مری ننھی بٹیا، مرے دل کی رانی
وہ تارا تھی آنکھوں کا، روشن کہانی
تھی کوئل سی آواز اس کی، یہ جانو
وہ ست رنگی تتلی تھی، مانو نہ مانو
گلابوں سی رنگت تھی کلیوں سی خوشبو
مہکتی تھی آنگن میں میرے وہ ہر سُو
شب و روز رونق وہ دوبالا کرتی
شرارت سے سب کو ہنساتی تھی، ہنستی
یہاں روشنی کا وہ ہالہ تھی گویا
ہو گیتوں سے اک ہار جیسے پرویا
وہ نیکی کے کاموں کو کرتے نہ تھکتی
لگن میں انہی کے وہ بےچین رہتی
سبھی موتی چُن چُن کے مالا بناتی
سدا خواب تعمیر کے وہ دکھاتی
تھی شوقینِ علم اور مؤدب بہت تھی
رگوں میں تھی شفقت، مہذب بہت تھی
دلوں میں سبھی کے وہ بستی ہے اب بھی
بہشتِ بریں میں ہے گویا وہ رہتی
سفر اس نے غنچے سے گُل تک کیا تھا
حسیں منزلیں، زادِرہ بھی لیا تھا
یہی آس ہے، ہو وہ خالق کی مہماں
جہاں میں تو نیکی ہی تھی اس کی پہچاں
وہ سایہ کی مانند رہی ساتھ میرے
مرے ہاتھ میں ہاتھ اپنے دیے تھے
جدا ہوں گے ہم بھی نہ سوچا کبھی تھا
نوشتۂ قدرت تھا، ہونا یہی تھا
ملاقات ہو گی تو پوچھوں گی اس سے
بتا! مرے بن لمحے گزرے ہیں کیسے
بہارِ چمن تھی مری بٹیا رانی
خزاں چھا گئی، جب گئی بٹیا رانی
شبِ غم کو اس نے سحر میں ہے ڈھالا
ہے طوفاں سے نیّا کو ایسے نکالا
خدا اس کو حوروں کی ساتھی بنانا
کبھی یاد آئے نہ گزرا زمانہ
وہاں کے گلستاں میں چہکے سدا وہ
کلی سے بنے پھول، مہکے سدا وہ
غزل
چھڑ گیا یونہی سرِ بزم فسانہ میرا
ورنہ توطے تھا سرِ شام ہی جانا میرا
خواہشیں ڈھلتی چلی جاتی ہیں انگاروں میں
مجھ کو فرصت نہیں دیتا ہے زمانہ میرا
کوئی صورت نہیں بن پاتی کسی بھی صورت
رائیگاں جاتا ہے اب خاک اُڑانا میرا
سب فلک زاد بلاتے ہیںپرانے گھرکو
جانے کس شکل میں اب ہوگا ٹھکانا میرا
ذکر چلتا رہا ناکامیٔ حسرت کا صہیبؔ
اورکسی نے بھی کہیں نام لیا نہ میرا
غزل
جنوں سے جب بدن جلنے لگیں گے
کڑے زنجیر کے گلنے لگیں گے
ملا پائیں گے تب دنیا سے آنکھیں
جب اپنے پاؤں پر چلنے لگیں گے
ذرا ہمت تو پکڑو مشکلوں کے
برے ایام سب ٹلنے لگیں گے
تب آئے کی سمجھ مشکل زدوں کی
جب اپنے عیش ہمیں کھلنے لگیں گے
کہ ہیں محتاج سائے حرکتوں کے
رکو رکنے، چلو چلنے لگیں گے
پلٹ جائیں گے الٹے پاؤں گر ہم
مصائب صبر سے جھلنے لگیں گے
خبر کیا تھی کہ میری آستیں میں
مرے احباب ہی پلنے لگیں گے
سمجھ لو مر گئے ہیں، وقت کے جب
ہر اک سانچے میں ہم ڈھلنے لگیں گے
تو کیا بدلیں گے دن ہر ہار گر ہم
کفِ افسوس ہی ملنے لگیں گے
غزل
محبت کا فسوں باقی ہے اب تک
وہ شدت وہ جنوں باقی ہے اب تک
گماں تھا زندگی سے جا چکا ہے
مگر سوزِ دروں باقی ہے اب تک
کبھی محوِ تکلم تھے وہ ہم سے
فضا میں گفتگو باقی ہے اب تک
سماعت آہٹوں پہ ٹک گئی ہے
نظر میں تو ہی تو باقی ہے اب تک
دھڑکنا چھوڑ دیتا دل کبھی کا
رگوں میں پر لہو باقی ہے اب تک
ہمیں مرنا گوارا ہو گیا تھا
مگر جینے کی خو باقی ہے اب تک
دل مضطر سے میں یہ پوچھتی ہوں
کہ اس کے دل میں تو باقی ہے اب تک ؟