ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

نیا ساحل – کوثر خان

نیند صبا کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ دل درد سے پھٹا جارہا تھا۔وہ اپنا غم کہتی بھی تو کس سے؟ بہن کوئی تھی نہیں اور اماں پہلے ہی اس کی وجہ سے دل کی مریض بن چکی تھیں۔دو دفعہ انجائنا کا اٹیک ہوچکا تھا۔اس لیے وہ اماں سے بات کرتے ہوئے محتاط رہتی تھی۔پرآج تو بات ہی کچھ ایسی ہوئی تھی جس نے اس کا دل ہلا کر رکھ دیا تھا۔وہ اپنی ننھی اریبہ کے لیے عید کی پیاری سی فراک خرید کر لائی تھی اور بہت خوش تھی کہ ننھی اریبہ میچنگ کی چوڑیاں اور ہئیر بینڈ لگا کر ’’ننھی پری‘‘ لگے گی۔
لیکن عدنان نے انتہائی معمولی سی بات پر غصے میں آکرفراک کو چولہے پر رکھ کر جلا دیا تھا۔پھراحتجاج کرنے پر ایک بھرپور طمانچہ اس کے گال پر پڑا تھا۔اس سے پہلے بھی اس کا دل کئی مرتبہ ٹوٹا تھا ۔لیکن آج تو جیسے ریزہ ریزہ ہو گیا تھا ۔ چہرہ غم سے سفید پڑ گیا۔رمضان کا آخری عشرہ تھا اور قبولیت کی گھڑی….اللہ تو ٹوٹے دل کی فریاد ضرور سنتا ہے۔ اس نے گڑگڑا کر دعا کی۔
’’یا اللہ میرے لیے جو فیصلہ بہتر ہو مقدر فرمادے۔میں بہت تھک چکی ہوں‘‘۔
اور پھرکتاب زندگی کے اوراق الٹتے ہی چلے گئے۔
٭
اماں بھی تو میرے لیے کتنی پیاری پیاری فراکیں سیا کرتی تھیں۔کوئی فراک بھی بغیر ڈیزائن کے نہیں ہوتی۔محلہ کی خواتین بھی کہا کرتی تھیں۔
’’صبا تمہاری امی کتنی سلیقہ مند ہیں ۔کتنے اچھے کپڑے سیتی ہیں تمہارے‘‘۔
اور یہی سلیقہ اماں نے صبا کے اندر بھی انڈیل دیا تھا۔ میٹرک کے بعد سے ہر چھٹیوں میں اماں کوئی نہ کوئی کام سکھا رہی ہوتی تھیں۔یونیورسٹی پہنچنے تک سلائی کڑھائی سے لے کر کوکنگ تک صبا سب کچھ سیکھ چکی تھی۔ساتھ ساتھ رشتہ بھی طے ہوچکا تھا۔دو بہنوں اور ایک بھائی پر مشتمل مختصر فیملی تھی جن کے والدین دنیا سے جا چکے تھے۔ اماں کو تو بڑا رحم آیا بن ماں باپ کے بچوں پر۔ شادی کے موقعے پر اماں نے اس کے لیے محبت بھرے اشعار لکھ کر ایک خوبصورت فریم میں سجا دیے تھے۔
دُخترِ من! تجھے نئی زندگی مبارک ہو
بحرِ زندگانی کا نیا ساحل مبارک ہو
سفرِ نو میں رفیقِ کامل مبارک ہو،
تجھ کو چاہنے والا نیا دل مبارک ہو
دوسرے تحفوں کے ساتھ یہ بھی اماں کا دیا ہؤا ایک قیمتی تحفہ تھا۔وہ تو صبا نے اپنی اماں کو بتایا ہی نہیں کہ یہ فریم بھی عدنان کے غصے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا ورنہ انہیں بہت دکھ ہوتا۔
رات کے اس سمے وقت جیسے رک گیا تھا…. کیسی بوجھل رات تھی! اسے ایک ایک بات یاد آرہی تھی۔وہ دن جب آفس جاتے ہوئے عدنان نے صبا سے فرمائش کی۔
’’ بھئی آج تو کڑھی کا موڈ ہورہا ہے ایسا کرو شام کو کڑھی چاول بنانا‘‘۔
اور اس نے مسکراتے ہوئے حامی بھرلی تھی۔ کڑھی بڑے مزے کی پکی تھی۔ صبا آج بہت پر سکون اور مطمئن تھی کہ عدنان اپنی پسند کا کھانا کھا کر بہت خوش ہوں گے۔اس نے عدنان کی پسند کا سوٹ پہنا اور ہلکا پھلکا میک اپ کرکے تیار ہوگئی۔عدنان آفس سے آئے تو فورا ہی کھانا لگادیا۔لیکن یہ کیا؟ دسترخوان پر بیٹھتے ہی عدنان کے چہرے کے تیور بدلنے لگے۔
’’یہ تم نے کیسی کڑھی پکائی ہے؟‘‘
عدنان غصے سے بولا اور اس کے ساتھ ہی کڑھی کا پیالہ ہوا میں اچھل کر کمرے کی چیزوں کو رنگین کرچکا تھا ۔ تعریف کی امید میں بیٹھی صبا اس صورتحال پر پتے کی طرح لرز رہی تھی۔ عدنان کا پل پل بدلتا موڈ اس کو خوف زدہ کر رہا تھا۔
اور وہ دن جب صبا کی خوبصورت چوڑیوں کا اسٹینڈ ٹوٹا تھا ۔صبا خوبصورت اسٹینڈ میں چوڑیاں سجا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی تھیں۔ایک دن عدنان آفس سے گھر لوٹا تو کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے صبا سے سوال کیا۔
’’ یہ تم نے چوڑیاں باہر کیوں سجائی ہوئی ہیں؟ اندر رکھو انہیں‘‘۔
صبا جو نک سک سے تیارشوہر کے استقبال کو اٹھی تھی،اس اچانک سوال پر بوکھلا گئی،حیران ہوکر پوچھنے لگی۔
’’پھر کہاں رکھوں الماری میں بھی جگہ نہیں ہے پھر بھی آپ کہتے ہیں تو ہٹا لیتی ہوں ‘‘۔
یہ کہتے ہوئے ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ عدنان نے ایک زور کا ہاتھ مار کر اسٹینڈ فرش پرگرادیا۔ کانچ کی چوڑیاں کرچی کرچی ہو کر فرش پر پھیل چکی تھیں۔
وہ کرچیاں تو صبا نے سمیٹ لیں لیکن صبا کا جو ننھا سا دل کرچی کرچی ہوچکا تھا اس کو سمیٹنے والا کوئی نہ تھا۔
ایک سال کے بعد صبا کی گود میں ایک پیاری سی بیٹی آگئی جس کا نام ایمن رکھا گیا۔گھر میں وہ پہلی بچی تھی۔اس لیے ایمن کے لیے سب غیر معمولی حساس واقع ہوئے تھے۔ وہ سب بچی پر اپنا حق ایسا جتاتے کہ ایمن کی مامتا ترس ترس جاتی۔ کبھی ایمن کی طبیعت ذرا سی بھی خراب ہوتی تو صبا کی شامت آجاتی۔ ایک دن ایمن کو معمولی سی حرارت ہوئی اس پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔عدنان نے حکم جاری کردیا کہ گھر میں بہت جراثیم ہیں اس لیے گھر کی ہر چیز کو دھوپ لگائی جائے ۔یہاں تک کہ وہ گرم کپڑے اور رضائیاں بھی جو ابھی موسم نہ ہونے کے باعث پیٹی میں رکھے ہوئے تھے انہیں بھی دھوپ لگائی جائے۔ اس انوکھے مطالبے پرصباحیرانی سے بولی۔
’’بیماری تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے معمولی سا بخار ہے دوا سے ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔
اتنی سی بات پر اس کا پارہ ہائی ہو گیا ۔
’’بکواس بند کرو اور جو میں نے کہا ہے وہ کرو۔بلکہ اوپر صندوق سے بھی کپڑے نکال کر لا کر دھو۔لگتا ہے تم اس کی ماں نہیں ۔تم سے تو سوتیلی ماں اچھی ہے‘‘۔
یہ الفاظ نہیں تیر تھے جوصبا کے دل میں کھب گئے تھے ۔مگر یہ زخم دیکھنے والا وہاں تھا ہی کون ۔ دو غیر شادی شدہ نندیں جوآئے روز بھائی کو صبا پر برستا دیکھ کر تیکھی نظروں سے دیکھتیں اور زیر لب مسکراتیں ۔ ایمن زیادہ تر صبا کی بڑی نند نورین کے پاس رہتی تھی۔اس کا کھلانا پلانا سب نورین کی مرضی سے ہوتا ،غیر محسوس انداز سے بچی کو صبا سے دور کیا جارہا تھا۔ایک رات صبا بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ میری بیٹی میرے پہلو میں ہو اور میں اسے پیار کرتے کرتے سوجاؤں۔ اس نے بہت عاجزی سے عدنان سےکہا۔
’’ مجھے ایمن کے بغیر نیند نہیں آرہی۔نورین باجی کے پاس سے ایمن کو لادیں تاکہ میں اسے اپنے پاس سلالوں۔ وہ میری بیٹی ہے اسے میرے پاس ہی سونا چاہیے‘‘۔
جواب آیا ’’نہیں وہ تمہاری نہیں ہماری بیٹی ہے‘‘۔
وہ تڑپ گئی’’ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں نے اسے جنم دیا ہے۔میں اس کی ماں ہوں ۔آپ ایک ماں کو اس کے حق سے محروم کررہے ہیں‘‘۔ صبا نے روتے ہوئے کہا۔
عدنان نے ایک تھپڑ صبا کے منہ پر دے مارا اور چیختے ہوئے بولا ’’آئندہ اس قسم کی باتیں اپنے منہ سے نہ نکالنا ۔وہ نورین کے پاس ہے اور نورین کے پاس ہی رہے گی‘‘۔ صبا سکتے میں آگئی۔
اس طرح کے آئے دن کے واقعات نے صبا کی روح تک کو چھلنی کر دیا تھا۔مگر آج کے ذلت آمیز رویے نے اسے تڑپا کر رکھ دیا تھا۔
عدنان غصے،انتقام،اذیت پسندی اور نفس پرستی کے ذہنی امراض میں مبتلا تھا۔آئے دن گھر کی چیزوں کو توڑنا پھوڑنا ،بہنوں کے سامنے صبا کو ذلیل کرنا ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدید غصے کا اظہار کرنا اس کا شعار تھا ۔ نہ جانے اس کی تربیت کن حالات میں اورکن ہاتھوں میں ہوئی تھی ۔ بظاہر خوش پوش اور خوش گفتار نظر آنے والا پس پردہ انتہائی تنگ نظر اور بد اخلاق تھا جسے نفسیاتی علاج کی ضرورت تھی۔مگر علاج کی فکر کسے ہوتی اور کیوں ہوتی؟ ذہنی صحت جانچنے کے علوم تو اب عام ہوئے ہیں ۔ پھر بھی لوگ اپنی انا کو لیے ماہرین نفسیات کے پاس جانے سے کتراتے ہیں ۔ اس تنگ نظر اور تنگ دل گھرانے میں اس طرح کا مشورہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا تھا ۔ بہنوں کا خیال تھا کہ ’’ہمارا بھائی تو ہیرا ہے‘‘ کبھی کہتیں ’’مردوں کو تو ایسا ہی ہونا چاہیے،یہی تو مردوں کی شان ہے‘‘۔بہنوں کی حوصلہ افزائی سے اس کی نفس پرستی اور بد اخلاقی میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔
نورین گھر کے ماحول میں رخنہ ڈالنے اور ماحول کو بگاڑنے میں پیش پیش رہتی تھی۔ حسد اور رقابت کا جذبہ اس میں بہت زیادہ تھا۔بعض دفعہ تو معمولی سی باتوں کو موضوع گفتگو بناکر ہنگامہ کھڑا کردیتی تھی ۔ صبا اپنے والدین کے دکھی ہوجانے اور ان کی عزت پر حرف آنے کے خیال سے ہر چیز برداشت کرتی چلی جا رہی تھی ۔ صبا عدنان کی شخصیت میں محبت،عزت اور اعتماد کی متلاشی رہی جو اسے کبھی نہ مل سکی۔ یہ تین بنیادیں ایسی ہیں جوازدواجی زندگی کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی ہیں اور اسے خوبصورت بناتی ہیں ۔
صبا ایک تعلیم یافتہ ،باادب اور معزز گھرانے کی مشرقی لڑکی تھی جو گھر بسانے کی خاطر سب کچھ جھیلتی رہی۔عدنان کی ہدایت کے لیے دعا کرتی رہی۔صبا نے اسی امید پر دکھ بھرے دس سال گزاردیےکہ کبھی تو سکھ کے دن آئیں گے۔اس عرصہ میں صبا کے پاس مزیدتین بیٹیاں آگئیں۔
بڑی دو بیٹیوں کو تو پھوپھیوں نے صبا سے زیادہ قریب نہ ہونے دیا مگر جب تیسری اور پھر چوتھی بیٹی پیدا ہوئی توعدنان سمیت سب کی آنکھیں ہی بدل گئیں ۔ عدنان ان سے نہ تو خوشی سے بات کرتا اور نہ ہی ان پر کچھ خرچ کرنا چاہتا۔ ان دس سالوں میں صبا کے بہت سے گھریلو حالات والدین پر کھل چکے تھے ۔عدنان کا اس پر ہاتھ اٹھالینا ظلم برداشت کرنے کی آخری حد ثابت ہؤا ۔اسے اماں کی باتیں یاد آنے لگیں، اماں کہتی تھیں۔
’’رسمِ وفا ایک خوبصورت نیکی ہے جو ہماری دنیا بھی اچھی بناتی ہے اور آخرت بھی۔لیکن ہمارے معاشرے کے کچھ لوگ رسمِ جفا کو بڑی خوبی سمجھ کر نبھاتے ہیں اور انہیں ذرا ملال نہیں ہوتا ‘‘۔
یہ ”رسمِ جفا‘‘ ہی توتھی جو اس کے ساتھ نبھائی جارہی تھی۔
رات کافی گزر چکی تھی۔سحری کا وقت قریب تھا۔وہ اٹھی وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے اور ایک مرتبہ پھر اللہ سے فریاد کی جو آسمانوں پر سنی گئی۔دعا کے بعد ایک سکینت کی کیفیت طاری ہوئی اور اس نے اپنے اندر نئی قوت محسوس کی۔ اب عدنان اور اس کا گھرانہ اسے بہت بے حیثیت لگنے لگا۔ قبولیت کی ان گھڑیوں میں اس نے ذلت کی زندگی سے باہر آنے کا فیصلہ کر لیا اور پر سکون ہو گئ۔ عید کے بعد وہ بچیوں سمیت ماں کے گھر چلی آئی ۔اس نے عدالت میں خلع کے لیے کیس دائر کر دیا۔ دو ماہ بعد صبا کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔
مگر عدنان نے بڑی دو بچیاں اپنے پاس رکھ لیں۔ ویسے بھی وہ بچیاں پھوپھیوں کے پاس ہی تو پلی بڑھی تھیں۔ کسے خبر تھی کہ اماں کے محبت سے لکھے اشعار کا یہ انجام ہوگا۔ تقدیر پر کسی کا بس نہیں مگر صبر اور برداشت سے گزارے دس سال ضرور اللہ کی نگاہ میں ہیں ۔ بڑی بچیوں کی جدائی کا صدمہ لیے صبا اب اپنی دو بچیوں کے ساتھ والدین کے گھر پر ہے ۔ والد کی پر شفقت پناہ میں آکر ذہنی سکون حاصل ہؤا۔ اب اپنی تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ دنیا کے سامنے آنسو بہا کر انہیں بے قیمت نہیں کرنا چاہتی ۔ یہ آنسو تو اللہ کے سامنے بہانے کے لیے ہوتے ہیں۔
اس نے اپنی بچیوں کی تربیت کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ بچیوں کو باکردار اور مضبوط بنانا اس کی ترجیح ہے۔یہی اب اس کے لیے بحرِ زندگانی کا نیا ساحل ہے!
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x