دنیا فانی ہے ۔ یہاںآنے والی ہر ذی روح کو موت کا مزا چکھنا ہے ۔ ہرکوئی اپنا مقررہ وقت پورا کر کے یہاںسے چلاجاتا ہے ۔
جن لوگوںکے ساتھ ہمارا تعلق زیادہ قریبی ہوتا ہے اُن کے جانے کا افسوس بھی زیادہ ہوتا ہے ۔پھپھو جان یوںتوہماری امی کی پھپھو تھیںلیکن انہوںنے ہمیںجس قدر محبت دی اس سے ہماراان کے ساتھ ایک مضبوط تعلق بن گیا ۔
آج صبح تقریباً سات بجے پھپھو جان کی وفات کی اطلاع ملی۔ ہماری امی اورخالائیں ، ماموں ان کو پھپھو جان کہہ کر پکارتے تھے ۔ان کی دیکھا دیکھی ہم سب بچے بھی ان کو اسی نام سے پکارا کرتے تھے ۔
پھپھو جان سے ہمارے کئی تعلق بنتے ہیں۔ میرے دادا جناب نعیم صدیقی، پھوپھا جان یعنی ان کے شوہر عبد الوحید خان صاحب اور میاں طفیل محمد صاحب جماعت اسلامی کے ابتدائی دور میں ایک ہی کرائے کے مکان میں رہا کرتے تھے ۔ یہ سب اصحاب ماشاء اللہ کثیر الاولاد تھے لیکن اس کے باوجود سب مل کر رہتے رہے ۔ پھپھو جان نے اپنے بھائی جناب ریاض الحق اعوان صاحب ( میرے نانا) کی بیٹی یعنی میری امی کی شادی جناب نعیم صدیقی مرحوم ( میرے دادا) کے بیٹے یعنی میرے ابو سے کروائی اور یوںآپس میں رشتہ داری قائم ہوئی ۔ اچھرہ میںمیرے نانا اور پھوپھا جان نے جو مکان خریدے وہ آمنے سامنے تھے اس لیے اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا۔
پھپھو جان سے میری آخری ملاقات ان کی وفات سے تقریباًڈیڑھ ماہ قبل ہوئی تھی جب ہم لوگ میرے بھائی کی شادی کا کارڈ دینے گئے تھے ۔ اُس وقت اُن کی صحت کافی بہتر تھی۔ چلنا پھرنا تومشکل تھالیکن وہ بیٹھ کرباتیں کرتی رہیں۔
پھپھو جان اپنی وفات سے چند ماہ قبل اپنے بیٹے عامر حمید خان کے گھر منتقل ہوگئی تھیں۔ وہاں پران کی بہترین دیکھ بھال کی گئی ۔لیکن وہ گھر چونکہ نیو ائیر پورٹ کے قریب ڈی ایچ اے فیز 8میں تھا اس لیے عام شہری آبادی سے کافی دُور تھا ۔ لہٰذا ان کا جنازہ اچھرہ والے گھر میں ہی رکھا گیا تھا تاکہ آنے والوںکو سہولت رہے۔
پھپھو جان جماعت اسلامی کی رہنما ہونے کے ناطے کافی مصروف رہا کرتی تھیں اس کے علاوہ مختلف جگہوں پر درس قرآن دینے کے لیے جایا کرتی تھیں ۔ انہوںنے اپنے گھر کی اُوپری منزل میں ایک سکول بھی قائم کر رکھا تھا ۔ میں نے بھی اسی سکول سے تعلیم حاصل کی ۔ میری امی ، خالائیں اورپھپھوجان کی کچھ بیٹیاںیہاںباری باری تدریس سے منسلک رہیں ۔ پھپھو جان کی ماشاء اللہ نو بیٹیاںاور چاربیٹے ہیں ۔ یہ سب بہت خوش اخلاق، نیک اوراعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ اب تو ان کے اکثر نواسے ، نواسیاں اورپوتے پوتیاں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدپیشہ ورانہ ذمہ داریاںسر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر رشتہ ازدواج سے منسلک ہو چکے ہیں اور صاحبِ اولاد ہیں ۔ ان کے ایک داماد سلمان غنی صاحب عرصہ دراز سے صحافت سے وابستہ ہیں ۔ پھپھو جان کے بیٹے ناصر حمید خان میرے ابو کے بہت اچھے دوست رہے ہیں۔
پھپھو جان کے گھر عزیز و اقارب ، دوست احباب اور جماعت کی خواتین کاآنا جانا لگا رہتا تھا ۔ وہ ہمیشہ لوگوںکو تحفےتحائف دینے کے لیے اپنے پاس بہت سی چیزیں منگوا کر رکھتی تھیں ۔ خاندان میں سے یا ملنے والوںمیں سے کوئی ان کے گھر جاتا تو اس کو ضرور کچھ نہ کچھ تحفہ دیتیں اور کسی کوخالی ہاتھ نہ لوٹاتیں۔
آج سے پچیس سال پہلے ہماری والدہ کی وفات ہوئی تو ہم چاروں بہن بھائی شدید غم میں مبتلا تھے ۔ اس موقع پرانہوں نے ہمیں بہت محبت دی اوراپنے بچوں کو ہمارا خیال رکھنے کی تاکید کی ۔ ان سب نے بھی ہمیشہ ہمارا بہت خیال رکھا ۔ان کی چھوٹی بیٹیاں ہماری بہترین دوست بن گئیں ۔ان کے بیٹے عمار حمید خان نے ہماری والدہ کی بیماری میں ان کا علاج کیا اور جب ہمارے ابوبستر مرگ پر تھے تب ان کو اپنے ہاسپٹل میں (جہاںوہ جاب کرتے تھے ) ایڈمٹ کیا اورعلاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کیں ۔ اللہ ان کواس نیکی کابہترین اجر دے آمین۔
پھپھو جان کی خواہش تھی کہ ان کو پھوپھا جان کے برابرمیں دفن کیا جائے ۔ پھو پھا جان تو آج سے تقریباً بارہ سال پہلے وفات پا گئے تھے پھر بھی اتفاقاً ان کے ساتھ قبر کی جگہ مل گئی اور پھپھو جان کو ان کے پہلو میںسپردِ خاک کیا گیا ۔ اللہ پھپھو جان کو جنت الفردوس میںجگہ عطا فرمائے آمین۔
٭٭٭

