بتول مارچ ۲۰۲۱عورت مارچ کو کون سی آزادی چاہیے ؟ - مارچ ۲۰۲۱

عورت مارچ کو کون سی آزادی چاہیے ؟ – مارچ ۲۰۲۱

8 مارچ کو’’خواتین کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ 1907ء سے قرار پایا جانے والا یہ دن منانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کئی ممالک میں خواتین کے عالمی دن پر تعطیل ہوتی ہے۔ کئی ملکوں میں اسے احتجاج کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ بعض ممالک اس دن کو’’نسوانیت کا جشن‘‘ کے طور پر بھی مناتے ہیں۔ پاکستان میں 8 مارچ 2018ء سے ’’عورت مارچ‘‘ کا آغاز ہوا اور ہر سال یہ مارچ باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے جس کا مقصد پاکستان میں خواتین کوان کے حقوق دلوانے کے لیے آواز بلند کرناہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ ہر سال کے لیے اپنا ایجنڈا اور تھیم جاری کردیتا ہےجس کے مطابق مختلف ممالک اپنی تیاریاں کرتے ہیں۔ سال 2021ء کا تھیم ہے :
Women in leadership: Achieving an equal future in a COVID-19 world
قیادت میں خواتین:’’ کووڈ19 کی دنیا میں مساوی مستقبل کا حصول‘‘
اس سال بھی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے کے مطابق اس دن کو منانے کی کئی ماہ پہلے سے خصوصی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مخصوص خواتین گروہوں اور این جی اوز کو فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں، ٹریننگ سیشنز کروائے جاتے ہیں، نعرہ بازی سکھائی جاتی ہے، پوسٹر ڈیزائننگ وغیرہ کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے ان کو 8 مارچ کے دن پروگرام کروانے اور ریلیاں نکالنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سب باقاعدہ مہینوں بلکہ سالوں کی پلاننگ سے ہوتا ہے اور ان سب کاموں کے لیےبڑے بڑے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔
خواتین اس کے مطابق اپنے پروگراموں، کانفرنسوں، سمیناروں، جلسوں اور ریلیوں وغیرہ میں خواتین کے حقوق اور آزادی کے موضوعات پر تقریریں کرتی ہیں۔ شاعری کرتے ہوئے نظموں اور غزلوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اہل جہاں پر یہی ظاہر کرتی ہیں کہ شاید ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی لوگ دراصل خواتین کے حقوق کے محافظ اور ان کے لیے سعی پیہم کر نے والے ہیں۔
مختلف این جی اوز کی خواتین بڑے شہروں میں ان پروگراموں کو منعقد کرتی ہیں ۔ چھوٹے شہروں اور گاؤں دیہات وغیرہ میں یہ کام فی الحال محدود ہے لیکن جس طرح خواتین کا یہ کام بڑھتا چلا جارہا ہے، شنید ہے کہ یہ کام چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی جلدی پھیل جائے گا۔یہ مظاہرے کرنے والا گروہ دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتاہے کہ وہی اس ملک میں حقوق نسواں کے علمبردار اور محافظ ہیں ،اس معاشرے میں اب خواتین بیدار ہو چکی ہیں ، صحیح معنوں میں اپنے حقوق جانتی اور پہچانتی ہیں اور ان کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔
8 مارچ 2019ء کو ’’عورت آزادی مارچ‘‘ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں جو بینرز تھے، اس میں سے کسی ایک میں خواتین کے حقوق کی بابت کچھ درج نہیں تھا۔ البتہ ان بینرز کے ذریعے بے شرمی، بے غیرتی اور فحاشی نے ضرور فروغ پایا۔سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہؤا کہ ’’عورت آزادی مارچ‘‘ میں شریک مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود پوسٹروں پر درج ’’میرا جسم میری مرضی‘‘، ’’اپنا کھانا خود گرم کرلو‘‘، ’’اپنے موزے خود ڈھونڈو‘‘، ’’طلاق یافتہ لیکن خوش‘‘، ’’شادی نہیں بلکہ آزادی‘‘ جیسے نامعقول نعرے لکھے ہوئے تھے۔
اس قسم کے گھٹیا نعروں کو پڑھ کر محب وطن پاکستانیوں اور سچے مسلمانوں کے سر شرم سے جھک گئے اور دل و دماغ پریشان ہوگئے کہ وطن عزیز میں ان نام نہاد آزادی کی علمبردار عورتوں کو آخر ہو کیا گیا ہے؟ ان کو آخر کس قسم کی آزادی چاہیےجس کے لیے اس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں اور آخر کون سے حقوق کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ اور یہ کس سے مانگے جا رہے ہیں؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورتوں کی آزادی کے نام پر ایسی بے شرمی اور بے حیائی کے مظاہرے نے عوام کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں اور انہیں بتا دیا کہ عورت کے حقوق اور آزادی کے نام پر وہ کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی دین و معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔
’’صنفی مساوات‘‘کا مطلب کسی بھی صورت میں مادرپدر آزاد ہوکر مردوں کے مقابل آجانا نہیں ہے بلکہ عورتوں کے حقوق یا صنفی مساوات کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ایسی جگہوں پر جہاں مذہب نے اس کو حق دیا ہو لیکن معاشرتی سطح پر اس سے بے انصافی ہورہی ہو تو اس ناانصافی کے خلاف بات کرنا اور اسے حقوق دلانا ضروری ہے۔
ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے حقوق کی پاسداری سب سے زیادہ ہونی چاہیے لیکن افسوس کہ صورتحال مختلف ہے۔ ہمارے ہاں خواتین کے حقوق کا استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کی آبادی تقریباً 9کروڑ ہے لیکن خواتین کے مسائل ہمارے ملک میں دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہیں۔جبکہ یہ درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو کئی جگہ استحصال اور حقوق کی پامالی کا سامنا ہےاور یہ بھی تسلیم ہے کہ اپنے حقوق کے لیے بات کرنا ضروری ہے، معاشرے اسی طرح سے بہتری کی جانب جاتے ہیں، لیکن اس عمل کے لیے اہلِ مغرب کے طور طریقے اختیار کیے جانے بالکل نامناسب ہیں کیونکہ ہماری معاشرتی اقدار اہلِ مغرب سے بالکل مختلف ہیں۔
میں جب آزاد خیال خواتین کو حقوق کے نام پر نعرے لگاتے اور اپنی آزادی مانگتے دیکھتی ہوں تو مجھے انتہائی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ یہ لوگ کس سے اور کس چیز کے حقوق مانگ رہی ہیں؟ کیا خواتین کے اس طرح کے کام مردوں کے تعاون کے بغیر ممکن ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ لیکن وہ مرد جو غیر محرم ہوتے ہیں یعنی ان عورتوں کو محرم مردوں (باپ، بھائی، شوہر، بیٹا وغیرہ) سے رہائی چاہیے اور غیر محرم مردوں کے معاملے میں انہیں آزادی چاہیے کہ جس طرح کے مرضی وہ چاہیں، ان کے ساتھ غلط تعلقات رکھیں۔ جس کی اجازت نہ ہمارا دین دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مشرقی معاشرہ۔
نبی مہربان حضرت محمد ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر خواتین کے حقوق کا خصوصی طور پر تذکرہ کر کےان کو پورا کرنے کی بڑی تاکید فرمائی تھی۔(صحیح بخاری: 1741؛ صحیح مسلم: 1679)
نبی مہربانؐ حقوق نسواں کے عملی محافظ اور علمبردار تھے۔ آپؐ کی ازدواجی زندگی تمام انسانیت کے لیے رول ماڈل ہے۔ ہمارے لیے دین اسلام کی خوبصورت اور جامع، آفاقی اور ہر دور کے لیے راہنما تعلیمات شافی و کافی ہیں۔
نبیؐ اکمل کی ساری زندگی اپنی قریبی رشتہ دار خواتین سے بہترین طرزِ سلوک کی شاہد ہے۔ آپ ؐ نے اپنی چاروں بیٹیوں اور اپنی تمام ازواج مطہرات کے علاوہ اپنی دیگر قریبی رشتہ دار خواتین سے بھی بہترین سلوک کیا جن میں آپ کی پھپھیاں، چچیاں، اور دیگر رشتہ دار خواتین وغیرہ شامل ہیں۔
سال 2020ء میں اسلام آباد کی وفاقی عدالت نے’’عورت آزادی مارچ‘‘ کے لیے مشروط طور پر اجازت دی تھی کہ مارچ میں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسے نعروں اور پوسٹرز کی پابندی ہوگی۔ لہٰذا مارچ کی اجازت تو ہے لیکن اس قسم کی دیگر حرکتوں یا کاموں کی ممانعت کے ساتھ۔ لیکن اس کے باوجود 2020ء کے عورت مارچ میں’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ اور دیگر مختلف نعرے خواتین شرکاء کے ہاتھوں میں نظر آرہے تھے۔
سینیٹر فیض محمد نے کہا تھا کہ’’سڑکوں پر بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت نہیں ہونے دیں گے‘‘۔اس طرح کی باتوں پر حقیقی طور پر عمل درآمد کیا جانا ہمارے لیے کتنا ناگزیر اور فلاح و بہبود کا باعث ہوگا۔
دوسری طرف یہ رویہ ہے کہ گزشتہ برس۲۰۲۰ میں پاکستان کی ایک مذہبی تنظیم ’’تنظیم اسلامی‘‘ نے ایک عام سے پیغام والا بل بورڈ راولپنڈی کے ایک چوک میں لگایا جسے فوراً ہٹا دیا گیا تھا جبکہ اخبارات نے پیسے لے کر بھی اس اشتہار چھاپنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس اشتہار میں قرآن مجید کی سورہ النور کی آیت مع ترجمہ لکھی ہوئی تھی اور ساتھ یہ تحریر درج تھی کہ:
’’ہمیں اشتہارات میں خواتین کی تصویریں شائع نہیں کرنی چاہئیں‘‘
لیکن حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ افسوسناک ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں قرآن مجید کی آیت والا اشتہار اور ساتھ اسلام کا یہ صریح حکم اور پیغام ایک شخص اپنے خرچ پر بھی نہیں چھپوا سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس اشتہار کی عدم اشاعت اور حکومت کی عدم اجازت کی وجہ سے مسلمان حساس دلوں کو بہت ٹھیس پہنچی بلکہ میرا دل تو زخم زخم ہوگیا تھا۔ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب ہی ہمیشہ غالب رہے گی۔ ہم مغرب کی نقالی سے بیزار اور بے نیاز ہیں اور رہیں گے۔ ان شاءاللہ۔
ہمیں ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس سے خواتین کے حقیقی مسائل حل ہوں اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں۔ ہم ایوان میں بیٹھے قابل عزت قانون کے رکھوالوں سے گزارش کرتے ہیں کہ:
1 خواتین کے لیے اسلام کے عطا کردہ حقوق کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ اور عورت کو عزت و تکریم دی جائے۔
2 حجاب کا خیال رکھتے ہوئے لڑکیوں اور خواتین کی ضروری تعلیم کا انتظام کیا جائے جس میں ابتدائی، اعلیٰ، فنی اور پیشہ ورانہ علوم و فنون کی تعلیم شامل ہے۔ طالبات کی محفوظ آمد و رفت کا بندوبست بھی نہایت ضروری ہے۔
3 خواتین کے لیے جائے ملازمت پر ایسا بندوبست ہوکہ وہ ذہنی و جسمانی سکون اور عزت و عصمت کی حفاظت کے ساتھ اپنی ڈیوٹیوں کی ادائیگی کر سکیں۔ اسی طرح ملازمت پیشہ خواتین کی آمد و رفت کے مسائل کو بھی حل کیا جائے۔
4۔عورت کو وراثت میں سے حصہ لازمی دلوایا جائے۔
5۔یتیم و یسیر لڑکیوں اور بیوہ و نادار خواتین کی کفالت کا خیال کیا جائے۔
6۔ شوہر کو پابند کیا جائے کہ وہ بیوی کی کفالت کرے اور فوراً حق مہر ادا کرے۔
7۔ گھریلو و معاشرتی تشدد کی روک تھام کی جائے۔
8 ۔گھریلو اور معاشرتی سطح پر مسلمان عورت کی تعمیر کردار اور تشکیل معاشرہ کی قابل قدر خدمات کو قابل تحسین قرار دیا جا ئے۔
9 ۔خواتین کی گھریلو اور معاشرتی تعمیری سرگرمیوں میں شرکت کو قومی ترقی کا ایک حصہ سمجھا جائے۔
ہماری’’عورت آزادی مارچ‘‘ کرنے اور کروانے والوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ خواتین کے ان حقیقی و عملی مسائل کو حل کریں اور کروائیں۔
مندرجہ ذیل نظم میں شاعر نے عورت کے حقوق کے نام پر اس کی عزت پامال کرنے والے احتجاجوں کی تصویر کشی کی ہے۔

تحقیر کرو تم عورت کی پھر ناچ کے بولو آزادی
چادر کو تم پامال کرو دیوار پہ لکھو آزادی

تم عزّت ،عَصمت، غیرت کا مفہوم بدل دو شہرت سے
سڑکوں پر جاکر راج کرو اور زور سے چیخو آزادی

تم آوارہ بدچَلنی کا تعویذ پہَن لو گردن میں
آواز ے کَسیں لونڈے تم پر تو شور مچاؤ آزادی

گھر کے ہر کام سے بیزاری، دفتر سے تم کو رغبت ہے
گھر توزندان لگے تم کو اور جوب کو سمجھو آزادی

دوچار کتابیں مذہب کی اب پڑھ لینا تم آنٹی جی!
پھرجا کر اپنی پلٹن کو حق بات بتانا آنٹی جی!

مغرب کے جھوٹے برتن میں ہے کھانا پینا راس تمھیں
کھوٹے سکّوں جیسے نعرے لگتے ہیں کیوں کر خاص تمھیں

دس بارہ وَلگر نعروں سے تقدیر بدل سکتی ہوتم ؟
دل کے خانے سے شوہر کی تصویر بدل سکتی ہو تم ؟

ان اونچی ہِیل کی سَینڈل سے کیا کےٹو سَر کر پاؤ گی؟
گرچھوڑ زمین کو اُڑنا ہے تو منہ کے بَل گِر جاؤ گی

کس بھول میں ہو تم آنٹی جی! کس خواب محل میں رہتی ہو
کیوں عزت تم کو راس نہیں جو ایسے جملےکہتی ہو

خود اپنی عصمت پَیروں میں تم روند رہی ہو غیروں میں
ذلّت آمیز فسانوں میں جیسے ہو قحبہ خانوں میں

اپنی عزّت کرنا سیکھو ‘ پھر نکلو تم بازاروں میں
ورنہ چَھپتی رہ جاؤ شام کے ان سَستے اخباروں میں

٭٭٭

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here