میں یحییٰ ہوں! ۔ افشاں نوید

کوئی تبصرہ نہیں

مزاحمت محض ایک گولی نہیں ہے جو چلادی جائے، بلکہ یہ تو ایک زندگی ہے جسے عزت و عظمت کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔ سیّد الطوفان یحییٰ سنوار

شہید کی وصیت
ایسی زندگی جس کا وجود صرف شاعری میں ہی نظر آتا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ وقت کا سارا ظلم ایک جگہ پر ہے۔سارے وسائل،تمام حربوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر دسترس کے باوجود یحییٰ ایک ڈراؤنا خواب بن کر اسرائیل وامریکا کے اعصاب پر عشروں سوار رہا۔اورثابت ہؤا کہ سنوار اور مزاحمت نظریات کا نام ہے ۔نظریہ کبھی لاشیں گرانے سے مرتا نہیں ہے۔
اسرائیلی میڈیا ان کے بارے میں من گھڑت خبریں پھیلاتا رہا کہ وہ سرنگوں میں روپوش ہیں اور اسرائیلی فوجیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ وہ جنگ کے دوران رفح میں ہی تھے۔ وہ کسی فوجی آپریشن یا گرفتاری کے بعد ہلاک ہوئے نہ فرار ۔ان کی آخری ویڈیو صدیوں آزادی کے چراغوں کی لو تیز کرتی رہے گی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی گردن میں کوفیا لپٹا ہؤا ہے اور ہاتھ میں بارود…انہوں نے ماتھے اور سر پر گولیاں کھائیں۔بھاگنے والے پیٹھ یا پیروں پر گولیاں کھاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے،دشمن کو للکارتے ہوئے شہید ہوئے۔نیتن یاہو نہیں چاہتا تھا کہ سنوار کسی جھڑپ میں مارے جائیں۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ خود سنوار کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نظر آتا۔وہ کب چاہتا تھا کہ سنوار کسی ہیرو کی طرح نظر آئیں۔العربیہ اردو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یحییٰ سنوار نے شہادت کے آخری ایام بغیر خوراک اور غزہ میں نقل مکانی کرنے والوں سے دور کسی جگہ پر گزارے۔طویل اسیری کے درمیان ان کا قلم وقرطاس سے مضبوط رشتہ رہا۔لکھتے ہیں:
’’وہ چاہتے تھے کہ جیل ہماری قبر بن جائے، وہ ہمارے حوصلہ اور عزائم کو کچل سکیں، لیکن ہم نے جیل کو اپنے لیے عبادت گاہ اور مطالعے کی اکیڈمی میں تبدیل کر دیا‘‘۔
یہی نہیں بلکہ دوران قید انہوں نے عبرانی زبان پر عبور حاصل کیا اور گہرا مشاہدہ کیا کہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز کس طرح کام کرتی ہیں۔سنوار جو سالوں سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر تھے غزہ میں ہی مقیم رہے۔ایک مجاہد کے طور پر اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ رہے اور اسرائیلی بمباری کے نشانہ بننے والے گھر کے ملبے کے درمیان صوفے پر بیٹھے نظر آئے نہ کہ سرنگوں میں چھپے ہوئے۔
19 اکتوبر سن 62 کو خان یونس کیمپ میں آنکھ کھولنے والے یحییٰ ابراہیم حسن سنوار نے ابتدائی تعلیم خان یونس کے اسکول میں حاصل کی ۔پھر غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے عربی میں بیچلرز کی ڈگری لی ۔انہوں نے پانچ سال تک یونیورسٹی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں اور پھر کونسل کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ان کی شادی میں تاخیر کی وجہ ان کی طویل اسیری رہی ۔وہ تقریبا ًچوتھائی صدی گرفتار رہے اور سن 2011 میں شالت (اسرائیلی فوجی) کی رہائی کی ڈیل کے تحت اسرائیل کی جیل سے رہائی پانے کے بعد غزہ کی ایک مسجد میں ان کے نکاح کی تقریب منعقد ہوئی۔
وہ اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر تھے۔جس نے کیمپ میں آنکھ کھولی ہو، اسرائیلی مظالم کو بہت قریب سے دیکھا ہو،اپنے پیارے کھوئے ہوں،غلامی کی زندگی کا درد سہا ہو، اس کے لیے زندگی سے زیادہ مشن قیمتی تھا۔کہتے تھے۔
’’دشمن مجھے شہید کرنا چاہتا ہے۔میں بھی اللہ کے حضور شہید ہو کر پیش ہونا چاہتاہوں ،میں کووڈ، حرکت قلب بند ہونے، کسی ٹریفک حادثے یا بیماری میں مرنے کے بجائے ایف 16 طیارے یا بم سے مرنے کو ترجیح دوں گا۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ 60 سال یا اس کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ ہم تو موت کے قریب ہیں جو ایک حقیقت ہے ۔ میں طبعی موت سے زیادہ شہید ہونے کو ترجیح دوں گا ،شہادت میرے لیے سب سے بڑا تحفہ ہو گا‘‘۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ کے آخر وقت تک اسرائیلی قابض فوج سے لڑتے ہوئے جان دینے کو غزہ کے لوگوں نے ایک ہیرو کی شہادت اور قابل فخرطرز زندگی قرار دیا ہے۔حماس کے سربراہ کے اس انداز سے سوئے مقتل جانے کے واقعے کے بعد غزہ کے لوگ ان کو بابائے فلسطین کے طور پر دیکھنے لگے ہیں جس نے زخمی حالت میں اسرائیلی ڈرون کو چھڑی سے نشانہ بنایا۔ موت کا ایسا استقبال لوگوں کے لیے ہیرو کا انداز قرار پایا۔ بہ وقت شہادت انھوں نے مجاہدانہ وردی پہن رکھی تھی، وہ ایک بندوق اور گرینیڈز کے ساتھ نظر آرہے تھے ۔ جب ان کا خون بہہ رہا تھا وہ سخت زخمی حالت میں تھے تو انہوں نے چھڑی کو دشمن کے خلاف ہیرو کی طرح شجاعت کے استعارے کے طور پر استعمال کیا اوربتایاکہ ہیرو کس طرح مرتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی قید میں اپنی طویل حراست کے دوران تقریبا ً ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ایک ناول تخلیق کیا جو فلسطینی مظلوم معاشرے کی کہانی ہے۔اس میں واقعات کے ذریعے اسرائیلی مظالم کو آشکار کیا گیا ہے۔ناول کے آغاز میں انہوں نے لکھا’’یہ میری ذاتی کہانی نہیں ہے اس حقیقت کے باوجود اس کے تمام واقعات سچے ہیں‘‘۔
عرب میڈیا پر اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کی شہادت کے موقع کی دو تصاویر جاری کی گئی ہیں۔پہلی تصویر میں تسبیح،روزانہ کے اذکار نافع کے کتابچے،ہاتھ کی گھڑی، ٹافیاں، چپکنے والی ٹیپ، 16 سو اسرائیلی شیکل یعنی چار سوتیس امریکی ڈالر….جب کہ دوسری تصویر میں کلاشن کوف ’دو میگزین‘ ایک فوجی بیلٹ نظر آرہے ہیں۔وہ اسرائیلیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھے۔
سپہ سالار شہید کی وصیت کالفظ لفظ ایمانی کیفیت کا عکاس اورآب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے:
’’ میں یحییٰ ہوں‘‘ پناہ گزیں کا بیٹا، جس نے اجنبیت کو ایک عارضی وطن بنالیا اور خواب کو ایک ابدی معرکے میں بدل دیا۔
میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور اس وقت میری زندگی کا ہر لمحہ میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ گلیوں کے درمیان گزرنے والا بچپن، پھر جیل کے طویل سال، پھر خون کا ہر قطرہ جو اس زمین کی مٹی پر بہایا گیا۔
میں خان یونس کے کیمپ میں سن 1962 میں پیدا ہؤا، یہ وہ زمانہ تھا جب میرا وطن محض ایک یاد تھی جو تار تار کردی گئی تھی، محض کچھ نقشے تھے جو سیاست دانوں کی میزوں پر فراموش حالت میں پڑے تھے۔
میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی زندگی کو آگ اور راکھ کے بیچ گزارا اور بہت پہلے یہ جان لیا کہ غاصبوں کے سائے میں زندگی گزارنے کا مطلب ایک ہمیشہ کی جیل میں رہنا ہے۔
میں نے کم سنی کے دور میں ہی یہ جان لیا تھا کہ اس سرزمین پر زندگی گزارنا عام بات نہیں ہے۔ جو یہاں پیدا ہوگا اسے اپنے دل کے اندر ناقابل شکست ہتھیار اٹھانا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی کا راستہ لمبا ہے۔
آپ لوگوں کے نام میری وصیت یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اس لڑکے سے جس نے غاصب پر پہلا پتھر پھینکا اور جس نے یہ سیکھا کہ پتھر ہی وہ پہلے الفاظ ہیں جن کے ذریعہ ہم اپنی بات اس دنیا کو سناسکتے ہیں جو ہمارے زخموں کو دیکھ رہی ہے اور خاموش کھڑی ہے۔
میں نے اپنے وطن کی سڑکوں پر یہ سیکھا کہ انسان کو اس کی عمر کے ماہ و سال سے نہیں ناپا جاتا ، بلکہ اس سے ناپا جاتا ہے کہ وہ اپنے وطن کے لیے کیا پیش کرتا ہے۔ میری زندگی اسی سے عبارت تھی، جیل اور جنگیں، تکلیف اور امید۔
میں نے سب سے پہلے سن 1988 میں جیل میں قدم رکھا اور مجھے عمر قید کی سزا سنائی گئی، لیکن میں نے ڈر کو قریب پھٹکنے نہیں دیا۔
ان تاریک کوٹھڑیوں کے اندر میں ہر دیوار میں کھڑکی دیکھتا تھا جس سے دور کا افق دکھائی دیتا تھا۔ ہر سلاخ میں سے روشنی پھوٹتے دیکھتا تھا جو آزادی کا راستہ روشن کرتی تھی۔
جیل میں رہتے ہوئے میں نے سیکھا کہ صبر محض ایک اخلاقی خوبی نہیں ہے بلکہ ایک ہتھیار ہے، کڑوا ، جیسے کوئی سمندر کو قطرہ قطرہ کرکے پی لے۔
میری تمھارے لیے وصیت ہے کہ جیلوں سے خوف نہ کھاؤ، جیل تو آزادی کی منزل تک لے جانےوالی ہماری طویل راہ کا ایک ٹکڑا ہے۔
جیل نے مجھے سکھایا کہ آزادی محض ایک حق نہیں جو چھین لیا گیا، وہ تو ایک خیال ہے جو تکلیف کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور صبر سے اس کی دھار تیز کی جاتی ہے۔ جب سن 2011 میں ’’احرار کی وفاداری‘ نامی سودے کے تحت میں جیل سے نکلا تو میں پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ جب میں نکلا تو میری شخصیت مضبوط ہوچکی تھی اور اس بات پر میرا یقین بڑھ چکا تھا کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ محض ایک وقتی کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ ہماری قسمت ہے جس کی لاج ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک اٹھاتے رہیں گے۔
میری وصیت ہے کہ بندوق کو مضبوطی سے تھامے رہو، اس عظمت کے ساتھ جس پر کوئی سودا نہیں ہو اور اس خواب کے ساتھ جو کبھی موت کا منھ نہ دیکھے۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم مزاحمت سے دست بردار ہوجائیں اور اپنے قضیے کو کبھی ختم نہ ہونے والے مذاکرات کے حوالے کردیں۔
لیکن میں تم سے کہتا ہوں: جو تمھارا حق ہے اس پر مذاکرات نہ کرنا۔ وہ تمھارے ہتھیاروں سے زیادہ تمھاری استقامت سے خائف ہیں۔ مزاحمت محض ہتھیار نہیں ہیں جو ہم اٹھائے ہوئے ہیں۔ مزاحمت تو فلسطین کے لیے ہماری محبت ہے جو ہماری ہر سانس کے ساتھ تازہ ہوتی ہے۔ مزاحمت تو ہمارا یہ ارادہ ہے کہ حصار و ظلم کے باوجود ہمیں باقی رہنا ہے۔
میری وصیت ہے کہ تم سدا شہد ا ء کے خون کے لیے وفادار رہنا۔ وہ گزر گئے اور ہمارے لیے یہ کانٹوں بھری راہ چھوڑ گئے۔ انھوں نے اپنے لہو سے ہمارے لیے آزادی کا راستہ ہموار کردیا۔ سیاست دانوں کے مفادات کی خاطر اور ڈپلومیسی کے کھیلوں میں آکر ان قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دو۔
ہمارا کام یہ ہے کہ اگلوں نے جو آغاز کیا ہے اسے تکمیل تک پہنچائیں اور اس راہ سے ذرا نہ ہٹیں، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے۔ غز ہ استقامت کا مرکز اور فلسطین کا سدا دھڑکتا دل پہلے بھی تھا اور آئندہ بھی رہے گا، چاہے یہ وسیع و عریض سرزمین ہمارے لیے کتنی ہی تنگ ہوجائے۔
جب میں نے 2017 میں غز ہ میں حما س کی قیادت سنبھالی تو وہ محض قیادت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ مزاحمت کا تسلسل تھا جو پتھر سے شروع ہوئی تھی اور بندوق سے جاری رہی۔ حصار میں گھری میری قوم کا درد مجھے روز بے چین کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ آزادی کی طرف اٹھنے والا ہمارا ہر قدم قیمت چاہتا ہے۔ لیکن میں تم سے کہے دیتا ہوں، ہار مان لینے کی قیمت اس سے بہت بڑی ہوگی۔ اس لیے اس زمین سے چمٹے رہو جس طرح جڑیں مٹی سے جڑی رہتی ہیں۔ جو قوم زندہ رہنے کا فیصلہ کرلیتی ہے اسے کوئی آندھی اکھاڑ نہیں پاتی ہے۔
طوفان اقصیٰ کے معرکے کے دوران، میں کسی جماعت یا تحریک کا قائد نہیں تھا، میں تو ہر اس فلسطینی کی آواز تھا جو آزادی کا خواب اپنے دل میں سجائے ہے۔ میرے ایمان نے مجھے یہ راہ دکھائی کہ مزاحمت محض ایک اختیاری راستہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فریضہ ہے۔ میں نے چاہا کہ یہ معرکہ فلسطین کشمکش کی کتاب میں ایک نیا ورق بن جائے۔ تمام مزاحمتی گروپ یک جا ہوجائیں، سب ایک خندق کے رفیق بن جائیں اور اس دشمن کا سامنا کریں جس نے کبھی بچے اور بوڑھے کا یا پتھر اور پیڑ کا فرق روا نہیں رکھا۔
میں نے کوئی ذاتی ورثہ نہیں چھوڑا، بلکہ اجتماعی وراثت چھوڑ رہا ہوں۔ ہر اس فلسطینی کے لیے جس نے آزادی کاخواب دیکھا، ہر اس ماں کے لیے جس نے اپنے شہید بچے کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، ہر اس باپ کے لیے جس نے اپنی بچی کو مکار دشمن کی گولی کھاکر تڑپتے دیکھا اور غم کی شدت سے رو پڑا۔
میری آخری وصیت ہے کہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ مزاحمت فضول کام نہیں ہے، یہ محض ایک گولی نہیں ہے جو چلادی جائے، بلکہ یہ تو ایک زندگی ہے جسے عزت و عظمت کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔ جیل اور حصار نے مجھے سکھایا ہے کہ یہ معرکہ طویل ہے، راستہ دشوار ہے، لیکن میں نے یہ بھی سیکھا کہ جو قومیں ہار ماننے سے انکار کردیتی ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے معجزے تخلیق کرتی ہیں۔
دنیا سے توقع مت رکھنا کہ وہ تمھارے ساتھ انصاف کرے گی۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ دنیا کس طرح ہمارے الم کو خاموش دیکھتی رہی۔ انصاف کا انتظار مت کرو، بلکہ تم خود انصاف بن جاؤ۔ اپنے دلوں میں فلسطین کا خواب سجاکر رکھو۔ ہر زخم کو ہتھیار بنادو اور ہر آنسو کو امید کے چشمے میں بدل لو۔
یہ میری وصیت ہے، اپنے ہتھیار حوالے مت کرنا، پتھر نہ ڈالنا، اپنے شہیدوں کو نہ بھول جانا اور اس خواب پر کوئی سودا نہ کرنا جو تمھارا حق ہے۔ہم یہاں باقی رہیں گے، اپنی سرزمین میں، اپنے دلوں میں اور اپنے بچوں کے مستقبل میں۔
میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ فلسطین کا خیال رکھنا، اس زمین کا جس سے میں نے موت کی حد تک عشق کیا ہے، اس خواب کا جس کو میں اپنے کندھوں پر اٹھائے رہا، اس پہاڑ کی طرح جو جھکتا نہیں ہے۔
اگر میں گرجاؤں تو تم لوگ میرے ساتھ مت گرجانا، بلکہ میرے ہاتھ سے پرچم اٹھالینا جو کسی دن زمین پر نہیں رہا، میرے خون سے ایک پل تعمیر کرنا جو اس طاقت ور نسل کی راہگزر بنے جو ہماری راکھ سے پیدا ہوگی۔
جب طوفان دوبارہ برپا ہو اور میں تمھارے درمیان نہ رہوں تو سمجھ لینا کہ میں آزادی کی موجوں کا پہلا قطرہ تھا اور میں اس لیے زندہ رہا تاکہ تمھیں سفر کی تکمیل کرتے دیکھوں۔
ان کے حلق کا کانٹا بنے رہو، ایسا طوفان بن جاؤ جو پلٹنا نہیں جانتا ہو اور اس وقت تک پرسکون نہ ہو جب تک دنیا یہ نہ جان لے کہ ہم حق والے ہیں۔ ہم خبروں میں درج کی جانے والی گنتیاں نہیں ہیں‘‘۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp