محشر خیال ۔ پروفیسر خواجہ مسعود

کوئی تبصرہ نہیں

پروفیسر خواجہ مسعود ۔اسلام آباد
’’ چمن بتول‘‘ شمارہ اکتوبر2024 ء اب کے گرافک آرٹ کا ٹائٹل بنایا گیا ہے ہمارے پیارے ’’ چمن بتول‘‘ کا ٹائٹل چمن کے خوشنما رنگ برنگے پھولوں سے مہکتا ہؤازیادہ خوبصورت لگتا ہے ۔
’’ابتدا تیرے نام سے ‘‘(مدیرہ محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما ء کا فکر انگیز اداریہ ) ابتدا میں آپ نے ملک میں عمومی مہنگائی اور خاص طور پر بجلی کی مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔ پھر آپ نے اسرائیل کی جارحیت کے ہاتھوں مظلوم مسلمان عورتوں ، بچوں اور بڑوں کی شہادتوں اور دیگر اسلامی ممالک پر اسرائیل کے بے رحمانہ حملوں پر صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ واقعی نتین یاہو آج کے دور کا ہٹلر بن کے سامنے آرہا ہے ۔ آخر میں آپ نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمان کے دگر گوں حالات اور مودی کی مسلمان دشمن پالیسیوں کو واضح کیا ہے ۔
’’ سورۃ کوثر کے مطالب‘‘ (مولانا عبد المتین )سورۃ کوثر کی تشریح کے سلسلہ میں ایک نہایت خوبصورت مضمون ہے۔ آپ نے واضح کیا ہے کہ اس سورۃ کی شکل میں رسول پاکؐ کو بڑی بڑی نعمتوں اور فضیلتوں کی بشارت دی گئی ہے اور حوض کوثر کا بڑا پیارا ذکرر کیا ہے۔
’’رسول اللہ ؐ اور بچے ‘‘ (ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ کا دل پذیر مضمون ) ڈاکٹر صاحبہ نے اس مضمون میں وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ہمارے رسول پاکؐ بچوں سے بے حد محبت اور شفقت کرتے تھے ۔ خاص طور پہ آپ نے لڑکیوں کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آنے کا درس دیا اور فرمایا کہ بچوں کی بہترین تربیت والدین کا فرض ہے ۔
’’ اسلامی ممالک میں ہیومن مِلک بنک کا قیام ‘‘ پاکستانی تناظر میں (شگفتہ عمرصاحبہ کا مضمون) دودھ کا رشتہ بڑا مقدس اور گہرا ہے ۔ حتیٰ کہ ماں کے علاوہ کوئی دوسری عورت بھی بچے کو دودھ پلائے تو وہ اس کی رضاعی ماں کہلاتی ہے ۔مِلک بنک کا قیام بہر حال کئی مسائل کو جنم دے سکتا ہے ۔
’’ حصہ شعر و شاعری ‘‘سیدنظر زیدی کی نعت سے ایک شعر
نام نامی آپؐ کا، اسم گرامی آپؐ کا
اعتبار بزمِ عالم، زندگی کی روشنی
سیدہ نسرین سحرش کی خوبصورت نعت سے ایک منتخب شعر
یہ دیپ جہاں بھی جل جائے
وہاں جہل کی کالی راتوں کے
’’ اے میری مسجد اقصیٰ‘‘( فلسطین کے بارے میں روبینہ فرید کی جذبات میں ڈوبی نظم )
ربِ کعبہ نے چنا تجھ کو
تومیرے رب کی چاہت ہے
سراپا تو تقدس ہے
تیرے سائے میں عظمت ہے
فرات غضنفر کی پیاری غزل سے ایک منتخب شعر
دل نے شب اک بات پرانی چھیڑی
مل کر روئے سرد ہوا اور میں
محمد جمیل پرواز کی غزل سے ایک منتخب شعر
تھک کے میں آن گرا تپتی زمیں پرپروازؔ
پیڑ میں کاش میرے واسطے بستر ہوتا
’’ رستہ روشنی کا ‘‘ ( مریم روشن) ایک خوبصورت نفسیاتی کہانی یہ سکھاتی ہوئی کہ اگر بہو کوسسرال میں عزت ، اختیار اوروقار دیا جائے تووہ بھی ایک کامیاب سگھڑ بہو بن کے دکھا سکتی ہے۔یہ جملہ خوبصورت ہے ’’روشنی، ہوا اور مٹی مل جائے تو ہر کونپل جگہ بنا ہی لیتی ہے ، بس کوئی روشنی کا راستہ نہ روکے ‘‘۔
’’ راز‘‘ (فاخرہ نواز) لڑکیوں کے لیے ایک سبق آموز کہانی کہ صبر،حوصلے اور اللہ پر ایمان سے انسان دلی سکون حاصل کر سکتا ہے ، اُس کی دلی مرادیں پوری ہو سکتی ہیں ۔
’’ جسے اللہ رکھے‘‘( بنت حوا) ایک نیکی کا سبق سکھاتی کہانی کہ کس طرح ایک ڈاکٹر صاحب اور ان کی نیک دل بیوی نے ایک لاوارث بچی کو گود لے لیا اور اس کی اپنی بیٹی کی طرح پرورش کی ۔ بلا شبہ یہ ایک بڑی نیکی ہے ۔
’’ تیمار داری‘‘ ( دانش یار)والدین کی خدمت کرنے کا ایک یاد گار واقعہ۔ یہی ہمارے مذہب کا سبق ہے کہ والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کی دل و جان سے خدمت کرو اور جنت کمائو۔
’’ فرنیچر‘‘( فاطمہ عزیز ) ایک اچھی سبق آموز کہانی ۔ آخر میں یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ حرا نے دل میں سوچا شادی کو بھی تو تحمل اور برداشت چاہیے رشتوں کو دلوں میں جگہ بنانے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے ۔ ہر چیز جلد بازی میں تو نہیں ہوتی‘‘۔
’’کھیل‘‘(محمد سعید شیخ) نفسیاتی الجھنوں میں لپٹی ایک ماورائی کہانی ۔ کہ خواب میں اس لڑکی کو اپنا ہی ہیولہ نظر آتا اور پریشان کرتا رہا ۔ در اصل یہ اشارہ تھا کہ اسے خودکو سدھارنے کی اشد ضرورت ہے ۔
’’نٹ کھٹ زندگی‘‘( عینی عرفان کے ناول کی آخری قسط) بچے زبردستی علی کو لے کر گئے اور دلہن کو اس کے گھر سے اٹھا کر لے آئے ۔ صبح ہوئی تو بزرگ بظاہر غصے لیکن دل میں خوش ہوئے کہ بچوں نے صورت حال کو سنبھال لیا اور انجام بخیر ۔
’’محبت کی لازوال داستان ‘‘( سوشل میڈیا سے ) رسول پاکؐ کی پیاری بیٹی زینب ؓ اور ان کے شوہرابو العاصؓ کی بے پناہ محبت کی لازوال داستان اور بالآخر ابوالعاصؓ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ۔
’’ میاں طفیل محمد صاحب سے ایک ملاقات کا احوال‘‘ ( آسیہ راشد صاحبہ) شرکاء فرزانہ چیمہ اور سلمیٰ اعجاز چوہدری ، میاں محمد طفیل صاحب کا ایک یاد گار انٹرویو۔ آپ نے اپنی زندگی کی بہترین یاد یں قارئین کے ساتھ شیئر کی ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی ؒ کے ساتھ آپ کا گہرا رشتہ رہا اور ان کے بعد امیر بھی منتخب ہوئے۔
’’ کتنی بہادر کتنی پیاری تھیں وہ ‘‘ ( شہناز یونس) آپ نے اپنی پیاری امی کی یادیں قارئین کے ساتھ شیئر کی ہیں ۔ ایسی پیاری ماں کا نصیب ہونا اولاد کے لیے ایک خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے ۔ ایسی نیک سیرت مائیں اور ایسی فرمانبردار اولادیں اب کمیاب ہیں ۔
’’ سوزین رائلینس سے ایک ملاقات( صائمہ اسما صاحبہ ) آپ نے ان محترمہ کے سراپا کا نقشہ بڑے پیارے الفاظ میں بیان کیا ہے ’’گلابی چہرہ شفیق مسکراہٹ سے سجا ہؤا ، بلوریں آنکھیں مخاطب کے چہرے پر نہایت توجہ سے مرکوز، سمیٹے ہوئے سنہری بال ، دراز قد ، پر وقار ، یہ تھیں سوزین رائلینس‘‘ اور پھر سوزین صاحبہ کے پیارے الفاظ قلمبند کیے ہیں’’ میں آپ کی بہن تو نہیں کیونکہ میں مسلمان نہیں ہوں لیکن آپ مجھے اپنی بہنوں کی طرح ہی لگ رہی ہیں ، میں پاکستانی عورتوں سے بہت محبت کرتی ہوں کیونکہ وہ بہت اچھی مائیں ہوتی ہیں اور خاندان کو تحفظ دیتی ہیں ‘‘۔
’’ ہم لوگ ‘‘( چوہدری محمد اکرم) دیہات کی سادہ لیکن پر خلوص زندگی کا نقشہ بڑے پیارے الفاظ میں کھینچا ہے ہمارے دیہاتوں کی زندگی بڑی خوبصورت ہے ۔بس وہاں سہولتیں ملنی چاہئیں ۔
’’ نائٹ ڈیوٹی ‘‘ ( ڈاکٹر ثمینہ روحی وسیم ) ایک مزاحیہ مضمون ، پڑھ کے مزا آگیا ۔
’’بیٹا ہؤا یا بیٹی؟‘‘( ڈاکٹر ناعمہ شیرازی) ڈاکٹر صاحبہ نے واضح کیا ہے کہ بیٹی کے پیدا ہونے میں بیوی کا کوئی قصور نہیں ہوتا ، اسے قصور وار ٹھہرانا زیادتی ہے یہ سب قبضہ قدرت میں ہے اللہ پر پختہ ایمان رکھنا چاہیے ۔
’ وہ باخبر ہے ‘‘ میر بابر مشتاق کا سبق آموز کالم ۔ یہ جملے زبردست ہیں ’’ کسی کو اتنا ستائو جتنی جہنم کی آگ برداشت کر سکو ۔ لوگوں کی آہوں سے ڈریں ان کے صبر کی برداشت سے ڈریں ‘‘
’’ زندگی آسان بنائیں ‘‘ ( ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا خوبصورت کالم) ایک زبردست کالم ہمیں یہ سمجھاتا ہؤا کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے سوائے اللہ کے سب بتوں کو پاش پاش کردیں اور خدا ئے واحد پر یقین و ایمان رکھیں اسی میں ہماری نجات ہے ۔
’’ بنگالی بھائیوں کی تیسری آزادی ‘‘ ( ذوالفقار احمد چیمہ) انڈیا کی غلامی کے خلاف کئی دہائیوں سے پکنے والا لاوا سیلاب بن کر باہر نکلا اور ہر چیز کو بہا کر لے گیا ۔بنگالی مسلمانوں نے سینے پر گولیاں کھا کر خود کو حسینہ واجد کے جبر اور ہندوستان کی غلامی سے آزاد کرا لیا۔
گوشہ ِتسنیم’’ وقت قریب ہے ‘‘( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ کا کالم) ایک بصیرت افروز کالم ہے ، یہ الفاظ خوبصورت ہیں ’’ اگر اللہ سے سچی لگن لگا لیں تو وہ تو ہماری شہ رگ سے بھی قریب تر ہوتا ہے ، بس پختہ ایمان کی ضرورت ہے ۔’’تعلق اور محبت کارشتہ جس قدر خالص اور سچا ہوتا ہے قرب کا احساس اس قدر تابندہ ہوتا ہے ‘‘۔
٭ آپ کا تبصرہ شمارہ ستمبر مجھ تک تاخیر سے پہنچا اس لیے شامل اشاعت نہ ہو سکا ، معذرت ( مدیرہ) ٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp