مسلمانوںکا خلافت راشدہ جیسے بے نظیر مثالی نظام کی نعمت سے محروم ہو جانا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا جو اچانک بلا سبب رونما ہو گیا ہو، بلکہ اس کے کچھ اسباب تھے اور وہ بتدریج امت کو دھکیلتے ہوئے خلافت سے ملوکیت کی طرف لے گئے ۔ اس المناک تغیر کے دوران میں جتنے مراحل پیش آئے ، ان میں سے ہر مرحلے پر اس کو روکنے کے امکانات موجود تھے ،مگر امت کی ، اور در حقیقت پوری نوع انسانی کی یہ بد قسمتی تھی کہ تغیر کے اسباب بہت زیادہ طاقت ور ثابت ہوئے ،حتیٰ کہ ان امکانات میں سے کسی ایک کا فائدہ بھی نہ اٹھایا جا سکا۔
اب سوال یہ ہے کہ خلافت اور ملوکیت کے درمیان اصل فرق کیا تھا ، ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کے آجانے سے حقیقت میں کیا تغیر واقع ہؤا،اور اس کے کیا اثرات مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر مرتب ہوئے ۔
-1تقررِ خلیفہ کے دستور میں تبدیلی
اوّلین بنیادی تبدیلی اُس دستوری قاعدے میں ہوئی جس کے مطابق کسی شخص کو امت کا سر براہ بنایا جاتا تھا۔
خلافتِ راشدہ میں وہ قاعدہ یہ تھا کہ کوئی شخص خود خلافت حاصل کرنے کے لیے نہ اٹھے اور اپنی سعی و تدبیر سے برسر اقتدار نہ آئے ، بلکہ لوگ جس کو امت کی سربراہی کے لیے موزوں سمجھیں ، اپنے مشورے سے اقتدار اس کے سپرد کردیں ۔ بیعت اقتدار کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا سبب ہو ۔ بیعت حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کسی کوشش یا سازش کا قطعاً کوئی دخل نہ ہو۔ لوگ بیعت کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں پوری طرح آزاد ہوں اور جب تک کسی کو لوگوں کی آزادانہ رضا مندی سے بیعت حاصل نہ ہو جائے وہ بر سر اقتدار نہ آئے ۔
خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدے کے مطابق بر سر اقتدار آیا تھا ۔ ان میں سے کسی نے بھی خود خلافت لینے کی برائے نام بھی کوشش نہ کی تھی ، بلکہ خلافت ان کو دی گئی تب انہوںنے اس کو لیا ۔ سید نا علی ؓ کے متعلق اگر کوئی شخص زیادہ سے زیادہ کچھ کہہ سکتا ہے تووہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو خلافت کے لیے احق سمجھتے تھے ۔لیکن کسی قابل اعتبار تاریخی روایت سے ان کے متعلق یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ انہوںنے خلافت حاصل کرنے کے لیے کبھی کسی درجے میں کوئی ادنیٰ سی کوشش بھی کی ہو۔لہٰذاان کا محض اپنے آپ کو احق سمجھنا اس قاعدے کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ در حقیقت چاروں خلفاء اس معاملے میں بالکل یکساں تھے کہ ان کی خلافت دی ہوئی خلافت تھی نہ کہ لی ہوئی خلافت۔
ملوکیت کا آغاز اسی قاعدے کی تبدیلی سے ہؤا ۔ حضرت معاویہ ؓ کی خلافت اس نوعیت کی خلافت نہ تھی کہ مسلمانوں کے بنانے سے وہ خلیفہ بنے ہوں اور اگر مسلمان ایسا کرنے پر راضی نہ ہوتے تووہ نہ بنتے ۔ وہ بہر حال خلیفہ ہونا چاہتے تھے ، انہوں نے لڑ کر خلافت حاصل کی ، مسلمانوں کے راضی ہونے پر ان کی خلافت کا انحصار نہ تھا ۔ لوگوں نے ان کو خلیفہ نہیں بنایا ، وہ خود اپنے زور سے خلیفہ بنے ، اور جب وہ خلیفہ بن گئے تو لوگوں کے لیے بیعت کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا ۔ اُس وقت اگر اُن سے بیعت نہ کی جاتی تو اس کا نتیجہ یہ نہ ہوتا کہ وہ اپنے حاصل کردہ منصب سے ہٹ جاتے ،بلکہ اس کے معنی خوں ریزی و بد نظمی کےتھے جسے امن اور نظم پر ترجیح نہیںدی جا سکتی تھی ۔ اسی لیے امام حسن ؓ کی دست برداری (ربیع الاول ۴۱ھ) کے بعد تمام صاحبہ و تابعین اورصلحائے امت نے ان کی بیعت پر اتفاق کیا اور اس کو ’’ عام الجماعت ‘‘ اس بنا پر قرار دیا کہ کم از کم باہمی خانہ جنگی تو ختم ہوئی ۔
حضرت معاویہؓ خود بھی اس پوزیشن کو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔ اپنے زمانہ ٔ خلافت کے آغاز میں انہوںنے مدینہ طیبہ میں تقریر کرتے ہوئے خود فرمایا:
’’ بخدا میں تمہاری حکومت کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس بات سے نا واقف نہ تھا کہ تم میرے بر سر اقدار آنے سے خوش نہیں ہو اور اسے پسند نہیں کرتے ۔ اس معاملے میں جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے میں خوب جانتا ہوں ، مگر میں نے اپنی اس تلوار کے زور سے تم کو مغلوب کر کے اسے لیا ہے ۔ اب اگر تم یہ دیکھو کہ میں تمھارا حق پورا پورا ادا نہیں کر رہا ہوں تو تھوڑے پر مجھ سے راضی رہو‘‘۔
اس طرح جس تغیر کی ابتدا ہوئی تھی ، یزید کی ولی عہدی کے بعد سے وہ ایسا مستحکم ہؤا کہ موجودہ صدی میں مصطفیٰ کمال کے الغائے خلافت تک ایک دن کے لیے بھی اس میں تزلزل واقع نہ ہؤا۔ اس سے جبری بیعت اور خاندانوں کی موروثی بادشاہت کا ایک مستقبل طریقہ چل پڑا ۔ اس کے بعد سے آج تک مسلمانوں کو انتخابی خلافت کی طرف پلٹنے کا کوئی موقع نصیب نہ ہو سکا ۔ لوگ مسلمانوں کے آزادانہ اور کھلے مشورے سے نہیں بلکہ طاقت سے بر سرِ اقتدار آتے رہے ۔ بیعت سے اقتدار حاصل ہونے کے بجائے اقتدار سے بیعت حاصل ہونے لگی ۔ بیعت کرنے یا نہ کرنے میں مسلمان آزاد نہ رہے ۔ بیعت کا حاصل ہونا اقتدار پر قابض ہونے اور قابض رہنے کے لیے شرط نہ رہا ۔ لوگوں کی اول تو یہ مجال نہ تھی کہ جس کے ہاتھ میں اقتدار آیا ہو ٔا تھا اس کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے ۔ لیکن اگر وہ بیعت نہ بھی کرتے تو اس کا نتیجہ ہر گز یہ نہ ہونا تھا کہ جس کے ہاتھ میں اقتدار آگیا ہو وہ ان کےبیعت نہ کرنے کی وجہ سے ہٹ جائے۔
یہاں یہ بحث بالکل غیر متعلق ہے کہ مسلمانوں کی آزادانہ مشاورت کے بغیر جو خلافت یا امارت بزور قائم ہو گئی ہو وہ آئینی طور پر منعقد ہو جاتی ہے یا نہیں ۔ اصل سوال منعقد ہونے یا نہ ہونے کا نہیں ، بلکہ یہ ہے کہ اسلام میں نصب خلافت کا صحیح طریقہ آیا وہ ہے جس سے خلفائے راشدین خلیفہ ہوئے ، یا وہ جس سے حضرت معاویہؓ اور ان کے بعد کے لوگ خلیفہ بنے ؟ ایک طریقہ کسی کام کے کرنے کا وہ ہے جس کی اسلام نے ہم کو ہدایت دی ہے ۔ دوسرا طریقہ اسی کام کے کرنے کا وہ ہے جس کی اسلام نے ہم کو ہدایت دی ہے ۔ دوسرا طریقہ اسی کام کے کرنے کا وہ ہے جس کے مطابق اگر وہ کام کر ڈالا جائے تو اسلام اسے برداشت کرلینے کی ہمیں صرف اس لیے تلقین کرتا ہے کہ اسے مٹانے اور بدلنے کی کوشش کہیں اس سے بھی زیادہ بد تر حالات پیدا نہ کردے ۔ بڑا ظلم کرے گا وہ شخص جو ان دونوں کو ایک درجے میں رکھ دے اور دعویٰ کرے کہ اسلام میں یہ دونوں طریقے یکساں جائز ہیں ۔ ایک محض جائز نہیں بلکہ عین مطلوب ہے ۔ دوسرا اگر جائز ہے تو قابل برداشت ہونے کی حیثیت سے ہے نہ کہ پسندیدہ اور مطلوب ہونے کی حیثیت سے ۔
2۔خلفا کے طرزِ زندگی میں تبدیلی
دوسری نمایاں تبدیلی یہ تھی کہ وہ دورِ ملوکیت کے آغاز ہی سے بادشاہ قسم کے خلفا نے قیصر و کسریٰ کا ساطرز زندگی اختیار کرلیا اوراس طریقے کو چھوڑ دیا جس پر نبی ؐ اور چاروں خلفائے راشدین زندگی بسر کرتے تھے۔ انھوں نے شاہی محلات میں رہنا شروع کردیا ۔ شاہی حرس (Body guard)ان کے محلوں کی حفاظت کرنے اور ان کے جلو میں چلنے لگے ۔ حاجب و دربان ان کے اور عوام کے درمیان حائل ہو گئے ۔ رعیت کا براہ راست ان تک پہنچنا اوران کا خود رعیت کے درمیان رہنا سہنا او چلنا پھرنا بند ہوگیا ۔ اپنی رعیت کے حالات معلوم کرنے کے لیے وہ اپنے ماتحت کار پردازوں کے محتاج ہو گئے جن کے ذریعے سے کبھی کسی حکومت کو بھی صحیح صورت احوال کا علم نہیں ہو سکا ہے اور رعیت کے لیے بھی یہ ممکن نہ رہا کہ بلا توسط ان تک اپنی حاجات اورشکایت لے کر جا سکیں ۔ یہ طرز حکومت اس طرز کے بالکل برعکس تھا جس پر خلفائے راشدین حکومت کرتے تھے ۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے جہاں ہر شخص ان سے آزادی کے ساتھ مل سکتا تھا ۔وہ بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہر شخص ان کا دامن پکڑ سکتا تھا ۔ وہ پانچوں وقت عوام کے ساتھ انہی کی صفوں میں نمازیں پڑھتے تھے اور جمعہ کے خطبوں میں ذکر اللہ اور تعلیم دین کے ساتھ ساتھ اپنی حکومت کی پالیسی سے بھی عوام کو آگاہ کرتے تھے اور اپنی ذات اور اپنی حکومت کے خلاف عوام کے ہراعتراض کی جواب دہی بھی کرتے تھے ۔ اس طریقے کو حضرت علی ؓ نے کوفے میں اپنی جان کا خطرہ مول لے کر بھی آخر وقت تک نباہا۔ لیکن ملوکیت کا دور شروع ہوتے ہی اس نمونے کو چھوڑ کر روم و ایران کے بادشاہوں کا نمونہ اختیار کرلیا گیا ۔ اس تبدیلی کی ابتدا حضرت معاویہؓ کے زمانے میں ہو چکی تھی ۔ بعد میں یہ برابر بڑھتی ہی چلی گئی ۔
3۔بیت المال کی حیثیت میں تبدیلی
تیسری اہم تبدیلی بیت المال کے متعلق خلفا کے طرز عمل میں رونما ہوئی۔
بیت المال کا اسلامی تصور یہ تھا کہ وہ خلیفہ اور اس کی حکومت کے پاس خدا اور خلق کی امانت ہے جس میں کسی کو من مانے طریقے پر تصرف کرنے کا حق نہیں ہے ۔ خلیفہ نہ اس کی اندر قانون کے خلاف کوئی چیز داخل کر سکتا ہے ، نہ قانون کے خلاف اس میں سے کچھ خرچ کر سکتا ہے ۔ وہ ایک ایک پائی کی آمد اورخرچ کے لیے جواب دہ ہے ۔ اور اپنی ذات کے لیے وہ صرف اتنی تنخواہ لینے کا حق دار ہے جتنی ایک اوسط درجے کی زندگی بسر کرنے کے لیے کافی ہے ۔
دورِ ملوکیت میں بیت المال کا یہ تصور اس تصور سے بدل گیا کہ خزانہ بادشاہ اور شاہی خاندان کی مِلک ہے ۔ اس دور میں بادشاہوں اورشاہزادوں کی ، بلکہ ان کے گورنروں اور سپہ سالاروں تک کی زندگی جس شان سے بسر ہوتی تھی وہ بیت المال میں بے جا تصرف کے بغیر کسی طرح ممکن نہ تھی ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے زمانے میں جب شہزادوں اور امراءکی ناجائز املاک کا محاسبہ کیا، اس وقت انہوں نے خود اپنی 40 ہزار دینار سالانہ کی جائیداد جو انھیں اپے والد عبد العزیز بن مروان سے میراث میںملی تھی ، بیت المال کو واپس کی ۔ اس جائیداد میں فدک بھی شامل تھا جو نبی ؐ کے بعد تمام خلفاء کے زمانے میں بیت المال کی مِلک رہا تھا اور حضرت ابو بکر نے اسے حضور کی میراث میں آپ کی صاحبزادی تک کو دینے سے انکار کر دیا تھا ، مگر مروان بن الحکم نے اپنے زمانہ خلافت میں اسے اپنی ملک اوراپنی اولاد کی میراث بنا لیا ۔
یہ تو تھا بیت المال سے خرچ کے معاملے میں ان حکمرانوں کا طرز عمل۔ اب بیت المال کی آمدنی کو دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ اس کے بارے میں بھی حلال و حرام کی تمیزان کے ہاں اٹھتی چلی گئی ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک فرمان میں ان ناجائز ٹیکسوں کی ایک فہرست دی ہے جو ان کے پیش رو شاہان بنی امیہ کے زمانے میں رعایا سے وصول کیے جاتے تھے ۔ اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے بیت المال کی آمدنی کے بارے میںشرعیت کے قواعد کو کس بُری طرح توڑنا شروع کر دیا تھا ۔
اس سلسلے میں سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ جو غیر مسلم اسلام قبول کر لیتے تھ ان پر بھی اس بہانے جزیہ لگا دیا جاتاتھا کہ یہ محض جزیے سے بچنے کے لیے ایمان لا رہے ہیں ،حالانکہ اصل وجہ اس فعل کی یہ تھی کہ اشاعت اسلام سے ان کو بیت المال کی آمدنی کم ہو جانے کا خطرہ تھا ۔ ابن اثیر کی روایت ہے کہ حجاج بن یوسف( عراق کے وائسرائے ) کو اس کے عاملوں نے لکھا کہ ذمی کثرت سے مسلمان ہو ہو کر بصرہ و کوفہ میں آباد ہو رہے ہیں اور اس سے جزیہ و خراج کی آمدنی گھٹ رہی ہے ۔ اس پر حجاج نے فرمان جاری کیا کہ ان لوگوں کو شہروں سے نکالاجائے اور ان پر حسب سابق جزیہ لگایا جائے ۔ اس حکم کی تعمیل میں جب یہ نو مسلم بصرہ و کوفہ سے نکالے جا رہے تھے تو وہ یا محمد اہ، یا محمد اہ پکار پکار کر روتے جاتے تھے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کہاں جا کر اس ظلم پر فریاد کریں۔ اس صورت حال پر بصرہ و کوفہ کے علما و فقہاء بھی ان کے ساتھ روتے جاتے تھے ۔ حضرت عمر ابن عبد العزیز جب خلیفہ ہوئے تو خراسان سے ایک وفد نے آکر ان سے شکایت کی کہ ہزار ہا آدمی جو مسلمان ہوئے تھے ، سب پر جزیہ لگا دیا گیا ہے ، اور گورنر کے تعصب کا یہ حال ہے کہ وہ علانیہ کہتاہے: اپنی قوم کا ایک آدمی مجھےدوسرے سو آدمیوں سے زیادہ عزیزہے‘‘۔ اسی بنیاد پر حضرتِ موصوف نے الجراح بن عبد اللہ الحکمی کو خراسان کی گورنری سے معزول کیا اور اپنے فرمان میں لکھا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو داعی بنا کر بھیجا تھا نہ کہ تحصیل دار ‘‘۔
4۔آزادیِ اظہارِ رائے کا خاتمہ
اس دور کے تغیرات میں سے ایک اور اہم تغیر یہ تھا کہ مسلمانوں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آزادی سلب کرلی گئی ۔ حالانکہ اسلام نے اسے مسلمانوں کا صرف حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا تھا ، اور اسلامی معاشرہ و ریاست کا صحیح راستے پر چلنا اس پر منحصر تھا کہ قوم کا ضمیر زندہ اور اس کے افراد کی زبانیں آزاد ہوں ، ہر غلط کام پر وہ بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات بر ملا کہہ سکیں ۔ خلافت راشدہ میں لوگوں کی یہ آزادی پوری طرح محفوظ تھی ۔خلفائے راشدین اس کی نہ صرف اجازت دیتے تھے بلکہ اس پر لوگوں کی ہمت افزائی کرتے تھے ۔ ان کے زمانے میں حق بات کہنے والے ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں ، تعریف و تحسین سے نوازے جاتے تھے ، اور تنقید کرنے والوں کو دبایا نہیں جاتا تھا بلکہ ان کے معقول جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن دور ملوکیت میں ضمیروں پر قفل چڑھا دیے گئے اور زبانیں بند کر دی گئیں ۔ اب قاعدہ یہ ہو گیا کہ منہ کھولو تو تعریف کے لیے کھولو ، ورنہ چپ رہو ، اور اگر تمہارا ضمیر ایسا ہی زور دار ہے کہ تم حق گوئی سے باز نہیں رہ سکتے تو قید اور قتل اور کوڑوں کی مار کے لیے تیا ہو جائو ۔ چنانچہ جو لوگ بھی اس دور میں حق بولنے او غلط کاریوں پر ٹوکنے سے باز نہ آئے ان کو بد ترین سزائیں دی گئیں تاکہ پوری قوم دہشت زدہ ہو جائے ۔
اس نئی پالیسی کی ابتدا حضرت معاویہؓ کے زمانے میں حضرت حجر بن عدی کے قتل (۵۱ھ) سے ہوئی جو ایک زاہد و عابد صحابی اور صلحائے امت میں ایک اونچے مرتبے کے شخص تھے ۔حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں جب منبروں پر خطبوں میں علانیہ حضرت علیؓ پر لعنت اور سب و شتم کا سلسلہ شروع ہؤا تو عام مسلمانوں کے دل ہر جگہ ہی اس سے زخمی ہو رہے تھے، مگر لوگ خون کا گھونٹ پی کر خاموش ہو جاتے تھے ۔ کوفہ میں حجر بن عدی سے صبر نہ ہو سکا اور انہوں نے جواب میں حضرت علی ؓ کی تعریف اور حضرت معاویہ کی مذمت شروع کردی ۔ حضرت مغیرہؓ جب تک کوفہ کے گورنر رہے ، وہ ان کے ساتھ رعایت برتتے رہے۔ ان کے بعد جب زیادکی گورنری میں بصرہ کے ساتھ کوفہ بھی شامل ہوگیا تواس کے اور ان کے درمیان کشمکش برپا ہو گئی ۔ وہ خطبے میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا اور یہ اٹھ کر اس کا جواب دینے لگتے تھے ۔ اسی دوران میں ایک مرتبہ انہوں نے نماز جمعہ میں تاخیر پر بھی ان کو ٹوکا ۔ آخر کار اس نے انہیں اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف بہت سے لوگوں کی شہادتیں اس فرد جرم پر لیں کہ ’’ انھوں نے ایک جتھا بنا لیاہے، خلیفہ کو علانیہ گالیاں دیتے ہیں ، امیر المومنین کے خلاف لڑنے کی دعوت دیتے ہیں ، ان کا دعویٰ یہ ہے کہ خلافت آل ابی طالب کے سوا کسی کے لیے درست نہیں ہے ، انہوں نے شہر میں فساد برپا کیا اور امیر المومنین کے عامل کو نکال باہر کیا ، یہ ابو تر اب (حضرت علیؓ) کی حمایت کرتے ہیں ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کے مخالفین سے اظہار برات کرتے ہیں ‘‘۔ ان گواہیوں میں سے ایک گواہی قاضی شریح کی بھی ثبت کی گئی ، مگر انہوں نے ایک الگ خط میں حضرت معاویہ ؓ کو لکھ بھیجا کہ ’’ میں نے سنا ہے آپ کے پاس حجر بن عدی کے خلاف جو شہادتیں بھیجی گئی ہیں ان میں ایک میری شہادت بھی ہے ۔ میری اصل شہادت حجر کے متعلق یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں ، دائما حج و عمرہ کرتے رہتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے اور بدی سے روکتے ہیں ۔ ان کا خون اور مال حرام ہے ۔ آپ چاہیں تو انہیں قتل کر یں ورنہ معاف کر دیں ‘‘۔
اس طرح یہ ملزم حضرت معاویہؓ کے پاس بھیجے گئے اور انہوں نے ان کے قتل کا حکم دے دیا ۔ قتل سے پہلے جلادوں نے ان کے سامنے جو بات پیش کی وہ یہ تھی کہ ’ ’ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم علی ؓ سے برأت کا اظہار کرو اور ن پر لعنت بھیجو تمہیں چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے ‘‘۔ ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، اور حجر نے کہا :’’ میں زبان سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو ناراض کرے ‘‘۔آخر کار وہ اور ان کے سات ساتھی قتل کردیے گئے ۔ ان میں سے ایک صاحب عبد الرحمٰن بن حسان کو حضرت معاویہ ؓ نے زیاد کے پاس واپس بھیج دیا اوراس کو لکھا کہ انہیں بد ترین طریقے سے قتل کرو۔ چنانچہ اس نے انہیں زندہ دفن کرادیا۔
اس واقعے نے امت کے تمام صلحا کا دل دہلا دیا ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کو یہ خبر سن کر سخت رنج ہؤا۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت معاویہؓ کو اس فعل سے باز رکھنے کے لیے پہلے ہی خط لکھا تھا ۔ بعد میں جب ایک مرتبہ حضرت معاویہ ؓا ن سے ملنے آئے تو انہوں نے فرمایا ’’ اے معاویہ!تمہیں حجر کوقتل کرتے ہوئےخدا کا ذرا خوف نہ ہؤا‘‘۔ حضرت معاویہؓ کے گورنر خراسان ربیع بن زیاد الحارثی نے جب یہ خبرسنی توپکاراٹھے کہ ’’ خدا یا ! اگرتیرے علم میںمیرے اندرکچھ خیرباقی ہے تومجھے دنیا سے اٹھا لے ‘‘۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں :’’ حضرت معاویہؓ کے چار افعال ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کارارتکاب بھی کرے تو وہ اس کے مہلک ہو۔ ایک ان کا اس امت پرتلوارسونت لینا اورمشورے کے بغیرحکومت پرقبضہ کرلینا درآں حالیکہ امت میں بقایائے صحابہ موجود تھے ۔دوسرے، ان کا اپنے بیٹے کو جانشین بناناحالانکہ وہ شرابی اورنشہ باز تھا ،رشیم پہنتا اورطنبورے بجاتا تھا۔ تیسرے، ان کا زیادد کواپنے خاندان میں شامل کرنا ، حالانکہ نبی ؐکا صاف حکم موجود تھا کہ اولاد اس کی ہےجس کے بسترپر وہ پیدا ہو، اورزانی کے لیے کنکرپتھرہیں ۔ چوتھے ان کاحجراوران کے ساتھیوں کوقتل کردینا ‘‘۔
اس کے بعد لوگوں کی آواز کوجبروظلم سےدبانے کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا ۔مروان بن الحکم نے اپنی گورنری مدینہ کے زمانے میں حضرت مسوربن مخرمہ کو اس قصورمیں لات مار دی کہ انہوں نے اس کی ایک بات پریہ کہہ دیا تھا کہ’’ آپ نے یہ بُری بات کہی ہے۔‘‘ حجاج بن یوسف کو ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے خطبہ لمبا کرنے اورنمازجمعہ میں حد سے زیادہ تاخیرکرنے پر ٹوکا تواس نے کہا :’’ میرا ارادہ ہے کہ تمہاری یہ دونوں آنکھیں جس سر میں ہیں اس پرضرب لگائوں ‘‘۔ عبد الملک بن مروان ۷۵ ھ میں جب مدینہ گیا تومنبر رسول ؐ پرکھڑے ہو کر اس نے اعلان کیا کہ:
’’ میںاس امت کے امراض کا علاج تلوار کے سوا کسی اور چیز سے نہ کروں گا ….اب اگر کسی نے مجھے اتق اللہ کہا تومیں اس کی گردن ماردوں گا ‘‘۔
ولید بن عبد الملک نے ایک دفعہ خطبہ جمعہ کواتنا طول دیا کہ عصر کا وقت بھی گزرنےلگا ۔ ایک شخص نے اٹھ کرکہا :’’ امیرالمومنین ! وقت آپ کا انتظارنہ کرے گا ، اورنماز میں اتنی تاخیرکردینے پرآپ خدا کے سامنے کوئی عذر پیش نہ کرسکیں گے ‘‘۔ ولید نے جواب دیا :’’ اے شخص تو نے سچ کہا ، مگرایسے راست گفتارآدمی کی جگہ وہ نہیں ہے جہاں تو کھڑا ہے‘‘۔ چنانچہ اسی وقت شاہی باڈی گارڈ نے اسے قتل کر کے جنت پہنچانے کا انتظام کردیا ۔
یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کوپست ہمت اورمصلحت پرست بناتی چلی گئی ۔خطرہ مول لے کرسچی بات کہنے والے ان کے اندرکم ہوتے چلے گئے ۔خوشامد اورضمیرفروشی کی قیمت مارکیٹ میں چڑھتی اورحق پرستی و راست بازی کی قیمت گرتی چلی گئی ۔ اعلیٰ قابلیت رکھنے والے ،ایمان داراوربا ضمیرلوگ حکومت سےبے تعلق ہوگئے ،اورعوام کا حال یہ ہو گیا کہ انہیں ملک اوراس کے معاملات سے کوئی دلچسپی باقی نہ رہی ۔حکومتیں آتی اورجاتی رہیں ،مگرلوگ بس ان کی آمد ورفت کے تماشائی بن کر رہ گئے ۔ عام لوگوں میں اس پالیسی نے جس سیرت وکردارکونشوونما دینا شروع کیا اس کا ایک نمونہ وہ واقعہ ہے جوحضرت علی بن حسین ( امام زین العابدین) کے ساتھ پیش آیا تھا ۔وہ بیان فرماتے ہیں کہ سانحہ کربلا کے بعد ایک شخص چھپا کرمجھے اپنے گھر لے گیا اورمیری خوب خاطرمدارات کی ۔اس کا حال یہ تھا کہ ہروقت مجھے دیکھ دیکھ کرروتا تھا اورمیں اپنی جگہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے لیے اگرکسی شخص کے اندر وفا ہے تو وہ یہ شخص ہے ۔اتنے میں عبیداللہ بن زیاد کی یہ منادی سنی گئی کہ جوکوئی علی بن حسین کو ہمارے پاس پکڑ کرلائے گا اسے تین سودرہم انعام دیا جائے گا ۔یہ اعلان سنتے ہی ووہ شخص میرے پاس آیا ۔میرے ہاتھ میری گردن سے باندھتا جاتا تھا اورروتا جاتا تھا۔ اسی حالت میں وہ مجھے ابن زیاد کے پاس لے گیا اوراس سے انعام حاصل کرلیا۔
5۔عدلیہ کی آزادی کاخاتمہ
قضا(ـjudiciary)کی انتظامیہ سے آزادی کا اصول بھی اسلامی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے تھا ۔ خلافت راشدہ میں قاضیوں کا تقررر اگرچہ خلفا ہی کرتے تھے مگرجب کوئی شخص قاضی مقرر ہو جاتا تھا تواس پرخدا کے خوف اوراس کے اپنے علم وضمیرکے سوا کسی کا دبائونہ رہتا تھا۔کوئی بڑے سےبڑا شخص بھی عدالت کے کام میں دخل دینے کی جرأت نہ کرسکتا تھا ۔حتیٰ کہ قاضی خود خلیفہ کے خلاف فیصلہ دے سکتے تھے اوردیتے تھے ۔مگر جب ملوکیت آئی توبالآخر یہ اصول بھی ٹوٹنا شروع ہوگیا ۔جن معاملات سے ان بادشاہ قسم کے خلفاء کوسیاسی اسباب یا ذاتی مفاد کی بنا پردلچسپی ہوتی تھی ان میں انصاف کرنے کے لیے عدالتیں آزاد نہ رہیں ، حتیٰ کہ شاہزادوں ، گورنروں ،قائدین اورشاہی محلات کے متوسلین تک کے خلاف مقدمات میں عدل کرنا مشکل ہوگیا ۔یہ ایک بڑا سبب تھا اس بات کا کہ اس زمانے میں صالح علما بالعموم قضا کا منصب قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے ، اورجوعالم ان حکمرانوں کی طرف سے عدالت کی کرسی پربیٹھنے پرراضی ہو جاتا تھا ، اسے لوگ شک کی نگاہ سےدیکھنے لگتے تھے ۔ عدلیہ پرانتظامیہ کی دست درازی یہاں تک بڑھی کہ گورنروں کو قاضیوں کے غزل و نصب کا اختیاردے دیا گیا ۔حالانکہ خلفائے راشدین کے زمانے میں یہ اختیارات خلیفہ کے سوا کسی کوحاصل نہ تھے۔
6۔شوروی حکومت کا خاتمہ
اسلامی ریاست کے بنیادی قواعد میں سے ایک اہم قاعدہ یہ تھا کہ حکومت مشورے سے کی جائےاور مشورہ ان لوگوں سے لیا جائے جن کے علم ، تقویٰ، دیانت اوراصابت رائے پرامت کواعتماد ہو۔خلفائے راشدین کے زمانے میں قوم کے بہترین لوگ ان کے مشیرتھے جودین کا علم رکھنے والے اوراپنے علم وضمیرکے مطابق پوری آزادی کے ساتھ بے لاگ رائے دینے والے ہوتے تھے ۔پوری قوم کوان پریہ اعتماد تھا کہ وہ حکومت کوکبھی غلط راستےپر نہ جانے دیں گے ۔یہی لوگ امت کے اہل الحل والعقدتسلیم کیے جاتے تھے ۔ مگرجب ملوکیت کادور آیا تویہ قاعدہ بھی بدل گیا ۔شوریٰ کی جگہ شخصی استبداد نے لے لی ۔ حق شناس اورحق گو اہل علم سے بادشاہ، اوربادشاہوںسے یہ لوگ دوربھاگنے لگے ۔ اب بادشاہوں کےمشیراگر تھے توان کے گورنر، قائدین ، شاہی خاندان کے امرا اور درباری لوگ تھے ، نہ کہ وہ اہل الرائے اصحاب جن کی قابلیت اوردیانت وامانت پر امت کواعتماد تھا۔
اس کا سب سےبڑا نقصان یہ ہؤاکہ ایک بڑھتے ہوئے تمدن میں پیش آنے والے قانونی مسائل میں فیصلہ دینے والا کوئی ایسا با اختیار ادارہ باقی نہ رہا جس کی طرف معاملات میں بر وقت رجوع کیا جا سکتا ہو، جس کے اجماعی یا جمہوری فیصلے قانون اسلامی کے جز بن جائیں ، اورپھرملک کی تمام عدالتیں انہی کے مطابق معاملات کے تصفیے کرنے لگیں۔ جہاں تک حکومت کے نظم و نسق، اہم داخلی و خارجی مسائل اور عام پالیسی کے معاملات کا تعلق تھا ، یہ شاہی کونسل ان کے فیصلے توبرے یا بھلے کرسکتی تھی ۔لیکن قانونی مسائل کے فیصلے کرنا ان کے بس کا کام نہ تھا ۔ اس کی جرأت اگریہ لوگ کرتے بھی تو امت کا اجتماعی ضمیر ان کے فیصلوں کوہضم کرنے کے لیے تیار نہ تھا ۔ وہ خود بھی اپنی حیثیت کوجانتے تھے،اورامت بھی ان کو فاسق و فاجرسمجھتی تھی ۔ ان کاکوئی دینی و اخلاقی وقارنہ تھا کہ ان کے فیصلے اسلامی قانون میں شامل ہو سکتے ۔ علما اورفقہا نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، مگران کی یہ کوشش انفرادی نوعیت کی تھی ۔ ہر عالم اپنی درس و افتباء کی مسند سے قانونی احکام بیان کرتا تھا ، اور ہر قاضی اپنے علم و فہم اوراپنے اجتہاد کے مطابق،یا کسی دوسرے عالم کے فتوے کی بنا پر، جس چیز کوبھی قانون سمجھتا تھا اس کے مطابق فیصلے کردیتا تھا ۔اس سے قانون کے تسلسل وارتقا میں تو انقطاع واقع نہ ہؤا لیکن اسلامی مملکت میں ایک قانونی انار کی پیدا ہوگئی ۔پوری ایک صدی تک امت کے پاس کوئی ایسا ضابطہ نہ تھا جسے سند کی حیثیت حاصل ہوتی اورمملکت کی تمام عدالتیں اس کی پیروی کر کے جزئیات مسائل میں یکساں فیصلےکرسکتیں۔
7۔نسلی اورقومی عصبیتوں کاظہور
ایک اورعظیم تغیر جو اس دورملوکیت میں رونما ہؤا وہ یہ تھا کہ اس میں قوم ، نسل ، وطن اورقبیلے کی وہ تمام جاہلی عصبیتیں پھر سے ابھرآئیں جنہیں اسلام نے ختم کرکے خدا کا دین قبول کرنے والے تمام انسانوں کویکساں حقوق کے ساتھ ایک امت بنایا تھا ۔ بنی امیہ کی حکومت ابتدا ہی سے ایک عرب حکومت کارنگ لیے ہوئے تھی جس میں عرب مسلمانوں کے ساتھ غیرعرب نو مسلموں کے مساوی حقوق کا تصورقریب قریب مفقود تھا ۔ اس میں اسلامی احکام کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے نومسلموں پرجزیہ لگایا گیا ، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ اس سے نہ صرف اشاعت اسلام میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی بلکہ عجمیوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اسلامی فتوحات نے در اصل ان کو عربوں کا غلام بنا دیا ہے اوراب وہ اسلام قبول کرکے بھی ان کے برابرنہیں ہوسکتے ۔پھر یہ خرابی اور آگے بڑھی ۔ والی ،قاضی ، حتیٰ کہ امام نماز مقررکرتے ہوئےبھی یہ دیکھا جانے لگا کہ آدمی عرب ہے یاغیر عرب ۔کوفے میں حجاج بن یوسف نے حکم دے رکھا تھا کہ عرب کے سوا کوئی شخص نماز میں امام نہ بنایا جائے ۔ حضرت سعید بن جبیر جب گرفتارہوکرآئے تو حجاج نے ان پراحسان جتایا کہ میں نے تم کوامام نماز بنا یا ،حالانکہ یہاں عرب کے سوا کوئی امامت نہ کرا سکتا تھا ۔ عراق میں نبطیوں کے ہاتھوں پر مہریں لگائی گئیں ۔بصرے سے نومسلم عجمیوں کا وسیع پیمانے پر اخراج کیا گیا ۔ حضرت سعید بن جبیر جیسے بلند مرتبہ عالم کو ، جن کے پائے کے آدمی اس وقت دنیائے اسلام میں دوچار سے زیادہ نہ تھے ۔ جب کوفے کا قاضی مقرر کیا گیا توشہر میں شورمچ گیا کہ عرب کے سوا کوئی شخص قضا کا اہل نہیں ہو سکتا۔آخرکار حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے صاحب زادے ابوبُردہ کوقاضی بنایا گیا اور ان کوحکم دیا گیا کہابن جبیرسے مشورہ لیے بغیرکوئی فیصلہ نہ کریں ۔ حدیہ ہے کہ جنازوں پربھی کسی عجمی کو نماز پڑھانے کے لیے آگے نہ کیا جاتا ، الا یہ کہ عرب لڑکا تک جنازہ پڑھانے کے لیے موجود نہ ہوکسی غیر عرب نومسلم لڑکی سے اگرکوئی شخص شادی کرنا چاہتا تواسے لڑکی کے باپ یا اس کے رشتہ داروں کو پیغام دینے کے بجائے اس عرب کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا جس کے وِلا(patronage)میں وہ عجمی خاندان ہو ۔ لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہونے والے کے لیے عربوں میں ہجین (عیبی) کی اصطلاح رائج ہو گئی تھی ، اوریہ خیال عام ہونے لگا تھا کہ وراثت میں اس کا حصہ عرب بیوی کی اولاد کے برابر نہیں ہو سکتا ۔ حالانکہ شریعت کی رو سے دونوں طرح کی اولاد کے حقوق برابرہیں ۔ ابوالفرج الاصفہانی کی روایت ہے کہ بنی سلیم کے ایک شخص نے ایک عجمی نو مسلم سے اپنی بیٹی بیاہ دی تو محمد بن بشیرالخارجی نے مدینہ جا کر گورنر سے اس کی شکایت کی ، اورگورنر نے فوراً زوجین میں تفریق کرادی ، اس نو مسلم کو کوڑے لگوائےاور اس کا سرداڑھی اورابروئیں منڈوا کراسے ذلیل کیا۔
یہی وہ طرز عمل تھا جس نے عجم میں شعوبیت ( عجمی قوم پرستی ) کوجنم دیا ، اوراسی کی بدولت خراسان میں بنی امیہ کے خلاف عباسیوں کی دعوت کوفروغ نفیب ہؤا۔ عجمیوں میں عربوں کے خلاف جونفرت پیدا ہوچکی تھی ، عباسی داعیوں نے اسے بنی امیہ کے خلاف استعمال کیا ، اورانہوں نے اس امید پر عباسیوں کا ساتھ دیا کہ ہمارے ذریعے سے انقلاب ہوگا توہم عربوںکا زور توڑ سکیں گے۔
بنی امیہ کی یہ پالیسی صرف عرب وعجم کے معاملے ہی تک محدود نہ تھی، بلکہ خود عربوں میں بھی اس نے سخت قبائلی تفرق برپا کردی۔ عدنی اورقحطانی ، یمانی اورمضری ، ازد اورتمیم ، کلب اورقیس کے تمام پرانے جھگڑے اس دورمیں پھر سے تازہ ہو گئے ۔ حکومت خود قبیلوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی تھی اور اس کے عرب گورنر اپنی اپنی ولایتوں میں پورے تعصب کے ساتھ اپنے قبیلے کو نوازتے اوردوسرے قبیلوں کے ساتھ بے انصافیاں کرتے تھے ۔ خراسان میں اسی پالیسی کی وجہ سے یمنی اورمضری قبائل کی کشمکش اس حد تک بڑھی کہ عباسی داعی ابو مسلم خراسانی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑا کر اموی سلطنت کا تختہ الٹ دیا ۔ حافظ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں ابن عساکر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جس زمانے میں عباسی فوجیں دمشق پر چڑھی چلی آ رہی تھیں اس وقت بنی امیہ کے دارالسلطنت میں یمانی اورمضری کی عصبیت پوری شدت کے ساتھ بھڑکی ہوئی تھی حتیٰ کہ ہرمسجد میں دو محرابیں الگ الگ تھیں ، اورجامع مسجد میں دو منبروں پر دوامام خطبے دیتے اوردو جماعتوں کی الگ الگ امامت کراتے تھے ۔ ان دونوں گروہوں میں سے کوئی کسی کے ساتھ نماز تک پڑھنے کے لیے تیار نہ تھا ۔
8۔قانون کی بالا تری کا خاتمہ
سب سے بڑی مصیبت جو ملوکیت کے دور میں مسلمانوں پر آئی وہ یہ تھی کہ اس دورمیں قانون کی بالا تری کا اصول توڑ دیا گیا ، حالانکہ وہ اسلامی ریاست کے اہم ترین بنیادی اصولوں میں سے تھا ۔
اسلام جس بنیاد پردنیا میں اپنی ریاست قائم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت سب پر بالا ہے۔ حکومت اورحکمراں ، راعی اوررعیت ، بڑے اورچھوٹے ، عوام اور خواص ، سب اس کے تابع ہیں ۔ کوئی اس سے آزاد یا مستثنیٰ نہیں اورکسی کو اس سے ہٹ کر کام کرنے کا حق نہیں ۔ دوست ہو یا دشمن ، حربی کافر ہو یا معاہد،مسلم رعیت ہو یا ذمی ، مسلمان وفا دارہو یا باغی یا برسر جنگ ، غرض جو بھی ہو ، شریعت میں اس سے برتائوکرنے کا ایک طریقہ مقرر ہے جس سے کسی حال میں تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔
خلافت راشدہ اپنے پورے دورمیں اس قاعدے کی سختی کے ساتھ پابند رہی ، حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ اورحضرت علی ؓ نے انتہائی نازک اور سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی حدود شرع سے قدم باہرنہ رکھا ۔ ان راست روخلفا کی حکومت کا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ ایک حدود آشنا حکومت تھی نہ کہ مطلق العنان حکومت۔
مگرجب ملوکیت کادور آیا تو بادشاہوں نے اپنے مفاد ،اپنی سیاسی اغراض اورخصوصاً اپنی حکومت کے قیام و بقا کے معاملے میں شریعت کی عائد کی ہوئی کسی پابندی کو توڑ ڈالنے اور اس کی باندھی ہوئی کسی حد کو پھاند جانے میں تامل نہ کیا ۔ اگرچہ ان کے عہد میں بھی مملکت کا قانون اسلامی ہی رہا ۔ کتاب اللہ و سنت رسولؐ کی آئینی حیثیت کا ان میں سے کسی نے کبھی انکار نہیں کیا ۔ عدالتیں اسی قانون پر فیصلے کرتی تھیں اورعام حالات میں سارے معاملات شرعی احکام ہی کے مطابق انجام دیے جاتے تھے ۔ لیکن ان بادشاہوں کی سیاست دین کی تابع نہ تھی ۔ اس کے تقاضے وہ ہر جائز و ناجائز طریقے سے پورے کرتے تھے اوراس معاملے میں حلال وحرام کی تمیز روا نہ رکھتے تھے۔
٭٭٭