اقبال فراموشی ایک المیہ ۔ پروفیسر ڈاکٹر فارحہ جمشید

کوئی تبصرہ نہیں

1915 سے 2024 تک اقبال کے فلسفہ خودی کا سفر ایک صدی سے اوپر محیط ہے ۔ فکر اقبال کے حوالے سے اس کا احاطہ کرنا چند اقتباس میں ممکن نہیں ، مگر عصر حاضر کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی زندگی متقاضی ہے کہ غوروفکر کریں کہ کیا واقعی اقبال’’ آج ‘‘ سے زیادہ’’ کل‘‘ کے شاعر ہیں ؟
میرے نزدیک اقبال فراموشی ایک المیہ ہے ۔صاحب علم ودانش ہوں یا ارباب اختیار ، عام خاص ہوں یا جوئیدگانِ علم، سب کے ہاں فکر اقبال اکیسویں صدی میں ایک معمہ بنی ہوئی ہے ۔ حیرت تو یہ ہے کہ بعض ذی شعور تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ اقبال کی تخیلاتی باتیں فی زمانہ ممکن نہیں مگر کیا اس ترقی کی خاطر احترام آدمیت اور انسانیت کو کچل دیا جائے ؟ کیا فرقوں میں بٹ جانا ترقی ہے ؟ کیا امت محمدیہ ملت ابراہیمی سے منہ موڑ لے یہ ترقی ہے ؟
اقبال کی سوچ کا مرکز اور محور امت مسلمہ ہے ۔وہ امت کی حالت پر سراپا درد ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ امت محمدی گدائی کے خوف اور غلامانہ ذہنیت کے چنگل سے آزاد ہو ، منفی خیالات سے گریز کرے مثبت انداز فکر اپنائے۔حضرت عثمان علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی ایک حکایت علامہ اقبال نے اپنی مایہ ناز مثنوی اسرار خودی میں بیان کی ہے کہ :
’’ایک نوجوان سید علی ہجویری کی خدمت میں حاضر ہؤا اور دشمنوں کے ظلم کی فریاد کی‘‘ کہنے لگا ’’ میں دشمنوں کی صفوں میں گھرا ہؤا ہوں میری مثال وہی ہے جو پتھروں کے درمیان صراحی کی ہے، اے بلندی میں آسمان کا رتبہ رکھنے والے سید مجھے دشمنوں کے درمیان زندگی بسر کرنے کا طریقہ سیکھنا ہے ‘‘۔
بزرگ ہستی سید علی ہجویری جن کی ذات میں رب کائنات نے جلال و جمال یکجا ودیعت کر رکھے تھے انہوں نے فرمایا :
’’ تو دشمنوں کا خوف اپنے دل سے نکال دے ،تیرے اندر ایک قوت خوابیدہ ہے اسے بیدار کر ، جب پتھر اپنے آپ کو شیشہ سمجھنے لگتا ہے تو وہ شیشہ ہی بن جاتا ہے اور شیشے کی طرح ٹوٹنے لگتا ہے ، جب مسافر اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی جان کی نقدی بھی راہزن کے سپرد کر دیتا ہے ۔ میں سچ کہتا ہوں دشمن بھی تیرا دوست ہے،اس کی وجہ سے تیری زندگی کے بازار میں رونق ہے ، اگر دشمن قوی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھ ،اپنی خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کر ، اپنی خودی کومستحکم کر‘‘۔
گر فنا خواہی ز خود آزاد شو
گر بقا خواہی بخود آباد شو
( اگر تجھے مٹ جانا پسند ہے تو اپنی خودی سے بے تعلق ہو جا اور اگر زندگی چاہتا ہے تو اپنی خودی کی تعمیر کر )
درحقیقت علامہ اقبال نے اس حکایت کے توسط سے ہمیں اس راز سے آگاہ کیا ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ممکنات کا خزانہ عطا کیا ہے مگر وہ خزانہ غفلت کی دبیز تہوں میں دبا ہؤا ہے کیونکہ آدمی نے اپنی ان صلاحیتوں کو فضول اور لایعنی کاموں میں صرف کر رکھا ہے اور مقصد حیات کھو بیٹھا ہے ، لیکن جب مقابلے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو خوابیدہ جوہر انگڑائی لے کر جاگتے ہیں۔ یہ چیلنج ہی تو افراد اور قوموں کو تقویت عطا کرتے ہیں ۔
یاد رہے ! یہ چیلنج اس وقت بنتا ہے جب آپ کا مد مقابل آپ سے زیادہ طاقتور، روشن فکر ، ذہین و فطین اور معاملہ فہم ہو ۔ اگر اسے مغلوب کرنا ہے تو اس کے برابر ہونا ضروری ہے ، اس لیے ہمیں اپنی ذہنی ، فکری ، بدنی اور روحانی صلاحیتوں کو مستعد اور بیدار کرنا لازم ہے، یہ پیغام ان کے فلسفہ خودی میں ہے، فرماتے ہیں:
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پہ عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
اقبال نے جس عہد میں فلسفہ خودی پیش کیا ان کے پیش نظر مسلمانوں کا زوال تھا ، انہوں نے یہ جانچ لیا تھا کہ یہ زوال مسلمانوں کی بے عملی ، تقدیر پرستی ، اسلاف کے راستے سے انحراف اور جدوجہد سے گریز ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں ہم مسلمان کھویا ہؤا مقام حاصل کریں،ذلت اور غلامی کا طوق اتارکر پھینک سکیں، ہم بھی اس عروج کے حامل ہوں جو مغربی اقوام کا مقدر بنا ہؤا ہے تو یہ ضروری ہے کہ اقبال کے فلسفہ خودی سے رجوع کریں اور اس کی عملی اور فکری بنیادوں پر مسلم اقوام کی ذہنی اور جسمانی اٹھان کو ممکن بنائیں ، حرکت اور جدوجہد کو اپنا ایمان بنائیں اور راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے گھبرانے کے بجائے انہیں سر کرنے کا جذبہ پیدا کریں، یعنی اپنے اندر خودی کو مستحکم کریں اور مقام جبر سے نکل کر مرتبہ اختیار حاصل کریں ۔
خودی کا سرّ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہٰ الا اللہ
حیف صد حیف جس قوم کے پاس اقبال جیسا مفکر اسلام ہو وہ دنیاکے سامنے سر جھکائے ۔سوچنا نہیں محسوس کرنا ہے کہ واقعی اقبال فراموشی ایک المیہ ہے ۔
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp