یہ تقریباً 25 سال پرانی بات ہے ۔ اس دن کالج کینٹین میں بہت زیادہ رش تھا ۔ایسا لگ رہا تھا ساری طالبات نے ایک ساتھ ہی دھاوا بول دیا ہے۔اتفاق سے میرا بھی چنا چاٹ کھانےکا بڑا دل کر رہا تھا لہذا ہمت کر کے رش میں گھس گئی، بڑی تگ و دو کے بعد آخر کار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئی لیکن افسوس جیسے ہی باہر نکلنے لگی پیچھے سے ایک دھکا لگا اور میں پلیٹ سمیت سامنے کھڑی لڑکی سے جا ٹکرائی ۔
شرمندگی اور افسوس کے مارے مجھے رونا آرہا تھا کہ ایک تو اس لڑکی کا یونیفارم میری وجہ سے خراب ہوگیا دوسرے بھوک اب ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔اس سے پہلے کہ میں معذرت کرتی وہ الٹا مجھ سے کہنے لگی ’’ اوہو آپ کی تو ساری چاٹ مجھ پرہی الٹ گئی یہ تو خیر میں صاف کر لوں گی مگر آپ اب کیا کھائیں گی ،چلیں کوئی بات نہیں میرے ساتھ لنچ کر لیں آج امی نے مجھے آلو کے پراٹھے اور شامی کباب دیے ہیں ‘‘ ۔
یہ تھی افشین زہرہ سے میری پہلی ملاقات، جس کی بے تکلفانہ گفتگو اور بہترین اخلاق نے مجھے اس سے دوستی کرنے پر مجبور کر دیا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ ہم ایک دوسرے کے گھر بھی آزادانہ آنے جانے لگے اور الحمدللہ یہ دوستی آج بھی قائم ہے ۔
نوٹس کے سلسلے میں اکثر ہم کالج کے لان میں بیٹھ کر ڈسکس کیا کرتے تھے ،خاص کر دسمبر میں صبح کی دھوپ میں بیٹھنا بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن میں نے افشین سے کہا دسمبر کا مہینہ کتنا زبردست ہوتا ہے نا! دن میں ہلکی دھوپ میں بیٹھ کر موسمّی اور امرود سے لطف اندوز ہونااور رات کو لحافوں اور کمبلوں میں گھس کر مونگ پھلیاں کھانا ،کافی یا چائے انجوائے کرنا مجھے تو یہ مہینہ بہت پسند ہے۔
اس نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
’’ ہاں ! ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ مہینہ بہت اداسی لے کر آتا ہے۔ تم شاید بھول گئی ہو اسی دسمبر میں سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہؤاتھا ۔جن لوگوں نے اس سانحے کو اپنی آنکھوں سے ہوتا ہؤادیکھا ہے وہ آج بھی ماتم کناں ہیں۔ تم کسی دن میرے گھر آنا میری امی جب تمہیں سقوط ڈھاکہ سے جڑی اپنے خاندان کی آپ بیتی سنائیں گی تو تمہاری سوچ خود ہی بدل جائے گی ‘‘۔
میں دوسرے دن ہی اس کے گھر پہنچ گئی جہاں آنٹی ہماری منتظر تھیں۔ وہ بہت ملنسار اور محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں پاس بلایا اور کہنے لگیں ،تمہیں معلوم ہے ہم نے اس ارض وطن کے لیے دو بار قربانیاں دی ہیں۔ پہلی مرتبہ 1947 میں انگریزوں سے آزادی حاصل کر کے اپنا الگ وطن بنانے کے لیے ہمارے والدین نے اپنا گھر بار، عزیز رشتہ دار سب کچھ قربان کر دیا اور دوسری مرتبہ دسمبر 1971 میں سقوط ڈھاکہ نے لاکھوں لوگوں کے خون کا خراج حاصل کیا۔ اسی سانحے نے میری بڑی بہن کو مجھ سے چھین لیا ۔میں تمہیں ان سے بچھڑنے کی کہانی سناتی ہوں تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ کس طرح اپنوں کو کھونے کے بعد، آگ اور خون کا دریا پار کر کے ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔
میں تو ان کے پاس گئی ہی اس لیے تھی کہ ان کی کہانی سن سکوں ۔اتنے میں افشین بھی چائے بنا کے لے آئی تو ہم دونوں ان کے قریب بیٹھ گئے۔
آنٹی نے بولنا شروع کیا :
میرا نام تارا ہے ۔ہم دو بہنیں تھیں جو اپنے والدین کے ساتھ سید پور میں رہتی تھیں۔ میری باجی کا نام چندا تھا وہ اپنے نام کی طرح ہی بہت خوبصورت تھیں۔ باجی مجھ سے پانچ سال بڑی تھیں۔ کہتے ہیں بڑی بہن ماں کا روپ ہوتی ہے واقعی وہ میرے لیے ویسی ہی تھیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ ان کو اپنے ساتھ ہی پایا ۔ ساتھ سونا ،ساتھ جاگنا ، ساتھ کھیلنا، ساتھ اسکول جانا ساتھ گھومنا گویا کہ ہم ایک جان دو قالب تھے ۔لوگ کہتے تھے یہ دونوں تو چاند تارا کی جوڑی لگتی ہیں۔ اور امی دل ہی دل میں ہماری نظر اتارتی اور ہماری سلامتی کی دعائیں مانگا کرتی تھیں ۔
باجی بچپن ہی سے بہت ذہین تھیں لہذا کم عمری میں ہی انہوں نے قرآن پاک مکمل کر لیا تھا ۔تھوڑی بڑی ہوئیں تو کھانا پکانے اور سینے پرونے میں بھی ماہر ہو گئیں۔ اس زمانے میں چھوٹی عمر میں ہی شادی کر دی جاتی تھی لہذا جیسے ہی سلیم بھائی کا رشتہ آیا جو امی کے دور پار کے رشتہ دار تھے اور اپنی دکان کے مالک تھے،اپنے چھوٹے بھائی نسیم کے ساتھ سانتا ہار میں رہتے تھے،توابو امی کو رشتہ بہت پسند آیا اورجھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر کے باجی کو رخصت کر دیا۔
ان کی شادی کے وقت میں ان سے لپٹ کر خوب روئی تھی۔ مجھے آج بھی ان کا یہ جملہ رلاتا ہے کہ’’ پگلی میں شادی کر کے رخصت ہو رہی ہوں تم ایسے رو رہی ہوجیسے میں دنیا سے ہی رخصت ہونے لگی ہوں۔۔۔‘‘آہ! انہیں کیا خبر تھی کہ وہ ہم سے کبھی نہ ملنے کے لیے بچھڑ رہی ہیں۔
اتنا کہنے کے بعد آنٹی رونے لگیں ۔میں نے اور افشین نےملاکر انھیں تسلی دی ،پانی پلایا تو اپنے آنسو پیتے ہوئے بولیں “بیٹا تم لوگوں نے اپنے مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں تو پڑھا ہی ہوگا نا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کیوں رونما ہؤاتھا ۔اسی طرح بنگلہ دیش کے لوگ بھی اپنی کتابوں میں پڑھتے ہوں گے کہ انہوں نے بنگلہ دیش کیوں بنایا ۔خیر میں تو بس اتنا ہی کہوں گی کہ؎
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
باجی کی شادی کے چند مہینوں بعد ہی ملک میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور بنگلہ دیش کی تحریک زور پکڑ چکی تھی ۔ مکتی باہنی( علیحدگی پسند تحریک )کے غنڈے ’’جے بنگلہ‘‘ اور ’’آمار شنار بنگلہ‘‘کا نعرہ لگانے لگے تو امی بہت گھبرا گئیں ۔خط کے ذریعے سلیم بھائی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ لوگ یا تو ہمارے پاس آ جائیں یا کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔آخر کار 16 دسمبر 1971 کا وہ سیاہ دن آ ہی گیا جب چشم فلک نے دیکھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت کو کس طرح عصبیت کی ہوا دے کر دو لخت کر دیا گیا۔
ملک کا ٹوٹنا تھا کہ ہر طرف قتل و غارتگری کا بازار گرم ہو گیا ۔ کبھی خبر ملتی کسی گاؤں کو آگ لگا دی گئی، کبھی خبر آتی کہ کسی محلے میں بلوائیوں نے ایک بھی شخص زندہ نہیں چھوڑا ,کبھی خبر ملتی کہ خواتین کے ساتھ وہ بہیمانہ سلوک کیا گیا جو انسانیت کو بھی شرما دے۔ ہزاروں خواتین نے اپنی عصمت بچانے کے لیے تالابوں میں کود کر اپنی جانیں دے دیں ۔ہر طرف مکتی باہنی کے درندے ہاتھوں میں درانتی اور کلہاڑی لیے دندناتے پھر رہے تھے۔امی ابو نے جائے نماز کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا اور میں ہر وقت ڈری سہمی اپنی باجی کو یاد کرتی اور ان کی سلامتی کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میری باجی کو کوئی بالوں سے پکڑ کر کھینچ رہا ہے میں چیختے ہوئے اٹھی ’’میری باجی کو بچاؤ میری باجی کو بچاؤ‘‘۔ ابو امی بھی پریشان ہو گئے۔ دوسرے دن صبح ہی اطلاع ملی کہ سانتا ہار میں بلوائیوں نے حملہ کر دیا ہے ایک ایک گھر میں گھس کر پورے پورے خاندان کو مار ڈالا ہے۔
یہ سننا تھا کہ امی پاگلوں کی طرح باہر کو دوڑیں گویا کہ سانتا ہار پڑوس میں ہی ہے اور وہ باجی کو بچا کر لے آئیں گی۔ ابو نے پکڑ کر انہیں گھر کے اندر کیا۔ امی کو کسی کل چین نہیں آرہا تھا وہ بار بار کہتی تھیں’’میری چندا مشکل میں ہے ،وہ مجھے بلا رہی ہے، مجھے اس کے پاس جانے دو‘‘۔
وہ دن ہمارا انگاروں پر گزرا، دوسرے دن دوپہر کے وقت دروازے پر دستک ہوئی تو امی بھاگ کر گئیں کہ میری چندا آگئی ہے مگر سامنے ان کے دیور نسیم لٹے پٹے حال میں کھڑے تھے ۔آتے ہی ابو سے لپٹ کر رونے لگے۔ انہوں نے بتایا جیسے ہی فسادات پھوٹے تو ہم نے بھی سوچا کہ وہاں سے نکل کر کسی اور محفوظ مقام پر چلے جائیں مگر دکان کی وجہ سے اور بلوائیوں کے خوف کی وجہ سے نہیں نکل سکے۔ سلیم بھائی کے چند بنگالی دوست تھے جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ اگر حملہ ہؤا بھی تو ہم آپ لوگوں کی حفاظت کریں گےآپ لوگ بے فکر ہو کر رہیں ۔مگر ان لوگوں نے اپنے عمل سے کوفیوں کو بھی شرما دیا ۔
رات کے 12 بجے اچانک حملہ ہو گیا ۔بلوائی کود کود کر ہر گھر میں داخل ہوئے ۔ان بلوائیوں میں وہ آستین کے سانپ بھی شامل تھے جو کہتے تھے کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے۔جیسے ہی گلی میں جے بنگلہ کا شور مچا ہم فوراً چھپنے کے لیےبھاگے ۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا تو میں مرغی کے دڑبے کے اندرچھپ گیا۔ ان ظالموں نے پہلے سلیم بھائی کو چھرا مار کر شہید کیا پھر چندا بھابھی کو ڈھونڈنے لگے ۔وہ باورچی خانے میں چھپ گئی تھیں ان کے اندر ایک ننھی جان بھی پل رہی تھی۔ ظالم درندے ان کو گھسیٹ کر برآمدے میں لے کر آئے اور ان کے پیٹ پر چھریوں کا وار کر کے ان کو بھی شہید کر دیا۔ میں دم سادھے اندر بیٹھا یہ سب منظر دیکھ رہا تھا ،صدمے سے زبان گنگ ہو گئی تھی۔ دل جیسے لگتا تھا دھڑکنا بھول گیا ہے۔ وہ لوگ پورے گھر کو تہس نہس کرنے کے بعد چلے گئے ۔
کافی دیر میں ویسے ہی گم صم بیٹھا رہا ۔جب تھوڑے حواس بحال ہوئے تو ہمت کر کے باہر نکلا اور کسی طرح رات کے اندھیرے میں چھپتے چھپاتے وہاں سے نکل کر یہاں پہنچا ہوں تاکہ آپ لوگوں کو خبر دے سکوں۔
اتنا سننا تھا کہ امی بے ہوش ہو گئیں۔ ابو نے محلے کی خواتین کو بلا کر میرا اور امی کا خیال رکھنے کا کہا اور خود نسیم کے ساتھ سانتا ہار جانے کے لیے نکلے تاکہ باجی کی لاش گھر لا سکیں اور کم از کم ان کی نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کر سکیں، لیکن باوجود کوشش کے وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکے اور خالی ہاتھ ہی گھر واپس آگئے۔ پتہ نہیں میری باجی کی بے گورو کفن لاش کو مٹی بھی نصیب ہوئی کہ نہیں یہ صدمہ اتنا گہرا تھا کہ امی، ابوپھر سنبھل نہ سکے۔ابو نے تو اس دن کے بعد سے چپ سادھ لی اور امی کی ذہنی حالت بگڑ گئی ۔ وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر باہر نکل جاتیں کہ چندا کو لینے جا رہی ہوں، کبھی نیند میں آوازیں دیتیں ،چندا آ گئی ہے دروازہ کھولو۔ ان کا کافی علاج کرایا گیا تب جا کرذہنی حالت کچھ بہتر ہوئی تو صرف یہ کہتی رہتیں، میری چندا تارا کی جوڑی ٹوٹ گئی ۔
یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں تھی ہر گھر میں ایسے ہی صف ماتم بچھا تھا۔نسیم کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں تھا تو ابو نے ان کی شادی میرے ساتھ کروا دی۔چندا باجی کی موت نے ابو، امی کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ میری شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی دونوں یکے بعد دیگرے باجی کے پاس ملک عدم سدھار گئے۔مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن چکا تھا جہاں ہمارا کوئی خونی رشتہ اب باقی نہیں بچا تھا لہذا نسیم مجھے لے کر کسی صورت پاکستان آگئے کیونکہ پاکستان میں نسیم کے کچھ ددھیالی رشتہ دارتھے جو 1947ء میں ہجرت کر کے ڈائریکٹ پاکستان آگئے تھے ۔میں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے خیال رکھنے والا شوہر اور فرمانبردار اولاد دی ہے تو غم بھی بھولا رہتا ہے لیکن جب بھی دسمبر آتا ہے تو زخمی یادوں کے پٹارے ساتھ لاتا ہے ۔سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں جسم کا گھاؤ تو بھر جاتا ہے مگر روح کے گھاؤ نہ کسی کو نظر آتے ہیں نہ بھرتے ہیں۔میری زخمی روح پر بھی گیارہ مہینے کھرنڈ جمی رہتی ہے لیکن دسمبر شروع ہوتےہی یادوں کے دریچے کھلتے ہیں اور زخم کو دوبارہ ہرا کر دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ ’’مرد رویا نہیں کرتے‘‘یا’’مردکو درد نہیں ہوتا‘‘لیکن میں نے دسمبر کی اداس راتوں میں اکثر نسیم کو وہ بھیانک رات یاد کر کے روتے ہوئے دیکھا ہے جس نے ان سے ان کے بھائی اور بھابھی کو چھین لیا ۔
تارا آنٹی کی کہانی سننے کے بعد میں نے سوچا 1971 کے دسمبر نے لاکھوں لوگوں کو نجانے کس کس طرح سے گھائل کیاہے۔ جو شہید ہو گئے وہ تو اعلیٰ جنتوں میں پہنچ گئے لیکن جو ان کے پیچھے رہ گئے ان کی روح پر لگے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہو سکتے ۔جن لوگوں نے اس وقت پاکستان کا ساتھ دیا تھا وہ آج بھی کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان جانے کی حسرت دل میں لیے ہی دنیا سے رخصت ہو رہےہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا علم ہماری آنے والی نسلوں کو ضرور ہونا چاہیے۔
آنکھ میں آنسو نہیں پھر بھی رلاتا ہے بہت
وہ دسمبر ہر دسمبر یاد آتا ہے بہت
٭٭٭