انصار عباسیہم برباد ہوجائیں گے - بتول فروری ۲۰۲۱

ہم برباد ہوجائیں گے – بتول فروری ۲۰۲۱

دو روز قبل پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی جو ہمارے پاکستانی معاشرہ کے لیے انتہائی سنگین نتائج کی حامل ہے لیکن وہ خبر Ignore ہو گئی۔ نہ کسی ٹی وی چینل نے اُسے اُٹھایا، نہ ہی ٹاک شوز کا وہ موضوع بنی۔ انگریزی اخبارات پڑھنے والے ویسے ہی کم ہیں، اِس لیے اُس اخبار کے محدود قارئین کی نظر سے ہی وہ خبر گزری اور ہو سکتا ہے کہ بہت سوں نے اُسے وہ اہمیت بھی نہ دی ہو اور وہ خطرہ اور سنگینی نوٹ ہی نہ کی ہو جس کا اُس خبر میں ذکر تھا۔ اکثر سیاستدان تو اخبارات کو صرف سیاسی خبروں کی حد تک ہی پڑھتے ہیں اور اِس کے لیے بھی وہ اردو کے اخبارات کا ہی زیادہ مطالعہ کرتے ہیں۔ ویسے بھی جس خبر کا میں ذکر رہا ہوں، وہ ہمارے سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
جس خبر کا میں ذکر کر رہا ہوں اُس کا تعلق پاکستان کے خاندانی نظام سے ہے جو اِس قدر تیزی سے تباہ حالی کا شکار ہے کہ صرف سندھ میں سال 2019کے مقابلہ میں سال 2020کے دوران شادی شدہ عورتوں کی طرف سے خلع لینے (یعنی اپنے شوہر سے عدالت کے ذریعے طلاق لے کر شادی ختم کرنے) کے مقدمات میں سات سو فیصد سے زیادہ (722فیصد) اضافہ ہؤا۔ خبر کے مطابق سال 2019کے دوران صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر خلع کے632کیس عدالتوں میں دائر کیے گئے جبکہ ایسی خواتین جو اپنی شادی ختم کرنے کی خواہاں ہیں اور اُس کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، اُن کی مجموعی تعداد سال 2020میں اِس صوبہ میں پانچ ہزار سے بھی اوپر 5,198تک پہنچ گئی۔ خبر میں ایک متعلقہ خاتون وکیل کے حوالے سے کہا گیا کہ زیادہ تر خلع کے مقدمات دائر کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک طرف شوہر بیویوں کے متعلق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو دوسری طرف میڈیا میں فلموں اور ڈراموں میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، اُس کا حقیقی زندگی سے اگرچہ کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن اُن ڈراموں اور فلموں کو دیکھ کر حقیقی زندگی کو تسلیم کرنا ایسی خواتین کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ وہ خبر ہے جو پاکستان کے معاشرتی اور خاندانی نظام کو لاحق اُس بہت بڑے خطرے کی طرف ہماری توجہ دلا رہی ہے جس کے لیے میرا جسم میری مرضی، عورت کی آزادی، حقوقِ نسواں اور برابری کے نام پر پاکستان میں بہت کام ہو رہا ہے جس میں این جی اوز کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا اپنی فلموں، ڈراموں حتیٰ کہ خبروں اور اشتہاروں کے ذریعے بہت بڑھ چڑھ کر، جیسا کہ وزیراعظم عمران خان بھی کہتے ہیں، وہ کچھ دکھا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کے خاندانی نظام کی تباہی اور فحاشی و عریانی کو پھیلانا ہے۔ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کے موضوعات اور دکھایا جانے والا مواد اتنا گھٹیا ہو چکا ہے کہ کسی تعمیری موضوع یا معاشرہ کی کردار سازی کی بجائے ناجائز تعلقات، طلاق، قریبی اور حرمت والے رشتوں کی پامالی کی کہانیاں دکھائی جاتی ہیں۔ اگر کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے تو وہ این جی اوز اور میڈیا میرا جسم میری مرضی، عورت کی آزادی، حقوقِ نسواں وغیرہ جیسے نعروں کے ذریعے پوری کرکے اس کوشش میں ہیں کہ کوئی گھر نہ بسے۔ ’’میرا جسم میری مرضی والے‘‘ تو حالیہ برسوں میں اپنے مظاہروں میں طلاق کو بہت خوبصورت بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ این جی اوز اور میڈیا پر مسلط ایک سوچ یہ بھی ہے کہ عورت جو جی چاہے کر لے،اُس کے باپ، شوہر وغیرہ کو کوئی حق نہیں کہ اُسے روکے۔ یہاں تو کرکٹر شاہد آفریدی کو میڈیا گردی کا سامنا کرنا پڑا جب اُس نے یہ کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو باہر کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہاں تو کہا جاتا ہے کہ شوہر کو کہو ’’اپنا کھانا خود گرم کرو‘‘۔
گویا ہمارے خاندانی نظام کو مغرب زدہ کرکے تباہ کرنے والے کامیاب ہو رہے ہیں اور ہم ہیں کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بار بار خاندانی نظام کو بچانے کی بات کی اور مثالیں دیں کہ کیسے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فحاشی و عریانی پھیلا کر مغرب اور بھارت میں خاندانی نظام کی تباہی کا سبب بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہی کچھ پاکستان میں بھی ہوگا اگر ہم نے پاکستانی میڈیا، ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کو وہی کچھ کرنے دیا جو مغرب اور بھارت میں ہو رہا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نے اسلامی تاریخ سے متعلق ارطغرل غازی اور دوسرے بہترین ترک ڈرامے پاکستان میں دکھانے کے احکامات جاری کیے جو بہت مقبول ہوئے لیکن اُن کی حکومت کی طرف سے پاکستانی میڈیا، فلموں، ڈراموں کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی اور گھٹیا موضوعات کو روکنے کے لیے کوئی واضع پالیسی سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے غیراخلاقی، فحش اور گھٹیا مواد اب بھی ماضی کی طرح بلا روک ٹوک دکھایا جا رہا ہے۔
ایسا نہیں کہ پاکستان میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک نہیں ہوتا اور شوہر کوئی بڑے اچھے ہوتے ہیں۔ یقیناً یہاں ایسے مردوں کی کمی نہیں جو خواتین اور اپنی بیویوں کے ساتھ بہت بُرے انداز میں پیش آتے ہیں، اُنہیں مارتے ہیں، اُن کے حقوق پورے نہیں کرتے۔ اُس کے لیے میں بار بار جو کہتا ہوں کہ ہمیں اپنی قوم کی تربیت اور کردار سازی کی طرف توجہ دینا ہوگی جس کے لیے ریاست کچھ کر رہی ہے نہ ہی پارلیمنٹ اور نہ ہی سیاستدانوں اور میڈیا کو اِس موضوع میںکوئی دلچسپی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھے۔ اسلام میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس گردانا گیا ہے۔ ایک دوسرے کے متعلق دونوں کے حقوق و فرائض وضع کر دیے گئے لیکن اِس تعلیم اور اس کی بنیاد پر معاشرے کی تربیت کا نہ کوئی نظام ہے اور نہ ہی کوئی اِس نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ ہے۔ نتیجتاً پاکستانی معاشرے کو میرا جسم میری مرضی، عورت کی آزادی، حقوقِ نسواں اور برابری کے نعرے لگانے والوں کے ہاتھوں تیزی سے ایک ایسی تنزلی کا سامنا ہے، جسے اگر نہ روکا گیا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔

انصار عباسی

٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here