۲۰۲۲ بتول جوننیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا - بتول جون ۲۰۲۲

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا – بتول جون ۲۰۲۲

اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل علیھم السلام کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اعلیٰ و اشرف فریضے کو انجام دینے کے لیے مبعوث کیا، تاکہ انسانوں سے جہالت کے بوجھ کو اتار دیں اور ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس فریضے کو انجام دینے کے بارے میں مکمل رہنمائی عطا کی کہ وہ اس افضل اور اشرف کام کو کس طرح ادا کریں تاکہ انسانیت فلاح کا راستہ اختیار کر لے۔ہر نبی اور رسول نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق معروف و منکر کا فرض ادا کیا۔ ان کی دعوت کو کہیں کم اور کہیں زیادہ افراد نے قبول کیا۔ انبیاء علیھم السلام بے غرضانہ طور پر نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے رہے، خواہ ان کی بات کو کوئی پسند کرے یا ناپسند!
اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اندر پہلے انسان کو بھی جہالت اور تاریکی کی حالت میں پیدا نہیں کیابلکہ ان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں کیا اور انہیں ان کا قانونِ حیات دیا۔ ان کا طریقِ زندگی اللہ کی اطاعت تھی اور اسی کا حکم وہ اپنی اولاد کو دے گئے۔آہستہ آہستہ انسان اس طریقِ زندگی سے منحرف ہو گیا، اور غلط رویوں کی جانب مائل ہو گیا۔ او لادِ آدم نے اس طریقے کو اپنی غفلت سے گم بھی کیا اور اپنی شرارت سے مسخ بھی کیا۔ اور ایسے قوانینِ زندگی گھڑ لیے جو خواہشاتِ نفس پر مبنی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے بگڑے ہوئے انسانوں کے پاس ہر دور میں اپنے رسول واضح تعلیمات کے ساتھ بھیجے، تاکہ وہ انہیں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔اور انہیں اسی راہِ راست کی جانب موڑ دیں جس سے وہ ہٹ گئے ہیں۔اسلام کے مطلوب انسان تیار کرنے کے لیے اسلام معروف و منکر کا ایک مفصل نظامِ تربیت فراہم کرتا ہے جو ان صفات کو پیدا کرتا اور ترقی دیتا ہے، جو پسندیدہ اور مطلوب ہیں اور ان برائیوں سے انسان کو بچاتا اور پاک کرتا ہے جو اسلام کی نگاہ میں ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہیں۔
اسلام ایک خاص قسم کے انسان کے ساتھ ایک خاص قسم کا معاشرہ بھی بنانا چاہتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے اور وہ اسلامی زندگی کے ہر شعبے کا نقشہ بنا دینا چاہتا ہے تاکہ ہر جگہ خدا کا قانون جاری و ساری ہو اور زندگی کا ہر حصّہ خدا کے نور سے روشن ہو جائے۔
انبیاء علیہم السلام کی دعوت
انبیاء علیھم السلام کی دعوت کے تین نکات تھے:
۱ -اقتدارِ اعلیٰ ، جس کے مقابلے میں بندگی کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور جس کی اطاعت پر اخلاق اور تمدن کا پورا نظام قائم ہوتا ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص تسلیم کیا جائے۔
۲ ۔اس مقتدرِ اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے نبی کے حکم کی اطاعت کی جائے۔
۳ ۔انسانی زندگی کی حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کی پابندیوں سے جکڑنے والا قانون و ضابطہ صرف اللہ کا ہو، دوسروں کے عائد کردہ قوانین منسوخ کر دیے جائیں۔ (تفہیم القرآن، ج۱،ص۲۵۴)
انبیاء علیہم السلام کی ذمہ داری
رسولوں کا کام دعوتِ حق پہنچا دینا ہے، آگے اللہ تعالیٰ بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے۔ارشاد ہے:
’’اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: کیا تم نے بھی اس کی اطاعت قبول کی؟ اگر کی تو وہ راہِ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ اپنے بندوں کے معاملات خود دیکھنے والا ہے‘‘۔ (آل عمران، ۲۰)
ارشادِ الٰہی ہے:
’’ہم جو رسول بھی بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار

لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والے اور بد کرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے‘‘۔ (الانعام،۴۸)
قیامت کے دن گمراہ افراد اس بات کا اقرار کریں گے کہ انبیائے کرام نے انہیں خبردار کیا تھامگر انہوں نے خود ان کی بات نہ مانی۔
’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ: اے گروہِ جن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں‘‘۔ (الانعام،۱۳۰)
یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ رسول ہمیں نیکی کا حکم دیتے اور برائیوں سے منع کرتے رہے اور ہمیں حقیقت سے خبردار کرتے رہے، مگر یہ ہمارا اپنا قصور تھا کہ ہم نے ان کی بات نہ مانی۔
رسول اللہ ؐ کی دعوت کا اہم عنصر
قرآن کریم میں اسلام کی ہمہ گیر دعوت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’(پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصّہ ہے) جو اس پیغمبرؐ ، نبی امّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے، لہٰذا جو لوگ اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ (الاعراف، ۱۵۷)
مومن امر بامعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں
امر بامعروف ونہی عن المنکر مومنین کا شعار ہے اور یہ ان کی اعلیٰ صفت ہے، فرمایا:
’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃٰ دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں‘‘۔ (التوبہ، ۷۱)
سچے مومن مرد وزن ایک گروہ کے افراد ہیں، جس کے سارے افراد میں یہ خصوصیت مشترک ہے کہ نیکی سے وہ دلچسپی رکھتے ہیں، بدی سے نفرت کرتے ہیں، خدا کی یاد ان کے لیے غذا کی طرح زندگی کی ناگزیر ضروریات میں شامل ہے، راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے ان کے دل اور ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور خدا اور رسول کی اطاعت ان کی زندگی کا وتیرہ ہے۔(تفہیم القرآن،ج۲،ص۲۱۴)
مزید فرمایا:
’’اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اس کی بندگی بجا لانے والے، اس کی تعریف کے گن گانے والے، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوشخبری دے دو‘‘۔ (التوبۃ،۱۱۲)
یعنی مومن وہ ہیں کہ اگر ان کا قدم پھسل جائے تو وہ فوراً ہی توبہ کرکے اس رب کی جانب پلٹ آتے ہیں، نہ اپنے انحراف پر جمع رہتے ہیں نہ زیادہ دور نکلتے ہیں، بلکہ یہ مومنانہ صفات انہیں رب کی بندگی میں مسلسل متحرک رکھتی ہیں۔ اللہ کے دین کو قبول کرنے کے بعد وہ اس دین کو بول بالا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے دوڑ دھوپ میں لگ جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے عقائد، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، تمدّن سیاست، عدالت اور صلح و جنگ کے معاملات میں جو حدیں مقرر کر دی ہیں، وہ ان کو پوری پابندی کے ساتھ ملحوظ رکھتے ہیں۔ سچے اہلِ ایمان کی یہی خوبی نہیں کہ وہ خود نیکی پر قائم رہتے ہیں اور بدی سے دور بھاگتے ہیں بلکہ وہ دنیا میں اللہ کے اوامر ونواہی ، اور اس کی مقرر کردہ حدود کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی نگہبانی کرتے ہیں اور اپنا پورا زور اس سعی میں لگا دیتے ہیں

کہ ا س کی حدیں نہ ٹوٹنے پائیں۔
یہ بھلائی کا حکم دینے والے، یعنی ایمان اور اطاعت کا حکم دینے والے اور برے کاموں سے یعنی شرک اور گناہ سے روکنے والے ہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ: المعروف سے مراد سنت ہے۔ یعنی وہ لوگوں کو رسول اللہ ؐ کی سنت اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیںاور المنکر سے مراد بدعت ہے کہ وہ بدعت کی پیروی اور اسے رائج کرنے سے روکتے ہیں۔
اصلاح عذاب کو روکتی ہے
جب تک بگڑے ہوئے معاشرے میں اصلاح کا کام ہوتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت قائم رکھتا ہے، ارشاد ہے:
’’پھر کیوں نہ ان قوموں میں، جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہیں مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے، حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں‘‘۔ (ھود،۱۱۶۔۱۱۷)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ صرف انہی قوموں کو نہیں، بلکہ پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں تباہ ہوئی ہیں ، ان سب کو جس چیز نے گرایا، وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا تو وہ خوش حالی کے نشے میں مست ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے لگیں اور ان کا اجتماعی ضمیر اس درجے بگڑ گیاکہ یا تو ان کے اندر ایسے نیک لوگ باقی رہے ہی نہیں جو ان کو برائیوں سے روکتے، یا اگر کچھ ایسے لوگ نکلے بھی تو وہ اتنے کم تھے اور ان کی آواز اتنی کمزور تھی کہ ان کے روکنے سے فساد نہ رک سکا۔ یہی چیز ہے جس کی بدولت آخرکار یہ قومیں عذاب کی مستحق ہوئیں، ورنہ اللہ کو اپنے بندوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ وہ تو بھلے کام کر رہے ہوں اور اللہ ان کو خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے۔ (تفہیم القرآن،ج۲،ص۳۷۲)
جو لوگ اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شریعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہٰذا جو لوگ دنیا میں اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں، وہ بڑی قدروقیمت کے مالک ہوتے ہیں۔ جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں، نہ صرف یہ کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے، اور ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔(فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
امتِ مسلمہ کا منشور
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں وہی فلاح پائیں گے‘‘۔ (آل عمران،۱۰۴)
اس آیت میں امت ِ مسلمہ کا منشور اور ہدف بیان کیا گیا ہے۔ اس کا فریضہ ، فریضہ اقامتِ دین ہے، یعنی اس کرۂ ارض پر اسلامی نظامِ زندگی کا قیام، حق کو باطل پر غالب کرنا اور معروف کو منکر پر ، خیر کو پھیلانا اور شر کو روکنا۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے ، اپنی نظروں کے سامنے ، اپنے خاص منہاج کے مطابق اس امت کو برپا کیا ہے۔ پس یہ ضروری ہؤا کہ ایسی جماعت ہر وقت موجود ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دے، معروف کا حکم دے اور منکر سے منع کرے۔ان کے اندر ایسا اقتدار اور ایسی قوت ضرور ہونی چاہیے۔یہ اقتدارِ اعلیٰ دعوت الی الخیر کے نصب العین پر قائم ہو گا اور اس کا مقصد دفعِ شر ہو گا۔ایک ایسا اقتدارِ اعلیٰ قائم کیا جائے گا جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو اداکرے۔ وہ انسانی زندگی میں معروف کو رائج کرے اور منکر کا قلع قمع کرے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی آسان اور سہل کام نہیں ہے۔ خصوصاً جب اس کے مزاج پر غور کریں اور دیکھیں تو وہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات سے متصادم ہے۔ وہ بعض لوگوں کی ذاتی مصلحتوں اور مفادات سے ٹکراتا ہے، بعض لوگوں کے غرور اور کبریائی پر اس سے زد پڑتی ہے، بعض غاصب جابروں اور زبردستی مسلط ہونے والے حکام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں، بعض گرے ہوئے طبقات جن میں ترقی اور بلندی کا داعیہ ہی نہیں ہوتا وہ اسے مصیبت سمجھتے ہیں، بعض اس قدر کاہل ہوں کہ اس کی مشقتیں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ، بعض ظالم طبقات سے ہوں کہ جس کے ساتھ عدل لگا نہ کھاتا ہو۔ بعض ایسے کج رو ہوں کہ انہیں صراط ِمستقیم اچھا ہی نہ لگتا ہو، اور ان میں سے بعض ایسے ہوں جو منکر کو پسند کرتے ہوں اور معروف کے دشمن ہوں …. حالانکہ انسانیت اور امتِ مسلمہ صرف اس وقت فلاح پا سکتی ہے کہ اس میں خیر غالب ہو، معروف کو معروف اور منکر کو منکر سمجھا جاتا ہو، اور ان تمام امور کا منطقی تقاضا ہے کہ ایک ایسا اقتدارِ اعلیٰ ہو جو اپنے اوامر ونواہی کو منوانے کی قوت بھی رکھتا ہو۔(فی ظلال القرآن)
امتِ مسلمہ کی پیشوائی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، اس لیے اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے انہیں سیدھا راستہ بتاتا رہا، اور بنی اسرائیل کو پیشوائی کا منصب بھی عطا کیا تاکہ وہ لوگوں میں معروف و منکر کا فریضہ انجام دیتے رہیں۔ جب انہوں نے دنیا کی امامت و رہنمائی کا حق ادا نہ کیا تو وہ اپنی نا اہلی کے باعث اس منصب سے معزول کر دیے گئے، اور اس پر امتِ مسلمہ کو سرفراز کیا گیا، کیونکہ اب وہ دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ ہیں جن میں وہ صفات پیدا ہو گئی ہیں جو امامتِ عادلہ کے لیے ضروری ہیں، یعنی نیکی کو قائم کرنا اور بدی کو مٹانے کا جذبہ وعمل۔ لہٰذا اب اس امت کو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے، اور پیش رووں کے نقشِ قدم پر چلنے سے بچنا ہے۔ ارشاد ہے:
’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانیت کی ہدایت واصلاح کے لیے میدانِ عمل میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (آل عمران،۱۱۰)
اس آیت میں امت ِ مسلمہ کے کندھوں پر جو بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ اسی لیے ڈالا گیا کہ اللہ نے اس جماعت کو مکرم اور معزز بنایا ہے اور اسے ایسا مقام و مرتبہ دیا ہے جس پر آج تک کوئی دوسری جماعت فائز نہیں ہو سکی۔ اس امت کے منصب اور مقام کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس زندگی کو شر اور فساد سے پاک کر دے اور اس کے پاس اس قدر قوت ہونا چاہیے کہ وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے سکے۔ اس لیے کہ وہ بہترین امت ہے اور اس لیے کہ اسے لوگوں کی اصلاح کے لیے نکالا گیا ہے۔ یہ کام اس کے فرائض میں سے ہے جنہیں لے کر اس نے اٹھنا ہے، چاہے ان فرائض کی ادائیگی میں اسے تکالیف اٹھانی پڑیں، اس لیے کہ یہ ایک خار دار راستہ ہے۔ اس میں شر کو چیلنج کرنا ہے، لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا ہے اور معاشرے کو شر وفساد کے عوامل اور اسباب سے بچانا ہے۔یہ سب کام تھکا دینے والے کام ہیں لیکن ایک صالح معاشرے کے قیام اور بچاؤ کے لیے ضروری ہیں، اس کے سوا وہ نقوش جم نہیں سکتے جن کے مطابق اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو استوار کرنا چاہتا ہے۔(فی ظلال القرآن)
مومن ہونا شرط ہے
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرض ادا کرنے کے لیے پکا مومن ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ ایمان کا ترازو ہی معروف و منکر کی پہچان کروائے گا۔ بعض اوقات شر و فساد اس قدر پھیل جاتا ہے کہ معاشرے کی اجتماعی اقدار بدل جاتی ہیں اور ان میں خلل پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے خیر و شر کی پہچان کے لیے ایک مستحکم تصوّر کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں فضائل ِ اعمال اور رزائلِ اخلاق میں اچھی طرح جدائی ہو، کسی بھی مقام پر معروف اور منکر باہم گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ان صحیح تصورات کے نتیجے میں صحیح اخلاقی اصول وجود میں آتے ہیں، جو خداخوفی اور اس کی رحمت ورضا کی امید پر مبنی ہوتے ہیں۔ لوگ ان اصولوں کے قیام پر بخوشی مائل ہوتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ کی حکمرانی ہوتی ہے اور ان کے معاشرے پر اللہ کی شریعت کی حکمرانی ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں اس فریضے کی جانب بار بار تاکید کی گئی ہے، رسول اللہ ؐنے بھی اس کی جانب بار بار متوجہ کیا ہے۔حضرت ابو سعیدؓخدری سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے سنا: ’’تم میں سے جو بھی منکر کو دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے زائل کر دے، اگر ایسا نہ کر سکے تو اپنی زبان کے ساتھ، اور اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل کے ساتھ۔ اور یہ ضعیف ایمان ہے‘‘۔(رواہ مسلم،۴۹)
یہ اسلامی معاشرے میں منکرات سے روکنے کے لیے نہایت اہم حکم ہے، اور مسلمان جب تک ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اس پر عمل کرتے رہے مسلمان معاشرہ بہت سی قباحتوں، برائیوں اور گناہوں سے محفوظ رہا اور جب مسلمانوں نے اس فریضے کو فراموش کر دیا تو معاشرے میں منکرات کا سیلاب آ گیا۔
بنی اسرائیل کی بستی کی مثال
قرآن ِ کریم منکرات میں مبتلا بنی اسرائیل کی بستی کی مثال پیش کرتا ہے:
’’اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقعہ تھی۔ انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ہی ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں انہیں یہ بھی یاد دلاؤ جب ان کے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے‘‘ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمھارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں‘‘۔ آخر کار جب وہ ان ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کروائی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیاجو برائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا‘‘۔ (الاعراف،۱۶۳۔۱۶۵)
یہ بستی تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ (۱) جو دھڑلے سے احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ (۲) دوسرے وہ جوخلاف ورزی تو نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ (۳) وہ جن کی غیرت ِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو برداشت نہ کر سکتی تھی۔ وہ اس خیال سے نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہِ راست پر آجائیں، اور اگر وہ راہِ راست نہ بھی اختیار کریںتب بھی ہم اپنی حد تک فرض نبھا کرخدا کے سامنے اپنی براء ت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ پھر جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن کے مطابق صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا، کیونکہ اسی نے خدا کے حضور معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی ۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر لازم ہے
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے اللہ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کے اس کی امت میں سے حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل اور اس کے حکم کی اقتداء کرتے، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے جو ایسی باتیں کہتے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ پس جو ان کے ساتھ دل سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے، اور جو اپنی زبان سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ (رواہ مسلم)
حضرت ابن مسعودؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا، اور وہ نہ رکے تو ان کے علماء نے ان سے ہم نشینی کی۔ وہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض کے دلوں کے ساتھ مارا، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، اور عیسٰی ابنِ مریم علیھم السلام کی زبان سے ان پر لعنت کی گئی۔پھر آپؐنے ٹیک چھوڑ دی اور بیٹھ گئے اور فرمایا: ’’ہرگز نہیں! اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہاں تک کہ تم انہیں واپس حق کی طرف اچھی طرح پلٹا کر نہ لے آؤ‘‘۔ (رواہ ابو داؤد و

الترمذی)
یعنی برائی دیکھنے اور اسے نہ روکنے کے بد اثرات دیکھنے والے پر مرتب ہوتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ خود بھی برائیوں کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔
حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمہیں معروف کا حکم دینا ہو گا اور منکر سے روکنا ہو گا ورنہ قریب ہے کہ اللہ اپنی جانب سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے اور پھر حال یہ ہو جائے کہ تم اسے پکارو اور وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب نہ دے۔ (الترمذی)
حضرت عرس بن عمیر کندیؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جب زمین میں کوئی برائی ہو رہی ہو، تو جو شخص اس وقت اسے دیکھ رہا ہو، اور اس پر نکیر کر رہا ہو تو ایسا ہو گا جیسے وہ اس سے غائب ہو، اور جو شخص اس سے غائب ہو لیکن اس پر راضی ہووہ ایسا ہو گا جیسا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہو‘‘۔ (رواہ ابو داؤد)
حضرت ابو سعیدؓ خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’حضرت حمزہؓ سید الشہداء ہیں اور وہ شخص شہداء کا سردار ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اسے معروف کا حکم دیا اور منکر سے روکا، اور اس وجہ سے اس نے اسے قتل کر دیا‘‘۔ (رواہ حاکم)
سفینہء نجات
معروف و منکر کے فریضے کی ادائیگی نہ کرنے کے مضرات کو ایک تمثیل سے سمجھایا گیا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’اس شخص کی مثال جو اللہ کی حدود کو قائم کرنے والا ہے اور اس کی حدوں میں مبتلا ہونے والا ہے (یعنی قوانین الٰہی کو توڑنے والا ہے) ، ان لوگوں کی طرح ہے (جو ایک کشتی میں سوار ہوئے) انہوں نے کشتی کے (اوپر اور نیچے والے حصوں کے لیے) قرعہ اندازی کی، پس ان میں سے بعض بالائی منزل پر اور بعض نچلی منزل پر بیٹھ گئے۔ نچلی منزل والوں کو جب پانی لینے کی طلب ہوتی تو وہ اوپر آتے اور بالا نشینوں پر سے گزرتے (جو انہیں ناگوار گزرتا) چناچہ نچلی منزل والوں نے سوچا کہ اگر ہم اپنے (نچلے) حصّے میں سوراخ کر لیں (تاکہ اوپر جانے کے بجائے سوراخ ہی سے پانی لے لیں) اور اپنے اوپر والوں کو تکلیف نہ دیں (تو کیا اچھا ہو)۔ پس اوپر والے نیچے والوں کو ان کے اس ارادے سمیت چھوڑ دیں، (انہیں سوراخ کرنے سے نہ روکیں اور وہ سوراخ کر لیں) تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے(کیونکہ سوراخ ہوتے ہی ساری کشتی میں پانی جمع ہو جائے گا جس سے کشتی تمام مسافروں سمیت غرق ہو جائے گی) اور اگر وہ ان کے ہاتھوں کو پکڑ لیں گے (اور سوراخ نہیں کرنے دیں گے) تو وہ خود بھی اور دوسرے تمام مسافر بھی بچ جائیں گے‘‘۔ (رواہ البخاری،۲۴۹۳)
یعنی معاشرے کی حیثیت بھی ایک کشتی نما ہے اور اس میں منکرات کے ارتکاب کے نتائج مرتکبین تک محدودنہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات ِ بد پورے معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ معاشرے کو تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ کا صالح عنصر بیدار رہے۔ وہ فسق و فجور کرنے والوں کو اللہ کی نافرمانی سے روکے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا اور آٹے کے ساتھ گھن بھی پسے گا۔
رسول اللہ ؐ نے اس بارے میں نتائج کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ’’جو قوم گناہوں میں مبتلا ہو جائے اور ان میں اسے روکنے کی قدرت رکھنے والے بھی موجود ہوں اور وہ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ جل شانہ‘ ان سب کو اپنی طرف سے عذاب میں مبتلا کر دیں‘‘۔ (اخرجہ ابوداؤد،۴۳۳۸)
ابو ثعلبہؓ نے رسول اللہؐ سے اس آیت کی تفسیرپوچھی: ’’جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘‘ (المائدۃ،۱۰۵) تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے ثعلبہ! اچھائی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور جب دیکھو کہ بخیلی کی روش جاری ہو چکی ہے اور خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے اور ہر صاحب ِ رائے اپنی رائے پر اترا رہا ہے تو تم اپنے آپ کو بچاؤ اور عوام سے دور ہو جاؤ۔ تمہارے پیچھے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہوں گے، تمہارے عقیدہ وعمل کو اپنانے والوں کے لیے تم میں سے پچاس آدمیوں کی طرح ثواب ملے گا‘‘۔ (سنن ابی داؤد)

گناہ اور بدی کسی معاشرے میں سرایت کرتی ہے تو اسے برباد کر دیتی ہے۔ اس کا تدارک ابتداء ہی میں کرنا چاہیے، جیسے بیماری کسی جسم پر حملہ آور ہو تو ناسور بننے سے پہلے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔جب برائی کو معاشرے میں پھیلنے کے مواقع مل جائیں تو چھوٹے بڑے سب اس کے عادی ہو جاتے ہیںاور پھر اسے مٹانا اور اس کا ازالہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور اللہ کا قانون حرکت میں آجاتا ہے۔
انسانوں کو مسلسل تطہیر کے عمل سے گزرنے کی ضرورت ہے اور اسی طرح انسانی معاشرے کو بھی! جس طرح اگر مکان کی صفائی ستھرائی نہ کی جائے اور اس میں سے کوڑا کرکٹ دور نہ پھینکا جائے تو کچھ عرصہ بعد وہ جگہ بد بو اور جراثیموں کی آماج گاہ بن جاتی ہے، اور اس کی ہوا تک متعفن اور زہر آلود ہو جاتی ہے اور اس میں وبائی جراثیموں کی پرورش ہونے لگتی ہے، یہی حال معاشرے میں منکرات کے فروغ کا ہے۔اگر معاشرے میں برائی کو پنپنے دیا جائے اور اس روکنے کے لیے ہاتھ بلند ہوں نہ آوازیں تو کچھ مدت بعد ہر جانب گندے اور شریر النفس لوگوں کا راج ہو جائے گا۔ اچھائی اور برائی کا امتیاز مٹ جائے گا۔ برائی کے اڈے قائم کرنے کو لوگوں کا حق قرار دیا جائے گا اور پند و نصائح کی آوازوں کو دبایا جائے گا۔
جب انسانی نفوس قبیح اور خراب چیزوں کے عادی ہو جائیں تو وہی انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں، اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر چھوڑ دیا جائے تو لوگ اچھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور برائیوں کے خوگر بن جاتے ہیں۔ برائی اتنی عام ہو جاتی ہے کہ نیکی اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔بلکہ برائی ہی کو عمدہ سمجھ لیا جاتا ہے، یہی بصیرت کا ختم ہونا اور فکری مسخ ہے۔ اسی بنا پر اللہ اور اس کے رسول ؐ نے امر بالمعروف نہی عن المنکر کو مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ یہ انسانی معاشرہ کی پاکیزگی اور درستی کا ضامن ہے۔
آداب امر ونہی
۱ ۔داعی معروف اور منکر کا علم رکھتا ہو۔ وہ جس چیز کا حکم دے اور جس سے منع کرے، وہ شریعت کے مطابق ہو۔
۲ ۔اصلاح کرنے والا خود اس پر عمل کرنے والا ہو۔ ’’اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں ہو‘‘۔(الصف۳)
’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، حالاں کہ تم کتاب پڑھتے ہو؟‘‘۔(البقرۃ،۴۴)
۳ ۔مبلغ اچھے اخلاق کا مالک ہو، جو نرمی کے ساتھ حکم دے اور منع کرے۔ اور اس راہ میں پہنچنے والی اذیتیوں پر صبر کرے اور عفو ودرگزر سے کام لے۔
’’اچھائی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘۔ (لقمان،۱۷)
لوگوں کی برائیوں کی اصلاح کے لیے تجسس اور کرید نہ کرے بلکہ اس برائی کی اصلاح کرے جو نظر آجائے۔منکرات کی دریافت کے لیے لوگوں کے گھروں میں جھانکنا، یا کسی کے ذاتی معاملات کی کرید کرنا اور لوگوں کی جاسوسی کرنا درست نہیں۔
۴ ۔جن کو برائی سے روک رہا ہے انہیں برائی کی پہچان کروائیں، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اسے برا سمجھتا ہی نہ ہو، جبھی اس کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔
۵ ۔نیکی کی ترغیب اور گناہ کی ترہیب سے کام لے، اس معاملے میں زیر دستوں پر سختی بھی کی جا سکتی ہے اور مناسب سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
۶ ۔اگر معاشرے میں بگاڑ عام ہو چکا ہے اور ہاتھ سے روکنا ممکن نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اسے دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔
۷ ۔کوئی بھی شخص اس لیے منکرات کو اختیار نہیں کر سکتا کہ وہ کمزور ہے۔ اپنے معاملات میں اسے پورا اختیار ہے کہ وہ خود کسی بھی منکر بات یا کالم میں ملوث نہ ہو، اگرچہ اسے استھزاء اور مذاق کا نشانہ بنایا جائے یا دنیاوی ترقی کے دروازے اس پر بند ہو جائیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here