ہم لوگ برادرِ بزرگوارم مرحوم کی ڈائری کے اوراق ۔ چوہدری محمد اکرم

کوئی تبصرہ نہیں

ہم جیسے لوگ جن کی اصل ان خاک اڑاتے قریوں میں سے،جو اٹھے اور شہروں میں آن بسے،ایک عجیب منافقت کا شکار ہیں۔ذہنوں میں وہی رومانیت آباد ہےجو اس کہاوت سے نکلتی ہے’’کل شئیی جرجع الی اصلہ‘‘
جو مزا بان کی کھردری چارپائی پر اور مٹی کے پیالے میں، لسی کے گھونٹ سے،چپڑی ہوئی تنور کی روٹی سے،رات کی بچی ہوئی مسور کی ٹھنڈی دال سے اور گندم کے موٹے آٹے سے بنے ہوئے حلوے سے حاصل ہوتا ہے اس کا کیا جواب , کیا مقابلہ۔
ذہنوں میں وہی رومانیت آباد ہےجس میں ہم نے بچپن اور لڑکپن گزارے۔کچی گلیاں جو بارش میں کیچڑ سے بھر جاتی ہیں۔بڑے بڑے آنگنوں میں ایک طرف رہائشی چارپائیاں اور دوسری طرف ڈھور ڈنگر،فضا میں گوبر اپلوں کی تیرتی بوباس ۔
ان پڑھ چرواہے جن کی جوانی اور ادھیڑ عمر مویشیوں کو ہانکتےگزر جاتی ہے۔ کوسوں تک پیدل چلتے مرد جن کے پیچھے پیچھےجوتے ہاتھوں میں اٹھائے ان کی عورتیں ،مٹی کے پیالے،چراغ ،دودھ اور دہی۔ یہ ہیں وہ دیہات جو یاد کے دریچوں سے دکھائی دیتے اور ذہنوں میں آباد ہیں۔
مگر یہ وہ زندگی ہے جو ہم خود بسر نہیں کر سکتے ذہنی طور پر ہم وہی ہیں لیکن جسمانی طور پر ہم کہاں سے کہاں جا پہنچے ۔ ہمیں تو اب انٹرنیٹ درکار رہے وہ بھی چوبیس گھنٹے اور بغیر کسی تعطل کے ،کس رخنے کے بنا۔
ہم چائے وہ پیتے ہیں جس میں تعویز نما گتھی پڑی ہو اور اس کا دھاگا پیالی سے باہر لٹک رہا ہو۔اور دودھ اتنا ڈالتے ہیں جتنی ہماری گفتگو میں سچائی ۔ راتیں ہماری جاگتی ہیں۔ یو پی ایس اور جنریٹر ہماری زندگی کا جزو بن چکے۔ بچے جن سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں،جن دفتروں اور کمپنیوں میں کام کرتے ہیں ان کا ان خاک اڑاتے قریوں میں کوئی وجود ہے نہ تصور۔ ہمارے دیہات ترقی یافتہ دنیا تو بہت دور کی بات، خود ہمارے شہروں سے سینکڑوں سال پیچھے ہیں۔تعلیم صحت،توانائی زندگی کی بنیادی سہولیات دیہات کے لیے شجر ممنوعہ۔
ذہنی پرواز گاہے کئی دہائیاں ایک ہی لمحے میں ،ایک ہی جست میں بچپن کی وادیوں میں پہنچا دیتی ہے۔ کرتوں اور تہمد میں ملبوس افراد سرمئ صبح کو دھویں پر دائرہ کی شکل میں حقے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ہم پلٹتے ہیں اپنے کھیتوں اور کھلیانوں کی طرف،اپنے کچے وسیع صحنوں کی طرف،صحن جس کے کناروں پر نیاز بو کے پودے مہکتے تھے۔ صحن جس کے وسط میں انار کے پودے تھے۔ صحن جہاں ’’ دھریک‘‘ کے ہرے گھنیرے درخت تھے۔ انتہا درجہ کے سبز،ہوا جن کے پتوں کو اس ہنرمندی سے ہلاتی تھی کہ چھاؤں کا قالین بن ڈالتی۔
ذہن پلٹتا ہے کچے گھروں کی ان دیواروں کی طرف جو مٹی کے گارے سے کھڑی کی جاتی تھیں جن میں بھوسہ ملایا جاتا تھا اور گاہے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر کچھ سوچتے ہوے بے خیالی میں دیوار سے بھوسے کا باہر نکلا ہوا تنکا توڑتے تھے۔
ہم پلٹتے ہیں اس کچے فرش کی طرف ،جو کہنے کو تو مٹی کا ہوتا تھا مگر ہماری مائیں ،بہنیں اس فرش کو اس مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ ہموار کرتی تھیں کہ تقابل میں ماربل بھی نہ ٹھہرے۔
پھر سر شام تنوروں سے، چولھوں سےدھواں اٹھتااور مرغولوں کی صورت فضا میں پھیلتاتھا ڈھور ڈنگر واپس آتےتھے۔ گھنٹیوں کی آواز سارے ماحول میں اڑتی تھی۔ دل ان آوازوں کے ساتھ رقص کرتے تھے۔ چرواہے اور ان کے وفادار کتے جونگہبان بھی تھے بظاہر ان کے پیچھے چل رہے ہوتے مگر وہ ایک ایک نقل و حرکت سے مالک کو آگاہ رکھتے،ایک ایسی زبان میں جو صرف وہ جانتے تھے یا ان کے مالک۔
ہم یادوں کے دائرے میں گھومتے، ذہن کے عقب میں دور ایک پوشیدہ پردہ پر دیکھتے ہیں ایک کچی دیوار ، اس دیوار میں جو گارا لگا ہے وہ گارا ہم ہی ہیں۔ ہم مٹی بن کر اپنے قریوں میں امر ہو جاتے ہیں۔ اس طرف جو درخت نظر آرہے ہیں ان کے پتوں کی ہریالی اور خوشنمائی میں ہمارا خوف ہی تو جھلک رہا ہے رومانی تصورات کا۔
کیا کبھی وہ وقت آئے گا جب ہمارے دیہات گزرے زمانوں سے نکل کر آج کی ترقی یافتہ دنیا میں دستیاب زندگی کی کسی آسائش کا لمس محسوس کر سکیں گے۔ ! فی الوقت تو فقط دیکھتے ہیں اور روتے ہیں روتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔
٭ ٭ ٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp