ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پیاری خالہ جان کی جدائی!-بتول جنوری ۲۰۲۱

غم کے گہرے اندھیروں میں روشنی کی ایک ہی کرن نظر آتی ہے اور وہ ہے اللہ رحمن ورحیم کی رحمت جو ہر چیز سے زیادہ وسیع ہے۔ میں غم میں ڈوبی ہاتھ میں قلم لیے دیر تک سوچتی رہی کہ کیا لکھوں اور کیسے لکھوں؟ آخر اس حقیقت نے حوصلہ دیا کہ دنیا کا قیام عارضی ہے اور پیاروں کی جدائی بھی عارضی ہے۔ آخر ہم سب کو ایک دوسرے سے جاملنا ہے۔خوش قسمت بندے وہی ہیں جو یہاں سے اپنا زاد سفر لے کر جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پیاری شخصیت کی یاد آج مجھے تڑپا رہی ہے۔
قدرت کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جس کسی نے بھی اس دنیا میں آنا ہے اس نے ایک نہ ایک دن لازماً یہاں سے رخصت ہو جانا ہے۔ کچھ لوگ بچپن میں اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں، کچھ جوانی میں اور کچھ بڑھاپے میں موت کی گھاٹی میں اتر جاتے ہیں۔ غرض دنیا مثل مسافر خانہ کے ہے۔ ہر آنے والے کو ایک روزیہاں سے چلے جانا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کا چلے جانا اس قدر غمزدہ کر دیتا ہے کہ جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک غمزدہ خبر ایک شب سننے کو ملی۔ دل دوز اطلاع یہ تھی کہ میری پیاری خالہ جان اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئی ہیں۔ دل کو شدید صدمہ پہنچا اور بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر لبوں سے یہ الفاظ جاری ہوئے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَO اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِی فِیْ مَصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْلِیْ خَیْراً مِّنْھَا ’’ بلاشبہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ مجھے اس مصیبت کا اجر عطا فرما اور بہترین نعم البدل عطا فرما۔‘‘
یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت ام سلمہؓنے ان لمحات میں کہے جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہؤا تھا۔ آپ نے یہ جانتے ہوئے کہ ابوسلمہؓ کی طرح شفیق و ہمدرد اور محبت نچھاور کرنے والا شوہر اب انھیں نہیں ملے گا، لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے رب کے حضور یہ کلمات ادا کیے۔ اللہ کتنا کریم و حلیم ہے کہ اپنے بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا۔ حضرت ابوسلمہؓ کے بدلے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان رفاقت نصیب فرمائی جو سب سے اعلیٰ اور بے مثال ہے۔ میں نے بھی یہ جانتے ہوئے کہ اب خالہ جان کی مانند کوئی شفقت و الفت کا سایہ ہمارے لیے ناپید ہے لیکن پھر بھی دل سے اسی آرزو اور امید کے ساتھ یہ کلمات ادا کیے۔ رب تعالیٰ میری خالہ جان کی قبر کو منور فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)۔
خالہ جان رشتے میں میری نانی جان بھی لگتی تھیں اور دادی جان بھی۔ آپ میرے دادا جان حافظ محمد ادریس صاحب اور میری نانی اماں اُم وقاص صاحبہ کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔ مرحومہ کے اپنے بچے نہیں تھے۔ وہ اپنے سب بہن بھائیوں کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ پیار و محبت سے نوازتی تھیں۔ نانی یا دادی جان کہنے کی بجائے ہم سب انھیں خالہ جی کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔ میں نے قریباً دس سال ان کی زندگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا اور اس مشاہدے کے اختتام پر میں جس نتیجے پر پہنچی، وہ یہ ہے کہ ان کی زندگی انتہائی سادہ اور دنیوی خواہشات سے خالی تھی۔ خوفِ خدا اور یادِربانی میں وہ اپنے شب و روز بسر کرتی تھیں۔ بروقت نماز پڑھنے کی عادی تھیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی نہ صرف ترغیب دیتی تھیں بلکہ بہترین اور عملی مثال بھی قائم کرتی تھیں۔
قرآن پاک بچپن میں پڑھا تھا۔ زندگی بھر تلاوتِ قرآن کا ایسا معمول رہا کہ عموماً ہفتے میں ایک ختم قرآن مکمل ہوجاتا تھا۔ آخری سالوں میں صحت کمزور ہوگئی تو مہینے میں ایک قرآن ختم ہوجاتا تھا۔ اردو میں اسلامی کتابیں ہمیشہ آپ کے مطالعہ میں رہتیں۔ میں ان کو دیکھ کر دل میں کہتی کہ اللہ نے ان کو کتنا دماغ اور ذہانت بخشی ہے۔ اگر ان کو تعلیم دلائی جاتی تو بہت زیادہ علمی کام کرجاتیں۔ بہرحال پھر بھی انھوں نے سادہ زندگی میں بڑے عظیم کام کیے ہیں جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔
خالہ جان کے پاس کوئی زیادہ مال و دولت نہ تھا۔ خاندانی زرعی زمین سے ان کے حصے کی کچھ آمدن آتی تھی اور کچھ ان کی سرمایہ کاری سے پیسے ملا کرتے تھے۔ آپ اس کے باوجود اپنا مال مستحقین پر کھلے دل سے خرچ کرتی تھیں۔ اپنے عزیز و اقارب میں بھی ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی سے پیش آتیں جو پسماندہ یا تکلیف زدہ ہوتے۔ جس کسی کی کسی معاملے میں زیادتی ہوتی ، اسے خوب سرزنش کرتیں اور اپنا رویہ درست کرنے کی تلقین فرماتیں ۔دنیا بھر کے مظلومین کا ذکر سن کر مغموم ہو جایا کرتیں اور ان کے لیے دن رات دعائیں کیا کرتی تھیں۔ہر سال کشمیر فنڈ میں اعانت جمع کراتیں اور کشمیریوں کے لیے ہر سال قربانی کی رقم بھی جماعت اسلامی کے مرکز میں جمع کراتی تھیں۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلومین کے لیے بالخصوص رو رو کر راتوں کو دعا کرتی تھیں۔
مختصراً یہ کہ ان کی زندگی کو اگر تحریری صورت میں ڈھالنا چاہوں تو صفحات بھر جائیں گے، مگر پھر بھی بے شمار یادیں باقی رہیں گی۔ آخر میں اس دعا سے اختتام کرتی ہوںکہ اے اللہ میری خالہ جان کی قبر کو نور سے منور فرما۔ ان کی تمام نیکیوں کابہترین بدلہ عطا کر اور جو بھی غلطی ہوئی ہو، اپنی رحمت سے معاف فرما دے۔ وہ تیری عاجز بندی تھی، آمین۔

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x