ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

گیسوئے اردو کو شانہ ملا مگر – مارچ ۲۰۲۱

اقبال نے غالب کی جدائی میں کہا تھا کہ:
گیسوئے اردو ابھی منت پذیرِ شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزیِ پروانہ ہے
جسٹس جواد ایس خواجہ نے ۸ ستمبر ۲۰۱۵کے اپنے تاریخی فیصلے میں قومی زبان اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم جاری کیا۔گویا انہوں نے گیسوئے اردو کو شانہ فراہم کردیا۔اب ہمیں عملی طور پر وطن عزیز میں اردو کو اس کا حقیقی مقام دلانا ہے۔ میرے لیے اس قومی مقصد کی جدوجہد میں شامل ہونا، اس کا حصہ بننا ایک اعزاز ہے۔یہ میرا حق ہے اور میرا فرض بھی۔ اور یہ وہ جدوجہد ہے جس کے بغیر ہم نہ اپنے بزرگوں کے آگے سرخرو ہو سکتے ہیں اور نہ اپنی آئندہ نسل کے آگے سر اٹھا سکتے ہیں۔
اردو ،جیسا کہ ہم جانتے ہیں ،پاکستان کے تمام علاقوں کی بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ، یہ زبان واحد رابطے کی زبان ہے۔ پاکستان میں اس کی حیثیت قومی زبان کی ہے جبکہ مقبوضہ جموں کشمیر ، وفاقی دارالحکومت دہلی کے علاوہ بھارت کی پانچ ریاستوں میں یہ سرکاری زبان کے طور پہ رائج ہے۔اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں گیارہویں نمبر پہ ہے۔ برصغیر میں ایک کثیر تعداد غیر مسلموں کی بھی اردو زبان بولنے پڑھنے اور لکھنے سے وابستہ تھی۔ بعد میں پاکستان بنا تو اسے مسلمانوں سے تعصب کی بنا پر صر ف چند ووٹوں کے فرق سے سرکاری زبان کا درجہ نہ مل سکا ۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس پورے ملک میں رابطے کی ایک زبان موجود ہے اور زبان بھی ایسی اعلیٰ اور خوبصورت، جس نے ہمارے ہی خطے میں جنم لیا اور تین سو سال کی ترقی کا سفر طے کرکے اب ہم تک پہنچی ہے۔یہ اتنی بڑی نعمت ہے جس کا ہمیں احساس نہیں ہے۔پاکستان بنانے والی سعید روحوں نے نہ صرف ہمیں دین کی مشترک بنیاد پر ایک وطن لے کر دیا، بلکہ اس کو اکٹھا رکھنے کے لیے ایک مشترک زبان بھی دی۔ ورنہ اس ملک میں جس کے ہر خطے میں الگ بولی موجود ہے، اورجہاں پشتو،دری، بلوچی ، براہوی ، بروشکی، بلتی اور شینا جیسی زبانیں ہوں، جن کی کوئی غیر مقامی شخص شد بد نہیں رکھ سکتاجب تک سیکھے نہیں، وہاں ہم وطنی کا تصور کیسے پنپ سکتا تھا؟وہاں ایک ساتھ دل کیسے دھڑکتے؟ ایک جھنڈے تلے جمع ہونے پر کیا بات اکساتی؟ ہمارے دین کے بعد یہ ہماری زبان ہے جس نے ہمیں ایک لڑی میں پرو رکھا ہے ورنہ ممکن ہی نہ تھا کہ ہم ایک قوم کی…..جیسی تیسی بھی ہے…..شکل اختیار کر پاتے۔
جاوید جبار اپنی کتاب میں پاکستانیت کے بنیادی عناصر تحریر کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی قومی شناخت کے ضمن میں سر فہرست اس بات کو رکھا ہے کہ یہاں اردو عوامی رابطے کی زبان ہے۔ زبانوں کی تمام تر رنگا رنگی کے باوجود،ثقافتوں اور تہذیبوں کے فرق کے باوجود، عوام اردو کے ذریعے آپس میں ابلاغ کرنا پسند کرتے ہیں۔
ہماری یہ زبان ہمیں ہمارے دینی ورثے سے جوڑتی ہے۔اس وقت کسی بھی جنوب ایشیائی زبان کے مقابلے میں اردو میں اسلام کا علمی ورثہ سب سے زیادہ ہے۔ اس میں عربی و فارسی الفاظ کا ماخذ سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے دینی ماخذات کو سمجھنا آسان تر ہے۔ اس کے لفظوں کی جڑیں اور مادے عربی ِمبین سے ہیں، جن سے ہمیں اپنے نبیِؐ پاک کی خوشبو آتی ہے۔ حرم کعبہ سے تعلق جڑتا ہؤا محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی امت سے مربوط رکھتی ہے۔ یہ ہمیں دنیا سے مربوط رکھتی ہے کہ اس نے وقت کے ساتھ انگریزی الفاظ کو اپنے اندر سمویا ہے۔ لشکری اورریختہ کی صورت میں زبانوں کے ملغوبے سے جنم لینے والی اس زبان نے ہر اعتبار سے ایک زندہ اور متحرک زبان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
مگر ہم وہ بد نصیب قوم ہیں جس کو اقبال جیسا صاحب بصیرت فکری رہنما عطا کیا گیا جس کے درس خودی سے اقوام عالم نے فائدہ اٹھایا، اپنے زوال کو عروج میں بدلا، ترقی کے زینے طے کیے، دنیا میں سر اٹھا کر جینے کی راہ دیکھی، اپنی شناخت بنائی اور مضبوط کی، خود پر بھروسہ کرنا سیکھا اور فرش سے عرش تک جا پہنچے، مگر وائے ناکامی کہ اقبال کا درس خودی ہماری غلامانہ ذہنیت کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔انگریز گئے تو ہمارے سروں پر اپنے مقامی جانشین مسلط کر گئے جن کی پون صدی بعد بھی خوئے غلامی نہیں جاتی۔جن کے کشکول نہیں ٹوٹتے، جن کو نادیدہ زنجیروں نے آج بھی جکڑ رکھا ہے، جن کے دل ابھی تک زنار پوش ہیں۔ انگریز جاتے ہوئے ان کی خودی اور ان کے ضمیر بھی اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ آج آزادی کے تہتر برس گزار کر بھی ہم اپنے سابق آقاؤں کے غلام رہے۔ میں سوچتی ہوں ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں کیسا پاکستان دیا۔ جہاں نہ زبان اپنی ہے نہ لباس۔ نہ دل کی چاہتیں اپنی ہیں نہ عقل و شعور کے سانچے۔دنیا گھوم لیتے ہیں ، اپنے وطن کے گلی کوچوں سے بے خبر ہیں۔نہ اپنی شناخت پہ فخر ہے نہ اپنے ورثے کی قدروقیمت کا احساس۔
ایک جدید رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سات ہزار زبانیں ہیں جن میں سے تقریباً آدھی زبانیں صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یقینا اردو اس فہرست میں نہیں ہے اور اللہ کرے کبھی نہ ہو ۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے جیتے جاگتے انسان مر جاتے ہیں ، اسی طرح جیتی جاگتی زندگی سے بھرپور زبانیں بھی مرجایا کرتی ہیں…. دوسری زبانوں کے غلبے سے، دوسری تہذیبوں کے غلبے سے، اور پھر جب وہ مرتی ہیں تو ان کے ساتھ ان کی ثقافت اور ان کی تاریخ بھی مر جاتی ہے۔ ان کی حکمت ودانش کا ورثہ بھی مر جاتا ہے۔جب ایک زبان علم و تحقیق کی زبان نہیں رہتی، شعرو ادب کی زبان نہیں رہتی اور اس میدان میں کسی اور زبان کے آگے ہار جاتی ہے تو پھر وہ پہلے بولی بن کر رہ جاتی ہے اور پھر یہ بولی اپنے آخری بولنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔تواس وقت دنیا کی پچاس فیصد زبانیں مرنے کے اس عمل سے گزر رہی ہیں۔ آج ہم اس بدنصیبی کی حالت میں ہیں کہ ہمارے سامنے ہماری زبان ہماری درسگاہوں سے ختم ہو رہی ہے، ہمارے علم و تحقیق کے حلقوں سے ختم ہورہی ہے۔ پاپولر ادب کی زبان انگریزی میں منتقل ہورہی ہے۔
زبان تو تہذیب کی ایک بہت بنیادی علامت ہؤا کرتی ہے۔ہم جو خود کو مسلمان کہتے ہیں ، ہماری تہذیب کی بنیاد ہمارا مذہب ہے۔ اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہندی اور اردو توعلیحدہ ہی مذہب کی بنیاد پہ ہوئی تھیں جب اردو کو عربی رسم الخط میں اور ہندی کو دیوناگری رسم الخط میں لکھنے پر اصرار کیا گیا۔پھر یہ کشمکش بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اس نے دو قومی نظریہ کو جنم دیا اور برصغیر کی تقسیم ہوئی، ایک الگ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یوں اردو تومیرے وجود کے ساتھ جڑی زبان ہے۔
زبان تہذیب کی علامت ہے اور جب ہم نے اپنی زبان کو چھوڑا، اپنی تہذیب سے رشتہ کمزور کیا تو ہر ایرے غیرے کے اثر نے ہمیں مغلوب کرنا شروع کیا۔ مغربی تہذیب تو ایک طرف، دل دکھتا ہے جب میں سکول کے بچوں اور بچیوں کو ہندی کی پیروی میں اردو تلفظ کی درگت بناتے دیکھتی ہوں۔ کیا ہم اتنے مفلس ہوگئے کہ اب ہم ان کے لہجے میں بولیں گے جن سے ہم اس بنیاد پر الگ ہوئے تھے کہ ہماری زبان تو اردو ہے ہندی نہیں؟
ہم اردو کو کیسے خیر باد کہہ دیں۔ ہم کیسے اسے مرتا ہؤا دیکھیں۔ ہم کیسے اس کی درگت بنتی دیکھیں تعلیم کو بیچنے والے ساہوکاروں کے ہاتھوں، علم کو دوکانوں میں سجا کر علم کااستحصال کرنے والوں کے ہاتھوں، تعلیم و تعلم کی پیغمبرانہ روایت کی بے حرمتی کرنے والوں کے ہاتھوں۔جو انگریزی کا جھانسہ دے کر قوم کو ترقی کا فریب دیتے ہیں اور آخر میں نئی نسل کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔ اردو رہتی نہیں، انگریزی تو سکھانے والے ہی موجود نہیں، نہ خدا ہی ملتا ہے نہ وصال صنم کی نوبت آتی ہے۔ سیکھنا سکھانا غائب، علم سے محروم، شناخت کے بحران کا شکار، احساس کمتری کی ماری ہوئی یہ مخلوق ہے کہ دھڑا دھڑ ہماری درسگاہوں سے نکل رہی ہے۔جس کو نہ انگریزی درست آتی ہے نہ اردو۔ رومن میں کچھ بانجھ سے الفاظ لکھ کر ابلاغ کرتے ہیں جسے زبان کہنا اردو تو کیاہر زبان کی توہین ہے۔
اردو کی بجائےانگریزی کو ترقی کا فارمولاقرار دینے کی دلیل ہمارے ہاں ایک محدود طبقے کی جانب سے آتی ہے جو انگریز کی وراثت رکھنے والااور تعلیم پر قابض ہے۔ اس دلیل کا نہ پاکستان کے زمینی حقائق سے کوئی تعلق ہے نہ عوام کی ترجیحات سے، نہ علم کے فروغ سے نہ تعلیم کے معیار سے۔کبھی وزیران ومشیرانِ با تدبیر یہ بھی سوچیں کہ اردو کو پسماندگی کی علامت بھی قرار دے لیا، انگریزی الفاظ بھی بچے بچے کے منہ پر چڑھا دیے، پھر بھی معیار تعلیم روز بروز کیوں گرتا جاتا ہے؟ اور یہ کہ آخر دو نسل پہلے کے پاکستان میں ایسا کیا تھا کہ یہی سرکاری سکول تھے جن سے بیوروکریٹ بھی نکلتے تھے، ڈاکٹر انجینیئر بھی، ادیب اور شاعر بھی، اعلیٰ درجے کے صحافی بھی، محقق بھی، ہر شعبے کے ماہرین بھی۔ کہیں یہ تذکرہ پڑھا تھا کہ اگرانگریزی، انگریزی سکول میں پڑھنے سے آتی ہے تو فیض احمد فیض کو دیکھیں جو ٹاٹ سکول میں پڑھ کر نکلے اور پاکستان ٹائمز کے شاندار اداریے لکھا کرتے تھے۔ اس نسل نے کونسی ترقی تھی جو نہیں کی تھی؟ اپنی زبان میں علم حاصل کر کے نکلے ہوئے طالب علم دنیا بھر میں ماہرین کے طور پہ خدمات انجام دیتے تھے۔ بین الاقوامی معیار کی کارکردگی دکھاتے تھے ۔کچھ تو ہے جو کہیں غلط ہورہا ہے اورجو اردو کو انگریزی سے بدل کر درست نہیں ہوگا۔ آپ اردو کو الزام دینے کی بجائے اپنا فارمولا بدل کر دیکھیے۔ سرکاری سکولوں کا معیار واپس لائیے۔ نصاب یکساں کرنا ہے تو اردو کے حق میں کیجیے۔ جبکہ آپ نے انگریزی لاگو کر کے وہ بات کی جو غالب نے کہا:
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
اور اقبال کے جس شعر کا میں نے آغاز میں حوالہ دیا کہ:
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
تو اردو کو متعدد بارسرکاری زبان قرار دینے کے فیصلوں سے اور آئین میں درج شقوں سے گیسوئےاردو کو پاکستان میں شانہ تو ملا، مگر اس شانے پہ دھرا سر جھکا ہؤا ہے۔ درخواست ہے کہ خدارا اس سر کو اٹھا دیں اور اس پہ دستار فضیلت رکھ دیں تاکہ اردو اپنے ہی گھر میں بے توقیر نہ ہوتی پھرے۔
(مرکز قومی زبان اور اسلامک لائیرز فورم کے تحت منعقدہ وکلا کنونشن (ہائی کورٹ لاہور)میں پیش کی گئی تقریر کا متن)

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
2 years ago

صائمہ نے اردو زبان کے نفاذ کی صورتز حال پر نڑے درد سے لکھا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم من حیث القوم اردو زبان کو رائج کروانے میں کردار ادا کریں۔

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x