں کی تاریخ سے واقفیت برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں اور ہندوئوں کی چالبازیوں اور سازشوں سے آگاہ ہونے کی ایک دستاویز ہے ۔یہ کتاب ہمیںحب وطن کا درس دیتی ہے ۔
بتول میگزین ’’ ایک عہد ‘‘ ( ام عبد منیب ) ایک نصیحت آموز مختصر کہانی کہ جب ہم اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھنا چاہتے ہیں تو یہ دنیا بھی تو ہمارا گھر ہے ہمیں چاہیے کہ اسے اپنے اچھے اعمال صے صاف ستھرا بنائیں۔
’’ خاموش رشتے‘‘( طیبہ سلیم ) ساس کی سخت طبیعت کی وجہ سے نند اور بھابھی میں شک و شبہ کی دیوار حائل رہتی تھی اور تعلقات کشیدہ ہوتے تھے لیکن ساس صاحبہ کے فوت ہو جانے کے بعد شک کی دیوار ہٹ گئی اور نند اور بھابی میں پیار اور خلوص کا رشتہ بن گیا ۔
جھونکا ہوا کا ‘‘ ( فاطمہ عزیز ) ایک سبق آموز مضمون ۔ آخر میں یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ پردہ تو ہر معاملے میں ضروری ہوتا ہے چاہے کسی کے عیب پر ، چاہے اپنی غلطیوں پر چاہے اپنی نظر اور سوچ پر ‘‘
’’قرآن پر عمل‘‘ ( مریم فاروقی) اس مضمون میں قرآن و سنت پر عمل کرنے کے بے شمار فوائد گنوائے گئے ہیں ۔ خاص طور پر آپ کی کمائی ، رزق اور ہر چیز میں برکت پیدا ہو جاتی ہے اور زندگی مسرتوں کا گہوارا بن جاتی ہے ۔
’’ ممانی جان ‘‘( سنیہ عمران) آپ نے اپنی پیاری مرحومہ ممانی جان کی یادیں قارئین کے ساتھ شیئر کی ہیں یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ ماں جیسی انمول ہستی کا کوئی نعم البدل بھی نہیں اس کی محبت و شفقت کا کوئی مقابلہ بھی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت سے تشبیہہ دی ہے ‘‘۔
’’ گئے دنوں کے عزیز لمحے ‘‘ ( سنیہ عمران ) ایک سبق آموز مضمون ’’ زندگی میں ہم بہت سے سبق دوسروں سے سیکھتے ہیں پر جن سے دل سے دل ملانا سیکھا ہو یعنی محبت بانٹنا وہ اپنے نشان ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں ‘‘۔
’’ کیا سمارٹ فون کا نیا ماڈل خرید نا ضروری ہے ‘‘ ( بی بی سی اردو ) سمارٹ فونز کے بارے میں ایک مفید مضمون ۔ بتایا گیا ہے کہ جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں وہاں اس کے غلط استعمال کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں ۔ اس لیے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سمارٹ فون نہیں دینا چاہیے اور ہر سال نیا ماڈل خریدنا بھی عیاشی ہے ۔
’’منتخب کالم‘‘ میں سمجھایا گیا کہ ہمیں بغیر تحقیقی جوش میں آکر کسی پر توہین رسالت کی تہمت لگاکر اسے قتل نہیں کر دینا چاہیے بلکہ بڑے تدبر کے ساتھ صورت حال کو سنبھالنا چاہیے۔
گوشہ تسنیم ’’ ریٹائر منٹ ‘‘ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ نے بہت خوبصورت طریقہ سے سمجھایا ہے کہ جیسے ہم اپنی ریٹائر منٹ کے وقت مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں اس دنیا سے ریٹائرمنٹ سے پہلے بھی آخرت کی زندگی تیاری کرلینی چاہیے ۔
’’ ذمہ داری قبول کریں ‘‘ (جیک کین فیلڈ) ایک نفسیاتی رہنمائی کرنےوالا مضمون کہ بجائے دوسروں پر الزام دھرنے کے ہم اپنے اوپر دھیان دیں خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی ۔
٭٭٭
مریم فاروقی ۔ لاہور
محشرِ خیال میں خواہش ہوتی ہے کہ ضرور شرکت کروں ۔ لکھنے والے اپنے خون جگر سے ہمیں گرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کی محنتوں کو قبول فرمائیں 4،5 ماہ سے ڈاک کا نظام سخت غیر منظم رہا ۔ اب آگے بھی اللہ ہی جانتا ہے بہر حال قصہ مختصر کہ آپا جی زہرہ وحید نمبر ماشاء اللہ کیا خوبصورت نمبر تھا ۔ 4نمبر مزید منگوا کراپنی عزیزوں کو بھی تحفہ دیا اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ویسا ہی بنائے با ہمت اور بہادر جہد مسلسل کرنے والا ۔ ہماری نانی امی جان کے ہم پر بہت احسان ہیں وہ ہمیں جماعت اسلامی کے اجتماعات میں لے کر جاتی تھیں ۔ میں نے بھی بچپن میں ان کو دیکھا ہؤا ہے ماشا اللہ دلیری سے دبنگ آواز میں بات کرتی تھیں سید ابو الاعلیٰ مودودی کا ذکر نہایت احترام سے کرتی تھیں ۔اللہ تعالیٰ روشنی کی ان قندیلوں کو اپنی رحمتوں میں رکھے ۔
ثریا اسما صاحبہ کے منہ سے میں نے کیمیائے سعادت از امام غزالی اور معارف القرآن کے نام سنے تھے ۔ اور دل میں سوچا کرتی تھی انہوں نے کتنی زیادہ کتابیں پڑھی ہوئی ہیں ۔ شکر ہے آج میں بھی مطالعہ کے اسی راستے پر ہوں اللہ مجھے با عمل بنائے ۔
اب 4 ماہ کے بعد یکمشت جون جولائی اگست کے رسائل وصول ہوئے ہیں کچھ چیزیں پڑھ لی ہیں کچھ ابھی نظر سے نہیں گزریں ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ نے فلسطین کے بارے میں گہرا معلوماتی مضمون اور جذبوں کو جگانے کی باتیں کی ہیں اللہ ہمیں عمل کی توفیق دیں ۔ لہو کے قطرے نظم پڑھ کر بھی بچپن کی یاد تازہ ہوئی ہم یہ نظمیں بہت سنا کرتے تھے ۔ بس شادی کے بعد سارے ماحول ہی بدل گئے۔ سیما کلینک، اگلی عید ، جیل کہانی ( عالیہ اور رضیہ کی ) بہت متاثر کیا ۔ لا جواب قانتہ رابعہ کی تحریر بھی ۔بتول ہمارا دوست ، ہم درد بھی ہے جو شادی کے شروع کے زمانے میں ہی غمگساری کا فریضہ انجام دینے لگا تھا ۔ اس کو پڑھنے سے مشکلات چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ڈاکٹر شگفتہ عمر کے اکلوتے بیٹے کی وفات کا بھی علم بتول کے ذریعے ہؤا ان سے بھی بتول کے ذریعے ہی تعزیت کرتی ہوں۔ شگفتہ آپا کو یاد ہوگا کہ ہمارے گھر ٹائون شپ عزیز میڈیکل سٹور جب آتی تھیں تو ہمارے گھر بھی آتی تھیں۔ آپ کی شادی ہو گئی تو پھر آپ کی چھوٹی بہن سے آپ کی بھی خبر مل جاتی تھی آپ کے بیٹے کی پیدائش کا پتہ چلا ۔ امی آپ کے اکیلے سفر کرنے پر آپ کی فکر کرتی تھیں دعائیں کرتی تھیں کہ اللہ آپ بہنوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ اتنا پیارا نیک بیٹا اللہ نے آپ سےلے لیا ۔ اللہ آپ کا جنت کا استقبال کرنے والا بنائے بے شک ہم اللہ ہی ہیں اس کے پاس جانے والے ہیں ۔اتنا خوبصورت جملہ دل کو تسلی دے دیتا ہے کہ جدائی عارضی ہے اور رسول پاک ؐ نے ہمیشہ کی جنت میں سب کو ملنے کی نوید سنائی ہے یہ ایسی بات ہے کہ مومن خوش خوش سارے غم سہہ لیتا ہے ۔ اللہ ہمیں ان خوشخبریوں کا حقدار بنائے جو انہوں نے دی ہیں اور ہم سے راضی ہو جائے ۔
بتول سے ہی ہمیں صائمہ آپا کے شوہر کی وفات کی بھی خبر ملی ۔ بے شک نیک ساتھ اللہ کا انعام ہوتا ہے ۔ آپ کی نیک گواہی عزیزوں ملنے والوں کی نیک گواہی اورآپ کی خوش قسمتی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم خیال نیک ساتھ سے نواز ے رکھا ۔ بے شک اللہ کےہی یہ فیصلے ہیں کہ کب تک کونسی نعمت ہمارے پاس رہنی چاہیے ۔ اعلیٰ نعمتوں کی جدائی بھی دل کو بہت محسوس ہوتی ہے اور زندگی کے اتنے سالوں کی حسین یادوں کا ساتھ نادر اور قیمتی بنا دیتا ہے ۔ اللہ آپ کو راضی رہنے والا بنائے ، صبر جمیل عطا کرے ، بچوں کو آپ کی ٹھنڈک اور سکون بنائے ، آپ کو جو نیکی کا راہبر بنایا ہے یہاں پر بھی مثال بنائے اور بہترین جزا دے ۔ بچوں کو بھی اپنی رحمتوں میں رکھے ، صبر جمیل عطا کرے انہیں آپ کا اور اپنے والد کا بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔ ثریا اسما میری نانی امی جیسی ہیں میرے لیے ، اللہ ان کوبھی صبرجمیل عطا کرے اور آپ کے ابا جان کو بھی کیونکہ مجھے علم ہے کہ بزرگی میں بچوں کے دکھ بہت مشکل محسوس ہوتے ہیں میرے نانا نے میری امی کی وفات پر ایک شعر کہا تھا ۔
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاںرہے
چھوٹی بہن کی پیدائش پر وہ دنیا سے گئی تھیں ۔
بتول کے مطالعہ سے عمل کی راہیں ملتی ہیں ۔ اچھے دوست کی طرح اچھے مشورے ملتے ہیں ورنہ شروع میں تو سسرال کا بہت اجنبی اور مختلف ماحول بہت دل کو پریشان رکھتا تھا ۔ اس پیارے بتول نے دل کی ڈھارس بندھائی حوصلہ دیا تسلی دی میں جو ابھی دوسری امی سے بھی اتنی مانوس نہ تھی کہ نئے ماحول کو ان کے ساتھ گفتگو کر کے مشورے لے لیتی نہ ہی عزیزوں میں سے کوئی دل کے اتنا قریب تھا جو میرے رازوں کو راز رکھتا ۔ اس لیے بتول سے اور ادارہ بتول کی کتابوں سے بڑا میرا کوئی محسن نہیں جس نے میرے دکھ بھی بانٹے کہ میری والدہ کی بھی تازہ وفات ہوئی تھی ۔ اوپر سے شادی کس بلا کا نام تھا یہ بھی بعد میں ہی پتہ چلا ساری چیزیں شروع میں بہت مشکل ہی تھیں ۔ لیکن ان نیک سہاروں سے بغیر کسی کو بتائے زندگی کی راہیں آسان ہوئیں اس لیے بتول کے لکھنے والے میرے بہت بڑے محسن ہیں اللہ بس سب کو اپنی رحمتوں میں رکھے ۔ مجھے بھی اسی قافلے کا ساتھی رکھے ۔ آمین۔
٭٭٭