اسلامی ممالک میں ہیومن ملک بینک کا قیام: پاکستانی تناظر میں ۔ شگفتہ عمر؎۱

کوئی تبصرہ نہیں

’انسانی دودھ بینک‘ اور ملکی اور بین الاقوامی فقہاء کونسلز کی آراء:
1۔ مجمع الفقہ الاسلامی العالمی جدہ (انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ):
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی، جو تنظیم اسلامی کانفرنس کے زیر اہتمام قائم ہونے والا ایک عالمی ادارہ ہے، کی کونسل کا دوسرا اجلاس جدہ میں مورخہ 10 تا 16 ربیع الثانی 1406 ہجری بمطابق 22 تا 28 دسمبر 1985ء منعقد ہؤا۔ مجمع الفقہ الاسلامی جدہ میں ساری دنیائے اسلام کے علماء نے جمع ہو کر اس مسئلے پر مفصل بحث کی اور بالآخر غور و فکر کے بعد جو قرارداد منظور ہوئی اس کا حاصل یہ ہے کہ: اولاً ’ملک بینک‘ ، جنہیں عربی میں ’بینک الحلیب الامہات‘ کہا جاتا ہے، کا قیام ایک تجربہ تھا جسے مغربی ممالک نے شروع کیا لیکن فنّی خرابیوں اور علمی لحاظ سے بعض منفی نتائج سامنے آنے کے بعد یہ تجربہ کافی حد تک ناکام ہو گیا؛ ثانیاً دودھ پلانے سے بھی ایسے ہی حرمت ثابت ہوتی ہے جیسے نسب سے ثابت ہوتی ہے اور حفاظت نسب مقاصد شریعت میں سے ہے جبکہ اس طرح کے ’ملک بینک‘ قائم کرنے میں شریعت کے ایک اہم مقصد نسب کی حفاظت کے فوت ہونے یعنی نسب کے اختلاط اور شک و شبہ کا قوی امکان ہے؛ ثالثاً عالم اسلام میں عرصہ دراز سے شیر خوار بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے رضاعت کا جو سلسلہ رائج ہے وہ بہترین ہے اور یوں مسلمانوں کو ’انسانی دودھ کے بینک‘ جیسے مغربی اقدامات کی قطعًا کوئی حاجت نہیں ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر یہ قرار داد منظور کی گئی کہ: ’ہیومن ملک بینک‘ بنانا ممنوع ہے؛ البتہ ان بینکوں سے حاصل شدہ دودھ اگر کسی بچے کو پلا دیا جائے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ اور اگرکسی بچے کے لیے اس طرح کی نوبت آ جائے کہ اس کو ماں کا دودھ میسر نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں دودھ پلانے والی دایہ کا انتظام بآسانی کیا جا سکتا ہے اور اگر دایہ نہ ملے تو بازار میں دستیاب مصنوعی دودھ سے بھی بچے کی نشوونما ہو سکتی ہے۔
2۔ دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی:
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے نام پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض خان الازہری، اسلامک اینڈ ریلیجس ڈیپارٹمنٹ ہزراہ یونیورسٹی مانسہرہ کی طرف سے بتاریخ 22 فروری، 2014 کو ایک سوال نامہ موصول ہؤا جس میں ’ہیومن ملک بینک‘ اور اس کے حوالے سے متفرق اشکالات کے جوابات طلب کیے گئے تھے۔ اس خط میں مغربی ممالک میں قائم ’ہیومن ملک بینکس‘ اور چند مسلم ممالک میں ایسے اداروں کے آغازکا تذکرہ کرتے ہوئے درج ذیل مختلف سوالات کیے گئے: ایسی خاتون جس کی چھاتیوں میں زیادہ دودھ ہو، اس کے مضر اور تکلیف دہ اثرات کے حوالے سے اگر اس کو نکال کر فروخت کر دیا جائے یا اس کو خریدا جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؛ اسی طرح چند خواتین کے دودھ کو اکٹھا کرنے پررضاعت کا حکم؛ دودھ میں دیگر غالب اجزاء کی شمولیت کے بعد حرمت رضاعت کا حکم؛ جامد شکل یعنی پاؤڈر شکل میں ہونے پر رضاعت کا حکم؛ ’ہیومن ملک بینک‘ کے قیام کا شرعی حکم؛ جن شیر خوار بچوں کو ماؤں کا دودھ میسر نہیں اور صحت کا مسئلہ ہو اور کوئی خاتون بھی میسر نہ ہو تو مندرجہ بالا کا حکم؛ اور خواتین کا دودھ بالغ مردوں کے لیے بطور دوا استعمال کرنے کا حکم وغیرہ۔
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف سے ان تمام سوالات کے تفصیلی ترتیب وار جواب دیے گئے جن کے اہم نکات یہ تھے کہ ایسی کمپنیاں اور بینک قائم کرنا متعدد مفاسد کی بنا پر جائز نہیں۔ اولاً مختلف خواتین کا دودھ اکٹھا ہونے سے تمام کے ساتھ رضاعت کی حرمت قائم ہوگی اور یوں احکام شرع کی پاسداری تقریبا ًناممکن ہو جائے گی۔ ثانیاً یہ تکریم انسانی کے خلاف ہوگا کیونکہ انسان کے کسی جز کی خرید و فروخت عام اشیاء کی طرح جائز نہیں ہے۔ ثالثاً ایسی خواتین بہت کم ہوں گی جو اپنا دودھ ہدیتاً بینک میں جمع کرائیں گی بلکہ اس طرح کے ’ملک بینک‘ اگر قائم کر دیئے جائیں تو اس بات کا غالب احتمال ہوگا کہ یہ دودھ کی تجارت کا ایک ذریعہ بن جائے گا، اورمعاشی طور پر تنگدست خواتین مالی حصول کی خاطر اپنی اولاد کو دودھ پلانے کے بجائے اپنے دودھ کو بیچنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ رابعاً ’ہیومن ملک بینک‘ قائم ہونے کی بنا پر بہت سی خواتین سُستی یا مصروفیات کی بنا پر اپنے بچوں کو اس خیال سے دودھ نہ پلائیں گی کہ بچوں کو جس خالص دودھ کی ضرورت ہے وہ تیار دستیاب ہے یوں وہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے لگیں گی۔ خامساً اطباء کے کہنے کے مطابق بچے کے ماں کی چھاتی سے براہ راست دودھ پینے میں بھی فی نفسہٖ کچھ فوائد ہیں۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ بینک قائم کر دینے کی صورت میں اگر بچوں کو ماں کی چھاتیوں سے دور رکھا جائے تو ان فوائد سے محرومی ہوگی جو ماں اور بچہ دونوں کے حق میں مضر اور نقصان دہ ہے۔ لہٰذا مذ کورہ بالا متعدد مفاسد کی وجہ سے بحالت موجودہ ’ملک بینک‘ قائم کرنا جائز نہیں بالخصوص جبکہ اس طرح کے ’ملک بینک‘ قائم کرنے کی فی الحال ضرورت بھی ثابت نہیں ہے۔
3۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان:
اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2013 سے 2014 کے مطابق پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آباد کا مراسلہ بنام چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل موصول ہؤا جس میں جدید تحقیق اور اکتشا فا ت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چند مسائل پر غور و خوض کی استدعا کی گئی تھی۔ کونسل نے اپنے 119ویں اجلاس بمطابق 28۔ 29 مئی 2013 میں مذکورہ بالا امر پر آئٹم نمبر 14 کے تحت غورو خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ شعبہ ریسرچ اس موضوع پر معلومات اور شرعی نقطہ نظر اور مجمع الفقہ الاسلامی العالمی کی آراء پر مبنی ایک ریسرچ نوٹ تیار کر کے کونسل کے اگلے اجلاس میں پیش کرے۔ چنانچہ شعبہ تحقیق نے اس حوالے سےایک ریسرچ نوٹ اگلے اجلاس میں معزز ارکان کونسل کے سامنے پیش کیا۔
  شعبہ ریسرچ کی رائے کا خلاصہ:
اس ریسرچ نوٹ میں پہلے قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات رضاعت کی وضاحت کی گئی اور اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پلانا محض غذا فراہم کرنا نہیں بلکہ اس پر دیگر احکام بھی مرتب ہوتے ہیں، جس میں نمایاں حکم رشتہ رضاعت کا ثبوت ہے۔ جس کی وجہ سے بچے اور ماں کے درمیان حرمت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے جہاں ماں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے دودھ پلانے کی اجازت دی ہے وہاں اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ بچے اور رضاعی ماں کے درمیان کیونکہ رضاعت کا رشتہ ثابت ہو جاتا ہے اس لیے کسی بھی مصنوعی طریقے سے دودھ پلانے میں یہ دو باتیں مد نظر رہنی چاہیے کہ آیا کیا وہ طریقہ فطری شرعی طریقے کے قریب ہے؟ اور کیا اس طریقے میں حفاظت نسب کا خیال رکھا گیا ہے؟ بینک برائے شیر مادر میں ان دونوں باتوں کی رعایت ممکن نہیں۔ چونکہ یہ طریقہ فطری تقاضوں سے دور ہے اس وجہ سے اس پر کئی ایک طبی مفاسد مرتب ہوتے ہیں، جیسا کہ تجربات سے ظاہر ہے۔ اور اس میں دوسری بات کی رعایت رکھنا بھی بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ انہی مفاسد کی بنا پر مجمع الفقہ الاسلامی العالمی نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بچے کی ماں کے پستانوں ہی سے دودھ پینے میں صحت مندی ہے، جیسا کہ طبی تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ دودھ عورت کے پستانوں سے نکلتے ہی جراثیم کی لپیٹ میں آ جاتا ہے جس سے بچے کے بیمار رہنے کا خطرہ ہے۔ اگر ہم ’دودھ کے بینک‘ کی اجازت بھی دے دیں تو کئی مفاسد لازم ہوں گے:  اولاً عورت کے پستانوں سے دودھ نکلتے ہی جراثیم کے لپیٹ میں آمدہ خوراک بچے کی صحت کو متاثر کر دے گی؛ ثانیاً رضاعت کی رشتہ داریاں قائم ہو جائیں گی (یعنی اگر بچے نے کسی معلوم عورت کا دودھ پیا ہو)؛ ثالثاً نسب مخلوط ہو جائے گا (اگر نامعلوم عورت کا دودھ پیا ہو) اور رضاعت کے رشتوں کے اختلاط و اشتباہ کی وجہ سے شریعت مطہرہ کی بیان کردہ حرمتیں پامال ہوں گی؛ رابعاً عورت کے دودھ کا ایک ناجائز کاروبار شروع ہو جائے گا۔ اس کا تجربہ مغربی ممالک میں کیا گیا لیکن بہت سے مسائل سامنے آئے۔ اب کم از کم اسلامی ممالک میں ایسے بینکوں کے قیام کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔
اراکین کونسل کی آراء کا خلاصہ اور متفقہ قرارداد:
 مختلف اراکین کونسل کی آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر شیر مادر کے بینک قائم کے جائیں گے تو ان سے تین خرابیاں مفاسد پیدا ہوں گے: اولاً ریکارڈ محفوظ رکھنا کہ کس کس عورت کا دودھ اس میں شامل ہے بہت مشکل ہوگا؛ ثانیاً حرمت رضاعت ہو چکی ہوگی لیکن دودھ پینے والوں کو اس حرمت کا علم نہیں ہوگا اور انجانے میں اپنے ہی رضاعی بہن بھائیوں کی شادیاں منعقد ہو جائیں گی؛ ثالثاً اس سے دودھ کی خرید و فروخت شروع ہو جائے گی حالانکہ دودھ انسانی جز شمار ہوتا ہے اور محترم ہونے کی وجہ سے اس کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔ اراکین نے مزید کہا کہ پیش کردہ سوالات کے جواب میں ہمیں دو چیزوں کا حکم بتانا ہے کہ فی نفسہٖ بینک قائم کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور یہ کہ بینک قائم ہو جانے کے بعد جس کسی نے یہ دودھ پیا، ان کی حرمت رضاعت کا حکم کیا ہے؟ اس تمام تناظر میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی: کہ خواتین کے دودھ کے بینک کا قیام جائز نہیں ہے چنانچہ اس کے قیام کی اجازت نہ دی جائے؛ نیز ایسے بینک سے حاصل شدہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوجائےگی۔
4۔ علماء فتویٰ کونسل پاکستان:
علماء فتویٰ کونسل پاکستان سے ’ہیومن ملک بینک‘ کے نام سے شروع ہونے والے سلسلے کے جائز ہونے کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ لجنتہ العلماء للافتاء کےجید مفتیان کرام نے، بنیادی سوال اور دیگر متفرق اعتراضات کا جائزہ اور اشکالات کی وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کی۔ خلاصہ یہ ہے کی: ’ہیومن ملک بینک‘ کا قیام اسلامی تعلیمات و قوانین سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ: اولاً اس طرح رضاعت اور اس سے ثابت ہونے والے شرعی احکام متاثر ہوں گے، اور قرابت داری سے متعلق شک و شبہ کا ذریعہ ہوں گے؛ ثانیاً بچے کا براہ راست ماں کی چھاتی سے دودھ پینا بچے اور ماں کی صحت کے مسائل سے جڑا ہؤا ہے چنانچہ اس طرح یہ طریقہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے اعتبار سے کئی اضرار و مفاسد کا ذریعہ ہوگا؛ ثالثاً عالم اسلامی میں عرصہ دراز سے شیر خوار بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے رضاعت کا جو سلسلہ رائج ہے اس کی موجودگی میں ایسے معاشروں سے ایک نیا سسٹم لے کر آنا جن کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے، اس کی قطعًا کوئی ضرورت نہیں ہے؛ رابعاً ’انسانی دودھ کے بینک‘ کے جواز کے لیے بعض مصالح اور ضروریات کا ذکر کیا جاتا ہے، حالانکہ کسی ایک نقصان کو ختم کرنے کے لیے مزید نقصان کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جہاں مصالح اور مفاسد کا ٹکراؤ ہو رہا ہو وہاں مزید سہولیات اور مصالح حاصل کرنے کے لیے نئے مفاسد کا دروازہ کھولنا جائز نہیں؛ خامساً اگرچہ کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے لیکن بعض احادیث و آثار سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ مرضعہ (جس عورت کا دودھ کسی بچے کو پلایا جائے) کے دودھ کا باقاعدہ بچے کی طبیعت پر اثر ہوتا ہے، اسی وجہ سے اہل علم نے مرضعہ کےانتخاب میں احتیاط کا حکم دیا ہے اور ایسی عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا ہے جن کی عادات و اطوار اور حرکات درست نہ ہوں۔ (السنن کبیر للبیہقی، المغنی لابن قدامہ )
دیگر عالمی افتاء کمیٹیوں یا علماء مثلاً لجنتہ دائمہ سعودی عرب نے بھی اس کے حرام اور ناجائز ہونے کا فتویٰ جاری کیا ہے۔( فتاوی الجنتہ الدائمہ ۔ المجموعتہ الاولی)۔ اسی طرح شیخ ابن عثیمیؒ، شیخ بکرابو زیدؒ جیسے اہل علم نے بھی اس کی حرمت اور عدم جواز کا ہی فتویٰ دیا ہے۔
  5۔ یورپین کونسل برائے فتویٰ اور تحقیق:
یورپی کونسل برائے فتویٰ و تحقیق کا بارہواں عام اجلاس 31 دسمبر 2003 سے 4 جنوری 2004 تک اس کے ہیڈ کوارٹر ڈبلن میں منعقد ہؤا، جس کی صدارت شیخ علامہ یوسف القرضاوی نے کی اور اس میں اراکین کی اکثریت نے شرکت کی۔ کونسل نے اپنے ایجنڈے پر متعدد موضوعات کی چھان بین کی اور بعض احکام، فتویٰ اور سفارشات جاری کیں، جن میں سب سے اہم مسلم شیر خوار بچوں کو ’انسانی دودھ کے بینکوں‘ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دینا تھا۔ کونسل نے مجمع الفقہ الاسلامی العالمی جدہ، کے مسلم دنیا میں ’دودھ کے بینکوں‘ کی تشکیل کے حکم پر ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد، خاص طور پر مغرب میں اقلیت کے طور پر رہنے والے مسلمانوں کے لیئے ’دودھ کے بینکوں‘ کے بارے شرعی نقطہ نظر سے دودھ کی مقدار، مرضیعہ کی نامعلوم شناخت اور دیگر کئی امور میں مختلف فقہاء کی دی گئی گنجائشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک تفصیلی فیصلہ دیا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
بنیادی طور پر، جب ناگزیر ہو تو ’دودھ کے بینکوں‘ سے دودھ کے استعمال پر کوئی شرعی اعتراض نہیں ہے۔ مزید برآں، اس دودھ سے فائدہ اٹھانے کا مطلب دودھ پلانے کی وجہ سے شادی کی ممانعت نہیں ہے۔ اور اس کی وجوہات میں جزوی طور پر دودھ پلانے کی نامعلوم تعداد، دودھ میں دوسری اشیاء کی ملاوٹ اورڈونرکی شناخت نہ ہونا ہیں، کیونکہ ان بینکوں میں استعمال ہونے والے دودھ کے عطیہ کرنے والوں کے نام کی شناخت کے ظاہر کرنے پر قانونی ممانعت ہے۔ اور اس حقیقت کے ساتھ کہ ان بینکوں کی طرف سے فراہم کردہ دودھ بہت سے لوگوں کی طرف سے تعاون کردہ دودھ کا ایک مرکب ہے۔ نامعلوم شناخت کے حوالے سےاس فتویٰ میں فقہاء کے اس رائے کو اختیار کیا کہ جب کسی گاؤں میں کسی نامعلوم عورت نے بچے کودودھ پلایا ہو تو اس کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی کی کسی سےممانعت نہیں ہوتی ۔
شیخ علامہ یوسف القرضاوی کی یہ رائے مسلمان ڈاکٹرز کی ایک عالمی تنظیم کے ایک ممبر کے سوال کے جواب میں دی گئی تھی۔ آپ مجمع الفقہ الاسلامی العالمی جدہ کے بھی ممبر رہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے 1985 میں مجمع الفقہ الاسلامی العالمی جدہ کے اجلاس بحوالہ ’ہیومن ملک بینک‘ کے قیام کے جواز میں بھی اپنا یہ مؤقف پیش کیا تھا لیکن کونسل کے ممبران کی کثیر تعداد نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے مؤقف کا رد بھی پیش کیا۔ البتہ 2004 میں یورپین کونسل برائے فتویٰ اور تحقیق کے تحت جس کی صدارت اس کے قیام کے وقت سےعلامہ یوسف القرضاوی کر رہے تھے، انہوں نے طبی ماہرین کی موجودگی اور مدد سے اپنا نظرثانی شدہ  فتویٰ فقہ الاقلیات کے تحت پیش کیا کہ غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ییں اور انہیں رضاعت کے حوالے سے وہ مواقع میسر نہیں ہیں جو مسلم ممالک میں موجود ہیں، ان بینکوں کے ذریعے سے مسلمان بچوں اور عورتوں کو فائدہ اٹھانے کا حق ہے اور اسے منظور کر لیا گیا۔
پاکستان میں انسانی دودھ کے حوالے سے قانون سازی اور بینکنگ کا آغاز:
پاکستان ان 118 ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے مئی 1981 میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں چھاتی کے دودھ کی مارکیٹنگ کے بین الاقوامی ضابطے کو اپنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان میں پروٹیکشن اف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ریگولیشن 2002 میں منظورہؤا، اور یوں پاکستان اس حوالے سے قانون سازی کے ساتھ 42 ممالک میں سے ایک ہو گیا۔ تاہم عملاً قانون کا نفاذ ممکن نہ ہوا۔
نومبر 2009 کو وزارت صحت کی طرف سے اعلان کردہ بریسٹ فیڈنگ رول 2009 کا اعلان ہؤا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ مذکورہ آرڈینینس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک نیشنل انفنٹ فیڈنگ بورڈ (این۔ آئی۔ ایف۔ بی) قائم کیا جائے گا۔ یہ بورڈ 2010 میں قا ئم کیا گیا۔ 10 جون 2011 کو نافذ کی گئی اٹھارویں آئینی ترمیم نے صحت سمیت متعدد وفاقی وزارتوں کوصونوں کے تحت کر دیا اورصوبوں کو صحت کے تمام معاملات بشمول صحت کے منصوبوں اور حکمت عملیوں کا احاطہ کرنے والی قانون سازی کا حق دے دیا گیا۔ سندھ اسمبلی نے 13 فروری 2013 کو سندھ پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2013 نافذ کیا جو کہ وفاقی قانون کے مساوی ہے اور اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار یکساں ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ طور پر 9 جنوری کو ’خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2015‘ منظور کیا، جس سے کسی بھی مینوفیکچرر یا ڈسٹری بیوٹر کے لیے کسی بھی ایسے مواد کی تشہیر یا دعویٰ کرنا قابل سزا جرم ہے، جو بوتل سے دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا ماں کو دودھ پلانے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومت پاکستان نے ایک قومی اتحاد تشکیل دیا جس میں نیوٹریشن ونگ، وزارت صحت، اور حکومت پاکستان، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او اور بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں شامل تھیں۔ سٹار مدرز ملک بینک (ایس۔ایم۔ ایم۔ بی) ایسی ہی ایک غیر منافع بخش غیر سرکاری تنظیم ہے جو پاکستان میں دودھ کی بینکنگ کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ماؤں کا پہلا غیر سرکاری’ دودھ بینک‘ ہے جسے 15 اپریل 2014  کو قائم کیا گیا۔ اس تنظیم کا نصب العین ہے ’ہر قیمتی قطرہ شمار‘ ہو گا اور وہ سمجھتے ہیں کہ محفوظ اور جانچ شدہ ڈونر کا دودھ فراہم کرنا ان قبل از وقت پیدا شدہ اور بیمار نوزائیدہ بچوں کے علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے وصول کرتے ہیں۔ سٹار مدرز ملک بینک نے لاہور اورپاکستان کے دوسرے شہروں میں نوزائیدہ انتہائی نگہداشت کے یونٹس کو اہم مدد فراہم کی ہے۔  اس تنظیم کا کام ان کے فیس بک پیج پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ٹیسٹ کیس تجربے کے دس سال بعد جون 2024 میں پاکستان میں پہلا سرکاری ’ہیومن ملک بینک‘ کراچی میں، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹولوجی( ایس۔ آئی۔ سی۔ ایچ۔ این) کراچی کے تحت عالمی ادارہ یونی سیف اور پاکستان پیڈی ایٹرک ایسوسی ایشن کے تعاون سے اوائل جون میں قائم کیا گیا۔
ملک بینک کے قیام میں مذہبی اور ثقافتی رکاوٹیں دور کرنے کی ممکنہ تجاویز:
 دنیا میں ’ملک بینک‘ کے قیام کے آغاز سے اب تک اس کا بنیادی مقصد  قبل از وقت پیدائش والے کمزور بچوں کے لئے انسانی دودھ کی فراہمی قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ قبل از وقت پیدائش والے بچوں کی ماؤں میں چھاتی کے دودھ کے اظہار میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور نتیجتاً پری ٹرم بچے آنتوں کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں.
اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے، دنیا کے کئی حصوں میں ’انسانی دودھ کے بینک‘ قائم کیے گئے ہیں۔ مسلم ممالک شرعی تعلیمات اور مختلف ممکنہ معاشرتی مسائل کی وجہ سے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے دودھ کی تقسیم کی ان سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے۔ البتہ مسلم ممالک میں ایران، عراق، کویت اور بنگلہ دیش میں شرعی اصولوں کے مطابق ’ملک بینک‘ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ملائیشیا میں دودھ کے ایکسچینج کا محدود پروگرام چل رہا ہے اور انڈونیشیا ایران کی طرز پر ’ملک بینک‘ کے آغاز کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران میں وزارت صحت کے مالی تعاون سے تبریز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز سے الحاق شدہ الزہرہ ٹیچنگ میٹرنٹی ہسپتال میں 2016 میں پہلا ’انسانی دودھ بینک‘ شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک میں بارہ ’دودھ بینک‘ قائم کیے گئے ہیں جو سختی سے شرعی ضوابط کی پابندی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے دو تہران میں اور دیگر مشہد، زاہدان، اہواز، کرمانشاہ، کرمان اور شیراز میں واقع ہیں۔ ایران نے ملک کے سپریم لیڈر، آیت اللہ علی خامنہ ای (ایران کے روحانی پیشوا) سے اجازت کے ذریعے شفافیت کے ساتھ ’دودھ کے بینکوں‘ کو قابل عمل بنانے کا ایک طریقہ تلاش کیا ہے۔ ایران میں عطیہ دہندگان کی اسکریننگ، دودھ کو جمع کرنے اور جانچنے، پاسچرائزیشن اور دودھ کو ذخیرہ کرنے کے ہیومن ملک بینک ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ اور پبلک ہیلتھ ریگولیشن کے راہنما اصول استعمال کئے جاتے ہیں۔  پاکستان اورترکی میں ’ملک بینک‘ قائم کرنے کے بعد شرعی مصلحتوں کی بنیاد پر بند کر دیا گیا۔ البتہ ترکی میں غیر رسمی طور پر انسانی دودھ کی شیئرنگ ایک متبادل کے طور پر جاری ہے۔
پاکستان میں بھی نوجوان ماؤں کے درمیان غیر رسمی طور پر یہ پریکٹس شروع ہو چکی ہے جہاں ان ماؤں کو اس حوالے سے شرعی احکامات کا کوئی علم نہیں ہے اور یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
غیر مسلم ممالک میں ان بینکوں سے مسلمان بچوں کے مستفید ہونے، اور مسلم معاشروں میں شرائط اوراحتیاطی تدابیر کے ساتھ اسے ممکن العمل بنانے کی چند درج ذیل تجاویزمختلف علماء اور محققین نے پیش کی ہیں:
    1۔ ان اقدامات کے لیے ’ملک بینک‘ کے بجائے ’ملک شیئرنگ‘ کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے جو کہ انسانوں کے درمیان ایک قدر اور ایک رابطے کے طور پر زیادہ بہتر محسوس ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اور اضافی تدابیر بھی اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ایک ایک بچے کے لیے بہت سے ڈونرز کے مقابلے میں ایک بچے کے لیے ایک ہی ڈونر کو طےکیا جائے۔ مختلف ڈونرز کے دودھ کو مکس نہ کیا جائے۔ دودھ کے تمام سامپلز کوباقاعدہ طریقے سے لیبل کیا جائے اور اس کے ساتھ  ڈونر کے مکمل کوائف منسلک ہوں۔ ڈونر کی مکمل شناخت اس فیملی کو فراہم کی جائے جس کے بچے کو دودھ مل رہا ہے۔  ڈونر اور دودھ کو حاصل کرنے والے ایک دوسرے کی رضامندی کے ساتھ اس شناخت کو ظاہر کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ ڈونر کا نام پتہ اور مکمل شناخت بچے کے برتھ سرٹیفکیٹ کے اوپر لکھی جائیں۔ ہر ماں کو یہ سمجھایا جائے کہ اپنے بچے کو دودھ پلانا اس کی اپنی بنیادی ذمہ داری ہے۔ البتہ یہ پروگرام صرف ان بچوں کے لیے ہوگا جو وقت سے پہلے پیدا ہو جاتے ہیں اور اپنی ماں کا دودھ ابھی ان کے لیے میسر نہیں ہوتا اور پھر ماؤں کو جلد از جلد اپنے دودھ کی کے حصول کی طرف توجہ دینی چاہیے، تاکہ بچہ کم از کم مقدار میں ڈونر سےدودھ لے سکے۔ صرف وہ بچے جو خاص طبی مسائل سے دوچار ہیں یا جن کی مائیں فوت ہو چکی ہیں ان کو زیادہ طویل عرصے کے لیے دودھ سپلائی کیا جائے۔ اگر ڈونر ماں کے بچے ایک جنس سے تعلق رکھتے ہیں تو جس بچے کو دودھ دیا جا رہا ہے وہ بھی ترجیحاً اسی جنس سے ہو۔ اس طرح اسلام میں رضاعت کے رشتوں کے قائم ہونے کی بنا پر، ’ملک بینک‘ کو مشکل سمجھتے ہوئے اور عدم قبولیت کے باوجود، ان میں کچھ احتیاطوں کے ساتھ مسلمان کمیونٹیز میں بھی انسانی دودھ کی شیئرنگ کو ایک کامیاب تجربہ بنایا جا سکتا ہے۔
2۔ ایک اور ریسرچ میں پیش کردہ تجاویز کے مطابق اسلامی دنیا میں کوئی گمنام ’دودھ بینک‘ قائم نہ کیا جائے۔ اکثریتی غیر مسلم علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کو موجودہ بینکوں سے دودھ کے لین دین میں حصہ نہیں لینا چاہیے ۔ البتہ اگر حقیقی ضرورت کا احساس ہوتا ہے تو ادارہ جاتی یا غیر ادارہ جاتی سطح پرایسا متبادل تلاش کرنا چاہیے جو مسلما نوں کے سماجی اور مذہبی تحفظات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ایسے منظم اور شفاف طریقے پر کام کرے جو تحفظ نسب کو برقرار رکھنے کے قابل ہو اور اس میں اختلاط نسب کے معاملے میں کوئی شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔
3۔ فقہ الطب پرکام کرنے والے کچھ ڈاکٹرز اور فیملی اینڈ شریعہ لاء پر کام کرنے والے چند محققین کی یہ رائے بھی قابل غور ہے کہ مختلف ہسپتالوں کے ساتھ ممکنہ ڈونرز مرضعہ خواتین کا ایک ایسا ڈیٹا بیس تشکیل دیا جائے جن سے ضرورت کے وقت رابطہ کیا جا سکے اور دونوں خاندانوں کی باہم شناخت اور رضامندی کے ساتھ مطلوبہ مدت کے لیے دودھ کی ڈونیشن (رضاعت) کو ممکن العمل بنایا جا سکے۔
اختتامیہ:
’ہیومن ملک بینک‘ کو قائم کرنے اور چلانے کے لیے کثیر رقم بھی درکار ہے۔ نیز اس سرگرمی کے لیے سکرینگ کی بہترین سہولیات اور ہر سطح پرمثلاً دودھ نکالنے سے لے کر جمع کرنا، لببارٹری میں ٹیسٹنگ اور محفوظ کرنے کی جگہ، نیو نیٹل نگہداشت کے یونٹ، ہسپتال کے وارڈزاور عملہ، سب جگہ اعلیٰ درجے کے حفظان صحت کےاصولوں پر کاربند ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ نیز اسلامی ملک میں قائم بینکوں میں ہر مرضعہ (دودھ عطیہ کرنے والی عورت) اور رضیع (یعنی دودھ حاصل کرنے والا بچہ) کی شناخت اور پلائے گئے دودھ کی مقدار اور تعداد کا ریکارڈ وغیرہ رکھنا ہوگا اوردونوں خاندانوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے ان کا آپس میں رابطہ کروانا ہو گا۔ انہی حوالوں سے علماء و فقہاء کی رائے ہے کہ اسلامی ممالک میں ہمیں شرعی حوالوں سے جس احتیاط کی ضرورت ہے وہ ممکن نہ ہو سکے گی۔ پاکستان کے حوالے سے بھی ہمیں اپنے اداروں کی کارکردگی اور شفافیت کی سطح کا بخوبی اندازہ ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال کے تناظر میں دودھ کی فروخت بھی ایک مسئلہ کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ البتہ یہاں ایک نکتہ غور طلب ہے کہ پاکستان کے کچھ فقہی اداروں نے انسانی دودھ کی اجرت کو انسانی جز کی خرید و فروکت قرار دیتے ہوئے اسے ناجائز قرار دیا۔ جبکہ ہم قرآنی احکامات میں مرضعہ کو اجرت دینے کا تصور بلکہ حکم پاتے ہیں۔ سورہ البقرہ 233 کے مطابق ماؤں کو دو سال دودھ پلانے کے حکم کے ساتھ بچے کے باب کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (اگر وہ نکاح میں ہوں تو یہ نان نفقہ میں ہی شمار ہوگا)۔ اسی آیت کے مطابق اگر باپ کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا فیصلہ کرے تو اسے بھی طے شدہ معاوضہ معروف طریقے سے دینے کا حکم ہے۔ سورہ طلاق کی آیت نمبر6 اور 7 کے مطابق اگر ماں مطلّقہ ہے تو دوران عدت یا اس کے بعد بھی دودھ پلانے کی اجرت باپ کواپنی حیثیت کے مطابق معروف طریقے سے دینا ہوگی۔ نبی کریمؐ نے بھی ابولہب کی لونڈی ثوبیہ کا دودھ بغیر اجرت پیا اور بنی سعد کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون حلیمہ سعدیہ نے طے شدہ اجرت کے ساتھ  آپؐ کو دودھ پلایا تھا۔ اس زمانے میں عرب میں بچوں کو دودھ پلانے کا یہ طریقہ معروف تھا جس کی منسوخی کا حکم قرآن اور حدیث میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ انہی احکام کو بنیاد بناتے ہوئے علامہ یوسف القرضاوی کا فتوٰی ہے کہ کسی عورت کا کمزور یا قبل پیدائش بچے کو دودھ ہدیہ کرنا ایک نیک مقصد رکھتا ہے جس کا اسے اجر ملے گا۔ البتہ اگر کوئی عورت بخوشی ہدیہ نہ کرنا چاہے تو اس سے قیمتاً دودھ لینا بھی جائز ہے۔
ایک اور پہلو سماجی اعتبار سے اہم معاملات میں ثقافتی اور مذہبی حساسیت کا بھی ہے، جسے دنیا بھر کے محتقین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کی اکثریت اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہے، چنانچہ ’ہیومن ملک بینک‘ کے قیام پر معاشرتی اور ثقافتی اعتراضات کی بنا پر سخت عوامی رد عمل سامنے آئے گا۔ مختلف علماء اور مذہبی سکالرز اس حوالے سے مختلف آراء پیش کریں گے جس سے عوام میں الجھن اور اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ اور حالیہ بینک کے کراچی میں قیام کے بعد یہ صورتحال پیدا بھی ہوئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علماء سو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے الجھانے والے فتوے دیں گے۔ جیسے کہ ایک عالم دین سوشل میڈیا پر ’ہیومن ملک بینک‘ کی حمایت کرتے ہوئے اس سے آگے آنے والے فتنے ’سروگیسی‘ (کسی عورت کا بیضہ کسی اور عورت کے رحم میں پرورش کروا کر اولاد کا حصول) کو بھی ابھی سے جائز قرار دے چکے ہیں۔
مغربی ممالک میں مزید آگے بڑھتے ہوئے ’سپرم بینک‘ اور ’بیضہ بینک‘ بھی قائم ہو چکے ہیں جن کے ذریعے کسی بھی شخص کا مادہ منویہ لے کر کسی اور عورت کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہے اور کسی بھی عورت کا بیضہ لے کر دوسری عورت کو ڈونیٹ کر دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں عورتوں کی بیضہ دانی کی پیوند کاری (زندہ یا مردہ عورت کی) بھی روبعمل لائی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے بھی اسلامی نظریاتی کونسل چند موصولہ سوالات کے جوابات دے چکی ہے لیکن یہ اس وقت ہمارا موضوع  نہیں ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ اگر ہم نے مغربی و دیگر ممالک کے ایسے تجربات جن کی زد شریعت اسلامی کے بنیادی اصولوں اور مقاصد شریعت پر پڑتی ہے، بغیر سوچے سمجھے اور الہامی ہدایات کی روشنی سے احتراز کرتے ہوئے اپنانے شروع کر دیے تو ہمارا معاشرہ بھی ’اسفل السافلین‘ کی اسی دلدل میں پھنس جائے گا جیسا آج ہمیں دیگر غیر اسلامی معاشروں میں نظرآ رہا ہے۔
چنانچہ ’انسانی دودھ کے بینک‘ کے قیام کے حوالے سے مذکورہ مضمون میں بیان کردہ تفصیلی مباحث کے ذریعے علماء کی متفقہ رائے یوں سامنے آتی ہے کہ مسلم ممالک میں ایسے بینکوں کے قیام کی اجازت نہ دی جائے۔ البتہ غیر مسلم دنیا میں جہاں یہ بینک قائم ہیں، وہاں کے مسلمان، علامہ یوسف القرضاوی کے فقہ الاقلیات کے تناظر میں د ئیے گئے فتوٰی کے مطابق، چاہیں تو ضرورت شدیدہ میں ان بینکوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ (ملاحظہ کیجئے یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کا فتویٰ)۔ البتہ مجموع الفقہ الاسلامی العالمی جدہ کے علماء 1983 سےاپنی متفقہ آراء پیش کرتے آئے ہیں کہ جہاں یہ بینک قائم نہیں ہیں، یعنی عرب اور دیگر مسلم ممالک وہاں مختلف ذرائع سے حاصل شدہ دودھ اور نامعلوم شناخت کے حوالے سے بلا وجہ شک و شبہات کا سہارا لیتے ہوئے ایک ایسا راستہ نہیں کھولنا چاہیے جو بہت سے شرعی مفاسد کا باعث بنے۔ اوراس وقت پاکستان کے تمام سنی مکاتب فکر کی بھی یہی رائے ہے۔ البتہ مضمون نگار یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان میں پہلا غیر سرکاری ’ہیومن ملک بینک‘ گزشتہ دس سالوں یعنی 2014 سے کام کر رہا ہے اور پاکستانی کونسلز کی آراء اسی دور میں طلب کی گئیں اور عدم جواز کے جوابات بھی اسی وقت سے موجود ہیں، پھر علماء نے اس حوالے سے طبی ماہرین کی آراء کی روشنی میں حکومت اور عوام کے سامنے اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹھایا۔
بہرطورچند غیر مسلم ممالک میں مسلم شناخت کے اصولوں پر کام کرنے والے بینکس کے تجربات اور متفرق مسلم مملک میں قائم کردہ ’ہیومن ملک بینکس‘ کے شرعی اصولوں کی روشنی میں کئے گئے مثبت تجربات کی روشنی میں ممکن ہے کہ آئندہ پاکستان میں یا دیگر مسلم ممالک میں علماء کی رائے میں کوئی تبدیلی پیدا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات:
1-   The Council of the International Islamic Fiqh Academy of the Organization of the Islamic Conference Resolution No. 6 (6/
) Human Milk Bank, https://iifa-aifi.org/en/32213.html   28 December, 1985
2-   دارالافتاء، فتویٰ نمبر،۴۹ْ۔ ۱۶۱۹)، ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۳۵ھ ، ۲۴ اپریل ۲۰۱۴ء
3-    Ulama Fatwa Council Pakistan, Fatwa No.543, 22 June 2024.
4-    European Council for Fatawa and Research ,12th Session, 31 Dec 2003-4 Jan 2004, Resolution 12/3
5-  Yu¯ suf al-Qarada¯w¯ı. Bunu¯k al-Laban (al-Hal¯ıb). Scientific Review of the European Council for Fatwa and Research 2005; 6: 15–22.
6-  Dr. Samia Maqbool Niazi, Dr. Mudasara Sabreen, Human Milk Banks and the Rules for Milk Siblings (Radā’), FAST Transactions on Islamic Research, http://vfast.org/journals/index.php/VTIR@ 2022, ISSN(e): 2309-6519, ISSN(p): 2411-6327, Volume 10, Number 1, January-March 2022, p۔61
7-  Star Mothers Milk Bank, First Milk Bank of Pakistan, https://www.facebook.com/p/Stars-Mothers-Milk-Bank-100064511390016/
8-  https://www.dawn.com/news/1841568/ ،جون 2024 ،عرب نیوز پاکستانhttps://arab.news/juzzr/ https://www.geo.tv/latest/550437-pakistans-first-human-milk-bank-
initiative-suspended-after-new-fatwa
9-  Noraida Ramli*, Nor Roshidah Ibrahim, Van Rostenberghe Hans، Human milk banks – The benefits and issues in an Islamic setting, ،Eastern Journal of Medicine 15 (2010),p.166.
10-  Dr. Samia Maqbool Niazi, Dr. Mudasara Sabreen,p:61
11-  Ghaly, M.M.I (2011). Milk banks through the lens of Muslim scholars: One text in two contexts. Bioethics, 26(3), 117-127. https://hdl.handle.net/1887/16542
 ٭٭٭
Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp