ہم آج ایک بہت عام اور اہم معاشرتی مسئلے پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ایک بھیانک حقیقت کی طرح موجود ہے وہ ہے بیٹا یا بیٹی کی پیدائش ۔بیٹی کی پیدائش سے ہمارے ہاں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات عورت کی زندگی بہت مشکل بنا دی جاتی ہے ۔
سب سے پہلے میں بطور ماہرامراض نسواں یہ بات کہوں گی کہ اولاد کا ہونا ہی اللہ کی طرف سے بہت انمول اور خوبصورت تحفہ ہے ۔ بے شک یہ منجانب اللہ ہی ہے کہ ایک مرد اور عورت ماں باپ بن جائیں۔
آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی کہ گائنی کلینک میں چیک اپ کے دوران سب سے زیادہ جو مسئلہ دیکھنے میں آیا ہے وہ بانجھ پن یعنی بے اولادی کا ہے ۔ میں ہمیشہ ساتھ آنے والی خاتون سے ایک ہی بات کہتی ہوں چاہے وہ ماں ہو یا ساس ہو کہ اس میں عورت اور مرد دونوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں انسان ہیں اگر دونوں میں سے کسی ایک فریق کو کوئی مسئلہ ہے تو اس کامیڈیکل علاج ہونا چاہیے ۔ بے شک علم بھی اللہ ہی کی عطا ہے ۔ ایک دوسرے کو مورود الزام ٹھہرا کر یا ایک دوسرے میں نقص نکال کر صرف دلوں میں غلط فہمیاں اور روز مرہ کی زندگی میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں جو ایک اچھا معاشرہ تشکیل کرنے اور پر سکون گھر استوار کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
آئیے اب اس Common issueعام مسئلے پر بات کریں کہ آیا لڑکی یا لڑککا عورت کی وجہ سے ہوتا ہے یا مرد کی وجہ سے ؟ میڈیکل سائنس کے مطابق عورتوں میں صرف XXجینز genesپائی جاتی ہیں اور مردوں میں XYجینز genesہوتی ہیں ۔ دو XXکا ملاپ بچی کو جنم دیتا ہے اور ایک XYکا ملاپ لڑکے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے ۔ جو جینزgenes عورت کے geneticمیں موجود نہیں ہے ہم کس طرح اس کا الزام عورت پر لگا سکتے ہیں ۔ وہ کروموسومز جو لڑکا پیدا کرتا ہے صرف اور صرف مرد کی طرف سے ہے ۔ یہ سپرم یعنی مردانہ جرثومے میں موجود ہوتا ہے جب کہ femaleیعنی عورت کے انڈوں میں صرف XXجینز موجود ہوتی ہیں۔
اب ہم سب عقل مند ہیںاور چیک کر سکتے ہیں کہ لڑکا یا لڑکی ہونے میں کوئی بھی قصور وار نہیں ، البتہ میں یہاں یہ بھی کہوں گی کہ اس میں مرد کا بھی کوئی قصور نہیںبطور انسان یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ جو بچہ جینز میں بن رہا ہے اس میں دونوں XXہیں یا XYہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صاف فرمایا ہے کہ میں جس کو چاہے بیٹا دیتا ہوں اور جس کو چاہے بیٹیاں ، جس کو چاہے دونوں اور جس کو چاہے ایک بھی نہیں تو پھر ہم انسان کو ن ہوتے ہیں کسی کو قصور وار ٹھہرانے والے۔
بطور ڈاکٹر میں اس بارے میں مریضوں کی مکمل کونسلنگ کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ان چاروں صورتوں میں سے کسی بھی حالت میں عورت کو بلا وجہ قصور وار نہ ٹھہرایا جائے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے سے بڑے پڑھے لکھے لوگ، کھاتے پیتے ، درمیانے اور متوسط طبقے کے محنتی اور مزدور طبقے کے لوگ بھی عورت کو ہی سزاور ٹھہراتے ہیں جیسے کہ یہ اسی کے بس کی بات ہو ۔ یہاں تک کہ اولاد کے ہونے اور نہ ہونے میں بھی عورت کو ہی قصو ر وار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ مردوں کے ٹیسٹ بھی ٹھیک نہیں آتے پھر بھی عورت کو طعنے دیے جاتے ہیں اور اس کی زندگی دوبھر کر دی جاتی ہے ۔ یہ ایک دل گرفتہ حقیقت ہے اور معاشرے کا ایک تاریک پہلو ہے جب آپ کے پاس بانجھ پن میں مبتلا عورت آتی ہے تو اسے دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے اس کے چہرے پر کرب و تکلیف کے آثار اس بات کی واضح علامت ہوتے ہیں کہ دنیا والوں کے طعنوں سے اس کے دل پر کیا بیتتی رہی ہے ۔ وہ عورت مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہوتی ہے اور لوگوں کے طعنوں تشنوں سے اس کی روح اندر تک زخمی ہو چکی ہوتی ہے ۔
ہم بطور معالج اور بطور انسان ہمیشہ امید کی کرن کو زندہ رکھتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں ۔ دعا اور دوا دونوں پر اعتقاد رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ دعائوں کو سننے والا ہے وہ ضرور عطا کرتا ہے ۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں دو سال چار سال ، نو سال ، بارہ سال ، انیس یا بیس سال بعد اللہ نے اولاد سے نوازا ہے اور میں نے اپنی گائنی پریکٹس میں یہ تمام کیسز دیکھے ہیں اور ایک کے بعد دوسرے اور تیسرے بچے بھی ان کی زندگی میں خوشیاں لے کر آتے ہیں ۔ یہ سب ہمارے رب کی مہر بانی ہے ۔
یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ راضی خوشی رہ رہے ہوتے ہیں مگر معاشرہ انہیں جینے نہیں دیتا ۔ دوسری شادی کی بات کر کے عورت کی محبت کو ٹھکرا دیا جاتا ہے اور مجبوری کا نام لے کر اسے سمجھوتے پر راضی کیا جاتا ہے ۔ کئی دفعہ دوسری خواتین سے بھی بیٹا پیدا نہیں ہوتا یا پھر اولاد ہی نہیں ہوتی مگر ذمہ دار پھر بھی اس عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے ۔ پچھلے چند سالوں میں میرے مشاہدے میں کچھ خوشنما تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں کہ اب لوگ بیٹیوں کو بھی خوش اسلوبی سے قبول کرنے لگے ہیں ۔ اس سلسلے میں میں اپنے والد جسٹس زین العابدین مرحوم کی ضرور بات کرنا چاہوں گی انہوں نے ہم چار بہنوں یعنی چاروں بیٹیوں کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم دلوائی اور اچھے سے اچھا رکھا بلکہ کہیں بھی جینڈر فرسٹریشن کا احساس نہیں ہونے دیا میں دعویٰ سے یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ جب تک ہم بہنیں اپنے گھروں کی نہیں ہوئیں جینڈر پر یا روئی کے احساس کے بارے میں ہم سب لوگ قطعی نا آشنا تھے یعنی ہم نے اپنے والدکے گھر میں ایسی زندگی گزاری جس میں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس ہونے ہی نہیں دی گئی ۔ ایسے اور بھی لوگ ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔
سب سے زیادہ مجھے خوشی اس وقت ملی جب میں بحیثیت ڈاکٹر سروسز ہسپتال میں جاب کر رہی تھی ۔ ہمارے والد کے بہت ہی پرانے ڈرائیور جس نے زندگی کے کئی سال وفا داری سے ہمارے گھر ڈیوٹی کی ان کی پہلے سے تین بیٹیاں تھیں وہیں ان کے ہاں چوتھی بچی کی پیدائش ہوئی تو وہ سروسز ہسپتال میں دو کلو مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئے اور تمام سٹاف اور ڈاکٹرز کا منہ میٹھا کروایا ۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ عرصے بعد انہیں ایک بیٹے سے بھی نواز دیا یہ سب اللہ کی مہر بانی تھی اور اللہ تعالیٰ کو انسان کی شکر گزاری ہمیشہ پسند آتی ہے ۔ میں سمجھتی ہوں شاید انہوں نے زندگی کے کئی سال ہمارے والد کے ساتھ گزارے اسی چیز کا ان پر بھی اثر تھا ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے اچھے عمل سے ارد گرد کے لوگوں کی ذہنیت کو بھی ممکنہ حد تک متاثر کر سکتے ہیں ۔
بطور ڈاکٹر اور انسان اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر اور کار ساز بنائیں گھروں میں نفرتوں کی بجائے انسانیت کی محبت کو پروان چڑھائیں اور کسی کی زندگی کو مشکل نہ بنائیں بلکہ اللہ سے مانگیں اور اللہ پر توکل بھی رکھیں کہ وہ عطا کرنے والا ہے اور بے شک اللہ دینے والا ہے ۔برے الفاظ بول کر کسی کا دل نہ دکھائیں بلکہ سب کو چاہیے کہ ہم سب مل کر معاشرے کا اچھا فرد بننے کی کوشش کریں ۔اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔
٭٭٭

