اٹھتے ہیں حجاب آخر سوالات کے جوابات پر مبنی حکیمانہ گفتگو سے انتخاب؎۱ – پروفیسراحمد رفیق اختر

کوئی تبصرہ نہیں

دلوں پر مہر کیسے
میرےشیخ علی بن عثمان فرماتے ہیںکہ انسان کے دل پر دوطرح کے حجاب وارد ہوتے ہیں ۔ ایک کو وہ خطرات کہتے ہیں ۔ ایک کو وطنات کہتے ہیں ۔ جب پہلی مرتبہ دل پر کوئی خطرہ وارد ہو ، تو وہ کچھ دیر کے لیے ٹھہرتا ہے اور انسان ندامت سے رجعت کرے ، تو وہ خطرہ دور ہو جاتا ہے ۔ اس سے انسان کا دل ، صاف اورشفاف ہو جاتا ہے ۔ مگر اگر خطرے کی نگہداشت نہ کی جائے تو وہ خطرہ وہاں موجود رہتا ہے ۔ اس کی سنس بڑھتی ہے ۔ حتیٰ کہ وہ خطرہ وطن بن جاتا ہے ۔ جب کوئی خطرہ وطن بن جاتا ہے تو وہ خطرہ حجاب اوررہن بن جاتا ہے ۔ حجاب اور رہن دل کو مستقل گرفت میں لے کر حقیقت شناسی خداوند سے دور کر دیتا ہے ۔ اسی کو اللہ تعالیٰ دلوںپرمہر لگانے کے ذکر کی مثال دیتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ مہر کیسے لگتی ہے ؟ کیا بعض پیدا ہی مہر کے ساتھ ہوتے ہیں یا کہ یہ ایک Degenerating Processہے ۔ ایک ایسا پراسیس جس میںدین فطرت پر پیدا ہؤا بچہ یا ایک انسان اپنی سلامتی صحت کے ساتھ ہوتے ہوئے اس میں گنجائش پیدا کرتا ہے ۔ اس بات میںمجھے سب سے زیادہ خوبصورت بات سیدنا علی بن عثمان ہجویرؒ جو میرے مرشد ہیں اور تصوف میںمیرے استاد ہیں، کی اچھی لگی ۔ فرمایا کہ حجابات دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ حجابات ہیں، جو وقتی اورعارضی ہیںاوردل پر توقف نہیں کرتے ۔ یہی بات اللہ کریم نے قرآن حکیم میں بھی فرمائی کہ ہو سکتا ہے ، تم چھوٹے بڑے گناہوں میںملوث ہو جائو اوربہت ساری ایسی خطائیںکرو، جوبظاہر تمہارے دل کو تاریک کر دیں مگر میںبھی تمہیں یہ گنجائش دے رہا ہوںکہ واجتنبو اکبائر اہ ثم والفو احش اگر تم بڑے گناہوں سے پرہیزکرو، تو کچھ میں تو تم ٹھہرو گے لم کہتے ہیں چھوٹے سے ٹھہرائو کو ۔ خدا کہتا ہے کہ کچھ پر تو تم ٹھہرو گے ہلکاہلکا۔ لیکن ٹھہرنے کے اس عمل کو ہم مہر نہیں کہتے ۔ دل کوجب ایک قطرہ زنگ لگتا ہے۔ جب ایک حجاب دل پر وارد ہوتا ہے ، تو پھر اللہ نے اس کے پراسیس رکھے ہیں ۔ عبادات اورتوبہ رکھی ہے۔ یہ پراسیس بیس سال میں پورا ہو سکتا ہے ، تیس سال میںبھی پورا ہو سکتا ہے ۔ ایک پیدا ہوئے بچے پرمہر آخری عمر میںبھی لگائی جا سکتی ہے ۔
تو مہر کا لفظ ضرورہے ، لیکن یہ اپنے پروسیجر میںبنتی ہے ۔ اس لیے کسی کا یہ کہنا کہ ایک دم سے مہر لگتی ہے ، غلط ہے ۔ بلکہ یہ رفتہ رفتہ وارد ہوتی ہے ۔ قرآن حکیم میں بیشتر آیات کفار مکہ پر اتریں اور ہر بار انہیں وعید عذاب دی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ آج نہیں تو کل تم جہنم میں ضرور جائو گے ۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ ساری مہریں ان پر لگ چکی ہیں۔ اپنے پیغمبر کو جلا وطن کر دیتے ہیں ۔ اس سے جنگیںلڑتے ہیں ۔ کشت و خون ہوتا ہے۔مگر کیاآپ انجام جانتے ہیں ؟لاتثریب علیکم الیوم جب حضورؐ کعبہ میںوارد ہوئے ۔ سندر سالت بلند ہوئی اور جزا و سزا کا فیصلہ کیا گیا ، تو مکہ میں چار پانچ کے سوا کوئی کافرنہ تھا ۔ کیا آپ اسے مہرکہیں گے ؟ خدا تعذیب اورتعظیم کے لیے الفاظ ضرور سخت استعمال کرتا ہے ۔ مگر اس کے پیچھے عنایات،رحمت ومحبت کا ایسا دریا موجزن ہوتا ہے ، جو ان اصطلا حا ت سے متاثر نہیںہوتا۔
مومن ہونے کا ٹائٹل
میں نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان مومن نہیںہو سکتا ۔ میںنے یہ کہا تھا کہ کوئی مسلمان از خود مومن کے ٹائٹل کادعویٰ نہیںکر سکتا اس لیے کہ میں کلمہ پڑھتا ہوں، پانچ ارکان خمسہ کی پابندی کرتاہوں ،مسلمان کہلواتا ہوں تو یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میںمومن ہوںبلکہ مومن ہونا ایک کیفیت ذات اورداخلی ہے ۔ اس کا تعلق ہماری اس ججمنٹ سے نہیںہے ، جو ایک خارجی ججمنٹ ہے۔بلکہ اللہ علام الغیوب ہے ، دلوں کا جاننے والا ہے ۔ ایمان خفی ہے ، ظاہر ہ نہیں ہے ۔ ہاںاگر ایمان ہوگا ، تو اس کی کوئی نہ کوئی قسم جلی میں ضرور ظاہر ہوگی ۔ ایک شخص جلی میں کتنی بھی عبادات کیوںنہ کرے ، وہ پھر بھی ایمان سے خالی ہو سکتا ہے ۔ جیسے کہ حدیث کے مطابق ایک شخص جنگ میںمسلمانوں کے ساتھ لڑا ۔ بظاہر وہ مسلمان تھا ۔ بہت کشت و خون کیا ۔ بڑی شجاعت سے لڑا ۔ مگرحضور گرامی ؐ مرتبت نے فرمایا کہ وہ شخص دوزخی ہے ۔ اسی طرح عبادت ظاہر ہ اندرونی ایمان پردلیل نہیں بنتی ۔صرف اورصرف خداہی اس کی ججمنٹ کرسکتا ہے کہ کون مومن ہے اورکون نہیں ہے ۔ اسی لیے میں اورآپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے ۔
صبر کیا ہے
صبر کی تعریف اللہ کریم نے حضرت موسیٰ ؑ اور خضرؑ کے واقعہ میںدی ہے ۔ جب بار بار حضرت موسیٰ ؑسے پیغمبر ہونے کے باوجود حضرت خضر نے ایک بات کی کہ کیف تصبرو مالم تحط بہ خبرا تجھے صبر کیسے آئے ، تجھے علم جو نہیںہے ۔علم سے صبر آتاہے جب تک آپ کی نگاہ آگے نہیں بڑھتی اورغورو فکر نہیں بڑھتا ۔ کم علمی کے ساتھ طبع انسانی ہمیشہ اعتراض پر جا کے رکتی ہے ۔ جیسے جب کم انفارمیشن اورکم علم کے ساتھ بڑا سوال اٹھایا جائے گا ، تو ہمیشہ اس میں ایک بے صبری او ر عجلت سے فیصلہ کرنے کی خاصیت آجاتی ہے ۔ اسی لیے ہم بہت جلد اپنی انرجی خرچ کرتے ہوئے مختلف مسالک پر مضبوطی سے قائم ہو جاتے ہیں ۔ ایک عبوری دورمیں سے گزررہےہیں ۔ جبکہ تمام زندگی سیکھنے کے لیے ہے ۔
ایک صاحب نے ہمیں کہا کہ میں خدا میںیقین نہیں رکھتا ۔ میں کمیونزم کو مانتا ہوں ۔ ہم لاہور میں تھے ۔میںنے اس سے پوچھا، آپ کتنے عرصے سے اس یقین پر قائم ہیں ؟ میںگزشتہ 25 برس سے اس پر ڈٹا ہؤا ہوں ، اس نے کہا ۔ میںنے کہا ، پچیس سال سے آپ نے کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں کی؟کیا آپ نے ذہن کو بلاک کر رکھا ہے ؟ آپ نے ڈیٹا قید کر دیا ہے اورکوئی چیز اس میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کی؟ اس طرح آپ نے زندگی کے 25برس ضیاع میں گزارے، اگرآپ سیکھ نہیں رہے۔
تمام عرصہ تربیت ، زندگی سے سیکھنے اور عالم حاصل کرنے کا نام ہے ۔ جہاں ہم رک جاتے ہیں ، وہاں ایک بت خانہ اور ایک Occultپیدا ہو جاتاہے اور آپ اس کی پوجا شروع کر دیتے ہیں ۔آپ آگے کی طرف پیش رفت نہیں کر رہے ۔ جس کا علم حرکت کرتا ہے ، وہ محدودیت سے لا محدود یت کو جاتا ہےاور لامحدودیت میں وہ کبھی مرگ پذیر نہیں ہوتا۔
فطرت کے بارے میں
دو ارب سال سے ، جب سے زمین بنی اور حیات انسانی کا پہلا سیل وجود میں آیا ۔ پھر پوری زندگی اس سیل سے پرموٹ ہوتی کئی منازل اور مراحل سے گزرتی ہوئی موجودہ انسان کے تشخص تک پہنچی ، تو اس ساری زندگی میں بیشتر حصہ انسان نے جانورانہ جبلتوں پر گزارا ہے ۔ یہ جانورانہ جبلتیں ہماری ایک بنیادی فطرت کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو سائیکالوجی نے بنیادی جبلت کا نام دیا ہے ۔ اس میں محبت اور نفرت ہے اور سب سے بڑھ کر جیسے قرآن نے کہا، اس میں انسان کی بقا ہے ۔ بقا کے تحت ہی انسان زندہ رہتا ہے ۔ بقا کے تحت ہی وہ دفاع کرتا ہے ۔ اس کی زندگی کی خواہش بڑھتی گھٹتی ہے اور جب بقا کے ذرائع منقطع ہو جائیں ، تو بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ انسان خود کشی کر لیتا ہے ۔ اس لیے فطرت بنیادی طور پر ان بنیادی جبلتوں کوکہتے ہیں ، جن کا ایک پیکٹ ہر انسان اور ہر ذی حیات میں موجود ہے ۔ اس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی تاآنکہ انسان مجنون یا مجذوب ہو جائے یا حواس سے خارج ہو جائے ۔
فطرت کے خلاف کام
ایک مسلمان یامومن کا گناہ ایک ایسا اضطراری فعل ہوتا ہے ، جو حالت اضطرار میں انجام پاتا ہے ۔ ایک مومن سے جو خطا ہے ، وہ اس کی چوائس نہیں ہوتی ۔ مومن انتخاب سے گناہ نہیں کرتا ۔ علی ہجویری سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کا ولی بھی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ؟ فرمایا ، ہاں ستر مرتبہ ۔ اس کی تصدیق اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آقا و رسولؐ نے ایک صحابی کے سوال کرنے پر فرمایا کہ ایک مسلمان اگر ستر مرتبہ بھی گناہ کبیرہ کرے لیکن اخلاص سے اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ اس کو معاف کردے گا ۔ میںحدیث کا مفہوم بیان کر رہا ہوں۔ بعد میں حضرت عمر ؓ کے متعجب ہونے پر حضورؐ نے دوبارہ کہا کہ ہاں عمر ؓ میں نے ایسا کہا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مومن گناہ ہوش و حواس سے اور پوری جذباتی وابستگی کے ساتھ ایک فیصلے کے طور پر کرتا ہے بلکہ اس سے حالت اضطرار میں خطا سرزد ہوتی ہے ۔ پھر وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ یہ غلطی اس کے لیے سبق بن جاتی ہے ۔ اگلی دفعہ وہ اس غلطی کے جال میں نہیں پھنستا جس میں پھنس کر اس نے یہ غلطی پہلی یا دوسری دفعہ کی ہوتی ہے ۔
خیر و شر کے خیال کا آنا، پھر خیر کا انتخاب کرنا ، اس میں بہترین طریقہ وہی ہے ، جو شیخ عبد القادر جیلانی کے مرید سے کسی نے پوچھا کہ شیخ نے وہ مقام کیسے پایا ؟ آپ نے فرمایا ولا حول ولا قوۃ الا باللہ اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہیے کہ وہ خیر اور شر کے انتخاب میں ہمیں توفیق دے کہ ہم خیر کا انتخاب کر سکیں اور شر کا انتخاب نہ کریں۔
انسان کے حیوانی مدارج
اللہ تعالیٰ نے جس حقیقت کی نشاندہی کی ہے ، وہ ایسے ہی ہے کیونکہ نفس واحدہ سے ساری انسانی زندگی شروع ہوئی۔ غالباً انسان ان تمام حیاتیاتی پراسیس ، جن کی سائنس دان نشاندہی کرتے ہیں میںسے گزرا اور مختلف مدارج ، ماہیت کی تبدیلی اور روایتی تبدیلیوں کے بعد ہی اس منزل تک پہنچا ہے ۔ مجھے ایک جرمن جینٹک ماہر کی بات یاد ہے کہ جب وہ جینیاتی تبدیلیوں کی بات کر رہا تھا تو اس نے کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ بڑی مدتوں اور طویل زمانوں سے جو اللہ نے ہمارے لیے جینیاتی تبدیلیاں کر کے ہمیں اعتدال بخشا ہے ہم کہیں اپنی کوششوں سے اسے پھر خراب نہ کردیں۔
سود عصر حاضر میں
میں نے سود کے بارے میں ایک عام آدمی کی مجبوری کااظہار کیا تھا کہ وہ ایک بڑے طبقے کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔ ملکی یا اس سے بھی آگے کائناتی سطح کے سپر سٹرکچر کے خلاف جدوجہد نہیں کر سکتا ۔ جو اس کے فرائض سے باہر ہے وہ اس کا المیہ نہیں ہے ۔ ایک فرد اگر سودی قوانین سے بچنا چاہے تو وہ غالب امکان کے طور پر یاتوپیسے گھر میں رکھے گا یا سرے سے رکھے گا ہی نہیں ۔ اگر آپ سود سے بچنا چاہتے ہوں ، تو سب سے بہترین حل میری طرح کا ہے کہ پیسے بچائو ہی نہیں۔ اگر آپ نے پیسے بچانے ہیں ، تو پھر سپر سٹرکچر آپ کا رستہ نہیں چھوڑے گا۔
یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سودی نظام سے ایک ملک کے اندر جان چھڑانا بڑا آسان ہے ۔ اس کی مثال ابھی بتاتا ہوں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں مسلمان ہیں نہ ہم طریق اسلام میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ چونکہ ہم بہت ساری چیزوں کو پہلے سے ہی بغیر کسی تردد کے قبول کر چکے ہیں ، اس لیے سب سے بڑی بد قسمتی ہمارے نزدیک یہی ہے کہ ہم اس نظام کوتبدیل نہیں کرنا چاہتے ۔ خدا کا غضب اس سے بڑھ کر اور کس ملک پر ہوگا کہ اس کی شریعت تھرڈ کلاس قانون ہو۔ آپ شریعت اسلامیہ کاقانون پاس نہ کرتے ، آپ رومن قانون برٹش لاء کے اطلاق کو جاری رکھتے ، مگر یہ خدا سے مذاق نہ کرتے کہ شریعت کے قوانین بنا کر انہیں اتنا رسوا کردیں کہ عمومی عدالت کا جج بھی اس قانون کو غیر موثر قراردے سکتا ہے ۔
جس ملک میں مسلمان رہتے ہوں اور اس میں شریعت ایک تھرڈ کلاس کا وجودرکھتی ہو ، اس ملک پر اللہ کی رحمت کیسے ہو سکتی ہے ؟ جس جج کو آپ نے سزا دینی ہو ، اس کو شریعت کورٹ میں بھیجا جاتا ہے ۔ نہ صرف لوگوں بلکہ حکومت اور ججوں کی نظر میں بھی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ انہیں ہائی کورٹ سے نکال کے شریعت کورٹ میں بھیج دیا جائے ۔ اس سے زیادہ ذلت خدا کے قانون کی نہیں ہو سکتی ۔ اگر آپ خدا کے قانون کو اس طرح رسوا کر رہے ہیں اور اس کی اہمیت کو اتنا ارزاں کر رہے ہیں ، تو پھر آپ خدا سے کس محبت اور مروت کی توقع رکھتے ہیں ؟ لوگوں کو کم از کم معلوم ہے کہ ہمارے عذاب کی وجہ کیا ہے ۔ ایک فرد کو خدا سزا نہیں دے گا ۔ وہ اپنے دوست کو کبھی نہیں بھولے گا ، جو اس کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے ۔ مگر بطور ایک قوم امت اور ملک یہ المیہ اورمصیبت ہمارے سر پر سوار ہے کہ ہم خدا کے قوانین کو ادنی درجے سے دیکھتے اور درجہ دیتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ ہمارے لیے دنیا اور عاقبت دونوں کی رسوائی ہے۔
سود کے حوالے سے اللہ نے سادہ سا قانون دیا ہے کہ یمحق اللہ الربو ویربی الصدقات اگر حکومتی سطح پر کوئی اسلامی حکومت ہو اور لوگوں کواسلامی حکومت پر اعتماد ہو ، تو حکومت ایک اپیل جاری کرتی ہے کہ صدقات ہمارے ذریعے خیرات کیجیے۔ ہم آپ کے لیے ایک بنک آف صدقات قائم کر رہے ہیں ۔ اس بنک میں صرف ایک ارب روپیہ داخل ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک ارب روپیہ نہ لوٹا نے کے لیے، خدا کے رستے میں خیرات اور صدقات کے طور پر ہے۔ آپ یہ پالیسی بناتے ہیں کہ جن لوگوں کو ایک لاکھ روپیہ یا دس دس ہزار روپیہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے قرض درکار ہے ، آپ انہیں کہتے ہیں کہ اس پر ہماری کوئی شرط یا سود نہیں ہوگا ۔بس اتنی مہر بانی ضرور کرنا کہ اگر تم اللہ کے فضل و کرم سے اس پیسے سے اپنا کام اور کاروبار درست کر لو ، تو کم از کم ہمیں یہ اصل ضرور لوٹا دینا ، تاکہ ہم کسی اور غریب کی مدد کر سکیں ۔
میں یہ چانس لینے کے لیے تیار ہوں کہ ایک ارب میں سے 80 کروڑ واپس نہیں آتا ۔ لوگ فراڈ کر گئے ۔ کھا پی گئے ۔ مگر صدقات تو ہیں ہی اسی لیے ۔ دینے کے لیے ہیں ۔ صرف 20کروڑ واپس آتا ہے یا 20 کروڑ آ پ کے پاس ہے ۔ مگر اگلے برس صدقات دینے والے پھر ایک ارب کے صدقات دیتے ہیں ۔ اب آپ کے پاس ایک ارب 20 کروڑ ہو گیا۔میں آپ کو پوری ایمانداری اور یقین سے کہتا ہوں کہ دس سال میں یہ بنک لوگوں میں نہ صرف شعور اور مروت پیدا کردے گا ، اخلاقیات کی ایک نئی سنس پیدا کردے گا ، بلکہ دس سال کے بعد یہی بنک کسی بڑے سرمایہ دار سے ڈیل کرے گا اور ا س سے کہے گا کہ دیکھو ہمارے پاس یہ صدقات کے پیسے ہیں ۔ ہم آپ کو نہیں دے سکتے ۔ سوائے ایک شرط کے کہ لوگوں کی بھلائی اس میں ہے کہ آپ ہم سے ایک کروڑ روپیہ قرض مانگنا چاہتے ہیں ۔ مگر دو وعدے کریں ۔ایک تو اصل واپس موڑیے گا اور اگر نفع کمایا ، تو اس میں سے بھی خرچ کے لیے صدقات ہمیں واپس کریں گے ۔ اس طرح اگر دس پندرہ برس کے عرصے میں آپ کو بنک آف صدقات سے قرض مل رہا ہو ، جس میں کوئی ذمہ داری نہیں سوائے ایک اخلاقی ذمہ داری کے تو مجھے بتائیے کہ حبیب اور یونائیٹڈ کو کون جائے گا ؟ قدرتی بات ہے کہ بغیر کسی ذمہ داری کے اگر آپ کو ایک بنک سے قرض مل رہا ہے ، تو آپ دوسرے بنکوں کوکیوں جائیں گے ، لا محالہ بنکوں کا تمام نظام صدقات بنک میں ترتیب نو پا جائے گا اور جب یہ آئے گا ، تو سودی نظام خود بخود ختم ہو جائے گا ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ رسول اللہ ؐ امانت دار تھے ۔ لوگوں کی امانتیں رکھنے اور انہیں انتہائی دیانتداری سے تقسیم کرنے کی وجہ سے ان کو امین کہا جاتا تھا ۔ اب اگر ایک بنک اپنے ساتھ یہ بھی ذمہ داری لے لے کہ آپ کے سر مائے اور امانتوں کو ، جس میں مال بھی ہو سکتا ہے ،اپنے پاس محفوظ رکھے ۔ اس میں اسی قسم کی ڈیل ہو کہ امانت اور حفاظت سے رکھنے پر ہم آپ سے تھوڑا بہت معاوضہ لیں گے اور آپ کی امانت کےاستعمال کی اجازت پر تھوڑا بہت معاوضہ آپ کو دیں گے ، تو اس سے پورا سسٹم اوور ہال ہو جائے گا ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھی سودی نظام میں ایک آدمی جو اپنے پیسے بنک میں رکھواتا ہے اس پر وہ قانون لاگو نہیں ہوتا جو شرح کے مطابق سود کی تعریف بنتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر میں کسی کو سود پردوں ، تو شرط میری ہو گی ۔ مگر جب آپ بنک میں اپنے پیسے رکھتے ہیں ، تو آپ کی شرائط نہیں ہوتیں ، بنک کی شرائط ہوتی ہیں ۔ نفع کا تعین وہ کرتا ہے ۔ بغیر کسی جبر کے وہ نفع مقرر کر رہا ہے ۔ اگر آپ لاکھ روپیہ اسے دیتے ہیں تو وہ آپ کو ساتھ ایک ہزار روپیہ لوٹاتا ہے ۔
آپ کہتے ہیں کوئی رقم فکس کیوں ہوتی ہے ؟ افراد کی سطح پر فکس کرنا جرم ہے ۔ مگر ایک بہت بڑے سسٹم میں تعین مجبوری ہے ۔ کیونکہ وہ بے تکے طور پر کسی کو دس پانچ ہزار نہیں دے سکتا۔ اس لیے اس میں انہوں نے سود کی شرح مقرر کی ہوتی ہے ۔مگر اللہ کا قانون موانعت کے بارے میں اتنا سخت ہے کہ اگر تم یہ کام کرو گے ، تو اللہ اور رسولؐ سے جنگ کے لیے تیار ہو جائو یوں اس کام میں خدا اور رسولؐ سے جنگ کا خطرہ ہے ۔ کوئی مسلمان تصور میں بھی ایسی بات نہیں سوچ سکتا ، جس سے خدا نخواستہ وہ ایمان سے خارج ہو جائے اور خدا اور رسولؐ سے جنگ چھیڑے ۔
آخر اس سود میں وہ کیا بات ہے کہ جس بنیاد پر اتنا سخت حکم لگایاگیا ہے ۔ ظاہر ہے ، یہ وہ سود تھا ، جو انفرادی طور پر لوگوں کو واقعتاً خراب کرتا تھا۔ تمام عمران کی سود سے رہائی نہیں ہوتی تھی۔ جو ایک جونک کی طرح انسان کے جسم سے خون چوستا تھا ۔ اس سے کسی فرد و بشر کو پرانے معاشرے میں رہائی نہیں ملتی تھی ۔ اس لیے یہ دوسرے کے لیے اتنا ظالمانہ اور اتنا بے رحمانہ سسٹم تھا کہ اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں تھا ۔
مگر آج میری نظر میں سودی نظام میں جتنا بنک مظلوم ہے او رکوئی نظر نہیں آتا ۔ یعنی سود دینے والے کا تو مجھے پتہ نہیں ہے ، مگر جو حال یونائٹیڈ بنک ، حبیب بنک اور اوور آل دوسرے بنکوں کا ہؤا ہے اس میں تو لگتا ہے کہ یہ قطعاً سودی نظام نہیں ہے ۔ اس میں بے چارہ سود لینے والا ادھ موا اور قریب المرگ پڑا ہے، بلکہ اس کی بنیاد پر ایک پورا سسٹم آف بنکنگ تباہ ہو گیا ہے ۔ یہ ہماری کوتاہی اور غلطی ہے ۔ ہمارے جزوی اسلامی کانسپٹ کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ اسلام میں جزوی طورپر کوئی نہیں داخل ہو سکتا ۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ نماز پڑھیں اور روزہ نہ رکھیں ۔ نماز روزہ رکھیں اور وضو نہ کریں ۔ اسلام کو جب بھی کبھی آپ منتخب کریں گے اور اپنائیں گے ، تو ایک مکمل سسٹم کی طرح اپنائیں گے یایھا الذین آمنو ادخلو فی السلم کافۃ اسلام ایک جزوی نظام ہے ہی نہیں۔ جمہوری سیکولر نظام کی طرح یہ بھی ایک پورا نظام ہے اور اسے مکمل نظام کی حیثیت سے قبول اور رائج کرنا ہوگا۔
(جاری ہے)

٭٭صدقات کا نظام
میرے خیال میں صدقات ایک فرد کی نہیں ، بلکہ اس ملک کی بلا ٹال دیں گے ۔ صدقات واحد نظام ہے ، جو سود کو ختم کرتا ہے ۔ قرآن و حدیث کے مطابق صدقات کے نظام کے نفاذ کے بغیر دنیا کی کوئی طاقت سود کو ختم نہیں کر سکتی ۔ پرور دگار عالم نے فرمایایمحق اللہ الربو ویربی الصدقاتاللہ سود کو گھٹاتااور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ جس ملک ، معاشرے اور پورے نظام میں صدقات کی کوئی سر کاری سطح نہ ہو ، وہاں سود کیسے ختم ہو سکتا ہے ؟
خطبہ حجۃ الوداع کا دن ہے ۔ حضورؐ فرماتے ہیں کہ آج کے دن میں تمام سود باطل قرار دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے میں اپے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود ختم کرتا ہوں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطبہ کے دن تک عباسؓ سود لے رہے تھے۔ان کو پہلے کیوں نہیں منع کیا گیا ؟۲۲ برس قرآن اترتا رہا اور عباسؓ سود لیتے رہے۔ کیا اللہ کے رسولؐ شروع سے نہیں کہہ سکتے تھے کہ سود حرام ہے ، جبکہ دو آیات پہلے اتر چکی تھیں ۔آخری دو آیات میں سے ایک آیت یہ تھی کہ جو یہ کام کرے گا ، اللہ کے رسولؐ سے جنگ کرے گا ۔ اس سے پہلے ۲۲ برس قرآن کے اترنے تک لوگ اس کو لیتے دیتے رہے ۔ حتیٰ کہ خطبہ حجۃ الوداع والے دن حضور ؐ اکرم نے سود کو اپنے تعلق داروں سے باطل کیا اور عمومی سطح پر اس کو نافذ ٹھہرایا۔ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟
وجہ صرف ایک تھی کہ ابھی تک اسلام کے اپنے سسٹم نفاذمیں نہیں آئے تھے ۔ اس کے زکوٰۃ اور صدقات کے نظام میچور ہو رہے تھے ۔ خدا ایسا نہیں ہے کہ وہ محض نعروں سے کام لیتا ۔ خدا ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگوں کی جبلتوں پر بے جا دبائو ڈالتا ۔ خداکو پتہ تھا کہ جب تک اس سسٹم میں متقابل نہ دے لوں ، اس سسٹم کو باہر نہیں نکال سکتا ۔ خدا نے انسانوں سے ایک ایک چیز چھڑانے میں سالہا سال لیے ۔ کہاں وہ یسٔلونک عن الخمرکا وقت اور شراب کے بارے میں پوچھا گیا قل فیھمااثم کبیرا و منافع للناس اس میں لوگوں کے لیے کچھ نفع ہے، مگر اس کی برائیاں اس کے نفع سے زیادہ ہیں ۔ کسی نے چھوڑی ، کسی نے نہ چھوڑی۔
کچھ اور وقت گزر گیا ۔ پھر خدا نے قرآن میں فرمایا ، دیکھو! تمہاری سائیکی لات و منات پر فکس ہے ۔ شراب پی کر تمہارا شعوری یقین ختم ہو جاتا ہے ۔ تمہارا Libidoتمہارے ذہن سے لات و منات کو نکال لاتا ہے ۔ اس حالت میں جب تم نماز پڑھتے ہو ، تو تم نہیں جانتے کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ لا تقربو الصلوۃ وانتم سکریٰ نشے کی حالت میں تم نماز کے قریب نہ جائو ۔ کچھ لوگوں نے چھوڑی ، کچھ نے جاری رکھی۔ حتیٰ کہ تیسرے مقام تک پہنچ گئے ۔
کیا اللہ جیسے بڑے استاد کا یہ طریقہ ہو سکتا ہے کہ بغیر وقت دیے اور بغیر تبدیلی کے احکامات کی گنجائش فراہم کیے اچانک کوئی فیصلہ مسلط کر دے ؟اسی طرح آپ کوئی بھی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ، تو اس کی قبولیت میں اس کے داخلی عقیدے کے لیے آپ کو وقت دینا لینا پڑتا ہے ۔ فوری تسلیم کوئی تسلیم نہیں ہے ۔ اگر ایک شخص ایک دن شراب پی رہا ہے دوسرے دن داڑھی رکھ کر تبلیغ کے لیے چلا جاتا ہے ۔ وہ آپ کے نزدیک مقدس ہو سکتا ہے ، ہمارے نزدیک وہ ایک ارتجاعی ہے ۔اس کے باطن میں کوئی تفہیم ڈیولپ نہیں ہوئی ۔ اس وقت تک ، جب تک وہ غور و فکر کے ساتھ ایک شرعی فیصلہ نہ کرے کہ میں نے اس رستے سے ہٹنا ہے اور اس رستے پر جانا ہے ۔
پروردگار عالم نے اپنے دین کوفہم و فراست اور اخلاق کی پختگی کے لیے پیدا کیا ۔ صدقات میں سب سے بڑے صدقہ کا فائدہ یہ ہے کہ وہ آپ کے پورے نظام سود کو ختم کرتا ہے ۔ یہ انفرادی کام نہیں ہے ۔ یہ ریاست کا کام ہے لوگوں کو اس کا مقصد بتائے اور یہ بتائے کہ ہم سود ختم کرنا چاہتے ہیں اور صدقات شروع کرنا چاہتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ہر اچھا کام صدقہ ہے ۔ کسی کو رستہ دکھانا ، ایک کھجور دینا صدقہ ہے ۔ حسن کلام اور کسی کی طرف مسکرا کے دیکھ لینا صدقہ ہے ۔ اچھے چہرے کے ساتھ برے چہرے والے کو ملنا صدقہ ہے ۔ صدقے کی نوعیت اندرونی بھی ہے اور بیرونی بھی ۔ صدقہ احساس ہے اور عمل بھی ۔ صدقہ کسی بھی معاشرے کے سخت رویوں کو نرم کرتا ہے ۔ یہ جو معاشرہ اندر ہی اندر اپنے سخت موقفات پر قائم ہو جاتا ہے اور جو ایک ابدی نفسیات کے تحت مقبولیت نہیں دکھاتا ، تو صدقہ سے اس میں قبولیت پیدا ہوتی ہے ۔ صدقہ قوت برداشت پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ صدقات کی وسعتیں کلام سے عمل تک ایک ہی طرح محیط ہیں ۔
مہارتوں کا حصول
میں شاید اس سے اتفاق نہیں کرتا ۔ جوں جوںزمانہ آگے بڑھ رہا ہے ، خدا کی وضاحتیں اور اس کے نظام مزید نکھر کر سامنے آ رہے ہیں ۔ کل کی متشابہات آج کی محکمات ہو رہی ہیں ۔ بعض آیات گرامی ، جو اس وقت کے لوگوں کی سمجھ میں نہیںتھیں، وہ آج کمپیوٹر یا جدید علوم کی وجہ سے بالکل واضح طور پر ہمیں سمجھ میں آ رہی ہیں ۔ سو علم جدید ہو یا قدیم ، اپنے زمانے میں قوت فیصلہ رکھتا ہے ۔ جب ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین سے سوال کیا کہ حضرت گرامی! آج تک آپ لوگ زندہ ہیں ، جن سے ہم علم سیکھ لیتے ہیں ، کل کو کیا ہوگا ؟ فرمایا ، ہر زمانے کا علم قرآن کی بہتر تفسیر میں مدد دیتا ہے ۔ اس کے لیے آج کے علوم ، آ ج کے زمانے میں قرآن کی بہتر تفسیر کر رہے ہیں ۔ اسلام جدید علوم کے راستے کی قطعاً رکاوٹ نہیںہے ۔
رزق حلال کا جہاد
ہم میں اور ایمان والے میں ایک بڑا فرق ہوتا ہے ۔ وہ فرق یہ ہے کہ ہم اس عرصے میں ، جس میں ہمیں خدا پر اعتبار کرنا چاہیے ، اسی عرصے میں ہم اسباب پر اعتبار کرتے ہیں ۔ خدا کو ہم نے کبھی مجبوری اور جبر کے حالات میں آزمایا ہی نہیں ۔ در اصل ہم بہت زیادہ کمٹیڈ نہیں ہیں۔
ایک چھوٹی سی مثال ذاتی حوالے سے کہ لاہور کالج چھوڑا ، تو میرے پاس محاورتاً پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی اور مجھے قرض اتارنے کے لیے اپنی ایک چار پائی اونے پونے بیچنی پڑی ۔ میں وہاں سے واپس آگیا کہ جو روکھی سوکھی مل گئی ، کھا لوں گا ۔ میرا اس وقت تھوڑا سا پراویڈنٹ فنڈ بنا ہؤا تھا ۔ جب میں وہ لینے گیا ، تو بادشاہ لوگوںنے کہا کہ کچھ رقم لگے گی ، ایسے نہیںنکلے گا ۔ مجھے اس وقت غصہ آیا ۔ میں نے پروردگار سے کہا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس پراویڈنٹ میں میری زندگی ہے یا بڑے اسباب میں میری زندگی ہے ؟ میں نے اسے وہیں چھوڑا اور گھر آگیا ۔ خدا نے مجھے زندہ رکھا ۔ دس سال بعد وہ پراویڈنٹ فنڈ میرے گھر میںمیرے محکمے نے مجھے ڈیلور کیا۔
کیوں نہ ضرورت میں ہم تھوڑا سا خدا کوآزما لیں ۔ جب ہم سمجھتے ہیں کہ حالات و معاملات سے کارنر ہوگئے ہیں ۔ تھوڑا سا جھک جائیں اور خدا کو یہ بتائیں کہ ہم تم میںیقین رکھتے ہیں نہ کہ اشیا میں ، تو مجھے یقین ہے کہ آپ نہ صرف خدا کو پاجائیں گے ،بلکہ انشاء اللہ معاملات کو بھی پاجائیں گے ۔
ہر سسٹم کا متبادل سسٹم
معیشت کے سوالات حکومتی ڈھانچے ، معیشت کے سپر سٹرکچر اور فیصلہ سازی کے سپر سٹرکچر سے متعلق ہیں ۔مثلاً ایک عالم فتویٰ دیتا ہے کہ بینکوں کی تمام نوکریاں حرام ہیں ، اگر اس قسم کے دو چار دس فتوےاور آجائیں ، تو میرے خیال میں پاکستان میں زندگی بڑی مشکل ہو جائے گی اور ہر آدمی کام کاج چھوڑ کنارے لگ جائے گا ۔ چونکہ بہت سارے معاملات میں معیشت اور معاشرت کی ذمہ داری حکومتی نظام پر ہوتی ہے ، تو جب تک کوئی حکومت واضح تبدیلی کا ثبوت نہ دے اور کسی مقصدیت یا اسلام کو فروغ نہ دے ، اس وقت تک اسلام جزوی طور پر کسی قیمت پر نافذ نہیں ہو سکتا۔
اسلام ایک ملا جلا نظام ہے ، جس میں نظام عدل بہت ضروری ہے ۔ جب آپ موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ اسلامی شریعت غالباً سب سے مظلوم گدائوں کی طرح ہے ۔ میں نہیں سمجھ سکا یہ حضرات بیٹھے ہوئے وہاں کرتے کیا ہیں ؟ تمام تر قوانین و معاملات غیر اسلامی قوانین کے پیٹرن میں طے ہوتے ہیں ۔ ہمیں خدا کی توہین کا کوئی حق نہیں ہے کہ اس کے قانون کوابتر حالت میں رکھتے رہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے اور ایسا ہی کرتے رہے ، تو خدا ہمیں کبھی امن نہیں دے گا ۔
فرض کیجیے کہ تمام مسلمان شعوری طور پر کسی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، تو خدا نے ہر سسٹم کا متبادل سسٹم دیا ہے ۔ جیسے کہ لوگ سود کی بات کرتے ہیں تھوڑا سا غور کریں تو پتہ لگے گا کہ پورے قرآن حکیم میں سود کے بارے میںصرف ایک آیت ہے ، جو اصولی آیت ہے ۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ خدا نے کہا کہ جو یہ کام کرے گا ،وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے جنگ کے لیے تیار ہو جائے ۔مگر بحیثیت اصول سود کے بارے میں اللہ نے بڑی مختصر سی بات کی اور بات ختم کردی یمحق اللہ الربو ویربی الصدقاتکہ اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ اگر سود سرکاری اور قومی سطح پر لیا جا رہا ہے اس کو کم کرنا ہے اور خدا کو آزمانا ہے تو آپ کو صدقات کے نظام بھی گورنمنٹ کی سطح پر بڑھانے ہوں گے ۔ جب آپ کے پاس ایسا کوئی سسٹم وجود نہیں کرتا نہ آپ اس کو چلانے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں تو جومرضی ہے کرلیں ، آپ سود سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔انفرادی سطح پر آپ کی سلامتی ، آپ کی جان اور آپ کی زندگی اضطراب میں ہے ۔ پیسہ پاس رکھنے میں خطرہ ہے ، تو اول تو خرچ کر دیا کریں ، ورنہ مجبوری کی بات اور ہے ۔
حلال و حرام گڈ مڈ
آج کے دور میں رزق حلال اور حرام کچھ اس طرح آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ حلال والے کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کھا رہا ہے ؟ کدھر سے کما رہا ہے ؟ وہ محنت بھی کرتا ہے اور تردد میں بھی رہتا ہے ۔ وہ اپنی حد تک تو بڑا نیک نیت ہوتا ہے ،مگر حلال کھانے کے تمام رستے اس پر بند کر دیے جاتے ہیں ۔ ایسے عالم میں اس پر بھی اضطراب کا قانون لگتا ہے ۔ اگر جان جا رہی ہے اور کوئی ذریعہ زندگی نہیں ہے تو پھر اپنی حد تک حلال کھائو ۔ جیسے یہ رشوت کا قانون ہے ۔ ایک دیانتدار آدمی بھی موجودہ کاروبار زندگی میں کسی قسم کی حرکت کو جاری نہیں رکھ سکتا ، جب تک وہ رشوت نہ دے لے ۔ میرے نقطۂ نظر سے نقصان ہوتا ہے ، ہوجائے ۔ جو رزق نہیں ملتا ، نہ ملے ، میں اس رزق کو حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کرتا ۔ یہ میری حد تک ہے ۔ اگر کسی رزق میں حرام کا شائبہ ہو اور اس کے بغیر گزر بھی نہ ہو ، تو اس پر بھی وہی اطلاق لگے گا کہ انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔
قرآن کی تلاوت یا مطالعہ
ہر کتاب خواہ معمولی ہو یا بڑی، اس میں کسی نہ کسی گائیڈ یا پڑھانے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔ قرآن حکیم تواتنی بڑی کتاب ہے کہ پوری کائنات کے موضوعات اس میں موجود ہیں۔ بہت ساری قرآن حکیم کی شرحیں، جو میںنے دیکھی ہیں، ان میں بنیادی نقص شارح میں نہیں، بلکہ شارح کے علم کے معیار میں پایا ۔ ایک بڑا عالم بھی یک طرفہ عالم ہونے کی حیثیت سے کچھ آیات کی وضاحت اچھی طرح کر لیتا ہے ۔ مگر وہ باقی آیات کی وضاحت میں کمزور رہ جاتا ہے ۔
اگر ہم علم سے تعصب نہ رکھیں مگر شارح یا مفسر سے تعصب رکھیں ، تو ہمارا علم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی ناقص رہ جاتا ہے ۔ اس میں مسلک ملوث نہیں ہے ۔ اسی تردد میں میں نے لاہور میں ایک قرآن دیکھا ۔ اس کی اشاعت انہوں نے عدم فروختگی کے باعث بند کردی تھی ۔ اشرف بک ڈپو نے اسے شائع کیا ۔ قرآن کا نام فوائد سلفیہ اشرف الحواشی تھا ۔ میں اسے اپنے نصیب کی خوبی کہتا ہوں کہ مجھے یہ قرآن ملا ۔ اس میں ایک خاص بات یہ نظر آئی کہ مدون اور مرتب نے اس میں قرآن کے ساتھ ساتھ زیادہ تر اصحاب رسولؐ کی تفسیر درج کی تھی ۔میرے لیے یہ بات بڑی خوش آئند تھی کہ قرآن کی جس آیت کو اصحاب رسولؐ نے جیسے سمجھا ، اگر میں اس معیار اور سادگی تک پہنچ جائوں ، تومیرا نصیب بن جائے۔ میں آپ کو مذکورہ قرآن حکیم میں اصحاب کی تفسیر کے جو خوبصورت پہلو نظر آئے ، بتاتا ہوں ۔
قرآن کی ایک آیت ہے واعبد ربک حتی یا تیک الیقین کہ تو یقین تک پہنچے Till death you cannot confirm your opinion
عبوری عرصے میں کبھی بھی اپنی رائے کو حتمی نہ جاننا۔ جب آپ زندہ ہوں اور علمی جدوجہد کر رہے ہوں ، تو اس وقت تک کبھی بھی نتائج نہ نکالنا ۔ اپنے آپ کو ہمیشہ ایک طالب علم کی طرح نرم رکھنا اور سیکھتے رہنا چاہیے ۔حتیٰ کہ تو موت تک پہنچے ۔ میں اس شخص کا بہت شکر گزار ہوں ، جس نے قرآن کا یہ ترجمہ ترتیب دیا اور وہ اتنا قیمتی قرآن ہے کہ اس کے حاشیے میں تفسیر صحابہ درج ہے ۔ آج تک مجھے قرآن فہمی میں اصحابؓ کی رائے کے آگے کسی رائے کی ضرورت نہیں پڑی۔
اب ایک اور مثال سائنسی اشو کے حوالے سے اسی قرآن میں سے بتائوں ۔ ایک جگہ قرآن نے کہا کہ زمین پہلے بنائی۔ دوسری جگہ کہا ، آسمان پہلے بنایا ۔ مسئلہ یہ تھا کہ زمین اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں کس بیان کو کہاں ایڈجسٹ کیا جائے ؟ کہیں ان میں تضاد نہ آجائے ۔ میں نے تقریباً تمام وضاحتیں دیکھیں ۔ بڑے بڑے عالموں کی تفاسیر سے رجوع کیا ، جو قرون وسطیٰ سے چلتی تھیں ۔ کسی جگہ مجھے اس کی وضاحت نظر نہیں آئی ۔ میرے نقطہ نظر سے یہ واحد تضاد تھا ۔ جب میں زیر نظر قرآن پڑھ رہا تھا ، تو کسی نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے ٹھیک یہی سوال پوچھا تھا ۔ ان کا جواب اتنا سائنٹفک تھا کہ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ ایک صحابی کی فہم و فراست کہاں تک پہنچتی ہے ۔ فرمایا کہ زمین پیدا تو پہلے کردی گئی تھی، مگراس کا ظہور اور پھیلائو بعد میں سامنے آیا۔
غور طلب بات ہے کہ دو ارب سال جمع دو ارب سال تو زمین تو پہلے چھ ارب سال میں جدا ہو گئی تھی ۔ مگر اس کے پھیلائو اور ٹھہرائو میں دو ارب سال اور گزر گئے اور یہ وضاحت صرف اورصرف حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ہی دے سکتے تھے ۔ مذکورہ قرآن میں تاریخی پس منظر بھی ہے اور اصحاب کی تفسیر بھی ۔
دنیاوی یا قرآنی علم
ہم اتنی سنجیدگی اور لگن کے ساتھ دنیاوی علوم حاصل کرتے ہیں ، جو کہ ایک کم تر مقصد ہے ۔ کم تر مقصد کا مطلب وہ علم ہے ، جو ہمیں اپنی ترجیح اول کی طرف رہنمائی نہیں کرتا ۔ خدا کے لیے علم کے سوا باقی تمام علوم ووکیشنل ہیں ۔ ایک آرٹسٹ، ادیب ، سائنسدان ، ٹیچر اور فنی علوم کا استاد اپنی علمی اور ذہنی کاوش کے عوض اپنی زندگی گزارنے کے اسباب بھی مہیا کرنا چاہتا ہے ، تو تمام علوم سوائے خدا کی شناخت اور پہچان کے وہ علوم ہیں ، جن سے ہم زندگی گزارتے ہیں ، کہیںبھی پروردگار یا اس کے رسولؐ نے ان علوم کی تحصیل سے منع نہیں کیا ۔
ایک علم برائے علم ہے ۔ بجائے علم کو توڑنے پھوڑنے کے ، اسے برائے زندگی اور برائے علم رکھنے کے ، اگر ہم علم برائے خدا حاصل کریں ، تو پروردگار ہمیں ترجیح اول سے واپس لوٹائے گا ۔ وہ آپ کو الیگزینڈر فلیمننگ یا آئن سٹائن سے بہت جلد اور بہت بہتر عروج اور خیال عطا فرمائے گا ۔
حضورؐ نے بنو عیسیٰ میں دو بڑی صفات خوبصورت گنوائی ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اپنے ظالم بادشاہوں کے ہاتھ روک دیتے ہیں ۔ یتیم اورفقیر کے حق میں بڑے اچھے ہیں اور جب ان کو شکست ہو جائے تو فوراً پلٹتے ہیں۔ یہ صفات بد قسمتی سے مسلمانوں میں نہیں ہیں ۔ حالانکہ یہ ان میں زیادہ موجود ہونی چاہئیں تھیں ۔ بحران یہ ہے کہ اگر ایک شخص دنیاکے لیے محنت اور ترقی کرتا ہؤاآئن سٹائن اور فلیمننگ بنتا ہے ، تو یہی محنت اور جستجو اللہ کے لیے اس کے راز ہائے پوشیدہ کے انکشاف اور حقائق کی جستجو کے لیے کی جائے ، تو اس سے بہت کم وقت میں خدا وند کریم آپ کو ایسی ایجادات اور دریافتوں سے نوازے گا ، جو شاید مغرب کے تصور میں بھی نہ ہوں گی ۔
قرآن اور زبان عربی
جو ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ بی ۔ اے ، ایم اے کرتے ہیں ۔ پی ایچ ڈی کرتے ہیں ، تو اس کے پیچھے ہمارے ذہن کی چھوٹی موٹی سرگرمی ہوتی ہے کہ ہم نے یہ کیرئیر اپنانا ہے ۔ انجینئر بنناہے، ڈاکٹر بنناہے۔ چنانچہ اس کے مطابق کوئی بیس پچیس سال کی محنت ہم اس مضمون کو دیتے ہیں ۔کوشش کرتے ہیں ۔ اسی طرح زندگی میں جس کا انتخاب اللہ ہوتا ہے ، وہ اگر سال آدھ یا دو سال عربی کو د ے دے ، تو بطور زبان یہ سیکھنے اوراخذ کرنے میں زیادہ آسان ہے ۔ ہم کم از کم اس چیز پر قادر ہو جاتے ہیں کہ قرآن کو سمجھیں ۔ یہ انسان کی محنت اور لگن کے پیٹرن پر ہے کہ وہ کس چیز کو پہلے چاہتا ہے اور کیا اس کا لیول ہے ۔
بعض اوقات مترجم ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں ، عالمانہ نظر سے نہیں ۔ بلکہ ایک مقامی نظر سے دیکھتے ہوئے ترجمے کو مشکوک کر دیتے ہیں ۔ مگر الحمد للہ قرآن حکیم خالی اردو میں ٹرانسلیٹ نہیں ہؤافارسی ، انگریزی میں دنیا کی اکثر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے ۔ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ہم تو قرآن پڑھ ہی نہیں سکتے تھے ۔ اگر میں آپ کو ایک صفحہ دکھا دوں ، جو صحیفہ عثمانی ہے، تو آپ اسے ایک اچنبھے کی کارروائی سمجھیں گے ، قرآن نہیں سمجھیں گے ۔اللہ اپنے دین کی مدد کسی فاسق و فاجر سے بھی لے لیتا ہے۔ جب مسئلہ غیر اقوام کا پیش آیا ، تو حجاج بن یوسف نے اعراب لگوائے ۔ چنانچہ اب جو قرآن نصیب ہے ، اس سے ہر آدمی قرآن پڑھ سکتا ہے ، سمجھ سکتا ہے اور کسی مکمل عالم سے بھی اس کے سمجھنے کے لیے مدد لے سکتا ہے ۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ آپ واقعی خدا کے بارے میں کچھ سمجھنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ جذبہ موجود ہو ، تو تھوڑی کوشش کے بعد اس مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں ۔ مجھے گھر پر کسی نے ناظرہ قرآن بھی ٹھیک سے نہیں پڑھایا۔ میں قرآن پڑھنے سے بھاگ جاتا تھا ۔ پوسٹ گریجویشن میں لٹریچر پڑھا۔ دنیا جہان کے فلسفوں کا مطالعہ کیا ۔ پھر مجھے اللہ کا شوق پیداہؤا۔ اللہ ہی کے لیے میں نے پہلی مرتبہ قرآن صدق دل سے پڑھا ۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ کس قسم کی ہستی ہے ۔ اس کو سمجھا ، اس کو جانا ۔ اللہ کی وجہ سے اس سے تھوڑی بہت انسیت اورمحبت پیدا ہو ہی جاتی ہے ۔ انسانی بشری تقاضوں کے باوجود ۔ اللہ کی وجہ سے آج میں اس قابل ہؤا کہ جو کچھ جانتا ہوں ، اس کو آپ تک پہنچا سکوں ۔ میرے خیال میں بنیادی شوق اللہ ہی کا ہے ۔ یہ کوئی ایسی مشکل نہیں ہے ۔ جس کا آپ تذکرہ کر رہے ہیں ۔ یہ کور ہو سکتی ہے ۔
جہاں تک عجمی ہونے کا سوال ہے ،عجمی کا مطلب اس وقت کونگا مشہور تھا ۔ عرب اپنے سوا تمام قوموںکو گونگا کہتے تھے ۔ انہیں اپنی زبان پر اس قدر ناز تھا کہ وہ تمام زبانوں کو گھٹیااور کم تر سمجھتے تھے ۔اپنے آپ کو فصیح و بلیغ کہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن عربی میں اترا۔
زبانوں کے حوالے سے ذرا وضاحت ہو جائے ۔ اردو زبان فرانسیسی ، عربی اور سنسکرت زبان کا ملغوبہ ہے ۔ انگریزی میں چاند کے لیے لفظ MoonاورLuna اور سورج کے لیے sunاور solar ہے ۔ اس کے علاوہ تیسرا کوئی لفظ نہیں ہے ۔ اردو زبان میں قمر ، چاند ، مہ ، مہتاب ہے۔ اسی طرح سورج کے لیے متقابل پندرہ لفظ نظر آئیں گے ۔جبکہ عربی اتنی بڑی زبان ہے کہ اونٹ کے پیدا ہونے کے بعد اس کے جوان ہونے تک اس کی زندگی میں ایک سواڑتیس لفظ ہیں ۔ قرآن کواس لیے خاص طور پر عربی میں اتارا گیا کہ اس کے ترجمے میں سہولت ہے ۔ یہ جس زبان میں بھی جائے ، اس کو ترجمہ کرنا آسان ہے ۔ اس کے پاس اتنی فراخی اور مواد ہے کہ ساری زبانوں میں جتنا بھی کوئی مشکل لفظ ہو گا ، وہ کسی نہ کسی ترجمے پر پورا اترے گا ۔ یہ بھی ایک کرامت اور معجزہ قرآن ہے اور ہم عجمیوں کے لیے تحفہ ہے۔
آج کے زمانے میں مسائل کچھ پیچیدہ ہوگئے ہیں ۔ جگہیں مختصر ہو گئی ہیں ۔ امریکہ سے بھی ہم ایک پل میں فتویٰ منگوا سکتے ہیں اور ریاض سے بھی ۔ اب اصولاً زندگی اتنی پیچیدہ ہو گئی ہے کہ جس امام نے بھی جس غور و فکر سے مسائل کو سمجھا اوران پر تقریظ یا توجیہہ کی ہے ، میرے خیال میں اب ان چاروں آئمہ سے استفادہ کرنا ہمارا حق ہے ۔ اب ان چاروں فقہوں کی رائے کو مد نظر رکھ کر ایک نئی فقہ کو ترتیب دینا ہوگا ۔
ہم فقیہہ اس کو کہتے ہیں ، جو قرآن کی اس آیت کے مصداق ہو طہ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی ہم نے قرآن کو مشقت کے لیے نہیں اتارا ۔ اسے چاہیے کہ وہ بند گان خدا پر اسلامی تعلیمات کو آسان کر کے پیش کرے ۔ ان کو سانس دے ۔ یہ جو ہمارے ہاں مذاہب رائج ہیں، ان کے لیے زندگی چھوڑنی پڑتی ہے ۔ حضور ؐ کے زمانے میں جو مذہب تھا ، وہ مذہب بھی تھا اورزندگی بھی تھی ۔ اب ہمیں معمول سے ہٹنا پڑتا ہے اور یہ مذہب کی غلط توجیہہ ہے۔
میں بنیادی طور پر حنفی مسلک میں ہوں۔ مگر میں فتاویٰ حنا بلہ اورشافعیہ کے مطابق دیتا ہوں ۔ اس لیے کہ مجھے پتہ ہے ، لوگوں کا علم نہیںہے ۔ میرے علم میں ایسی احادیث بھی ہیں اور ابن ماجہ کی حدیث بھی موجود ہے کہ وہ ابن عباس کے پاس آئے اور پوچھا ابن عباس! رسولؐ اللہ کے زمانے میں کیا متعدد طلاقیں ایک نہ سمجھی جاتی تھیں ؟ فرمایا، ہاں۔ پوچھا کہ ابن عباس ! کیا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانے میں متعدد طلاقیں ایک نہ سمجھی جاتیں تھیں؟ کہا ہاں۔ پھر پوچھا ابن عباس ! زمانہ اقتدار عمر ؓ میں متعدد طلاقیں ایک نہ سمجھی جاتی تھیں ۔ کہا ، ہاں ۔ پھر جب عمر نے طلاقیں کثرت سے ہوتی دیکھیں ، تو پھر تینوں طلاقوں کو آخری قرار دیا۔ اب دیکھیں ، یہ ایک ایڈمنسٹریٹو آرڈر ہے ۔ صورتحال خراب ہو رہی تھی ۔ لوگ تعلیمات علمی کو الجھا رہے تھے ۔ اب ہمیں لازم پڑتا ہے کہ ہم آج کے مسائل کو سمجھیں ۔ ہم لوگوں کی تعلیمات اور ان کے انتخاب میں اضافہ کریں ۔جتنے ہمارے انتخاب میں اضافہ ہوگا ، ہمارامذہب زیادہ کشادہ اور زیادہ قابل فہم ہو جائے گا۔
استخارے کا پراسس
ہر شخص یقیناً کر سکتا ہے اور کسی شخص کا استخارہ کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا ۔ میں نے یہ بڑا عجیب و غریب طریقہ دیار پاکستان میں دیکھا کہ ہم نے مولوی صاحب سے استخارہ کرایا ۔ اپنی فلاںپھوپھی سے بڑی نیک ہیں ، ان سے استخارہ کرایا ۔ بھلا ان کواس مسئلے سے کیا تعلق ہے ، جو ان کو استخارے کا جواب آئے گا ؟ استخارہ بڑی سادہ چھوٹی سی روایت ہے۔حدیث ہے کہ اس شخص کو کبھی خسارہ نہیں ہؤا جس نے استخارہ کیا ۔ استخارہ کامطلب یہ ہے کہ کنفیوژن میں دو راستوں میںانتخاب کے لیے آپ اپنی چوائس کی بجائے خدا کی راہنمائی طلب کرتے ہیں۔
استخارے کا سادہ پراسس یہ ہے کہ رات کوسونے سے پہلے دو رکعت نفل ادا کریں اور ہر رکعت میں تین مرتبہ الحمد کے ساتھ سورہ اخلاص پڑھیں ۔ پھر بولیں نہیں اورخدا سے آرزو رکھیں کہ اے پروردگار ! میں اس مسئلے میں الجھا ہؤا ہوں ، مجھے رہنمائی عطا فرما۔ جب آپ سوئیں گے ، ایک دن ، دو دن ، تین دن کے اندر آپ کو کسی نہ کسی بڑے واضح اشارے سے ہدایت مل جائے گی۔
نفاق، نماز، شیطان
نفاق عملی نہیں ہوتا ۔ عمل میں کوئی نفاق نہیں ہوتا ۔ بلکہ نفاق تقسیم دل کو کہتے ہیں ۔ جب آپ کادل تقسیم ہو جائے ۔ خیر و شر میں تفریق نہ کر سکے اور آپ کی جبلی قدروں اورذاتی خواہشات کو ان احکامات الٰہیہ سے جدا نہ کر سکے ، جو حدود ہیں اور جولازم ہیں، تو آپ کا دل نفاق کا شکار ہوتا ہے ۔ جب آدمی کا دل کسی بڑی خطایا جرم کا ارتکاب کرنے کے لیے ایسے دلائل گھڑے ، جو قرآن و حدیث کی اصولی حدود کوناقص کریں ، تو اس وقت آپ کا دل منافق ہوتا ہے ۔
جب آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیوں نماز نہیں پڑھتے ہو، تو اکثر جواب یہ ہوتا ہے کہ کیا پڑھیں ؟ نماز میں تو ہر وقت وسوسے آتےرہتے ہیں ۔ میںتو یہ چاہتا ہوں کہ جب نماز پڑھوں ، پورے خشو ع وخضو ع اور اطمینان کے ساتھ پڑھوں ۔ میں وساوس والی نماز پڑھنا نہیں چاہتا ۔ جب کوئی بہانہ عذر بنا کر یہ کہے کہ میں وساوس والی نماز نہیں پڑھنا چاہتا ، تو یہی نفاق دل ہے ۔
اگر انہوں نے تھوڑا سا قرآن و حدیث کامطالعہ کیا ہوتا ، تو نماز کے لیے خدا نے ہمیشہ اقامات کا لفظ استعمال کیا ہے کہ اس کو قائم ہونا چاہیے ۔ آپ کا دل چاہے نہ چاہے ، اتنی مدت کی جو آپ نماز پڑھتے ہیں ، اس میں یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ ساری زندگی ایک جوش ، ایک اخلاص سے کوئی کام کیا جائے ۔
کمپیوٹر کیوں ایجاد ہؤا؟اس لیے کہ انسانی یا دداشت اپنی ہی کارکردگی کو اتنی ہی تعلیم کے ساتھ بار بار دہرا نہیں سکتی ۔ ایک آدمی جو ایک وقت میں سو نمبر لیتا ہے ، دوسرے وقت میں ہو سکتا ہے ، دس نمبر لے ۔ انسان نے اپنی استعداد کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کمپیوٹر ایجاد کیا ۔ کیونکہ کمپیوٹر اس معاملے میں خطا نہیں کرتا ۔ جو اس نے استعداد ایک مرتبہ دکھانی ہے ، ہرمرتبہ بٹن دبانے پر وہی استعداد دکھائے گا ۔ یہ کمپیوٹر کا بنیادی راز ہے ۔
اب آپ دیکھیں کہ خدا وند کریم جو انسانی ذہن اورانسانی بنیادی مسائل کو سمجھتا ہے وہ آپ سے کب یہ توقع کرے گا کہ ہر مرتبہ بڑے خلوص، بڑی محبت اوربڑے خشوع و خضوع سے نماز پڑھیں ۔ نصیحت تو اس نے کردی مگر جیسے مسئلہ آپ کو آج پیش آ رہا ہے جب اصحاب رسول نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ؐ ! نماز میں وساوس بڑے آتے ہیں ؟ فرمایا: عین ایمان ہے ۔ آپ کو وسوسہ برا لگتا ہے اورنماز چھوڑنے کا بہانہ لگتا ہے ، جبکہ رسول ؐ اللہ فرماتے ہیں کہ عین ایمان ہے ۔
اب عین ایمان کی وضاحت یہ ہے کہ جب کبھی انسان نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اور ایسا مقام نہیں ہے ، جہاں شیطان کو انسان اپنے سے جدا لگے ۔ بازار میں ، گفتگو میں ، ہر حرکت میں ، ان کی آپس میں بہت بڑی شراکت داری ہے ۔ کیوں آپ کو بازار میں جھوٹ بولتے ہوئے تنگ کرے گا ؟ آپ اسی کی تو خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ کیوں آپ کو ناقص گفتگو سے منع کرے گا یا وہ کیوں خوش گپیوں میں وقت ضائع کرنے سے آپ کو خبر دار کرے گا ؟ وہ اس وقت آپ کی مخالفت کرے گا ، جب آپ اس سے بالکل ہٹ کے اس عالم کل کے رب کریم کے سامنے اپنی خطا کا نسیان کا ازالہ کرنے کھڑے ہوں گے ۔ وہ اس وقت آپ کو ضرور بہکائے گا ۔ ضرور وساوس دے گا ۔
جب ان وساوس کے باوجود آپ کی نماز نہیں ٹوٹی اور آپ نے آمنت باللہ ورسول بھی کہا کہ میں اپنے اللہ اور رسول پر ایمان لایا اوراحکام بجا لایا، تو آپ کی نماز کہیں زیادہ بہتر ہے اس سے کہ آپ جتنے بھی خشوع و خضوع سے پڑھیں اورشیطان آپ کی پرواہی نہ کرے ۔ آپ بڑے خشوع و خضوع سے پڑھ رہے ہیں اور شیطان کو آپ کی کوئی پروانہیں ، کوئی وسوسہ آپ کو نہیں دے رہا ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کو اچھی طرح پتہ ہے کہ باوجود خشوع و خضوع کے آپ کو اس سے کوئی داخلی مفاہمت ضرور ہے ۔
اس لیے نفاق دل کے تقسیم ہونے ، خرچ ہونے کو کہتے ہیں ۔ دل خیر کے لیے ہے ۔ اللہ کی یاد اور محبت خدا وند کے لیے ہے ۔دل امن اور سکون کی آماجگاہ ہے ۔ دل کا اضطراب اوراس کی بے چینی اس کا نفاق ہے۔ دل کا تقسیم ہونا اور خدا کی یاد سے غافل ہونا اس کانفاق ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب دلوں کا اطمینان خدا کی یاد میں ہے ۔ جب خدا کی یاد نہ ہو گی ، تو دل ضرور اپنے آپ کو منافق محسوس کرے گا۔
علم ذریعہ گمراہی
شیطان کو کبھی علم حاصل تھا نہ وہ کبھی عالم کہلایا۔ وہاں بھی اللہ نے پہلی کیٹیگری میں اعمال پر اسے عزت اور برکت دی اور تمام عرصہ وہ جانتا تھا کیونکہ جب ہم شیطان کو واپس پلٹتا دیکھتے ہیں ، تو اس کا دعویٰ علم کا قطعاً نہیں ہے۔ علم کادعویٰ تو آدم کے ساتھ پورا ہؤاجب ملائکہ نے ضد لگائی۔ آدمی کی تخلیقی صلاحیتیں اور اس کی جانچ پرکھ کا علمی فیکلٹی میں عروج ثابت ہؤا ، تو باقی ملائکہ کو شک نہیں رہا ۔ مگر جب شیطان نے آدم کی مخالفت کر دی تو اس نے علمی مخالفت نہیں کی ۔بلکہ یہ کہا کہ میں تو آگ سے پیدا ہؤا ہوں ۔ میں نفیس تر مخلوق ہوں اور یہ مٹی سے پیدا ہؤا ہے اورغلیظ تر مخلوق ہے ۔ اس طرح شیطان جاہلانہ تعصبات کا پہلا بانی ہے ۔ اس کو ہم عالم تو کسی صورت نہیں سمجھ سکتے ۔ علم کے ساتھ ایک چیز کی اور ضرورت ضرور ہے اور وہ توفیق الٰہی ہے ۔
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp