جسےاللہ رکھے ۔ بنتِ حوا

کوئی تبصرہ نہیں

یہ اُن دنوںکی بات ہے جب میرا تبادلہ کراچی ہؤا تھا اور چونکہ میںاور میرے شوہر اکیلے رہتے تھے تو مجھے نوکری کے ساتھ ساتھ گھر کو دیکھنا مشکل ہو رہا تھا میں نے اپنی ایک دوست کی مدد سے ایک نوکرانی رکھوالی جو سارا دن میرے گھر رہتی ۔ وہ بڑی باتونی تھی ۔ جب میں دفتر سے تھکی ہاری گھر آتی تو وہ مجھے چائے کے ساتھ پورے زمانے کی خبریں سناتی اور اسی وجہ سے میں نے اس کا نام نیوز پیپر رکھ دیا تھا ۔ ایک دن دفتر میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے میں دیر سے گھر آئی اور چونکہ میں کافی تھکی ہوئی تھی میں نے اسے پیر دبانے کو کہا ۔
میرے پیر دباتے دباتے اس نے باتیں کرنا شروع کیں کہ ’’باجی آپ کو پتا ہے آج صبح جب میں آپ کے گھر آنے لگی تو میرا دروازہ بجا ۔ میں نے پوچھا کون ایک عورت اندر آئی اورمدد مانگنے لگی جب میں نے مزید پوچھا تو معلوم ہؤا کہ ان کے گھر میںکوئی اور نہیںہے ، ماںبیٹی اکیلی ہیںاور سیلاب زد گان ہیں ۔ بیٹی بن بیاہی ماں بننے والی ہے اور اُس کی ماں کا کہنا تھا کہ ہم یہ بچہ نہیں رکھ سکتے ۔ نہ تو کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی دیکھ بھال کو اس لیے پیدا ہوتے ہی بچے کو مار دیں گے ‘‘۔
یہ سنتے ہی میں اس سے ٹانگیں چھڑوا کر ایک دم کھڑی ہو گئی ۔ مجھے اس بات سے اس قدر صدمہ پہنچا تھا کہ میں نے آگے پیچھے سوچے بغیر اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ میں یہ بچہ ایدھی سنٹر یا کہیں بھی کسی بے اولاد کی گود میں ڈال آئوں گی پر یوں ایک ننھی جان کو موت کے منہ میں اترنے نہیں دوں گی ۔ میں نے اپنی نوکرانی سے کہا کہ سارے کام چھوڑو اور جا کر ان سے بات کرو ۔ میری تو جیسے ساری تھکاوٹ ہی غائب ہو گئی اور وہ چند گھنٹے بے حد بوجھل دل کے ساتھ گزارے ۔
رضیہ نے جا کر ان سے بات کی۔ ماں بولی میں بیٹی کو اپنی نند کے گھر چھوڑ آئی ہوں وہ وہاں کوئی بھی کہانی بنا لے گی یہ سب جان کر میری بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ میں نے رضیہ سے کہا اسے کسی بھی طرح راضی کرو اور بتائو کہ کوئی ڈاکٹر ہے جو بچہ گود لے گی ۔ رضیہ کے بہت اسرار پر وہ کچھ نرم پڑی۔ میں نے لڑکی کی ماں سے بات کی اور اسے یقین دلایا کہ تمہاری بیٹی کا ساتھ اس وقت تک نہیں چھوڑوں گی جب تک اس کی کہیں شادی نہ ہو جائے ۔ میں نے اسے راضی کرلیا کہ وہ کل آکر مجھ سے ملے تاکہ میں اسے مزید یقین کے ساتھ راضی کر سکوں ۔رات جیسے تیسے گزاری ۔ صبح دفتر کی چھٹی کی۔رضیہ سے فون پر رابطہ کیا ۔ وہ اس عورت کو لے آئی اور بولی باجی آپ خود اچھے طریقے سے بات کر لو ۔ میں نے اس سے بات کی اور سمجھایا کہ تم اکیلی نہیں ہو ۔ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ سن کر اسے بہت حوصلہ ہؤا میں نے رضیہ کو اس عورت کے ساتھ لڑکی کو لینے بھیجا کہ کہیں کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو جائے ۔
جب رضیہ اس عورت کے ساتھ چلی گئی تو مجھے ایک دم یاد آیا کہ میرے جاننے والے نے مجھے تقریباً ایک سال پہلے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کی اولاد نہیں ہے۔ وہ ایک بچہ گود لینا چاہتے ہیں ۔ میں نے فوراً اُن سے بات کی تو وہ خوش ہو گئیں کہ ہم تیار ہیں ۔ ہم بچہ گود لے لیں گے۔میرے اندر سکون کی ایک لہر دوڑ گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا اور دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔
ابھی ایک رات ہی بہ مشکل گزری تھی کہ میرے پاس لڑکی کی ماں کا فون آیا کہ میری بیٹی کو در دیں شروع ہو گئی ہیں ۔ میں نے سوچا یہ لالچ میں آکر مجھے آج ہی بول رہی ہے کہ جلد از جلد اس بچے سے فارغ ہو جائے ورنہ تو بتا رہی تھی کہ ابھی ٹائم ہے ایک مہینہ گزر جائے گا ۔ مجھے ایک دم منفی خیالات آنا شروع ہوگئے ۔ میں نے سوچا شاید لوٹنے والیاں ہیں مگر پھر اگلے ہی لمحے مجھے ان سے کیا ہؤا وعدہ یاد آگیا ۔ میں نے لڑکی کی ماں سے کہا کہ تم رکشے میں لڑکی کو لے کر میرے گھر آجائو ۔ میں اپنے شوہر کو ایک دن پہلے یہ سارا قصہ سنا چکی تھی اور ان کو بھی راضی کرلیا تھا ساتھ دینے کو۔
میری امی کے گھر جو بچی بہت چھوٹی سی عمر سے کام کرتی تھی وہ اب پڑھ لکھ کر نرس بن چکی تھی ۔ اُس سے بات کی اُس نے دو جگہیں بتائیں مگر میں اس سارے معاملے میں کسی ڈرائیور کی مدد نہیں لینا چاہتی تھی کیونکہ یہ کھو جی لوگ ہوتے ہیں ۔ پتا لگا لیتے ہیں کہ کون کب کہاں آ جا رہا ہے ۔میں اپنے شوہر کو ساتھ لے کر خوشی خوشی کلینک گئی ۔ ان سے بات وغیرہ کر کے واپس گھر آئی ساری تیاری کی ۔ بچے کی ماں کے لیے ساری چیزیں جوس ،بسکٹ دودھ کے پیکٹ وغیرہ لیے ۔ میرے گھر میں ایک کلاس ہوتی تھی اتفاق سے وہ بھی اسی ہی روز تھی اور میں سب کو بتا بھی چکی تھی ۔ اب ایسے مشکل ہو رہی تھی اور میں پریشان بھی تھی ۔دعائیں کر رہی تھی کیونکہ دعا اور اللہ کی مدد کے بغیر تو انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔ دل کو عجیب قسم کے وہم اور خیالات نے گھیرا ہؤا تھا ۔
خیر میں نے کلینک پہنچتے پہنچتے ان لوگوں کو بھی فون کر دیا جو بچہ گود لینا چاہتے تھے مگر مسئلہ یہ ہؤا ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ ڈلیوری شام تک اور نارمل ہو گی ۔میں اُن کو وہاں چھوڑ کر واپس اپنے گھر کلاس کے لیے آنا چاہتی تھی مگر وہاں رکنے کا مسئلہ تھا ۔ میں نے رضیہ سے رکنے کو کہا مگر وہ گھبرا گئی اور وہ ماں بیٹی بھی اکیلے رکنے پر تیار نہیں تھے ۔ ڈاکٹر نے مجھ سے کہا آپ بے فکر ہو کر چلی جائیں اور اپنے کام مکمل کرلیں ۔ میں آگئی ۔ جیسے ہی سارے کام ختم ہوئے تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا ۔ ہمیں فون آگیا کہ جلدی آجائیں ڈلیوری ہونے کو ہے ۔ ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ دوبارہ فون آیا کہ بیٹا پیدا ہؤاہے ۔سارا سامان لے کر وہاں پہنچے تو میری وہ منہ بولی بہن بچے کو ڈوپٹے میں لپیٹے کھڑی تھی ۔ میں نے اس دن پہلی بار وہ ٹیبل دیکھی جہاں بچہ ڈلیور ہوتا ہے کیونکہ میرے اپنے بچے تو تھے نہیں ۔ اسی وقت ڈاکٹر نے ہمیں کہا کہ بچے کو آکسیجن کی ضرورت ہے اور یہ سہولت ہمارے پاس موجود نہیں ہے کیونکہ وہ ایک گلی محلےوالا چھوٹا سا کلینک تھا ۔ اب ہمیں فوراً آکسیجن کا بندو بست کرنا تھا ۔ جو بچہ گود لینا چاہتے تھے وہ بھی شہر کے اچھے ڈاکٹر تھے ۔ انہوں نے فوراً ایک اچھے ہسپتال میں انتظام کیا ۔ ہم نے بچے کو اپنی گاڑی میں میری منہ بولی بہن کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا اور گاڑی کا اے سی بند کر دیا کہ کہیں نو مولود کو ٹھنڈ نہ لگ جائے ۔ اللہ اللہ کر کے ہسپتال پہنچے ۔ بچے کو ایڈمٹ کروا کے ہم بے تابی سے تھرڈ پارٹی (جنہوںنے بچے کو گود لینا تھا )کا انتظار کر نے لگے ۔ میں دل ہی دل میں اللہ کے شکر کے ساتھ دعائیں کر رہی تھی کہ اتنے میں وہ لوگ بھی پہنچ گئے ۔ہم ایک دوسرے سے مل کر رونے لگ گئے ۔ وہ ایڈاپ کرنے والے ڈاکٹر خود اندر گئے ۔ انہوں نے جب اپنا تعارف دیا اور بتایا کہ یہ بچہ میرا پوتا ہے تو فوراً عملہ حرکت میں آگیا ۔ سارے انتظامات مکمل ہوئے اور پرائیویٹ روم میں داخل کیا ۔ ڈاکٹر صاحب کی بیگم اور ہم سب باہر تھے ۔ انہوں نے میری منہ بولی بہن سیما ( جو کہ نرس تھی ) اور رضیہ کو پانچ پانچ ہزار روپے مٹھائی کے دیے کہ میرا پوتا ہے ۔کچھ ٹائم بعد اس فیملی نے ہم سے یہ کہا کہ اب بچہ ان کی ذمہ داری ہے تو ہم لوگ جا سکتے ہیں ۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو خیال آیا کہ زچہ اور ان کی ماں جو صبح سے ہسپتال میں بھوکی تھی ۔ سارا سٹاف یعنی سیما ، رضیہ بچے کی نانی سب کے لیے کھانا ، یخنی اور دوائیاں سیما کی مدد سے لیں ۔ ڈاکٹر کے لیے مٹھائی لی اور ہسپتال پہنچے تو وہاں ماں بیٹی بڑی مطمئن تھیں مگر وہ ڈاکٹر سمجھ چکی تھیں ۔ انہوں نے کہا مجھے بھی اس نیکی میں حصہ ڈالنے دیں اور اپنے کیس کی فیس معاف کردی ۔مگرمیں نے سیما کی مدد سے انہیں ایک لفافہ بھجوا دیا تھا جو کہ بعد میں سیما نے ان تک پہنچا دیا ۔
ہم تھکے ہارے ساڑھے بارہ بجے کے قریب گھر واپس آئے تو بڑے ہی مطمئن تھے اور بڑی فرصت محسوس ہو رہی تھی ۔ میرے شوہر بھی ان لوگوں کے لیے دعا گو تھے ۔
صبح ہوئی تو کہانی نے ایک نیا موڑ اختیار کیا۔مجھے ان لوگوں کی کال آئی جنہوں نے بچہ گود لیا تھا یعنی ڈاکٹر کی بہو او ربیٹا جو کہ خود بھی ڈاکٹر تھے ۔ انہوں نے کہا کہیں ایسا تو نہیں کہ زبردستی کسی ماں سے اُس کا بچہ لے کر ہمیں دیا جا رہا ہے ۔ ہمیں اس بچے کی ماں سے ملوایا جائے ۔ وہ ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کرے کہ میں اپنا بچہ راضی خوشی دے رہی ہوں اور آئندہ اس سے کوئی تعلق نہیںرکھوں گی ۔
مجھے بھی غصہ آیا کہ بات تو یہ ہوئی تھی کہ وہ فیملی نا معلوم رہے گی مگر اس ڈاکٹر نے کہا میری بہو اور بیٹا بہ ضد ہیں کہ ہم خود ملیں گے ۔ میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ابھی رات تو ڈلیوری ہوئی ہے وہ بچی اپنے گھر میں ہے ۔ اسے کیسے بلوائوں ۔ خدا نخواستہ اسے کوئی تکلیف ہو ۔ کچھ ہو جائے ۔ میں نے ناراضگی سے کہا کہ میں کوشش کر کے دیکھتی ہوں پر میں کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ بچہ مجھے دے دیں میں وہ بچہ رکھنے کو تیار ہوں ۔ میں خود اسے کسی اچھے ادارے میں داخل کروا دوں گی ۔انہوں نے کہا آپ کا خرچہ دینے کو ہم تیار ہیں ۔ آپ کی ایک ایک پائی ادا کردی جائے گی ۔ میں نے کہا خرچے کی کوئی بات نہیں ہے جب پہلے ایک بات ہو چکی تھی تو اب ایک دم انہوں نے یو ٹرن لیا تو مجھے یوں لگا کہ آپ کسی پر بھی اعتماد نہیں کر سکتے ۔ یہ زندگی نے مجھے تجربہ سکھایا ۔ میں اُس وقت بہت دلبرداشتہ ہو ئی بہت غصہ بھی آیا لیکن پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا ۔ اپنے غصے پر قابو پایا اور سوچا نیکی بھی نہیں رہے گی اوربچہ بھی ایک اچھے خاندان سے محروم ہو جائے گا۔
میں نے اس کی پوری زندگی اور مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے غصے پر قابو پایا ۔ دوبارہ ان سے رابطہ کیا اور کہا میں آپ کی تسلی کے لیے کوشش کر لیتی ہوں پر گارنٹی نہیں دے سکتی۔ میں نے اس لڑکی اور اس کی ماں سے بات کی ۔ وہ ڈسچارج ہو کر گھر آچکے تھے ۔ میں نے دن میں بارہ بجے آنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ رکشے کا کرایہ بھی میں دوں گی تم بس لڑکی کو لے کر آجائو ۔ وہ فوراً مان گئی کیونکہ وہ میری اتنی احسان مند تھی کہ انکار نہیں کر سکی۔ میں نے رکشے کا کرایہ بھی دیا اور ایک پیسہ بھی ان کا خرچ نہیں ہونے دیا ۔اُن کو اپنے ڈرائینگ روم میں بٹھایا ۔فوراًگرم دودھ میں ہلدی ڈال کے پلایا ۔ اُس کے بعد ڈاکٹر کو فون کیا کہ آپ جلدی سے اپنے بہو بیٹے کو بھیج دیں کہ وہ آکر ان سے بات کر لیں کیونکہ میں مزید ان کو تکلیف نہیں دے سکتی ۔ مجھے اندر ہی اندر بہت غصہ تھا پر میں خاموش رہی ۔
اُدھر ان ڈاکٹر کی بیگم کی بھی کافی طبیعت بگڑ چکی تھی کہ میری اولاد میری زبان خراب کر رہی ہے اور ان کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے بہو بیٹے کو بھیج دیا ۔ میں نے ان کی بہو کو ماں بیٹی کے پاس تنہا چھوڑ دیا کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے کچھ بھی کہنے کے لیے ان پر دبائو ڈالا ہے ۔ اس کے بعد اس نے اپنے شوہر کو آکر بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ میں اپنی خوشی سے بچہ دے رہی ہوں اور آئندہ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی ۔ انہوں نے یہ ساری بات ریکارڈ بھی کی اور کہا کہ کورٹ سے ایفیڈ یوٹ بھی لے کر آتے ہیں ۔ ان سے انگوٹھا بھی لگوائیں گے اور اقرار نامہ بھی تحریرکروائیں گے کہ کبھی بھی وہ ہم سے بچہ واپس نہیں لیں گے ۔ وہ اس خوف میں تھے کہ کبھی بچہ ان سے واپس نہ لے لیا جائے ۔اتنی دیر میں میں نے کھانا بنایا۔ وہ بہو مجھ سے باتیں کرتی رہی۔ کبھی خوش ہو کبھی روئے کہ میں بچہ ایڈاپ کر رہی ہو ں ۔ کورٹ کے پیپر بنتے بنتے شام کے چھ بج چکے تھے ۔ اس طرح پھر وہ لوگ میرے گھر سے رخصت ہو ئے کہ اب انہیں کوئی خطرہ نہیں تھا اور بچہ مکمل طور پر ان کا تھا ۔ سب بہت خوش اور مطمئن تھے ۔ اگلے دن ہم نے زچہ کے گھر خوب راشن اور ضرورت کا سامان ڈلوایا تاکہ اس کی زچگی کا وقت آسانی سے گزر جائے اور اسے کوئی تکلیف نہ ہو ۔
اس طرح وہ بچہ مکمل طور پر ان ڈاکٹر فیملی کا ہو گیا ۔ ہم نے بھی اپنے رب کا شکر ادا کیا اور شکرانے کے نوافل پڑھے ۔ چوتھے دن وہ بچہ گھر آیا تو گھر والوں نے خوب خوشیاں منائیں ۔عقیقہ کیا ۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ اُن کا بچہ نہیں ہے۔ آج ہم اُس بچے کو ان کے گھر میں پھلتا پھولتا دیکھ رہے ہیں ۔ وہ آٹھ ماہ کا ہو گیا ہے ۔ اُس کے چچا حافظ قرآن ہیں جو روز رات کو اس بچے کے کان میں قرآن پڑھتے ہیں اور اُس پر دم کرتے ہیں ۔ سب بہت خوش ہیں ۔ دادا ،دادی ، ماں باپ سب بہت مطمئن ہیں بچےکی ایک چھینک بھی برداشت نہیں کرتے ۔ وہ بچہ ایک پرسکون اور صحت مند ماحول میں نشوونما پا رہا ہے ۔ ہر دن وہ بچہ نیا کپڑا پہنتا ہے ۔ ان ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ میرے چار بچے تھے اب تک میری کمائی میں ان کا حصہ تھا آج سے پانچواں حصہ اس پوتے کا ہے ۔ اس واقعے کو دیکھتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ جو کام جس سے لینا چاہے لے سکتا ہے ۔ اللہ نے ہمیں اس کام کے لیےچنا ہم اس کے بے حد شکر گزار ہیں ۔ ہماری کوشش سے وہ بچہ دینی اور دنیاوی لحاظ سے معاشرے کا ایک بہترین فرد ثابت ہوگا ۔
اسی طرح جب ہم اپنے آس پاس کوئی برائی ہوتے دیکھیں تو ہمیں صرف اللہ کی ذات سے اجر کی توقع کرتے ہوئے اس برائی کو بھلائی میں بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جب سوال انسانی جان کا ہو تو ہمیں ایڑی چوٹی کازور لگا دینا چاہیے کیونکہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ :
’’ جس نے کسی ایک جان کو ( قتل سے بچا کر ) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا ‘‘۔(سورہ المائدہ ۳۲)
جب بھی معاشرے میں کوئی لڑکی ایسی صورت سے دو چار ہوتی ہے تو 95فیصد لوگوں کا رویہ اسے مشکل سے نکالنے پر تدبیر کرنے کے بجائے تھو تھو کرنا بد نام کرنا اور جینا محال کرنا بس یہ ہی طریقہ ہوتا ہے ۔ اور دنیا میں آنے والے نو مولود کو معاشرے کا صالح عنصر بنانا اس پر توجہ ہی نہیں ہوتی ۔یہ بالکل سچی کہانی ہے اور اس میں ایک حقیقت اور وہ ماں بیٹی جب اس مشکل میں گرفتار تھیں تو مالک مکان نے گھر خالی کرنے کی دھمکی بھی دے دی تھی اور سامان پھینکنے کا نوٹس تو اس نیک خاتون نے ایڈوانس دےکر دوسرا کمرہ بھی دلوایا۔
نوٹ: جب بچہ گود لینے والوں نے کہا تھالڑکا ہوگا تو لیں گے اور اللہ کی قدرت جس بہو نے گود لیا اس کی بھابھی کو بالکل اسی ہفتے بیٹا ہؤا اور اس کا دودھ اس بچے کو پلایا گیا اور حرمت کا رشتہ بھی قائم ہوگیا ۔
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp