ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پکے رنگوں کی محبت! – بتول نومبر ۲۰۲۱

محبت سیلابی ریلے کی طرح کم ظرف نہیں ہوتی جو اپنے آپ میں نہ سما سکے اور اچھل کر کناروں سے باہر آجائے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد جوہڑ میں تبدیل ہو جائے !

گرمی اور سردی محض احساس کا نام ہے یا واقعتا کوئی حقیقت ! لیکن حبس کا وجود مسلم ہے ۔ حبس موسم و ماحول میں ہو یا معاشرے میں ! کسی بد دعا کی طرح مسلط ہوتا ہؤا محسوس ہوتا ہے ۔ اول اول کی محبت کی طرح کراچی میں گرمی کا پہلا مہینہ بھی سنبھالے نہیں سنبھلتا، دودن لو کے تھپیڑے چلتے رہے اور آج ایسا حبس کے گھٹن کے مارے سانس لینا بھی محال ہو رہا تھا ۔ گھر گویا اینٹوں کا بھٹا بنا ہؤا تھا ۔ ذرا شام ڈھلی تو موسم اچانک خوشگوار ہو گیا ۔ کراچی کا بھی عجیب موسم ہے شام ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دن بھر کی سختی کو بھگالے جاتے ہیں، شاید جبھی یہ شہر بڑے بڑے صدمات جھیل جاتا ہے ۔
ہمارا گھر شہر کے مضافات میں الگ تھلگ واقع خوبصورت بستی میں تھا ۔ شہر کی مصروف ترین زندگی سے نکل کر شام کو گھر واپس پہنچتے تو لگتا تھا کہ وقت نے اپنی رفتار کم کردی ہو۔ خوبصورت لمحے خواہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی لیکن اپنی دسترس میں لگے تھے ۔ ہم سب نے رات کا کھانا کھایا اور چہل قدمی کے لیے گھر سے باہر نکل کھڑے ہوئے ۔ یہ ہماری بستی کے بیشتر مکینوں کا گرمیوں میں معمول تھا ۔ گاڑیوں کے شور اور دھوئیں سے پاک سڑکوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے پیدل چلنے والوں کے لیے ہی بنائی گئی ہوں ۔ جا بجا دن بھر کے تھکے ماندے لوگ اپنی فیملیوں کے ہمراہ چہل قدمی کر رہے تھے بچے بے فکری سے ادھر اُدھر بھاگتے پھر رہے تھے۔
ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر میری دوست کائنات کا گھر تھا ۔ ہم ٹہلتے ہوئے ان کے گھر کے سامنے پہنچے تو اس کا بھائی شانی اور اس کے گھر سے متصل لان میں اپنی محفل جمائے ہوئے تھے ۔ ٹرے میں ایک جانب رکھی ہوئی پیالیوں سے انداہ ہوتا تھا کہ ابھی چائے کا دور ختم ہؤا ہے۔ شانی اور اس کے دوستوں کے علاوہ ان کے درمیان موجود چوتھا فرد نووارد تھا ۔
بستی چھوٹی ہو تو بستی بھی ہے ! مکین ایک خاندان کی طرح ہوتے ہیں نا صرف ایک دوسرے کو بلکہ ایک دوسرے کی مشکلات اور پریشانیوں کو بھی جانتے ہیں ۔ اور جان کر خوش ہونے کی بجائے حتی الامکان انہیں رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آبادیاں جوں جوں پھیلتی ہیں نا جانے دل کیوں سکڑنے لگتے ہیں ۔ شناسائی اجنبیت میں تبدیل ہوتی ہے اور محبتیں کدورتوں میں ۔ پھر تھانہ بنتا ہے تو اپنے وجود کے جواز کے لیے اسباب بھی پیدا کرتا ہے یوں رہی سہی کسر پوری ہو جاتی ہے ۔
ہماری بستی چونکہ چند سو گھروں پر مشتمل تھی اس لیے سب ایک دوسرے کو کسی نہ کسی حوالے سے جانتے تھے۔
نووارد کودیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ شاید کائنات کا کوئی کزن ہو ۔ میں نے ناجانے کس خیال کے تحت اکھیوں سے ان کی جانب دیکھا ۔ وہ سب اپنی باتوں میں مگن تھے۔ نو وارد اپنے دوستوں میں کہیں زیادہ بے فکری کے ساتھ بیٹھا تھا اور ان سب میں نمایاں نظر آ رہا تھا ۔ یوں لگتا تھا کہ اس کی پیشانی پر کیوں نظر نہ آنے والی تحریر ہو کہ میں محض ہجوم میں سے ایک نہیں ۔ ورنہ بظاہر کوئی خاص بات بھی نہیں تھی اس میں ۔ اور اس وقت تو وہ مکمل طور پر دنیا سے جو گ لے کر بیٹھا ہؤا تھا ۔ ہر چیز سے لا تعلق اور بے پروا،ہوا کے دوش پر جا بجا لہراتے رنگین آنچلوں کی اسے پروا تھی نہ اپنی ۔ جاگنگ کے ٹرائوزر اور گول گلے کی سفید ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا کسی قدر لمبے اور خوبصورت تراشے ہوئے بال بکھرے ہوئے تھے جو ہنستے ہوئے اس کے چہرے پر آجاتے تھے اور وہ انہیں ہاتھ سے پیچھے جھٹک دیتا تھا ۔ وضع قطع سے بے زاری ٹپکتی تھی ۔ لیکن اس کے

چہرے پر بے پناہ طمانیت تھی ۔ نگاہیں اس کے چہرے پر رک جاتی تھیں۔
کافی طویل چکر کاٹنے کے بعد امی نے واپس گھر کا رخ کرنے کے لیے کہا ، تو بھابھی کے دونوں بیٹے پارک جانے کی ضد کرنے لگے ، مجبوراً ان کی خاطر ہم پارک میں داخل ہوگئے بھابھی کے دونوں بیٹوں نے اپنے ہاتھ چھڑائے اور بچوں کے ہجوم میں غائب ہو گئے ، گھنٹہ بھر کے بعد انہیں بمشکل واپسی پررضا مند کیا اور ہم نے گھر کی راہ لی ۔ وہ بدستور وہیں موجود تھا ۔
اگلے روز جب ہم دوبارہ چہل قدمی کرتے ہوئے کائنات کے گھر کے سامنے پہنچے تو بے اختیار میری نگاہیں گھاس کے اس قطعے کی جانب اٹھ گئیں لیکن وہ ان میں موجود نہیں تھا۔ پھر یہ معمول بن گیا جب بھی وہاں سے گزر ہوتا میری متلاشی نگاہیں اس کو ڈھونڈتی رہتیں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد وہ اسی جگہ اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھا۔ مجھے ایک انجانی سی مسرت کا احساس ہؤا بے نیازی اس کی شخصیت کا کوئی اہم جزو تھی ۔ جن کے ساتھ تھا انہی میں مگن تھا۔ مردوں کی یہ صنف نہ جانے کیوں معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گھر پہنچنے تک میں اس کے خیالوں میں مگن تھی۔
نیند غائب تھی آنکھوں کے سامنے بار بار اس کا چہرہ آجاتا تھا ۔ سونے سے قبل میرے دل نے اعتراف جرم کرلیا تھا ۔ میں نے بھی کوئی وضاحت طلب نہیں کی ۔ مجھے یوں لگا کہ جیسے میرے دل نے خود ہی سزا بھی تجویز کرلی ہو۔ عمر قید کی سزا ۔ وہ اگرچہ ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔لیکن اپنے جرم پر نادم نہیں بلکہ نازاں تھا میری پسلیوں کے کٹہرے میں کھڑا چلا رہا تھا ، ہاں میں نے یہ جرم کیا ہے ۔ مجھے یہی سزا چاہنے ، عمر قید کی سزا ۔ مجھے یوں لگا کہ اگر اسے یہ سزا نہ دی گئی تو وہ جنون کے عالم میں کٹہرے کو توڑتے ہوئے باہر آجائے گا ۔
اور پھر وہی ہوا عقل کی سود لیلوں کو دل ایک ایک کر کے رد کرتا چلا گیا ۔ دل پھر جیت گیا ۔ یہ دل کا بھی کیا معاملہ ہے ، دھونس دھمکیوںکو خاطر میں نہیں لاتا ۔ مجبورکرنے کی کوشش کرو تو بدن میں دوڑتے ہوئے لہو کی روانی منقطع کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا اور سب سے پہلے دماغ کو ہی سزا دیتا ہے ۔
صرف کائنات ہی تھی جس سے اس معاملے میں مدد مل سکتی تھی ۔ وہ میری بہترین دوست تھی ۔ ہمارا اسکول اور کالج کا تعلق اب یونیورسٹی تک دراز ہو چلا تھا ۔ ہمیں یونیورسٹی لانے اور لے جانے کے لیے ایک ہی وین مامور تھی ۔ وین میں اس معاملے پر بات کرنا ممکن نہیں تھی۔ فری پریڈ کے دوران میں اسے ایک جانب لے گئی اور بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنا مدعا بیان کر دیا ۔ وہ چند لمحے حیرت سے میری شکل دیکھتی رہی پھر کہنے لگی۔
’’ مجھے یہ تو پتا ہے کہ تم خاصی منہ پھٹ ہو لیکن مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی ۔ تم شاید تبریز کی بات کر رہی ہو وہ شانی بھائی کا دوست ہے ۔ ہر ویک اینڈ پر ہمارے گھر آتا ہے اور رات دیر گئے گھرکی راہ لیتاہے ، یونیورسٹی میں دونوں ساتھ پڑھتے تھے ۔ اس کے سوا میں کچھ نہیں جانتی ‘‘۔
’’ تم مجھے اس کا فون نمبر دے سکتی ہو ، شانی بھائی کے موبائل میں فیڈ ہو گا ‘‘۔ میں نے اس سے کہا ۔
’’ تمہارا دماغ چل گیا ہے ، کیا بات کرو گی اس سے ، اپنے لیے بھی مصیبت پیدا کرو گی اور میرے لیے بھی ‘‘، کائنات ہتھے سے اکھڑ گئی۔
’’ کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی ۔
جیسے تیسے کر کے بقیہ لیکچر بھگتائے اور کائنات کے ساتھ وین کی جانب جانے کے بجائے اکیلے ہی چل پڑے ۔ ایسا پہلی بار ہؤا تھا۔ وین میں بھی سارے راستے میںنے اس سے کوئی بات نہیں کی ۔ وہ کوئی بات کرنے کی کوشش کرتی تو میں بے زاری میں ہوں ہاں میں جواب دے دیتی ۔ گھر کے سامنے وین رُکی تو میں اسے خدا حافظ کہے بغیر اتر گئی ۔ میرا رد عمل اس کے لیے پریشان کن تھا ۔
دو دن میں ہی کائنات نے ہار مان لی ، سوشل بائیکاٹ بھی بڑی چیز ہے ۔ کہنے لگی وعدہ نہیں کرتی، کوشش کروں گی ، بھائی کے موبائل میں نمبر فیڈ نہ ہؤا تو زارا سے لے لوں گی ، وہ ان کی کلاس فیلو رہی ہے ۔اب تم اپنا موڈ ٹھیک کرو۔
تین چار ہفتے گزر گئے اس کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

کائنات سے مجھے اب تک نمبر نہیں ملا تھا ۔ پورا ایک ہفتہ انتظار کے بعد جب اسے دیکھنا نصیب ہوتا تو میری آنکھوں میں نمی سی تیر جاتی تھی ۔ میرا دل بے اختیار چاہتا کہ کبھی وہ اس طرح مجھ سے ملنے آئے ، کسی روز وہ یونہی سب سے بے نیاز ہو کر میرے ساتھ بیٹھے ، مجھ سے گفتگو کرے، مگر سب کچھ چاہے جانے سے نہیں ہوتا ۔ سو وقت گزرتا رہا ۔ دن میں دیکھے جانے والے کئی خوابوں کی تعبیر نہ ملنے کے بعد مجھے اب یہ یقین ہو چلا تھا کہ جاگتے میں دیکھے جانے والے خوابوں کی سرے سے کوئی تعبیر نہیں ہؤاکرتی ۔ اس طرح تو شاید پوری عمر گزر جائے گی ۔
اگلے ہی روز میں نے کائنات کو کھلے لفظوں میں قطع تعلق کی دھمکی دے دی۔ اسی روز وہ شام کو میرے گھر آگئی کہنے لگی ،
’’ زارایونیورسٹی میں شانی بھائی اور تبریز کی کلاس فیلورہی ہے ۔ میں نے ان سے بھی تبریز کے متعلق پوچھا تھا ۔ یونیورسٹی میں بھی اس کی کسی لڑکی سے دوستی رہی ہے اور نہ کوئی افیئر ‘‘۔
ایک لمحے کو رک کر اس نے میری آنکھوں میں جھانکا اور اپنی بات کا مطلوبہ اثر نہ پا کر اپنے بیگ سے ایک پرچی نکالتے ہوئے بولی ،’’ یہ اس کا فون نمبر ہے ، تعویز بنا کر گلے میں ڈالو ، گھول کر پیویا دفعِ شر کے لیے جلا کر اس کا دھواں لو ، تمہاری مرضی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور خدا کا واسطہ بھولے سے بھی یہ نہ بتانا کہ نمبر کہاں سے لیا ہے ‘‘۔
میں نے پرچی اس کے ہاتھ سے جھپٹ لی ۔نمبر کیا ہاتھ لگا یوں لگتا تھا کہ علم الاعداد کی کوئی اہم کلید ہاتھ لگ گئی ہو۔پتا نہیں کیوں مجھے زعم تھا کہ سارا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ کائنات کچھ دیر رکنے کے بعد واپس چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد مجھے احساس ہؤا کہ وقتی خوشی ختم ہو گئی اب تو اس سے بھی کہیں زیادہ مسئلہ در پیش ہے کہ فون کرنے کی ہمت کہاں سے لائی جائے۔ میں نے کئی مرتبہ نمبر ڈائل کیا مگر بیل بجنے سے پہلے ہی رابطہ منقطع کر دیا ۔ دو ماہ گزر گئے اس کے معمول میں کوئی تبدیلی آئی نہ میرے ۔ پھر اچانک ایک روز وہ خلاف توقع ہفتہ کی شب غائب تھا ۔ اس روز میں نے کتنے ہی چکر اس سڑک پر لگائے ۔میں نے سوچا شاید کوئی مصروفیت ہو گی ۔ دوسرا ہفتہ بھی یونہی گزر گیا ۔ یونیورسٹی کی ان دنوں تعطیلات تھیں ۔میں نے کائنات کے گھر فون کیا اور پوچھا کہ موصوف ان دنوں کہاں غائب ہیں ۔ کہنے لگی اس نے اسلام آباد میں سکونت اختیار کرلی ہے۔ میری حالت اس مسافر کی سی تھی جو کسی آب و گیاہ صحرا میں پیاس سے نڈھال ہو چکا ہو اور قدموں میں سکت ختم ہونے کے بعد بمشکل گھسٹتاہؤا کسی پانی کے مشکیزہ تک پہنچے اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی پیاس بجھائے ،مشکیزہ اس کے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے گر پڑے اور پانی کو صحرا کی تپتی ہوئی ریت ایک ساعت میں اپنے اندر سمو لے۔
میں نے مزید کوئی بات کیے بغیر بے جان ہاتھوں سے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا ۔ ایک بار پھر وہی نمبر ڈائل کر کے لائن منقطع کرنے کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ۔ ہر روز سونے سے قبل میں اپنے دل کو تسلی دیتی کہ صبح اسے فون کروں گی ، یہ کہوں گی وہ کہوں گی ، ڈھیر ساری باتیں سوچتی اور پھر جب صبح ہوتی تو معاملہ رات پر ٹل جاتا اسی کشمکش میں کئی روز گزر گئے آج پھر پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی ۔ صبح کے چار بجنے والے تھے جب میں پوری ہمت مجتمع کر کے اٹھی اور فون کا ریسیور اٹھا کر اس کا نمبر ڈائل کر دیا ۔ کافی دیر بل بجتی رہی پھر کسی نے فون اٹھا لیا ۔
’’ آپ تبریز بات کر رہے ہیں ‘‘۔
’’ جی فرمائیے آپ کون ؟‘‘ دوسری طرف سے حیرت اور نیند میںڈوبی ہوئی آواز میں جواب کے ساتھ سوال بھی داغ دیا گیا ۔
’’ میں کرن بات کر رہی ہوں ‘‘۔
’’ آپ کرن ہیں ، سورج ہیں ، یا چاند ہیں ، میں آپ کو نہیں جانتا ‘‘۔
اس کی آواز میںبے زاری کا عنصر نمایاں تھا ۔
’’ کیسے ہیں آپ ؟‘‘ میں نے محض بات کو طول دینے کے لیے ایک اور سوال کیا ۔
وہ جھنجھلا کر بولا ،’’میں ہسپتال کے کسی بستر پر پڑا ہؤا مریض ہوں اور نہ آپ وارڈ کے دورہ پر آئی ہوئی کوئی ڈاکٹر ہیں جو میرا حال پوچھ رہی ہیں ‘‘۔
’’ آپ کو میرا نمبر کس نے دیا ہے ، اور کس مقصد سے آپ نے

فون کیا ہے ‘‘۔ ایک توقف کے بعد وہ بولا ، اس کا لہجہ شائستہ لیکن دو ٹوک تھا۔
’’ آپ مجھے پسند ہیں ، آپ سے بات کرنی تھی ۔ اس لیے فون کیا ہے ‘‘۔ اس وقت مجھ میں نہ جانے کہاں سے اتنی ہمت عود کر آئی تھی۔ یہ کئی مہینوں کی گھٹن تھی یا اس حقیقت کا ادراک تھا کہ معروضی حقائق کی روشنی میں یہ جملہ میرے ہی حصہ میں آنا تھا۔
’’ دیکھیں مذاق کا کوئی وقت ہوتا ہے اور وہ کم از کم صبح کے چار بجے نہیں ہوتا۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یا آپ نے نیند میں کوئی غلط نمبر ڈائل کر دیا ہے ۔ کیا رات کو رضیہ بٹ کا ناول پڑھ کر سوئی تھیں ‘‘۔
’’ میں مذاق نہیں کر رہی ہوں اور نہ آپ اسے مذاق میں ٹالنے کی کوشش کریں میں بالکل سنجیدہ ہوں ‘‘۔
چند لمحے دوسری جانب سکوت رہا پھر اچانک تقریباً رو دینے کے انداز میں بولا ۔’’ میں جیسا بھی ہوں کسی کویوں میرا تمسخر اڑانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، شکل و صورت خدا کی دین ہے میں اگر اس پر شاکر نہیں تو قانع ضرور ہوں ۔ ارے میرے تو ماں باپ بھی محض اولاد ہونے کے ناطے عزیز رکھنے پر مجبور ہیں ورنہ میری شکل و صورت تو انہیں بھی کبھی نہیں بھائی ، تبھی اتنی دور بھیج دیا تاکہ کم از کم چھوٹے بھائیوں کے ہی رشتے ہو جائیں ‘‘۔
’’ مجھ پر فون ملانے سے قبل جو خوف تھا اس کی جگہ اب جھنجھلاہٹ نے لے لی تھی ۔ میں نے کہا کہ ’’ آپ جو بھی سمجھیں جو حقیقت تھی وہ میں نے آپ کے گوش گزار کردی ہے‘‘۔
’’ اچھا اچھا ٹھیک ہے یہ جتلانے کی کیا ضرورت ہے ، مجھے بھی کبوتر بہت پسند ہیں لیکن میں نے کبھی انہیں بتانا ضروری نہیں سمجھا ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔
میں حیرت سے فون کے ریسیور کو دیکھے جا رہی تھی عجیب ہی طرح کا انسان تھا ۔ اگلے روز میں نے پھر اسی وقت فون کیا ، وہ جیسے میرے فون کے ہی انتظار میں بیٹھا تھا ۔ دوسری یا تیسری بیل پر ہی اس نے فون اٹھا لیا اور میرے کچھ کہنے سے قبل ہی کہنے لگا ۔
’’ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ، بعض لوگوں کو نیند میں چلنے کی عادت ہوتی ہے آپ کو شاید فون کرنے کی ! خیر میں نے بالکل برا نہیں مانا ‘‘ ، وہ زچ کرنے پر تلا ہؤ ا تھا۔
میں نے کہا ’’ آپ کے طنز کے تیز ختم ہو گئے ‘‘ اب جیسے دوسری جانب چپ لگ گئی ہو ۔ دو گھڑی بعد وہ یکسر مختلف لب و لہجہ میں بولا ۔ ’’میرا مقصد ہرگز آپ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا آپ فرمائیے میں ہمہ تن گوش ہوں ۔ بتائیے کیسے فون کیا ‘‘۔
میں نے کہا کہ ’’ ایک دفعہ بتا چکی ہوں کیا آپ بار بار سننا چاہتے ہیں ‘‘۔
وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ بولا’’ آپ کے ساتھ کسی نے مذاق کیا ہے میں عمر کے اس حصے میں ہوں جس میں انسان اس جہاں کے بجائے دوسرے جہاں کو سوچتا ہے ۔ آپ نے شاید مجھے دیکھا نہیں ہے۔ میں چالیس کے پیٹے میں ہوں ‘‘۔
’’ میں نے جواب میں اس کی عمر اور حلیہ بھی بتا دیا ۔ لیکن وہ بھی ہار ماننے پر تیار نہیں تھا کہنے لگا وہ میرا سب سے چھوٹا بھائی ہے ‘‘۔
میں نے کہا ’’ میں آپ کو جانتی ہوں آپ کو کس طرح یقین دلائوں ‘‘۔
’’ آئندہ فون نہ کر کے ‘‘ ، وہ جھٹ سے بولا۔
مجھے اس سے کم از کم اس رد عمل کی توقع نہیں تھی ۔ اپنی ذات کی بے توقیری کے ساتھ جذبات کو روند ے جانے کا احساس ستا رہا تھا ۔ کبھی اپنے آپ پر شدید غصہ آنے لگا۔
اب میں فون کرتی تو وہ لائن منقطع کر دیتا ۔ آخر تنگ آکر میں نے غم و غصہ کی شدید کیفیت میں ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ ’’ میں تم سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہوں اور اب تم نے فون ریسیونہ کیا یا تمہارا یہی رویہ رہا تو میں خود کشی کر لوں گی اور اس کے ذمہ دار تم ہوگے‘‘۔
اگلے روز ٹھیک اسی وقت میرے فون کی گھنٹی بجی۔
’’ تبریز بات کر رہا ہوں ‘‘ ۔ رابطہ ہوتے ہی وہ بولا۔
مجھے اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔ سی ایل آئی پر آئے ہوئے

نمبر ز کو دیکھ کر اس نے کال ملائی ہو گی ۔
’’ آپ کو علم ہے خود کشی کیا ہے ‘‘۔ اس نے پوچھا۔
’’ سسک سسک کر اور گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے ‘‘۔میں نے چلا کر جواب دیا ۔
’’ واہ ہمارے وطن عزیز میں شاید یومیہ چار سے پانچ افراد خود کشی کر لیتے ہیں لیکن آج سے قبل کسی نے بھی مجھے آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا ، آپ کو کیا پڑی تھی …‘‘
’’ ان کی زندگی اور موت کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ‘‘۔ میںنے اس کی بات درمیان سے اچک لی۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہنے لگا ’’ جہاں حلال اور حرام کے درمیان فرق نہ رہے وہاں کسی کو کیا سمجھا جائے ۔ سب علم رکھتے ہیں اور علم کے زور پر ہی سب کچھ کرتے ہیں ۔ نفس جب من مانی پر اتر آئے تو وہ ضمیر کی نحیف سی آواز کا مقابلہ کرنے کے لیے وکیلوں کی فوج کھڑی کر لیتا ہے ۔ بلا معاوضہ کام کرنے والی وکیلوں کی یہ فوج ہر وقت ہمارے ہمراہ ہوتی ہے جو عذر تراشتی ہے اور جواز گھڑتی ہے اور پھر خواہش کا مجسم بت تخلیق کر کے ہمیں سجدہ ریز کر ا دیتی ہے ‘‘۔ اپنی بات مکمل کرتے ہی اس نے یکدم پینترا بدلا اور اچانک بولا ۔
’’ آپ کو کوئی نفسیاتی عارضہ ہے کیا ‘‘۔
میرے صبر کی انتہا ہو گئی تھی ، اس کے آخری الفاظ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ۔ میں نے بمشکل کہا۔
’’میری بات کا یقین کرو، مجھے کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق نہیں ۔ بے خوابی کی شکایت ہے اور نہ یاسیت کے دورے پڑتے ہیں اور نہ ہی مجھے اس وقت کوئی تفریح سوجھتی ہے‘‘۔
’’ تو پھر تم نے یہ ٹیکسٹ کیوں بھیجا تھا ‘‘ ۔ اس نے پوچھا
’’ پتا نہیں ‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔
’’ اچھا تو پھر تمہیں یہ ضرور پتا ہونا چاہیے کہ میں اس قبر پر نہ تو کوئی مقبرہ بنائوں گا اور نہ بقیہ عمر اس پر مجاور بن کر گزاروں گا ، کتابوں میں لکھی اگر سب کہانیاں جھوٹ نہیں ہوتیںتو سب سچ بھی نہیں ہوتیں ‘‘۔
’’ ہاں ، مجھے علم ہے اور اس متعلق مجھے بھی کوئی خوش فہمی نہیں ۔ اگر آپ نے مزاح کا یہ ذوق پایا ہے تو یہ اچھے بھلے آدمی کے لیے کافی ہے‘‘۔
کوشش نہیں ، مصمم ارادہ کریں بلکہ وعدہ کریں ‘‘۔ اس کی شاید اب تک تسلی نہیں ہوئی تھی ۔
’’ وعدہ نہیں کر سکتی ‘‘ میں نے کسی قدرتلخی سے کہا اور فون بند کر دیا ۔
کافی دیر سے ضبط کیے ہوئے آنسو بے اختیار رواں ہو گئے ۔ اس کا ایک ایک جملہ دماغ میں گونج رہا تھا ۔ کتنی ہی دیر تک میں اپنے آپ کو اور اسے کوستی رہی ۔ پتا نہیں موصوف کو کیا خوش فہمی ہے اپنے متعلق ، پتا نہیں کیا سمجھتا ہے اپنے آپ کو ، اپنی اہمیت جتلانا چاہتا ہے ۔ میری نگاہوں کے سامنے ایک ایک کر کے میرے کلاس فیلوز کے چہرے گھومنے لگے ۔ وہ شرجیل کتنا بچھا جاتا ہے ، بات کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے بہانوں کی تلاش میں رہتا تھا کتنی نرمی ہوتی تھی اس کے لہجے میں ۔ میری سرد مہری کے باوجود اس کی آنکھوں میں اب تک امید کی جھلک نظر آتی ہے اور وہ دانیال… کلاس کی کتنی ہی لڑکیاں محض ایک دوسرے سے اس کی وجہ سے حسد کرتی ہیں اپنی سالگرہ کا دن اس کو خود یاد نہیں تھا کتنی ہی لڑکیوں نے اسے تحفے دے کر اسے یاد دلایا کہ آج اس کی سالگرہ ہے مگر اسے ہر دوسرے دن نوٹس مجھ سے ہی مانگنے ہوتے ہیں اور یہ سب کو اور خود مجھے بھی پتا ہے کہ میں کتنے اچھے نوٹس بناتی ہوں لیکن اس کی حسرت ہی رہی کہ کبھی نوٹس سے آگے بڑھ کر میری تعریف کر دے۔کتنی جلتی ہوئی آنکھوں سے وہ کہتا ہے کہ آپ کے نوٹس تو اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ دل میں اتر جاتے ہیں کتنی اچھی روشنائی استعمال کرتی ہیں آپ ، پیپر کا رنگ اتنا بھلا ہوتا ہے کہ نظر ہٹائے نہیں ہٹتی ، کتنی نفاست سے بناتی ہیں آپ الفاظ اتنے مرمریں ہوتے ہیں کہ بس …
کتنی تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طلب کرو ، جس کے پیچھے بھاگو وہی شے پکڑائی نہیں دیتی ، تھکا کر مار ڈالتی ہے ۔محبت دولت ، موت ، کتنی ہی چیزوں کا یہی معاملہ ہے ۔ خیالات کا تانتا بندھا ہؤا تھا ، نہ جانے کس وقت آنکھ لگی سونے سے پہلے میں تہیہ کر چکی تھی کہ آئندہ میں اس سے کبھی رابطہ نہیں کروں گی ۔

دن خاصا چڑھ آیا تھا جب میری آنکھ لگی ۔ طبیعت بوجھل سی ہو رہی تھی ۔ ایک عجیب سی کیفیت جیسے کوئی قیمتی چیز گم ہو گئی ہو یا کسی قریبی عزیز کا انتقال ہو گیا ہو۔ میں نے چائے کا ایک کپ کو نین کی طرح حلق میں انڈیلا اور پبلک ٹرانسپورٹ سے ہی یونیورسٹی روانہ ہوگئی ۔ کلاس کے باہر ہی کائنات مل گئی ۔ میرا اترا ہؤا چہرہ دیکھتے ہی وہ بہت کچھ سمجھ گئی اور بولی ’’دیکھو میں نے منع کیا تھا نا ، کیا ہؤا بتائو‘‘۔
میری زبان گنگ تھی اور میں گم صم سی بس زمین کی جانب دیکھے جا رہی تھی اس نے پھر پوچھا تو میرے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔
مجھے اپنے ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں تھا ۔ روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ کائنات ایک دم پریشان ہو گئی اور گھبرائی ہوئی آواز میں بولی ۔ ارے یہ یونیورسٹی میں مجمع لگانا چاہتی ہو کیا ؟ پاگل مت بنو ۔ وہ مجھے نسبتاً ایک پر سکون گوشے کی طرف لے گئی اور کافی دیر تک تسلیاں دیتی رہی ۔ یونیورسٹی واپسی پر وہ میرے ساتھ ہی گھر آگئی ۔ پوری روداد سننے کے بعد اس نے پریشانی کے عالم میں پوچھا ، تم نے یہ تو نہیں بتایا کہ تمہیں فون نمبر کس نے دیا تھا ۔ میں یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گئی ، میں نے کہا ’’لعنت ہو تم پر ، تمہیں اپنی پڑی ہے میری کوئی فکر نہیں ، اسے بھی یہی غم کھائے جا رہا تھا ‘‘۔ کائنات کچھ دیر بعد اپنے گھر چلے گئی ۔ ہرگز رتے لمحے کے ساتھ میری انا کا بت چٹخ رہا تھا ۔ رات ہوئی تو یہ بت منہ کے بل گرا ہؤا تھا میں نے پھر اسے پھلانگا اور فون اٹھا کر اس کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
’’ ہیلو‘‘
’’جی فرمائیے‘‘ رابطہ ہوتے ہی اس کی آواز سنائی دی ۔
اور پھر میری آواز کو تالا لگ گیا۔
’’ ارے ایسی پچاس نیم دلانہ کوششیں میں ترک سگریٹ کے لیے کر چکا ہوں ، ارادوں کی پختگی کا تعلق دل کی رضا مندی سے ہوتا ہے ۔ اچھا ہوا آپ نے فون کر دیا ۔ اتنے دنوں سے آپ سے بات کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے اگر کچھ دیر اور آپ کا فون نہ آتا تو میں خود آپ کو فون کر دیتا ‘‘۔ اس کے لہجے میں طنز کا شائبہ بھی نہ تھا ۔
’’ آپ فون بند کردیں ‘‘۔
’’ جی‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’ اب آپ کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ، یہ فریضہ میںخود انجام دوں گا آپ مطمئن رہیںآپ فون رکھ دیں میں کال کر رہا ہوں ‘‘۔ میں نے فون رکھا ہی تھا کہ بیل بجی اور وہ لائن پر موجود تھا ۔ انتہائی شائستہ لہجے میں کہنے لگا’’ میں اپنے سابقہ رویے پر معذرت خواہ ہوں مجھے آپ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی‘‘ ۔سمجھنے کے لفظ پر وہ تھوڑا زور دیتے ہوئے بولا۔
’’کیسی ہیں آپ ، آپ کا رنگ کیسا ہے ، گندمی ہے ، ارے لیلیٰ کا رنگ بھی ایسا ہی تھا کس سے مشابہت رکھتی ہیں ، دبلی پتلی ہیں ارے واہ ، زبردست ، لڑکیاں تو بس ایسی ہی خوبصورت ہوتی ہیں نازک مومل سی کونپل جیسی ، ہتھیلی پر کھڑی ہو جائیں تو ان کا بوجھ گراں نہ ہو بس پھول کی طرح محسوس ہوں۔ڈھیروں باتیں ، چھوٹی چھوٹی سادہ اور شگفتہ باتیں ‘‘ یہ اس کی شخصیت کا یکسر مختلف روپ تھا ۔ مہر بان اور محبت سے بھرپور اس کی باتوں میں نرمی اور حلاوت تھی ۔
کہاں دو دن قبل یہ عالم کہ کہتا تھا دیکھیں خدا کرے آپ حور پری ہوں ، لاکھوں کروڑوں میں ایک ہوں جس کی مثل ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ، لڑکیوں کے حسن پر جتنا کچھ لکھا گیا وہ تمہارے حسن کو بیان کرنے سے معذور ہوں کسی شاعر کے تخیل سے بھی ماورا ، لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے تم کو دیکھنے ، ملنے اور پانے کی خواہش ہے نہ بعد میں کوئی حسرت ہو گی ۔ لیکن آج تو وہ جیسے کسی اور ہی رنگ میں تھا میں اس کی باتوں میں ایسی گم ہوئی کہ صبح ہونے کا احساس ہی نہ ہؤا ، گھر میں سب کے اٹھنے کا وقت ہو گیا تھا۔
کہنے لگا ’’ جب آپ چاہیں ۔ ویسے ایک بات بتائیں کیا آپ واقعی مجھ سے محبت کرتی ہیں ؟‘‘
میں نے ہاں میں جواب دیا ۔
’’ وہ کہنے لگا کہ اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں ؟‘‘
میں نے کہا ’’ ضرور ‘‘۔
’’ بعض اوقات ہم ضد ، وقتی فریفتگی اور محبت میں فرق سمجھ نہیں پاتے شاید اس لیے کہ ہماری روح محبت سے نا آشنا ہوتی ہے ۔ کبھی اپنی

ضد کو ہم محبت سمجھنے لگتے ہیں اس معصوم بچے کی طرح جو کسی کھلونے کو دیکھ کر مچل اٹھتا ہے ضد کر کے ماں باپ کو کھولنے کے حصول کے لیے مجبور کرتا ہے اور پھر رو رو کر آنکھیں سرخ کر کے حاصل ہونے والا یہ کھلونا کچھ عرصے بعد گھر کے کسی کونے کھدرے میں پڑا توجہ کا طلبگار ہوتا ہے ۔
یا کبھی ہم وقتی فریفتگی کو محبت کا نام دے دیتے ہیں ۔ بالکل اس معصوم بچے کی طرح جو اپنی کلاس ٹیچر سے محبت کا دعویدار ہو کر اس سے شادی کرنے کا اعلان کر کے اپنے والدین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور پھر شعور کی منزلیں طے کرتا ہے تو اپنے دعوے کو یاد کر کے اپنے مسکرانے کا سامان کرتا ہے اب یہ ضروری تو نہیں کہ بدن کے ساتھ ذہن بھی نشوونما پائے ‘‘۔
میں نے اس کی بات غور سے سنی اور اس پر بھرپور طنز کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ بچی نہیں ہوں ماسٹرز کررہی ہوں ۔ یہ میرا فائنل ائیر ہے آپ کو فلسفہ بگھارنے کی ضرورت نہیں یہ پندو نصائح کسی اور کے لیے اٹھا رکھیے گا‘‘۔
’’ کس سبجیکٹ میں ماسٹرز کر رہی ہیں آپ ؟‘‘ ، اس نے پوچھا،
’’ بین الاقوامی تعلقات میں ‘‘ ۔ میں نے اپنے لہجے میں زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ بین الاقوامی تعلقات اور انفرادی تعلقات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ کبھی فرصت میسر ہو تو اس پر بھی کچھ پڑھ لیجیے گا ایک دوسرے کے بغیر جینے کے تصور کو محال سمجھنے والوں کی زندگی شادی کے ایک سال بعد ہی ایک دوسرے کے ساتھ کیوں محال ہو جاتی ہے ؟ گھنٹوں پہروں محبت کی چاشنی میں لپٹی باتیں کرنے والے کیوں زہر اگلنے لگتے ہیں ایک دوسرے کو کوستے ہیں اور پھر خفت مٹانے کے لیے الزام معاشی تنگیوں پر دھرتے ہیں ۔ کیا محبت اتنی حقیر ہوتی ہے کہ مالی آسودگیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ؟ جو پا نہیں سکتے ان کی خلش سمجھ میں آتی ہے جو پا لیتے ہیں انہیں کیا تکلیف ہوتی ہے ؟‘‘
میں نے کہا کہ’’ آپ کو شاید ہر معاملے کا تاریک پہلو دیکھنے کی عادت ہے ، میلے ہونے کے ڈر سے سفید کپڑوں کا نہ پہننا کہاں کی عقلمندی ہے ؟‘‘
مزید کچھ دیر کی گفتگو کے بعد کل کے وعدے پر اس نے فون بند کر دیا ۔
اگلے روز اس سے رابطہ ہؤا تو پوچھنے لگا کہ ’’ آپ پوری رات یونہی جاگتی ہیں ‘‘۔
میں نے ہاں میں جواب دیا۔
’’کس لیے ‘‘، اس نے پوچھا۔
’’پڑھائی کے لیے‘‘ ۔
’’صرف پڑھائی کے لیے؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔
’’ ہاں کمپلسری سبجیکٹ صرف آپ ہیں سونے سے قبل دعا بھی مانگتی ہوں صرف ایک دعا ‘‘۔
وہ کہنے لگا ’’ دعا دیکھ بھال کر مانگنی چاہیے‘‘۔
’’ اچھا تو پھر آپ اپنی تصویر بھیج دیں دیکھ کر مانگ لوں گی ‘‘۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ،
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا ۔’’ بعض اوقات دعائوں کی عدم قبولیت سے زیادہ دُکھ ان کی قبولیت پرہوتا ہے ۔ مراد کے پیچھے پیچھے بعض اوقات بن بلائے ندامت اورپشیمانی بھی چلی آتی ہے ۔
کبھی یونیورسٹی سے واپسی پر بھوک پیاس کے عالم میں چلچلاتی دھوپ کے نیچے بس کا انتظار تو کیا ہوگا آپ نے ‘‘۔
’’ہاں کیا ہے ‘‘ میں نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ اس وقت دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے مطلوبہ بس جلدی آجائے اور بیٹھنے کے لیے خالی نشست بھی ہو۔ پھر چند لمحوںمیں مطلوبہ بس آجاتی ہے خالی نشستوں کے ساتھ کیا کبھی ایسا ہؤا ہے ‘‘۔
میںنے اثبات میں جواب دیا ۔
’’ ابھی سفر کرتے ہوئے دو اسٹاپ بھی نہیں گزرتے کہ وہ شکر گزاری کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے ۔ پھر دل میں خیال آتا ہے ارے یہ تو قبولیت کی گھڑی تھی اور مانگ لیا ہوتا گاڑی ہی مانگ لی ہوتی ‘‘۔

کالج کے زمانے میں ایسا بھی کئی مرتبہ ہؤا تھا مجھے ایک ایک کر کے وہ سارے مواقع یاد آگئے لیکن میں نے جواب دینے سے گریز کیا اسے بھی اب شاید میری تصدیق کی ضرورت نہیں تھی۔
ایک لمحے کے انتظار کے بعد وہ کہنے لگا ’’ جس طرح بعض اوقات ہر طرح کی چھان پھٹک کے باوجود کچھ عرصے بعد داماد کے انتخاب میں والدین کو غلطی کا احساس ہوتا ہے اس طرح دعا کے انتخاب میں بھی بعض اوقات کچھ ایسی ہی پشیمانی ہوتی ہے لیکن وقت نکل چکا ہوتا ہے ہم اکثر وہ دعا مانگتے ہیں جو ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی ۔ پھر ہمیں وہ مل بھی جاتا ہے جس کی ہم تمنا کرتے ہیں ۔بقیہ عمر آہیں بھرنے کے لیے۔ دینے والا بے نیاز بھی ہے ‘‘۔
میں نے کہا ’’ جب ضرورت بس کی ہو تو بس کی ہی دعا مانگی جاتی ہے اب بوئنگ طیارہ گھر کے آگے لینڈ نہیں کر سکتا ‘‘۔
وہ اپنی بات کو اس طرح ٹالے جانے پر برا منائے بغیر بولا۔
’’ یہ بخار میں مبتلا شخص کا بھی عجیب معاملہ ہوتا ہے ۔ بیماری میں اس کا دل چٹپٹی چیزوں کے لیے مچلتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے سخت مضر ہوتی ہیں ۔ ساگو دانہ ، دلیہ اور دوسری پھیکی اُبلی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر وہ ضد پکڑ لیتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے مفید ہوتی ہیں لیکن بخار پر کیا دوش دھرنا ۔ بخار تو بخار ہوتا ہے چاہے وہ وقتی فریفتگی کا ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔
میں نے چڑ کر کہا ’’ تمہیں تو پتا ہے نا محبت کیا ہوتی ہے ۔ایک تمہیں ہی تو پتا ہے کیونکہ تم قیس کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہو ۔ تمہی بتا دو کیوں کہ آئندہ صدی میں تو تم ہی عشق کا حوالہ ہو گے ‘‘۔
’’ بتادوں گا ‘‘ ووہ میرے طنز کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔
’’ ابھی بتائو، باتیں تو ایسی کرتے ہو جیسے مرتے ہوئے فرہاد اپنا تیشہ تمہیں سونپ کر گیا ہو‘‘۔
’’ یہ جو محبت ہے نا ، یہ بس کرتے چلے جانے کا نام ہے جیسے کسی غرض کے بغیر ماں کے ہاتھوں شیر خوار بچے کی پرورش ، یازمین کی سورج کے گرد گردش ، یہ وقتی لگاوٹ ہے نہ گوشت کے بازار میں تجارت، کہ ہفتے میں دو تین روز ناغہ ہو۔ یہ کسی عابد کی عبادت کی طرح ہے۔
محبت کسی دریا کے سیلابی ریلے کی طرح کم ظرف نہیں جو اپنے آپ میں نہ سما سکے اور اچھل کر کناروں سے باہر آجائے اور پھر کچھ عرصہ بعد جوہڑ میں تبدیل ہو جائے ۔ یہ ایک عمل مسلسل ہے جیسے سمندر میں لہروں کا تسلسل…
کسی تعطل کے بغیر موج در موج اٹھنے والے اس سلسلے کا نام ہی محبت ہے۔ کبھی ساحل پر بیٹھ کر ان لہروں کا مشاہدہ کیا ہے ؟ گھنٹوں گزر جاتے ہیں بیزاری نہیں ہوتی ، پتہ ہے کیوں ، ہر لہر جب ساحل پر پہنچتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دامن میں جو کچھ ہے اسے ساحل کی نذر کر رہی ہو اپنا آپ نچھاور کر رہی ہو جیسے سفر کی ساری صعوبتیں بس مطلوب کے قدموں پر دم توڑنے کے لیے برداشت کرتی ہو۔ آگے بڑھتے ہوئے کتنی سر کشی اور دیوانگی ہوتی ہے کیسے فخر سے سینہ پھیلائے ہوئے آگے بڑھتی ہے لیکن جیسے مطلوب تک پہنچتی ہے تو کتنی نرمی آجاتی ہے ۔ عشق کرنا تو بس کوئی ان موجوںسے سیکھے۔
محبت کے سمندر کی لہریں ہر وقت اپنے جوبن پر ہوتی ہیں کیونکہ اس کا چاند کبھی ڈھلتا نہیں ۔ سمندر میں اترنے کے لیے ماہر پیر اک ہونا شرط ہے، محبت کے سمندر میں ڈوبنے کا حوصلہ۔
میں نے پوری پوری رات سمندر کے کنارے اور بیچ سمندر میں گزاری ہیں ۔ مجھے کبھی اکتاہٹ نہیں ہوئی ، کنارے پر کھڑے ہوں تو ساحل پر دم توڑتی ہوئی موجوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی میں مصروف عمل ہوں ان لہروں میں طویل سفر کی کوئی تھکن یا جھنجھلاہٹ ہوتی ہے اور نہ ہی انجام کاخوف، بس ایک وارفتگی ہوتی ہے سرشاری ہوتی ہے‘‘۔
وہ کسی اور ہی عالم میں بولے چلا جا رہا تھا۔
’’عشق اور سمندر دونوں میں آگے بڑھتے جائیں تو ایک پر سرار سی خاموشی ہوتی ہے ایک بارعب لیکن دل موہ لینے والا سکوت ، جیسے دنیا تیاگ دینے والا کوئی مجذوب اپنے مطلوب سے لو لگائے چلہ کش ہو۔
لہروں کودیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس مجذوب پہ کوئی اسرار

کوئی رازکوئی نکتہ عیاں ہو گیا ہو ۔ سب کچھ واردینے سب کچھ لٹا دینے کا سر! فناء میں بقاء کا راز ! خاک میں مل کر پروان چڑھنے اور ثمر آور ہونے کا بھید اور بس پھر اسے حال آجائے اور جذب و مستی میں بے اختیار اٹھے اور دیوانہ وار جھومنا شروع کردے۔ وہ وجد طاری ہو جائے جو اسے ہر شے سے بیگانہ کر دے‘‘ ۔
کہنے لگا ’’ مجھے تو بس اتنا ہی پتا ہے ‘‘۔
میں نے گھڑی دیکھی صبح کے چھ بج رہے تھے ، فون رکھنے سے قبل وہ اچانک بولا جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔
’’ بڑی عام اور سادہ سی بات ہے تم نے بھی یقینا سن رکھی ہو گی کہ محبت ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ہر کوئی محبت کی تاب نہیں لا سکتا ‘‘۔
اس کے بعد کتنے ہی روز گزر گئے اس کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ مجھے کبھی اس کے فون کا انتظار نہیں کرنا پڑا تھا ۔ کبھی ایسا نہیں ہؤا تھا کہ اسے کوئی کام پڑ گیا ہو۔ کئی دنوں بعد مجھے پتا چلا کہ گھنٹوں اس سے باتیں کرنے کے بعد میں یونیورسٹی کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سونے کی تیاری کر رہی ہوتی تھی اور اس وقت وہ اپنی جاب پر جانے کی تیاری کر رہا ہوتا تھا۔میں نے اس سے پوچھا ’’ تم رات بھر جاگنے کے بعد صبح اپنے آفس کے لیے کس طرح نکل پڑتے ہو تمہیں مشکل نہیں ہوتی ‘‘۔
وہ کہنے لگا ’’ اپنی مرضی سے کسی کے لیے کی گئی شب بیدار یوں کا صلہ ملتا ہے اور دن کا صرف معاوضہ ۔ صلہ معاوضہ سے بدر جہا بہتر ہے بلکہ ان دونوں کا موازنہ کرنا بھی حماقت ہے ‘‘۔بات آئی گئی ہو گئی میں نے بھی کبھی اس سے نہیں کہا کہ تم روز فون نہ کیا کرو، کئی گھنٹوں کی گفتگو کے بعد جب وہ اجازت طلب کرتا تو میں صاف انکار کر دیتی کبھی محبت خود غرض بھی ہو جاتی ہے ۔ اس نے بھی کبھی اس معاملہ میں بحث مباحثہ نہیں کیا۔
یونیورسٹی کی تعطیلات ختم ہونے کے قریب تھیں اور اب مجھ پر وہ جنون کی کیفیت باقی نہیں رہی تھی۔ اس کے دسترس میں ہونے کے احساس نے اطمینان بخش دیا تھا یا طویل نشستوں نے جیسے ساری باتیں ختم کردی تھیں ۔وہ بھی سنانے سے زیادہ اب سننے پر مائل تھا۔
مجھے اب اس سے گفتگو کرتے ہوئے نیند سی آنے لگتی ، مسلسل جمائیاں آتیں اور کبھی کبھی تو بیزاری سی بھی ہونے لگتی۔ ہماری گفتگو میں کئی کئی منٹ خاموشی کا وقفہ ہوتا ۔ میں کبھی زیادہ دیر خاموش رہتی تو وہ فون رکھنے کے بجائے معصومیت سے پوچھتا ’’ آپ بولتی کیوں نہیں ہیں ، کیا آپ سو گئی ہیں یا آپ کو نیند آ رہی ہے ۔ ارے آپ کو تو مجھ سے محبت تھی نا، یہ کیسی محبت ہے کہ میں آپ کے لیے جاگ رہا ہوں اور آپ سو رہی ہیں‘‘۔مجھے وہ اکثر احساس دلاتا ’’ تمہارے لہجے کی پہلے کی سی شگفتگی کہاں غائب ہو گئی ۔ شاید آپ بیزار آگئی ہیں ‘‘۔
پھر جیسے اسے جس دن کا انتظار تھا وہ آگیا ۔ میں نے تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد کہا کہ ’’ مجھے نیند آ رہی ہے ‘‘۔ اس ہفتے میں تیسری مرتبہ میں نے یہ بات کہی تھی ۔
وہ کہنے لگا، ’’ میں نے کہا تھا نا آپ سے کہ ہر کوئی محبت نہیں کر سکتا نہ ہی سہہ سکتا ہے ‘‘۔
’’ہاں میں نے بھی اعتراف کیا تھا کہ محبت صرف تم ہی کر سکتے ہو ‘‘۔ میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’ ارے نہیں ، میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا لیکن اب آپ ہی بتائیں ساری عمر ساتھ نبھانے کا اقرار چاہتی تھیں نا آپ ، اب ایک ماہ میں ہی یہ اکتاہٹ کیوں آگئی ، چلو آج کچھ باتیں کر لیتے ہیں کل سے آپ آرام کی نیند لیجیے گا ‘‘ میرے کسی جواب سے بیشتر ہی وہ دوبارہ گویا ہؤا۔
’’میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ یہ محبت بس کرتے چلے جانے کا نام ہے ۔ آتش بازی کی طرح شوں کر کے بلند ہونے اور چند لمحوں کے لیے روشنیاں بکھیر کر واپس زمین پر آگرنے کا نام نہیں ہے ۔ یہ کسی معبد میں دوز انوبیٹھ کر دل کو صندل کی طرح آہستہ آہستہ سلگانے کا نام ہے ۔
میں آپ کو ضد، وقتی فریفتگی ، اور محبت میں فرق نہیں سمجھا سکا یا آپ سمجھنا بھی نہیں چاہتی تھیں ۔ بہت سے لیلیٰ مجنوں بنے پھر نے والے

بھی نہیں سمجھتے ، جذبات کے ریلے کی زد میں آکر کئی لوگ چاقوئوں سے اپنے بازئوں پر کسی کا نام تو کندہ کر لیتے ہیں لیکن جب یہ آندھی تھمتی ہے تو دل سے نقش بھی مٹا ڈالتی ہے پھر قمیض کے کف اوپر کر کے بڑے فخر سے گھومنے والے سخت گرمی میں بھی پورے بازئوں کی شرٹ پہنتے ہیں ‘‘۔
میرے حواس آہستہ آہستہ بحال ہو رہے تھے اور وہ اپنی ڈگر پر لوٹ آیا تھا کہنے لگا ’’ میں اسی دن کا انتظار کر رہا تھا ۔ بہت سی باتیں اب آسانی سے سمجھ میں آجائیں گی ۔ بعض بچوں کو ماں سے نظر بچا کر ماچس غائب کرنے اور پھر کسی کونے میں بیٹھ کر ایک ایک دیا سلائی جلانے کا جنون ہوتاہے ۔ان کا ایک علاج تو یہ ہے کہ ماچس ان کی دسترس سے دور کر دی جائے لیکن اس سے ان پر ماچس کے حصول کی دھن سوار ہو جاتی ہے اور وہ موقع کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کے سامنے ماچسوں کا ڈھیر لگا دیا جائے اور انہیں اپنے سامنے بٹھا کر ایک ایک دیا سلائی جلائی جائے ۔ عموماً چند دیا سلائی جلانے کے بعد ہی ایسے بچے ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ چند ماچسوں کا زیاں تو ہوتا ہے مگر پھر وہ ماچس کو ماچس ہی سمجھتے ہیں۔
میں نے آپ کے معاملے میں پہلے طریقہ علاج کی ناکامی کے بعد دوسرا طریقہ اختیار کیا ۔ میں چاہتا تو اس معاملے کو طول دیتا رہتا تم بات کرنے کو ترستی اور میں چند منٹ کی گفتگو کر کے فون رکھ دیتا تو یہ اکتاہٹ کبھی نہ ہوتی تمہاری طلب انتہا کو پہنچ جاتی لیکن ہوس پرستی علاج کو طول دینے پر مجبور کرتی ہے مسیحائی نہیں ۔ آپ کے مرض کو افاقہ ہو چکا ہے معالج کو اجازت دیجیے، ہمارا کام ختم ہؤا ۔ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں آئندہ آپ کو فون نہیں کروں گا ‘‘۔
میری نیند کا فور ہو چکی تھی ۔ دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا اس کے الفاظ میرے سر پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے ۔ اچانک مجھے ایسا لگا کہ میری نگاہوں کے سامنے سے کوئی پردہ ہٹ گیا ہو کوئی نہ سمجھ میں آنے والا نکتہ عیا ں ہوگیا ہو۔ کوئی برسوں کی گرہ اچانک کھل گئی ہو ۔ اس کی ساری پچھلی باتیں مجھے ایک ایک کر کے یاد آ رہی تھیں اس کے بلا ناغہ فون میں پنہاں مقصد ، مجھے اس لمحے یہ احساس ہؤا کہ در حقیقت اس سے محبت تو مجھے آج ہوئی ہے ۔ شدید محبت ، پکے رنگوں کی حامل محبت!
میں ایک دم جیسے ٹرانس کی کیفیت سے باہر نکل آئی اور پھر اس کے بعد جیسے مجھ پر ہسٹیر یا کا دورہ پڑ گیا ہو میں نے چلا کر کہا ’’ فون بند مت کرنا پلیز مجھے تم سے بات کرنی ہے ، نہیں ابھی تو بہت سی باتیں کرنی ہیں مجھے کوئی اکتاہٹ نہیں ہوئی ، تم جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہو ، مجھ سے بات کر و، تمہیں کیا پتہ میں تو پتہ نہیں کب سے جاگ رہی ہوں اور اب بھی جاگ رہی ہوں ۔ دیکھواب تو شب ڈھلنی شروع ہو ئی ہے ، اب پو پھوٹے گی ، سحر کی نرم اور دلگیر روشنی پھیلے گی ۔ کتنا جاں فزاء منظر ہوتا ہے اس وقت کے انتظار میں تو میں نے اتنی طویل شب کاٹی تھی ‘‘۔
وہ بدستور خاموش تھا ۔پھر جب وہ دوبارہ گویا ہؤا تو جیسے کچھ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
’’ ایک تو یہ مریضوں کا بھی عجیب معاملہ ہے بعض مریضوں کو نفسیاتی اثر ڈالنے کے لیے پلے سی بو دی جاتی ہیں یہ محض گولیاں ہوتی ہیں محض گولیاں ، مریض کو تندرست ہونے کے باوجود اگر پتہ چل جائے تو پھر سے اپنے آپ کو بیمار سمجھنے لگتا ہے‘‘۔
میری کیفت اس فرد کی سی تھی جس کا پائوں آخری سیڑھی سے پھسل گیا ہواور وہ ایک ہاتھ کے سہارے سے لٹکا ہؤا فضا میں جھول رہا ہو اور ہاتھ کی گرفت اب چھوٹی کہ تب چھوٹی ۔ پہلی بار اس سے گفتگو کرتے ہوئے میں اپنے آپ پر ضبط نہ رکھ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔ کمرے میں میری سسکیاں گونج رہی تھیں ۔
وہ کہنے لگا ’’ ان آنسوئوں کو سنبھال کر رکھو یہ کسی کی امانت ہیں اور طاقتور کی امانت میں تو خیانت کا خیال بھی کبھی دل میں مت لانا جس کا عطا کردہ یہ خزینہ ہے ، جوں جوں وقت ملے اپنی تنہائیوں میں اسی کو لوٹا نا۔صرف وہی ہے جو ان سچے موتیوں کی اصل قدرو قیمت سے آگاہ ہے اور اس کا بہترین بدل دیتا ہے ۔ اسے اگر یہ آبگینے عزیز نہ ہو ں تو وہ شاید ہماری زندگیوں میں غم کا شائبہ بھی پھٹکنے دے ‘‘۔
میں نے سسکتے ہوئے کہا ’’ تم رابطہ رکھو یا نہ رکھومیں ساری عمر جاگوں گی ، ایک پل کے لیے بھی آنکھیں نہیں جھپکوں گی ، مرتے دم تک

تمہاری منتظر رہوں گی ‘‘۔
وہ میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کرب ناک لہجے میں بولا۔
’’ راتوں کو جاگ کر اسے یاد کرنے کا کیا فائدہ جسے تمہاری شب بیداریوں کی خبر بھی نہ ہو اور نہ ہی پروا ۔ جب تم اس کے لیے گریہ وزاری کر رہی ہوکیا خبر وہ اس وقت نیند کی کن وادیوں میں گم ہو ، اپنی جان ہلکان کرنے کا کیا فائدہ‘‘۔
روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی تھی مجھے احساس ہؤا کہ اس کی آواز رندھ گئی ہے اور وہ اپنے آپ پر ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ میں نے کہا ’’ تم تو یہی چاہتے تھے نا، اب تمہاری آواز میں لرزش کیوں ہے‘‘۔
وہ بڑی مشکل سے اٹک اٹک کر کہنے لگا ۔
’’ویدوں اورجھاڑ پھونک پر ایک دنیا و شواس رکھتی ہے بعض ٹوٹکے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں اب بھی بعض لوگوں کا کوئی مرض پیچھا نہ چھوڑے تو ایسے لوگ موجود ہیں جوجھاڑ پھونک کرتے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے یہ خود مول لے لیتے ہیں اور مریض تندرست ہو جاتا ہے۔
یاتم نے سنا ہوگا کہ بعض لوگ اپنی کسی عزیز ترین ہستی کو جان کنی کے عالم میںدیکھ کرشفاء دینے والے سے دعا کرتے ہیں کہ اس کا مرض مجھے دے کر میری تندرستی اسے سونپ دے۔ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی یہ دعا اثر کرتی ہے بستر مرگ پر پڑا ہوا جانبر ہو جاتا ہے اور بستر کے گرد بے چینی سے ٹہلنے والا لحد میں ۔ معالج کو اپنے مریض سے انسیت بھی ہو جاتی ہے اور مجھے لوگوں کے یہ امراض لینے کی عادت سی ہو گئی ہے ‘‘۔
مجھے پوری طرح یقین ہو چلا تھا کہ اب میںجتنا چاہے آہیںبھر لوں جتنا رولوں اس سے دوبارہ کبھی رابطہ نہیں ہو سکے گا ۔ وہ پوری مہارت سے اپنی بات مجھ تک پہنچا چکا تھا ۔ میں نے کہا’’ میں تو لا علمی میں کم ظرفی کر بیٹھی تھی تمہیں تو پتہ تھا نا کہ محبت کیا ہوتی ہے‘‘ ۔
وہ رندھے ہوئے لہجے میں کہنے لگا ’’ اپنی تو صرف نسبت محبت کرنے والوں کے قبیلے سے تھی ۔ مجھے یہ تو علم تھاکہ محبت کرتے چلے جانے کا نام ہے ، چلتے چلے جانے اور مٹتے چلے جانے کانام ہے ، مجھے پتہ تھا کہ محبت تو وہ حج ہے جس میں کوئی وقوف نہیں ہوتا، بس مسلسل طواف ہوتا ہے اور وہ نماز ہے جس کی نیت ایک مرتبہ باندھ لی جائے تو پھر سلام پھیرا جاتاہے اور نہ ہی دل ، مکمل حضوری قلب نہ ہو تو یہ نماز ساقط ہو جاتی ہے ، مجھے علم تھا کہ ہجر کے دنوں میں سفر کی صعوبتوں سے تھک کر پڑائو کیا جاتا ہے نہ محبت کے تحفوں کو آبلے سمجھ کر ان کا شمار کیا جاتا ہے ۔ لیکن میں پھر بھی مارا گیا ، مجھے یہ سب کچھ سمندر نے سکھایا لیکن محبتوں میں ایک موسم وہ بھی ہوتا ہے جس کا علاج سمندر کے پاس بھی نہیں اس کی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے سمندر جیلی فش کی طرح لگتا ہے ۔
ہاں … موسم صرف سردی اور گرمی کا نام نہیں ایک عرصہ حبس کا بھی ہوتا ہے جیسے زندگی صرف حیات اور موت کا نام نہیں ایک کیفیت حالت نزع کی بھی ہوتی ہے بس یوں ہی محبتوں میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں ہجر کا سوز ہوتا ہے نہ وصال کی لذت… ہاں اس مشکل اورکٹھن گھڑی میں کچھ نہیں ہوتا ما سوائے گھٹن کے … بے پناہ گھٹن۔
سردی اور گرمی سے لطف اندوز ہونا اور اس سے بے نیاز ہونا بھی ممکن ہے لیکن حبس… اُف خدا کی پناہ! اسے تو بس سہنا پڑتا ہے وقت تھم جاتا ہے ۔ گھڑی صدیوں پر محیط ہو جاتی ہے انسان کو پوری دھرتی پر کہیں جائے پناہ نہیں ملتی ۔ نہ کائنات میں نہ اپنی ذات میں ۔ وہ غم جسے بانٹنے کو کوئی غم گسار نہیں ملتا ۔ نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے دھاڑیں مار کر رونا چاہتا ہے اور رونہیں سکتا ۔ جینا چاہے تو جی نہیں سکتا اور مرنا چاہے تو مر نہیں سکتا ۔ میں اس حبس کو سہتے ہوئے نڈھال ہو چکا ہوں مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ میں اسی حالت میں جاں دے دوں یا بہار کی تازہ ہوا کا پہلا جھونکا میری آخری سانس ہو، جو بھی ہو لیکن مجھ میں اب اتنی سکت نہیں کہ میں پھر سے سفرکا آغاز کروں مجھے میری ایک ہی محبت کافی ہے۔
محبتوں میں مات کھانے والے اسی حبس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ۔ جو حبس کو جھیل گیا وہی رنگ میں رنگا گیا ۔ وہی مرد میداں ۔ وہی سکندر ۔ بپھر کر اٹھنے والی لہر بھی اور پر سکون سمندر بھی ‘‘۔
(2008)

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x