بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہوتی ہے۔وہ اللہ کے دین کی سربلندی کومقصد حیات بنا کر اس پر اپنی ساری ترجیحات قربان کر رکھتی ہیں۔ زہرا خالہ جان بھی کچھ اسی طرح کی ہستی تھیں۔نصب العین کے حصول کے لیے کوشاں،تحریکی زندگی بھی بے مثال اور خانگی زندگی بھی ؎
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
مشک میں جب تک خوشبو رہے گی وہ مشام جاں کو معطر کرتا رہے گا۔ چراغ جب تک روشن رہے گا روشنی پھیلاتا رہے گا۔ مگر جب مشک کی خوشبو قریب والے کو بھی محسوس نہ ہو اور چراغ کی روشنی اپنے ماحول کو بھی روشن نہ کرے تو ہر شخص یہی کہے گا کہ مشک مشک نہیں رہا اور چراغ اپناچراغ پن کھو چکا ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ اگر وہ خیر کی طرف دعوت نہ دے نیکی کا حکم نہ دے بدی کو برداشت کرے اور اس سے روکے نہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں خوف خدا کی آگ سرد پڑ گئی ہے اور ایمان کی روشنی مدھم ہو گئی ہے۔
سید ابو الاعلی مودودی ؒکے ان الفاظ کو اگر ہم زہرہ وحید خالہ جان کی شخصیت کے اندر دیکھیں تو وہ ایک روشن چراغ تھیں، ایک ایسی مومنہ جو ہر وقت خیر کی دعوت دینے اور نیکی کا حکم دینے کی طرف گامزن رہیں ، وہ ایسی خوشبو تھیں کہ ماحول کو معطر کرگئیں، اپنی روشنی سے ارد گرد کے ماحول کو روشن کر گئیں۔ اگر وہ ایک ستارہ تھیں تو کہکشاں ہو گئیں۔رحمان کی بندی تھیں رحمان کی رحمتوں کے سائے میں چلی گئیں۔
طویل راہوں سے آنے والو پتہ یہ تم کس کا پوچھتے ہو
وہ کون ہے جس کو ڈھونڈتے ہو
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا
آج سے کئی سال پہلے جب میں بلوچستان سے مرکزی شوریٰ کی رکن منتخب ہو کر آئی تو اس وقت شوریٰ میں میں نے پہلی مرتبہ زہرا وحید خالہ جان کو سنا ان کو قریب سے دیکھا ان سے گلے ملی اور جب مجھے یہ پتہ چلا کہ وہ اس عمر میں بھی ہفتہ میں چھ کلاسیں لیتی ہیں تو میں بہت حیران ہوئی ۔ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ جن لوگوں نے تحریک کی بنیادوں کو کھڑا کیا تھا وہ لوگ کس قدر محنت کرنے والے تھے ،کس قدر جانفشانی سے کام کرنے والے تھے ، انہوں نے ہمارے لیے بہت مضبوط روایتیں چھوڑی ہیں۔
اور ایسے ہی لوگوں کے لیے سورہ احزاب کی آیت 23 میں ہے ’’ایمان لانے والوں میں سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے، ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے‘‘۔
زہرا خالہ جان نے اپنے پیچھے نہ صرف اپنی اولاد کو صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑا ہے بلکہ تحریک کے بہت سے ہیرے بھی اپنے صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑے ہیں۔ان کی رحلت کے بعد ان کے جنازے میں ہر فرد ان سے محبت کا دم بھرتا نظر آیا،اپنی بھرپور زندگی میں قرآن وسنت کے نظام کو قائم کرنے کی جدو جہد کی داستان سناتا نظر آیا۔واقعی ان پر رشک آرہا تھا کہ کس قدر لوگوں کو ان سے محبت تھی،کس قدر لوگ ان کے قدر دان تھےجو سوچنے پر مجبور کر رہے تھے کہ مقصد زندگی کے راستے پرچلنے والے ایسی ہی محبتوں کے اسیر کر دیتے ہیں ۔
میری جب بھی ان سے ملاقات ہوئی ان کو ہمیشہ دوٹوک بات کرتے، ہمت بڑھانے حوصلہ دینے والی باتیں کر تے دیکھا۔محبت بھرا لب ولہجہ اور پر نور چہرہ، مضبوط ارادوں والی ہستی کے طور پر دیکھا۔اللہ ہم سب کو اپنے بزرگوں کے راست رو قدموں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ،جن سچی روایتوں کو انھوں نے چھوڑا ہے ہمیں ان کا بہترین جانشین بنائے،اور اس نفس مطمئنہ کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے آمین۔ ٭
٭ ٭