۲۰۲۳ بتول فروریگناہ گاروں کی سزا - بتول فروری ۲۰۲۳

گناہ گاروں کی سزا – بتول فروری ۲۰۲۳

اللہ تعالیٰ نے کائنات اور اس کی ہر شے کو تخلیق کیا اور انہیں ایک نظام کا پابند بنایا، اور اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک کی درجہ بندی کی، ان کے خواص اور صلاحیتوں کے مطابق انہیں مختلف کام تفویض کئے۔ اس دنیا کو بنایا اور اس میں انسان کو باقی مخلوقات سے افضل و اشرف بنایا، اور اس کی دائمی حیات سے قبل اس کی دنیا کی زندگی کو عارضی بنایا اور اس قیام کی مدت کو اس کے لیے ایک دار الامتحان قرار دیا۔اور اس دنیا کے پہلے جوڑے کو اس رہنمائی کے ساتھ دنیا میں اتارا:
’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (البقرۃ،۳۸۔۳۹)
یہ نسلِ انسانی جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے،کے حق میں ابتدائے آفرینش سے قیامت تک کے لیے اللہ کا مستقل فرمان ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کا عہد بھی کہا جاتا ہے۔اس کی رو سے انسان کا کام اپنا راستہ خود تجویز کرنا نہیں ہے، بلکہ وہ اس کا پابند ہے کہ اس راستے کی پیروی کرے جو اس کے رب نے اس کے لیے تجویز کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو پے در پے اس مقصد کے لیے نازل فرمایا، تاکہ انسان جان لیں کہ رب کی رضا اسی کے احکام کی اطاعت میں ہے، اس کے علاوہ ہر کام غلط ہے، وہ مالکِ کائنات کی نافرمانی، حکم عدولی اور اس کے خلاف بغاوت ہے، جس کی سزا جہنّم کے سوا اور کچھ نہیں۔
اعمال کے لوازم اور نتائج
جس طرح دنیا میں ہر ایک چیز کی ایک خاصیت ہے اور جب وہ وقوع پزیر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے خواص اور آثار بھی پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح انسان کی اندرونی کیفیات اور اعمال کے بھی کچھ آثار و لوازم ہیں جو اس سے الگ نہیں ہو سکتے، جیسے غرور اور خاکساری، بخل اور فیاضی، انتقام اور عفو، شجاعت اور بزدلی، تقوی اور فسق اور ایمان اور کفر ، ہر ایک کا ایک اثر و نتیجہ ہے جو اس سے اسی طرح الگ نہیں ہو سکتا جیسے سنکھیا سے سمّیت (زہریلا ہونا)، شکر سے مٹھاس اورآگ سے حرارت جدا نہیں ہو سکتی، اور ان معنوی ، روحانی اور نفسیاتی چیزوں میں علت اور معلول کا وہی لزوم ہے جو جسمانی ، مادی اور طبیعاتی اشیاء میں ہے۔ اور اس کے دائرے میں انسان کا ہر قول اور ہر عمل شامل اورداخل ہے۔یہی سبب ہے کہ گناہ کے لازمی نتیجے کا نام اسلام میں عقاب اور اعمالِ صالحہ کا لازمی نتیجہ ثواب رکھا گیا ہے۔(سیرۃ النبیﷺ، علامہ شبلی نعمانی، علامہ سید سلیمان ندوی،ج۴،ص۳۸۶)
قران کریم میں ارشاد ہے:
’’آج تم اسی چیز کا بدلہ پاؤ گے جو تم کرتے تھے‘‘۔ (جاثیہ،۲۸)
انسانی جزا و سزا کے تین گھر
انسان کے تین گھر ہیں؛ پہلا اس کا دنیا کا گھر جسے عالمِ فانی کہتے ہیں۔ دوسرا درمیانی دور یعنی عالمِ برزخ یا عالمِ موت۔ اور تیسرا اس غیر فانی زندگی کا گھر جس کو دارِ آخرت کہتے ہیں۔
انسان کو اپنے اعمال کی پہلی جزا و سزا تو اسی دنیا کی کامیابی و ناکامی کی صورت میں ملتی ہے، گو اس کامیابی و ناکامی کا معیار مختلف ہو۔جب روح دوسری منزل میں قدم رکھتی ہے تو یہاں بھی وہ اپنے اعمال کی تھوڑی بہت جزا وسزا کا منظر دیکھ لیتی ہے۔ اورجب دنیا کا خاتمہ ہو گا اور نئی زمین اور نیا آسمان بنے گا، تو فانی انسانوں کو دائمی زندگی کے لیے بیدار کیا جائے گا، اس وقت وہ اعمال کی پوری جزا و سزا پائیں گے۔(سیرۃ

النبیؐ،ص۳۹۶)
اس میں کامیاب ہونے والوں کے لیے دائمی جنت ہے اور ناکام ہونے والوں کے لیے ہمیشہ کا خسارہ۔
اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوم کی سزا کچھ یوں بیان کی ہے:
’’اللہ کی نعمت پا لینے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے، تو اللہ اسے سخت سزا دیتا ہے‘‘۔(البقرۃ، ۲۱۱)
اور ان نعمتوں میں سب سے بڑھ کر ہدایت کی نعمت ہے جو وہ اپنے بندوں کو دیتا ہے۔یہاں جس نعمت کا ذکر ہو رہا ہے وہ نصیحتِ اسلام ہے یا اس سے مراد اسلام کی نعمت ہے۔انسانیت نے جب بھی اس نعمتِ عظمی کو بیچ کر شقاوت اور بدبختی حاصل کی، اسے آخرت سے بھی پہلے اس دنیاوی زندگی میں سخت سے سخت سزا دی گئی۔کرہء ارض پر پھیلی ہوئی اس بد بخت انسانیت کی حالتِ زار پر نگاہ تو ڈالیے! دیکھتے نہیں کہ وہ ہر جگہ بدبختی اور تلخی ہی پاتی ہے۔ ہر جگہ حیرت اور اضطراب کا شکار ہے۔ انسان، انسان کو کھائے جا رہا ہے۔ فرد انسانیت کی تلاش میں دوڑتا ہے، اور انسانیت فرد کی متلاشی ہے۔ لیکن دونوں خالی سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔معاشرہ قلق، بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے، جس میں کوئی اطمینان نہیں۔یوں لگتا ہے جیسے فرزندانِ تہذیب کی روح خالی ہے اور وہ خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں۔ کیا یہ عذابِ الہی نہیں ہے؟یقیناً یہ عذاب ہے اور ہر اس شخص کے لیے ہے جو اسلامی نظامِ زندگی اختیار نہیں کرتا۔(دیکھیے: فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
اللہ کے ہاں مجازات کا کلیہ
اللہ تعالیٰ کا جزا و سزا کا قانون بڑا عادلانہ ہے:
’’اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص نے جونیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے، اور جو بدی سمیٹی ہے اس وبال اسی پر ہے‘‘۔ (البقرۃ،۲۸۶)
یہ اللہ کا مجازات کا کلیہ ہے۔ ہر آدمی انعام اسی خدمت پر پائے گا جو اس نے خود انجام دی ہو، اور اسی طرح ہر شخص اسی قصور میں پکڑا جائے گا جس کا وہ خود مرتکب ہوا ہو۔ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ایک آدمی نے کسی نیک کام کی بنا رکھی ہو اور دنیا میں ہزاروں سال تک اس کام کے اثرات چلتے رہیں اور یہ سب اس کے کارنامے میں لکھے جائیں۔ اور ایک دوسرے شخص نے کسی برائی کی بنیاد رکھی ہو اور صدیوں تک اس کا اثر دنیا میں جاری رہے اور وہ اس ظالمِ اوّل کے حساب میں درج ہوتا رہے۔لیکن یہ اچھا یا برا ، جو کچھ بھی پھل ہو گااسی کی سعی اور اسی کے کسب کا نتیجہ ہو گا۔ (تفہیم القرآن، ج۱،ص۲۲۴)
مسلمان کو منافقت اور قول و فعل کے تضاد سے بچنا چاہیے، اسی طرح اسے برے خاتمے سے بچنے کی جدو جہد کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں معاصی کے ارتکاب اور آخرت کی شرمندگی سے بچائے۔ بعض لوگ اس احساس کے ساتھ دنیا کی زندگی اور اس میں ملنے والی مہلتِ عمل کو ضائع کر دیتے ہیں کہ اگر آخرت میں سزا ملی بھی تو آخر کار ہم جنت میں چلے جائیں گے۔ بنی اسرائیل بھی اپنے برے اعمال کی کثرت کے باوجود ڈھٹائی سے کہتے تھے: ’’ہمیں دوزخ کی آگ محض چند روز چھوئے گی‘‘۔ یا یہ کہنا کہ کہ ہم تو بڑے گنہ گار ہیں ، مگر اللہ غفور رحیم ہے۔ یہ اللہ کے بارے میں درست حسنِ ظن نہیں ہے۔ اگر وہ اللہ کو جان لیں تو نیک اعمال کے ذریعے آخرت کی تیاری کریں، اور جب ان سے کوئی قصور سرزد ہو جائے تو وہ اللہ کی طرف پلٹ آئیں اور ندامت کے ساتھ اس کے حضور توبہ کریں، اور یہ رویہ ان کے اندر حسنِ عمل کی خواہش اور کوشش کو اور بڑھا دے۔
شریعت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم معصیت کے کاموں اور گناہوں کے ارتکاب کو حقیر اور معمولی نہ سمجھیں، ایسا شخص جو گناہوں کو معمولی سمجھتا ہے اور سوء عمل پر پریشان نہیں ہوتا ، ایسے شخص کو اللہ بھی اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اس کا ایمان کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی زندگی کا خاتمہ بھی ایسے ہی حال میں ہو جاتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:
’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت برے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ اللہ نے تو آسمانو اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور اس لیے کیا ہے کہ ہر

’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت برے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ اللہ نے تو آسمانو اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے۔ لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا‘‘۔ (الجاثیہ، ۲۱۔۲۲)
خداوندِ عالم کی حکمت اور عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ دیکھے کہ مومنِ صالح نے دنیا کی زندگی کس طرح بسر کی ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا گل کھلاتا رہا ہے۔ مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں رہا، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میںاس سے بڑھ کر اور کیا بے انصافی ہو سکتی ہے؟ (تفہیم القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
فانی دار الجزاء
دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اس کے رنج و غم بھی عارضی اور فانی ہیں اور مصیبتیں بھی! اور اس کی خوشیاں اور راحتیں بھی عارضی!
گنہگاروں کے لیے یہاں کی ذلت اور رسوائی سے بڑھ کر آخرت کی ذلت و رسوائی ہے۔
’’تو اللہ نے انہیں اس دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزا چکھایا، اور شبہ نہیں کہ آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے، اگر وہ جانتے۔ (الزمر،۲۶)
انسان طبعی لحاظ سے کمزور اور زود فراموش ہے، وہ خطاؤں کا پتلا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس حیات ِ مستعار میں بار بار سنبھلنے ، سدھرنے اور کامیاب بننے کے مواقع دیے ہیں۔ کہیں انبیاء علیھم السلام اور مصلحین کے ذریعے، کہیں امر بامعروف ونہی عن المنکر سے اور کہیں دنیا میں گناہوں پر جسمانی سزاؤں اور کفاروں اور تعزیرات کے ذریعے اسے متنبہ بھی کیا اور اس کہیں اس کے گناہ دھلنے کا بھی انتظام فرما دیا تاکہ وہ اخروی سزا سے بچ جائے۔ان کے مراتب درج ذیل ہیں:
۱ ۔نیکی سے برائی کا کفارہ؛ ہر انسان سے غلطیاں صادر ہوتی ہیں، یہ اس کی فطری کمزوری ہے۔ اللہ نے انسانوں میں یہ فطرت ودیعت کی ہے کہ جس کی نیکیاں زیادہ ہوں اس کی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے، یا یہ کہ اس کوئی ایک عمل ایسا زبردست ہو جاتا ہے کہ اس کی اگلی پچھلی سب برائیاں دھل جاتی ہیں، اسی کا نام کفارہء عمل ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:
’’بلا شبہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں‘‘۔ (ھود،۱۱۴) یعنی نیکیوں کی تدریجی ترقی بالآخر برائیوں کو کم کرتی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ پورا انسان نیکو کار بن جاتا ہے۔
۲ ۔توبہ کفارہ ہے؛ جسدِ انسانی میں سب سے اہم اس کا دل ہے، اگر دل خلوص سے اللہ کی جانب رجوع کرے اور اپنے قصوروں اور گناہوں پر نادم ہو کر ان کی معافی چاہے اور آئندہ کے لیے نیکو کاری کا مصمم ارادہ کرے، تو یہ توبہ اللہ کی رحمت کو جوش میں لاتی ہے۔فرمایا:
’’مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایااور نیک عمل کیے ، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہو گی‘‘۔ (مریم،۶۰)
۳ ۔مصائب کی تنبیہ اور کفارہ؛ دنیا میں انسان کو مصائب سے زیادہ بری اور تکلیف دہ چیز کوئی دوسری نہیں معلوم ہوتی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افراد بلکہ جماعتیں اور قومیں بھی مصائب ہی کی تنبیہ اور سرزنش سے متنبہ اور ہوشیار ہو کر آمادہء اصلاح ہو جاتی ہیں۔ صبر، استقلال، تواضع، شکر، محبت اور رحم جیسے تمام اخلاقی فضائل کی تربیت مصائب ہی کے زیرِ سایہ ہوتی ہے، اور بہت سی ٹھوکریں انسان کو سنبھلنے کے مواقع دیتی ہیں۔ غافل انسانوں اور خود فراموش سرمستوں کو ہوش میں لانے کے لیے کبھی مصیبتیںہی اصل کردار ادا کرتی ہیں، طوفانوں میں گھر کر ملحد کو بھی خدا یاد آجاتا ہے۔ بیماری، تنگ دستی، غزیزوں کی موت، آرزوؤں کی ناکامی کے ذریعے کبھی انسان رشد و ہدایت تک پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح یہ مصائب انسان کے اعمالِ بد کا کفارہ بھی بن جاتے ہیں۔اس طرح تنبیہ کرنا اللہ کی سنت بھی ہے، فرمایا:
’’اور بے شک ہم نے فرعون والوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے‘‘۔ (الاعراف،۱۳۰)
مزید فرمایا: ’’اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں۔(السجدۃ،۲۱)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری: ’’جو کوئی برائی کرے گا، اس کا بدلہ اسے دیا جائے گا‘‘۔ (النساء، ۱۲۳) تو میں نے آپؐ سے اس کا مطلب پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر عتاب ہے۔ اس کا بدلہ دنیا میں بندے کی ہر تکلیف سے پورا ہو جاتا ہے، جیسے اس کو بخار آجائے، یا وہ کسی مصیبت سے دوچار ہو، یہاں تک کہ جیب میں کوئی چیز رکھ کر بھول جائے اور اس سے جو اس کو تکلیف پہنچے ، وہ تکلیف بھی کفارہ بن جاتی ہے، یہاں تک کہ بندہ گناہوں سے اس طرح صاف ستھرا ہو کر نکلتا ہے جیسے بھٹی سے سونا‘‘۔ (رواہ ابو داؤد، کتاب الجنائز)
الغرض دنیا کی تکلیفیں گزشتہ گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ اور کفارہ بن جاتی ہیں، تاکہ وہ اخروی عذاب سے بچ جائے۔
عذابِ برزخ بھی کفارہ ہے
اگر کسی انسان کے گناہ اور اسکے اعمالِ بد اتنے زیادہ ہیں کہ اس کی دنیاوی زندگی کے تمام کفارے بھی اسے پاک نہ کر سکے تو اسے مرنے کے بعد عالمِ برزخ میںاپنے اعمالِ بد کی مناسب سزاؤں کی صورتوں میں تکلیفیں اٹھا کر پاک صاف بننا پڑے گا؛ یہی عالمِ برزخ کا عذاب ہے۔بعض احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے:
ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کے لوگوں کا اپنی قبروں میں طول قیام ان کو گناہوں سے خالص کرتا ہے‘‘۔ (کنز الاعمال، ج۸،ص۹۶)
ابن ِ قیم کہتے ہیں: ’’اگر ان بیماریوں کا یہ علاج اس دنیا میں نجات کے لیے پورا ہو گیا تو خیر، ورنہ برزخ کی سزا سے علاج کیا جائے گا، اگر یہ نجات کے لیے کافی ہو گیا تو خیر ، ورنہ پھر قیامت کا مقام اور اس کی ہولناکیاں باقی بیماریوں (گناہوں) سے نجات دلائیں گی‘‘۔(شفاء العلیل، ابن قیم، ص۲۲۴)
رویائے برزخ کی حدیث میں وہ منظر دکھایا گیا ہے ، جس میں گنہگارعذاب کے دور سے نکل کر نہرِ حیات میں نئی زندگی پا کر جنت کے مستحق قرار پائے ہیں۔(سیرت النبیؐ،ج۲،ص۴۰۶)
دائمی جزا کا گھر
قیامت جزا و سزا کے فیصلے کا دن ہے، اس کے بارے میں خوب وضاحت سے فرما دیا گیا:
’’وہ دن جب کہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھپی نہ ہو گی۔( اس روز پکار کر پوچھا جائے گا:)آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکار اٹھے گا:) اللہ واحد قہار کی۔ (کہا جائے گا:) آج ہر متنفس کو اس کمائی کا بدلہ دیا جائیگاجو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا‘‘۔ (المؤمن،۱۶۔۱۷)
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے قانونِ جزا و سزا کو نافذ کرے گا۔ اس قانون کے مطابق ایمان اور شکر گزاری استحقاقِ جنت کی شرطیں ہیں اور کفران و تکذیب استحقاقِ دوزخ کی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس لیے نہیں بنایا کہ وہ انہیں پیداکر کے دوزخ کا ایندھن بنائے بلکہ اس نے تو ان کو اپنی رحمت کے ظہور کے لیے پیدا کیاہے۔ اللہ تعالیٰ کی اصلی صفت یہی ہے کہ وہ غفور رحیم ہے۔ اب اگر کوئی اپنے اوپر ظلم کر کے گناہ کرتا ہے اور اس لیے خود کو رحمتِ الہی سے دور کر لیتا ہے تو یہ خود انسان کا فعل ہے، ’’اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا‘‘۔ (المؤمن،۳۱)
دوزخ کاعذاب گناہ کاکفارہ ہے
جہنم کی آگ کافروں کے لیے دائمی سزا ہے۔جہنم کی سزائیں بڑی متنوع ہیں ۔ ان کا ذکر سن کر ہی بدن کانپ جاتا ہے۔اس میں ایسے رسوا کن عذاب ہیں جن کا تصور ہی لرزا دیتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’اس طرح جن لوگوں نے کفر اور بغاوت کا رویہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے۔ اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ بجزجہنم کے راستے کے نہ دکھائے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے‘‘۔ (النساء، ۱۶۸۔۱۶۹)
اور وہ نافرمان جو توحید پر ایمان بھی رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک تو نہیں کیا مگر اس کی نافرمانیاں کی ہیں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے تو انہیں بخش دے اور چاہے تو سزا دے۔اگر ان کے حق میں عذاب کا فیصلہ ہوا تو بھی وہ عذاب ابدی اور دائمی نہ ہو گا، بلکہ وہ اپنے گناہوں کی سزا پا کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔اسی کا ذکر

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے:
’’بس اللہ شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی کو شریک ٹھہرایا، اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی‘‘۔ (النساء،۴۸)
جہنم کی آگ گناہ گاروں کی سزا ہے۔ اسلام کی رو سے سب سے بڑے مجرم مشرک و کافر ہیں، جو اس وقت تک نجات نہ پا سکیں گے جب تک دوزخ کے تنور میں ایک گرم کوئلہ بھی باقی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’وہ (دوزخ میں) مدتوں پڑے رہیں گے‘‘۔ (النبأ،۲۳)
’’دوزخ ہے تمہارا ٹھکانا، اس میں تم سدا رہنے والے ہو، الا کہ اللہ ہی کچھ اور چاہے، بے شک تیرا رب علیم و حکیم ہے‘‘۔(الانعام،۱۵)
دوزخ میں جانے والے
جزا وسزا کے فیصلے کے بعد جہنم میں جانے والے گنہگار دو قسم کے ہوں گے: ۱جو دل میں ایمان رکھتے تھے مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر مستحقِ دوزخ بنے۔ ایسے لوگ عذاب کے بغیر ہی رحمت خداوندی کی بنا پر یا عذاب کے بعد اللہ تعالیٰ کے عفو کرم سے سرفراز ہو کر بالآخر جنت میں داخل ہوں گے۔
۲ دوسرے وہ جو ہمیشہ کفر و شرک میں مبتلا رہے اور اس سے توبہ کیے یا ایمان لائے بغیر مر گئے، ایسے لوگوں کی بخشش کبھی نہ ہو گی اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔ انہیں کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
’’بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے وہ آگ مہیا کی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (الاحزاب،۶۴)
ہمیشہ کا عذاب
قرآنِ کریم میں عذاب اور اس کے مشتق الفاظ کا ذکر ۳۷۳ مرتبہ آیا ہے۔ اور یہ لفظ ہلاکت سے پانچ گنا زیادہ مرتبہ آیا ہے۔اس سے اس کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔قرآن مجید میں دنیا و آخرت میںعذاب کی صفات میں عذاب عظیم، عذاب الیم، عذاب شدید،عذاب غلیظ اور عذاب مھین وغیرہ کے الفاظ عذاب ِ آخرت کی دلالت کے لیے آئے ہیں۔اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت زیادہ ہے۔ دنیا کا عذاب تو محض نفس پر ہے یا جسمانی اذیت کے طور پر یا ان دونوں پر مشتمل! لیکن آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ شدید ہے۔
دنیا کے عذاب کی معافی بھی مل سکتی ہے، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسم اور نفس اس کے عادی ہو جائی، اور ایسا بھی نہ ہو تو عذاب کی شدت سے موت واقع ہو سکتی ہے جو اس عذاب کے خاتمے کی صورت بن جائے گی۔ مگر آخرت کا عذاب، عذابِ ابدی ہے۔ نہ موت آئے گی اور نہ اس کا خاتمہ ہو گا۔نہ اس عذاب میں تخفیف اور کمی کی جائے گی، نہ اسے ٹالا جا سکے گا اور نہ کوئی سزا یافتہ اس سے بھاگ ہی سکے گا۔
’’جن لوگوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی وہ اس سے نکانا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا اب اس عذاب کا مزا چکھو، جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے‘‘۔ (السجدۃ،۲۰)
’’جو بڑی آگ میں داخل کیا جائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا‘‘ ۔ (الاعلی،۱۲۔۱۳)
’’اس (جہنّم ) پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں‘‘۔(التحریم،۶)
’’جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے، ان کے لیے جہنّم کا عذاب ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہو گی، شدتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی‘‘۔ (الملک،۶۔۸)
عذاب کی کیفیت
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اس جہنم اور اس کے مختلف النوع عذابوںکا تذکرہ کیا ہے، تاکہ اس کے بندے کفر، فسق اور بغاوت ہی سے نہیں چھوٹے چھوٹے گناہوں اور معصیت کے کاموں سے دور

رہیں۔
’’کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے‘‘۔ (الدھر،۴)
’’عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا اور تم کیا جانو کہ دوزخ کیا ہے؟ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے، کھال جھلس دینے والی۔ انیس کارکن اس پر مقرر ہیں‘‘۔ (المدثر،۲۷۔۳۰)
’’بولو یہ ضیافت (یعنی جنت) اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے۔وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے، پھر اس پر پینے کے لیے انہیں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتشِ دوزخ کی طرف ہو گی‘‘۔ (الصفت، ۶۲۔۶۸)
عذاب پیہم ہو گا۔ ارشاد ہے: ’’رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنّم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے، کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے‘‘۔ (الزخرف، ۷۴۔۷۵)
’’چلو اس چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو اس سایے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، نہ ٹھنڈک پہنچانے والا نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا۔ وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی (جو اچھلتی ہوں یوں محسوس ہوں گی) گویا زرد اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے‘‘۔(المرسلات،۲۹۔۳۴)
جہنمیوں کا کھانا پینا کیا ہو گا؟ ’’اور سرکشوں کا بد ترین ٹھکانا جہنم ہے، جہنّم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ۔ یہ ہے ان کے لیے، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی، پیپ لہو اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا۔‘‘۔ (ص،۵۵۔۵۷)
’’ہمارے پاس (ان کے لیے ) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب‘‘۔ (المزّمل،۱۲۔۱۳)
جہنم کی قید کا منظر: ’’عنقریب انہیں معلوم ہو گا جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں، جن سے پکڑ کر وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے‘‘۔ المؤمن،۷۱۔۷۲)
’’(حکم ہوگا:) پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اسے جہنّم میں جھونک دو، پھر اسے ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا، لہذا آج یہاں نہ اس کا کوئی غمخوار ہے نہ زخموں کے دھوون کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا، جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا‘‘۔ (الحاقۃ،۲۹۔۴۷)
مجرم کی کیفیت
’’مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اس کو پناہ دینے والا تھا، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیے میں دے دے اور یہ تدبیر اسے نجات دلا دے۔ ہر گز نہیں! وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہو گی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی‘‘۔ (المعارج،۱۱۔۱۶)
جہنم کافروں کا دائمی اور ابدی گھر ہے، اور ایسے لوگوں کا بھی جنھوں نے ایمان کا زبانی اقرار کرنے کے باوجود معصیت کی روش نہ چھوڑی، اور وہ لوگ جنھوں نے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش کی، یعنی شرک کے مرتکب ہوئے۔ ایسے لوگوں کی سزا ایسی جھنم ہے جس کو برداشت کرنے کی طاقت کسی بشر میں نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام گناہوں اور معاصی کے ارتکاب سے بچائے، اور امت مسلمہ اللہ تعالیٰ سے کی گئی اس تجارت کو یاد رکھے جس کے تحت ان کی جانیں اور مال اللہ کو جنت کے عوض فروخت کر دیے گئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لغزشوں پر معافی کا منتظر رہتا ہے، اور وہ توبہ کرنے والے اور پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here