یادیں بھی کیا عجیب چیز ہوتی ہیں کبھی ہنساتی ہیں کبھی رلاتی ہیں اور کبھی دل چاہتا ہے کہ خاموشی ہو اور ہم ان یادوں میں کھوئے رہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی فلم چل رہی ہے اور ہم اس میں مدہوش ہیں۔ امی کے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جانے کے بعد امی ہمارے اندر اتر گئی ہیں۔ ہر وقت ان کی بتائی ہوئی باتیں اور کیے ہوئے کام ہمیں آمادہ کرتے رہتے ہیں کہ ہم بھی ان کی طرح زندگی گزاریں۔
اے کہ تیری یاد سے آباد ہیں تنہائیاں
مرتسم ہیں شیشۂ دل پر تیری پرچھائیاں
ایسا کہاں سے لاؤں….
امی نے اپنی زندگی اتنی مصروف اور ہمہ تن فعال گزاری ہے کہ مجھے امی کے ساتھ گزارا کوئی وقت ایسا محسوس نہیں ہوتا جس میں کوئی ہلچل کوئی مصروفیت نہ رہی ہو یا جسے ہم فراغت کہہ سکیں ۔
میری یادوں کا دریچہ اس وقت سے کھلتا ہے جب امی ہمیں اپنے بچپن کے واقعات سناتی تھیں ۔امی کے مطابق امی چھے سال کی تھیں تو ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ۔چار بہن بھائی تھے دو بھائی اور دو بہنیں ،امی سب سے چھوٹی تھیں. کچھ عرصے یہ لوگ اپنے ماموں کے گھر وزیر آباد کے گاؤں دھونکل رہے پھر دونوں بھائیوں نے میٹرک کر لیا تو لاہور آگئے۔ گزر بسر ہوتی رہی، امی کی عمر 13 برس ہوئی تو ہماری نانی اماں نے ان کو ماموں جان کے ذریعے مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس قرآن کی تعلیم کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔وہاں امی سارا دن ان کے گھر گزارتیں ان کی بیٹیوں کے ساتھ پڑھتیں اور ان کے ساتھ مل کے گھر کے کام کرتیں اور شام کوگھر آتیں۔ امی نے زیادہ تر کھانا پکانا سلائی وغیرہ انہی کے گھر سیکھی۔ پھر امی کی شادی بھی مولانا کے ذریعے ہوئی۔ ہماری دادی بھی انڈیا سے ہجرت کر کے آئیں تو مولانا نے ہی رہائش کا بندوبست کیا۔ ان کے ساتھ نقی علی صاحب کی بیگم بھی تھیں، وہ بہت اچھی خاتون تھیں۔ ہماری دادی بی نے امی کو درس میں دیکھا تو پسند کر لیا۔
شادی خانہ آبادی
یوں امی کی شادی 10 دسمبر 1950 کو 16 سال کی عمر میں ہوئی اور مولانا کے گھر کے قریب ہی ایک گھر جس کے تین حصے تھے اس میں رخصت ہو کر آگئیں۔ اس گھر کے ایک حصے میں میاں طفیل محمد صاحب بمع اہل و عیال اور ایک حصے میں نعیم صدیقی صاحب بمع اہل و عیال اور تیسرے حصے میں ابا جی اور امی رہنے لگے۔ ہماری دادی بی کو یہ سب خواتین امی جان کہتی تھیں ۔سب اپنے بچوں کی تکلیفیں بیماریاں بتاتیں تو وہ ان کو مختلف ٹوٹکے بتا دیا کرتیں۔تینوں گھروں کے تعلقات مثالی تھے سب ایک دوسرے کے کاموں میں مدد کرتے اور وقت کی بچت کر کے درس و تدریس میں شامل ہوتے ۔قرآن کا ترجمہ امی نے کچھ مولانا مودودی سے اور کچھ ان کی بیگم سے پڑھا اور حدیث اور عربی گرائمر مولانا عبدالغفار حسن صاحب پڑھاتے تھے ۔
وقت گزرتا گیا ،ملکی حالات میں اچانک ایسا موڑ آیا کہ قادیانی مسئلہ کھڑا ہوا ،ختم نبوت کی تحریک چلی۔ اس وقت مولانا نے قادیانی مسئلے پر تقریر کی جس کی پاداش میں مولانا اور ان کی جماعت کے سرکردہ لوگوں کوگرفتار کر لیا گیا ۔مقدمہ چلا عدالت میں بیان ہوئے، مولانا کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور باقی لوگوں کو نو سال قید بامشقت سنائی گئی جن میں ابا جی بھی شامل تھے ۔امی کے ساتھ امی کی ایک سہیلی اور قرآن کی ساتھی رخشندہ کوکب صاحبہ تھیں جن کا اصل نام منور سلطانہ تھا اور جیسے ہی مولانا کی پھانسی کی سزا کی خبر آئی یہ دونوں گھر سے نکلیں اور انہوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کو بتایا۔اسی اثنا میں پورے شہر اور پورے ملک سے تار اور محضر نامے حکومت کے پاس آنا شروع ہو گئے اور مولانا کی رہائی اور جماعت اسلامی کی بحالی کے لیے تحریک شروع ہو گئی ۔روز جُلوس نکلتے اور لاٹھی چارج گولی وغیرہ بھی چلی۔ امی کی کوششیں جاری رہیں دعاؤں کا سلسلہ بھی رہا۔ اس دوران ایسے لوگ جوصرف جماعت ہی کا کام کرتے تھے اور کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا ان کے گھروں میں فاقے ہونے لگے۔ تب جماعت اسلامی کے لوگوں نے جو جیل سے باہر تھے ان لوگوں کی دیکھ بھال اور مالی معاملات میں مدد کی۔ بہرحال بہت مشکل وقت تھا جو امی کو شادی کے ابتدائی سالوں میں دیکھنا پڑا ۔ جوانی کا جو دور لطف اور آسائش میں گزرتا ہے، امی اور ابا جی نے وہ دور صبر اور آزمائش میں گزرا۔ کسے خبر تھی کہ تقدیر نےآزمائش کو ہی راستہ بنا رکھا ہے۔
ابتدائی زندگی
پھر اولاد کی پیدائش کے مراحل اور پرورش کی منازل شروع ہو گئیں۔ہم دو بہنیں تو اس دوران آچکی تھیں۔ ہمارے بعد ایک بھائی پیدا ہوا جو چند گھنٹوں بعد وفات پا گیا۔ پھر دوسرا بھائی پیدا ہؤا اس کا نام راشد حمید ثانی رکھا گیا کیونکہ پہلے بھائی کا یہی نام ابا جی نے رکھا تھا ۔اب ہمارا گھر تبدیل ہو چکا تھا۔ جس کو مکتبے والا گھر کہتے تھے اس کے باہر مہمان خانہ تھا ۔اس میں عباس نامی ایک باورچی تھا۔ میری عمر تقریباً ساڑھے تین سال ہوگی،میں اسے آٹا گوندھتے بڑی دلچسپی سے دیکھا کرتی تھی۔ ابا جی کا دفتر بھی اسی گھر کے ساتھ تھا باہر کی جانب اور اگر امی نے کوئی پیغام بھیجنا ہوتا تو میں یا آپا جاتے تھے۔ مجھے وہ گھر اچھی طرح سے یاد ہے اس کےصحن میں ایک بڑا درخت تھا ،صحن کچا تھا اور اسی میں ایک طرف چھوٹا سا کچن تھا جس میں لکڑیوں کے چولہے پر کھانا پکتا تھا۔امی کھانا پکاتی تو میں بھی امی کے پاس بیٹھی باتیں بنا رہی ہوتی ۔ایک دن امی اُٹھ کر کسی کام سے گئیں تو میں امی کی پیڑھی پر بیٹھ گئی ۔امی آئیں تو میں نے کہا’’ آپ امی میں ڈمی‘‘امی بہت ہنسیں۔ میں امی کے کہنے پر اُٹھ کے سامنے بیٹھ گئی۔ اب سوچتی ہوں کہ بچپن کے یہ الفاظ مجھے حقیقت میں امی کی ڈمی بنا گئے۔ امی نے ہر وہ کام مجھ سے کروایا جس سے میں امی کی مددگار بنی۔
اسی وقت کی ایک بات یاد آئی کہ راشد کا عقیقہ تھا تو اس دن ہمیں اچھے کپڑے پہنائے گئے اور تیار کیاگیا تو ہم دونوں بہنیں راشد کے جھولے کے ارد گرد گھوم گھوم کرگانے لگیں۔’’ گڈو کا عقیقہ ہے اور ہماری شادی ہے‘‘ اس پر امی نے ٹوکا اور کہا کہ ایسے نہیں کہتے ۔کچھ ہی دنوں بعد آپا کو سکول داخل کروانا تھا تو امی نے آپا کا یونیفارم سیا اور کالے بند جوتے خریدے۔مجھے اس کا علم نہیں تھا کہ یہ سکول کے لیے ہیں ۔امی نے آپا کو تیار کیا جب جوتے پہنانے لگیں تو جوتے نہ ملے کیونکہ وہ میں چھُپا چکی تھی۔ امی نے سختی سے پوچھا تو میں نے لا دیے لیکن میں ضد پر اڑ گئی کہ مجھے بھی سکول جانا ہے اور نئے جوتے پہننےہیں۔ امی ضد کو تو سنتی ہی نہیں تھیں، میں روتی رہی اور وہ اپنے کام کرتی رہیں میری طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ آخر میں رو دھو کر سو گئی، اٹھی تو آپا آ چکی تھی اور کپڑے بدل چکی تھی اس لیے بات آئی گئی ہو گئی۔لیکن پھر امی نے جلد ہی مجھے سکول داخل کروا دیا اور میں نے بھی سکول جانا شروع کر دیا ۔
ہم دونوں بہنیں میاں طفیل صاحب کی بڑی بیٹیوں اور نعیم صدیقی صاحب کی بیٹیوں کے ساتھ پیدل شاہ جمال سے رحمان پورہ کے آخری سرے پر سکول جایا کرتے تھے ۔وہ مولانا امین احسن اصلاحی کی زوجہ محترمہ نے کھولا تھا اور اس کا نام مدرسہ ا صلاح البنات تھا۔ ایک خاتون مائی برکتے ہم سب لڑکیوں کو لینے اور چھوڑنے پر مقرر تھیں۔اس وقت میں تیسری اور آپا چوتھی جماعت میں آ چکے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی تھیں شاید ایک ہفتہ ہی باقی تھا ۔ ایک دن ایسا ہؤا کہ مجھے کلاس میں سلیٹ نہ لانے پر سزا ملی اور استانی صاحبہ نے کلاس سے باہر کھڑا کر دیا ۔میں کلاس میں ہمیشہ فرسٹ آتی تھی اور تربیت کا انعام حاصل کرنے والی طالبہ تھی ۔مجھے شدید شرمندگی ہوئی اور میں رونے لگی۔ استانی صاحبہ نے آخری پیریڈ تک اندر نہ بلایا۔ شدید گرمی سے تیز بخار ہو گیا اور چھٹی ہوئی توماسی برکتے گود میں اٹھا کر مجھے گھر لے گئیں ۔گھر پہنچی تو امی کو بتایا امی نے کہا کہ اچھا اب بخار اترے گا تو سلیٹ لے دوں گی ۔لیکن ہماری نانی اماں کو پتہ چلا تو اسی وقت سکول کی ناظمہ صاحبہ کے پاس گئیں ان کا کہنا تھا کہ والدین کی سزابچی کو کیوں دی گھر پیغام بھیجنا چاہیے تھا۔ بہرحال وہ کہہ آئیں کہ اب ہماری بچیاں سکول نہیں آئیں گی اور گھر میں امی سے کہہ دیا کہ تم خود پڑھا سکتی ہو تو اپنے بچوں کو خود پڑھاؤ۔
دبستانِ زہرا
اس کے بعدابا جی، امی اور چھوٹے ماموں جا ن نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم گھر میں ہی سب بچیوں کو پڑھائیں گے۔ یوں گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی چھوٹے ماموں جان کے گھر ایک کمرے میں سکول کھل گیا ۔ ہم چھٹیوں میں بھی ماموں زاد بہنوں کے ساتھ مامو ں جان کے گھر پڑھنے جاتے تھے،پھر جماعت اسلامی کے اور لوگوں کو بھی پتہ چلا تو انہوں نے بھی اپنی بچیوں کو بھیجنا شروع کر دیا۔ شروع میں پہلی سے پانچویں تک کی کلاسیں شروع ہوئیں کسی کلاس میں دو کسی میں تین کسی میں پانچ بچیاں تھیں۔ ابا جی نے پہلے لڑکوں کا بھی ایک سکول کھولا تھا جس کا نام نیا مدرسہ رکھا تھا اور وہاں بھی جماعت کے کچھ لوگ پڑھاتے تھے جن میں ماسٹر نقی علی صاحب کا نام مجھے یاد ہے۔ سب لوگوں نے ابا جی سے کہا کہ اسے بھی باقاعدہ لڑکیوں کے سکول کی شکل دے دی جائے۔ ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں ابا جی ،ماموں جان اور نعیم صدیقی صاحب شامل تھے۔ انہوں نے سکول کا نام دبستان ِزہرہ رکھا اور استادوں میں امی ابا جی اور مامو ں جان تھے۔ 13 ستمبر 1960 کو سکول کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی گئی اور ہماری تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام ہو گیا۔ اب امی کی ذمہ داریوں میں پڑھانے کا اضافہ بھی ہو گیا تھا لیکن امی اتنی اچھی استاد تھیں کہ جو چیز پڑھاتی تھیں زبانی یاد ہو جاتی تھی اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ نظم و ضبط میں سختی کرتی تھیں لیکن پڑھانے میں بہت توجہ اور پیار سے پڑھاتی تھیں، اولاد سے دوسروں کی طرح ہی برتاؤ کرتی تھیں اور اولاد کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا تھا ۔ساری بھانجیاں بھتیجیاں جماعت کے گھرانوں کی بیٹیاں اور اپنی بچیاں سب ایک اصول اور ایک قانون کے پابند تھے۔ پھر یہ سکول تاحیات قائم رہا اور امی کے بنائے ہوئے اصول انمول ہو گئے۔
بچوں کی پیدائش کا سلسلہ چلتا رہا ساتھ ساتھ سکول کی ذمہ داری بھی تھی۔ سکول ترقی کر چکا تھا ،استانیوں کی تعداد کلاسوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ اخراجات فیسوں کے ذریعے چلتے رہے، امی نے پڑھانا چھوڑ دیا لیکن نگرانی اور حساب کتاب امی ہی کے ذمہ تھا ۔امی کی نو بیٹیاں اور چار بیٹے ماشاءاللہ ہوئے ۔
دارالعباد
1967میں ابا جی نے اپنے گھر کی بنیاد رکھی اور تعمیر شروع کرا دی ۔ گھر کی بنیاد رکھی گئی تو ابا جی نے مولانا اور جماعت کے تمام ساتھیوں کو بلوایا اور مولانا سے گھر کا سنگ بنیاد رکھوایا اور گھر کا نام دارالعباد تجویز کیا۔ تب سے واقعی یہ گھردار العباد بن گیا۔ ہر طرح کے لوگ آتے تھے اور کئی مجلسیں بھی ہوتی تھیں ۔گھر ابھی بمشکل سٹرکچر تک ہی بنا تھا دروازے کھڑکیاں نہیں لگے تھے لیکن ہم اپنے گھر میں آگئے۔ یہاں راشد نے زیادہ تر تعمیر کا کام کروایا اور سکول سے آکر مزدوروں سے حساب کتاب کرتا اور کام چیک کرتا تھا۔ پھر ابا جی نے دروازوں کھڑکیوں کی لکڑی خریدی اور گھر میں ہی ایک بابا جی کو دروازے بنانے پر لگا دیا ۔یوں ہمارا گھر بن گیا جو دو کمروں پر مشتمل تھا ۔ان کے آگے صحن کچا تھا اور دو سیڑھیاں بنا کر کمروں میں داخل ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ برآمدہ بن گیا۔ ہمارا سکول کرائے کی عمارت میں تھا اور تعداد بھی تقریبا 300 ہو چکی تھی ۔سکول کے اخراجات فیسوں سے بھی پورے نہیں ہوتے تھے تو کرائے کی عمارت سے اپنے گھر شفٹ کرنا پڑا ۔سکول کے گھر آجانے سے گھر کی زندگی کافی مشکل ہو گئی تھی ۔کیونکہ ماشاءاللہ 10 بچے اور والدین کی رہائش انہی دو کمروں میں تھی، اس کے لیے صبح صبح کمرے خالی کرنے ہوتے تھے۔ سکول کا وقت صبح آٹھ بجے شروع ہو جاتا تھا ،بھائیوں کو نیا مدرسہ جانا ہوتا تھا ان کی تیاری ناشتہ یونیفارم استری ہم دونوں بڑی بہنوں کے ذمے تھا ۔پھر انہی دو کمروں اور برآمدے میں کلاس لگتی تھی۔ ہم دونوں پڑھایا بھی کرتی تھیں اور گھر کے کام بھی کرتی تھیں۔ سکول کے درمیانی وقفے میں ہم کھانا پکاتی تھیں۔ امی ظہر سے اور بعض دفعہ مغرب تک درس اور قرآن ترجمہ پڑھانے جاتی تھیں،ان کے درس قرآن کے کئی حلقے تھے، اچھرہ،رحمان پورہ، شاہ جمال ،شادمان اور بھی مقامات پر ترجمہ پڑھانے جاتیں۔
ہمارے درمیان کاموں کی تقسیم یوں ہو گئی تھی کہ آپا کچن کا انتظام سنبھالتی تھی اور میں سارے چھوٹے بہن بھائیوں کو دیکھا کرتی ۔بچوں کی پرورش میں میں امی کی برابر معاون رہی ۔چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالنا اور ان کی مکمل دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کو چھوٹی چھوٹی نظموں کی شکل میں لوریاں سنا کر سلانا میرا مشغلہ تھا۔ ان میں ماں کا خواب، ثریا کی گڑیا ، دعوت حق کی کشتی رواں ہے، اسلام غالب آئے گا ،اور مختلف ترانے جو بھی اس وقت پڑھے جاتے تھے سب بچوں کو یاد ہو گئے تھے ۔ میری بہن ربیعہ بچپن میں ذرا توتلی تھی وہ گایا کرتی تھی’’پپو تھانو، یور لگاؤ‘‘یعنی کہ ’’چپو تھامو زور لگاؤ‘‘۔بہن بھائیوں کی تعلیم بھی بیشتر میری ہی ذمہ داری تھی اور اللہ کے حکم و فضل سے تمام بہنوں کو گھر ہی میں سکول کی پڑھائی اور ایف اے تک میں نے ہی پڑھایا۔ ماشاءاللہ چھ بہنوں نے گھر ہی میں پڑھ کر ایم اے اسلامیات کیا ۔چھوٹی تین بہنوں کو بڑے بھائیوں نے امی کو زور دے کر یونیورسٹی میں داخل کروایا اور دو بہنوں نے اسلامیات اور عربی اور سب سے چھوٹی بہن نے انگریزی میں ایم اے کیا۔ یوں امی نے اپنی بیٹیوں کو دنیاوی تعلیم میں بھی پیچھے نہیں رہنے دیا ۔البتہ مزے کی بات یہ ہے کہ میری شادی کے وقت میں نے صرف بی اے کیا ہؤا تھا اور شادی کے تقریبا 24 سال بعد اپنے شوہر کے بہت اصرار پران کے ہمراہ ایم اے اسلامیات کیا۔
امی نے تمام بچوں کی تعلیم و تربیت اپنی کڑی نگرانی میں کی، کسی بچے کو کسی بری صحبت میں نہیں جانے دیا ۔اپنے بچوں سے محبت انوکھی طرز کی کی تھی کسی دوسرے کی اپنی بچےکو ڈانٹ برداشت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کہ کوئی میرے بچے کو ٹوکے میں خود اس کو ٹھیک کروں گی ۔عام طور پہ تاثر یہ ہوتا ہے کہ مائیں بیٹوں کی تربیت کو باپوں کے ذمے لگا دیتی ہیں لیکن امی نے بیٹوں اور بیٹیوں سب کی تربیت کا ذمہ خود لیا تھا اور کسی کی معمولی سی غلطی کو بھی معاف نہیں کرتی تھیں۔1970 کے الیکشن سے لے کر 1985 کے الیکشن تک بھرپور جماعت اسلامی کا دور رہا جس میں وہ پنجاب کی ناظمہ بھی رہیں لاہور کی ناظمہ بھی بنیں اور صوبے کے دورے بھی کیے۔ الیکشن مہم میں جلسوں میں دعوتی تقریریں دعوتی نظمیں پڑھنا ،لوگوں کے گھر گھر رابطہ مہم میں جانا، یہ سب کام کیے ۔اس میں ایک مدد جو امی کو ملی وہ یہ تھی کہ امی نے اپنے تین بڑے بچوں کو گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنا کر گھر ان پر چھوڑ دیا تھا اور خود صبح سے شام تک جماعت کےکاموں میں گھر سے باہر مصروف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے ہر بچے کو ذمہ دار بنایا ہر ایک کے ذمے کوئی نہ کوئی کام لگایا اور اس کی پوچھ گچھ کی۔ ابا جی چونکہ دفتر اور اس کے بعد جماعت کی ذمہ داریوں میں مصروف رہتے تھے اس لیے امی نے اپنے بڑے بیٹے کو اپنا مددگار بنایا اور اپنے مددگار کے طور پر ذمہ دار بنایا۔ وہ اگرچہ عمر میں چھوٹا ہی تھا لیکن اس نے بڑے اچھے طریقے سے گھر چلانے میں امی کی مدد کی ۔
ان ساری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امی نے رشتہ داریاں بھی بہت اچھے طریقے سے نبھائیں۔ سسرال والوں سےباہمی میل جول تعلقات شادی بیاہ کے معاملات بیماری تکلیف میں ان کی مدد کرنا سب بہترین طریقے سے کیا ۔ہماری دادی بھی ہمارے پاس کم و بیش 20 سال رہیں۔ پہلے ہمارے بچپن میں وہ کراچی یا پشاور چلی جایا کرتی تھیں لیکن بعد میں وہ مستقل ہمارے ہی گھر میں رہیں۔ ان کے ہونے کی وجہ سے سب کا آنا جانا ہمارے گھر رہتا تھا اور امی خود مہمانداری کیا کرتی تھیں۔ امی کھانا بہت اچھا پکاتی تھیں ۔امی کو کاموں میں سستی ذرا بھی پسند نہیں تھی خود بھی وہ فوراًفیصلہ اور جلدی کام کرنے کی عادی تھیں ۔گھر کے کام امی بہت تیزی سے نمٹاتی تھیں۔ کم وقت میں زیادہ کام کم لاگت میں بہترین چیز تیار کرنا انہی کا خاصہ تھا۔ بچوں کے اور اپنے ہر طرح کے کپڑے خود سیتی تھیں یہاں تک کہ راشد کو ایک دفعہ سکول کی جانب سے چینی صدر کی آمد پر جانا تھا تو اس کو سکاؤٹ کی وردی چاہیے تھی۔دو دن تو بازار سے سلی ہوئی ڈھونڈتے رہے نہ ملی تو امی نے رات کے وقت ابا جی کی رضاکاروں والی وردی نکالی اور اس کو کاٹ چھانٹ کر جس طرح سے راشد کو چاہیے تھی سی کر دی ،اس میں ایک لوپ بھی لگائی جس میں سیٹی لٹکاتے تھے ۔راتوں رات تیار کر کے استری کر کے صبح سات بجے پہنا کے بھیجا۔ گھر کو ہر وقت صاف رکھنا اور بچوں کو صاف رکھنے کی عادت بھی ڈالی۔ کوئی بچہ ننگے پاؤں پھر کر بستر پہ چڑھتا تو پٹائی کرتی تھیں کہ آئندہ کوئی جرأت نہیں کر سکتا تھا ۔
قرآن کی تعلیم
ہماری تعلیم کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ وہ تھا جو امی نے مجھے اور آپا کو میٹرک کے بعد قرآن کا ترجمہ خود پڑھایا جس میں ہماری دو ماموں زاد بہنیں اور جماعت کے ارکان کی بیٹیوں میں چراغ دین صاحب کی بیٹی خدیجہ اور چیچہ وطنی والے بشیر صاحب کی بیٹی نجمہ بھی شامل تھیں۔ میٹرک کے بعد کی گرمیوں کی چھٹیوں میں امی نے محترم جناب خلیل حامدی صاحب جو عربی زبان کے ماہر تھے اور مولانا کی کتابوں کا عربی ترجمہ کرتے تھے ان سے ہمیں عربی گرائمر پڑھانے کے لیے وقت لیا ۔وہ صبح دفتر جانے سے پہلے ایک گھنٹہ ہمیں عربی گرائمر اور احادیث پڑھاتے تھے ۔پورے دو ماہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم نے اتنی عربی سیکھ لی کہ وہ اردو میں تقریر کرتے تھے اور ہم اس کا عربی ترجمہ کرتے تھے۔ پھر 1984 میں زینب الغزالی جو کہ مصری خاتون تھیں اور ان کا تعلق اخوان المسلمون کی خواتین کی شاخ اخوات المسلمات سے تھا پاکستان آئیں تو منصورہ میں ان کا خطاب رکھا گیا اور مجھے آپا زبیدہ بلوچ صاحبہ نے یہ ذمہ داری دی کہ مجھےان کی تقریر کا اردو ترجمہ کرناتھا۔ میں امی کے ساتھ پروگرام میں شریک ہوئی اور میں نے ان کی تقریر کاترجمہ کیا۔
محترم خلیل حامدی ہمیں عربی پڑھاتے تھے،اخوان المسلمون مصر کی رہنما زینب الغزالی پاکستان آئیں تو میں نے ان کی عربی تقریر کا اردو ترجمہ کیا ۔
جب سے ہم نے قرآن کا ترجمہ مکمل کیا تھا امی نے میری ڈیوٹی لگا دی کہ اپنی چھوٹی بہنوں کو ترجمہ پڑھاؤ، میں نے پھر اپنی امی کے کہنے پہ اپنی چھوٹی بہنوں اور مامو ں زاداور خالہ زاد سب بہنوں کو قرآن کا ترجمہ مکمل کروایا ۔اس کے بعدا می مجھے آپا زبیدہ بلوچ کے ساتھ درس میں بھیجا کرتیں۔ پھر امی نے اپنی ترجمہ قرآن کی کلاسوں میں بھی مجھے ہی بھیجنا شروع کر دیا تاکہ مجھے بڑی خواتین کو پڑھانے کا تجربہ بھی حاصل ہو جائے۔ کبھی کبھی امی مجھے اپنی جگہ درس دینے بھیج دیا کرتی تھیں۔ پھر اچھرے میں اپنے گھر میں بھی امی نے اچھرہ اور رحمان پورہ کی خواتین کو درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا اور محلے کی بچیوں کو سکول میں باقاعدہ ایک پیریڈ ترجمے کارکھوا دیا جس میں چھٹی سے دسویں جماعت تک 10 سپارے ترجمے سے پڑھائے جاتے تھے ۔محلے میں تو ہمارے گھر ترجمہ قرآن کا سلسلہ امی کی وفات سے ایک سال پہلے تک جاری رہا ،رمضان میں بھی میں دورہ قرآن کروایا کرتی تھی اورپچھلے کئی سالوں سے رمضان میں دورہ قرآن میں نے ہی کروایا اور ماشاءاللہ وہ شاگرد اب جہاں جہاں ہیں کلاسیں پڑھا رہی ہیں ۔
قرآن کی کلاسیں امی نے پورے لاہور میں کھول رکھی تھیں اور ان کے ہفتے میں دن مقرر تھے ہر روز ایک صبح اور ایک شام کی کلاس ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ امی نے میڈیکل کالجوں اور پنجاب یونیورسٹی میں بھی لیکچرز دیے۔ ایک قرآن کی کلاس گلاب دیوی ہسپتال میں مرد و خواتین ڈاکٹرز کے لیے بھی تھی۔ گلاب دیوی کی کلاس کافی دیر چلی اور یہاں کے فارغ اتحصیل شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ کینٹ ، گلبرگ ،مغلپورہ، فیصل ٹاؤن، ای ایم ای سوسائٹی، اور ڈیفنس میں ترجمہ قرآن اور بعد میں دورہ ٔتفسیر بھی کرواتی رہیں۔جس میں سے فیصل ٹاؤن والی کلاس لگاتار 35 سال چلی اور وفات سے چھ مہینے پہلے تک باقاعدگی سے امی اس میں جاتی رہیں۔یہاں کی سب شاگردیں بھی آگے اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب انشاءاللہ امی کے لیے صدقۂ جاریہ ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنی بارگاہ میں اس کو قبول کرے۔ آمین۔
تحریکی سرگرمیاں
1955میں ‘عفت ‘رسالہ نکالا گیا، اس کی ادارت اور نگرانی ابا جی کے ذمے تھی ۔امی شعبہ خواتین میں خواتین سے رابطہ اور تحریروں کی ترتیب وغیرہ کا کام کرتی تھیں ۔ابتدائی دو تین شماروں میں کچھ تحریریں بھی شامل تھیں جن میں ہماری دو تایا زاد بہنیں رفیعہ نسیم اور ذکیہ فہیم بھی لکھا کرتی تھیں۔ 1958 میں ایوب خان کا مارشل لا لگا اور تمام جماعتوں پر پابندی لگ گئی۔ اس وقت جماعت اسلامی کا کام کافی پھیل چکا تھا ۔جماعت اسلامی کے حسابات منجمد اور دفاتر سیل ہو گئے یہ دور بھی بہت آزمائش کا تھا مالی لحاظ سے بھی اور تنظیمی لحاظ سے بھی لیکن جماعت کا اندرونی نظام اسی طرح قائم دائم تھا اور مالی مشکلات کے باوجود تمام ارکان کارکنان اور منتظمین ہمہ تن مصروف رہے ۔ہمارے والدین نے بچوں کو اس سفر میں ساتھ رکھا اور ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کی تربیت دی ۔ 1963 کے اکتوبر میں جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام تھا جو باغ بیرون موچی دروازہ میں تین دن 25، 26 ،اور 27 اکتوبر کو تھا ۔بہت اچھا انتظام تھا امی اور ابا جی ہم سب بچوں کو بھی لے کر گئے تھے ۔جلسہ گاہ دور سے ہی نظر آرہی تھی ۔
ہم اندرآ رہے تھے کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی ۔جلسہ گاہ کے چاروں طرف قبائلی پٹھان ملیشیا رنگ کے لباس میں پہرا دے رہے تھے اندر تقریریں جاری تھیں۔ ہم جیسے ہی پنڈال میں داخل ہوئے تو ایک چارپائی پر اللہ بخش مرحوم کا جسدِ خاکی سفید چادر اوڑھے پہلا شہید ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ میں جلسہ دیکھ کر حیران تھی کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ لوگ مولانا کی تقریر کے الفاظ آگے پہنچا رہے تھے۔پتہ لگا کہ بجلی کاٹ دی گئی اور لاؤڈ سپیکر بند ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد کچھ رضاکاروں نے ریت کی بوریاں لا کر خیموں کے ساتھ ساتھ رکھ دیں اور اسٹیج سے اعلان ہونے لگا خواتین اور بچے قناتوں کے ساتھ لگ جائیں۔ باہر سے سوڈے کی بوتلیں پھینکی جا رہی تھیں جو کسی ایک آدھ بچے کو لگی اور سر پھٹے۔ مردوں کی طرف خیموں کی طنابیں کاٹ دی گئیں ۔اس کے بعد جماعت کے کچھ لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
جماعت کا کام چلتا رہا پھر 1964 میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہؤا ۔یہ انتخابات غالبا نومبر میں ہوئے ۔میری چھوٹی بہن حمیراترنم کی پیدائش سے دو دن پہلے رات کوہمارے گھر سپاہی دیواریں پھلانگ کر آئے اور ابا جی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ہم ان دنوں اچھرے میں کرائے کے گھر میں رہتے تھے جو ہماری نانی اماں کے گھر کے پچھلی طرف تھا ۔ابا جی نےنیند سے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی گرفتاری کے وارنٹ ہیں اوردروازے سے ہی ابا جی کو کھینچنے لگے تو امی نے کہا کہ جوتے اور کپڑے تو پہن لینے دو۔یوں وہ ابا جی کو گرفتار کر کے لے گئے ۔اس کے دو دن بعد ہماری بہن گڑیا یعنی حمیرا پیدا ہوئی۔اس کی پیدائش کے اگلے دن ابا جی کی ضمانت ہو گئی ۔ایک مہینے بعد الیکشن تھا اس میں ہمارے مامو ں جان کے دوست مفتی عبدالستار صاحب کونسلر کے امیدوار تھے اور مقابلے میں میاں چراغ دین مسلم لیگ کی طرف سے تھے۔ امی اس الیکشن میں پولنگ ایجنٹ بنی تھیں۔ گھر میں ننھی گڑیا کو میری ذمہ داری میں چھوڑکر گئیں۔ میں خود اس وقت 12 سال کی تھی امی نے کہا تھا کہ دوپہر کے بعد گڑیا کو میرے پاس لے آنا۔ سامنے جونیئر ماڈل سکول میں پولنگ ہو رہی تھی میں وہاں چلی گئی۔ وہاں دیکھا کہ خواتین تقریبا 100 کی تعداد میں بیٹھی ہوئی ہیں گھگرے پہنے ہوئے ہیں اور ناکوں میں بڑی بڑی نتھیں ڈالی ہوئی ہیں۔ یہ سب جعلی ووٹرز تھیں جنہیں مخالف امیدوار لے کر آئے تھے۔ وہ امی کی منتیں کر رہی تھیں کہ ہمیں جانے دیں ، امی نے کہا کہ جب تک پولنگ بند نہیں ہوگی تب تک میں تمہیں نہیں جانے دوں گی ۔الیکشن البتہ مسلم لیگ نےہی جیتا لیکن امی نے پولنگ ایجنٹ کے طور پہ زبردست ڈیوٹی دی ۔
پھر 1965 کی جنگ شروع ہو گئی ۔ ابا جی اخبار میں تھے اور ان کی ڈیوٹی دفتر کی طرف سے مختلف محاذوں پر جا کر رپورٹ کرنے کی تھی ۔ ابا جی کھیم کرن اور چھمب جوڑیاں کے محاذ پر گئے ۔اس کے بعد 1968 میں عمار پیدا ہؤا جب ہم اپنے گھر میں آچکے تھے۔ اسی طرح 1970کے الیکشن میں امی پولنگ ایجنٹ تھیں ۔سارا دن وہاں ڈیوٹی دی اور رات کو جب واپس آئیں تو ہماری بہن عفیفہ پیدا ہوئی ۔اس وقت الیکشن کا رزلٹ آرہا تھا یعنی آخری وقت تک ڈیوٹی دیتی رہیں۔فرض کی لگن کسی درد اور تکلیف کا احساس نہ ہونے دیتی تھی اور اپنی ذات ہمیشہ پس منظر میں رہتی تھی۔
کتابِ دوراں کے ہر ورق پر حیات اس کی رقم شدہ ہے
ہزاروں سینوں کا درد پنہاں فغاں میں اس کی بہم شدہ ہے
کئی صدی کا جہادِ پیہم مساعی میں اس کی ضم شدہ ہے
1971کی جنگ کے بعد بنگلہ دیش سے کئی مہاجرین آئے جن میں سے کچھ ہمارے گھر رہے۔ان میں ایک بہاری خاتون مہرن تھیں ایک بنگالی لڑکا شاہجہان تھا ۔بہاری کالونی کے نام سے بستی بھی بسائی گئی تھی ۔جہاں کھانے پینے رہنے سہنے کے سامان کے ساتھ ایک ڈسپنسری بھی کھولی گئی اور ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا ۔اسی طرح ایک بستی مہاجر کالونی بھی بسائی گئی جس کا انتظام آپا ذاکرہ کے ذمے تھا جو بعد میں آپا کی ساس بنیں۔ 1972 میں ہمارا سکول نیشنلائزڈ ہو گیا ۔بھٹو کے دور میں تمام سکولوں کو حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا لیکن شام کے وقت میں شفٹ کر لینے سے ہمارا سکول بچ گیا۔
1977 کے الیکشن میں شدید دھاندلی ہوئی ۔اس میں نو جماعتوں کا اتحاد بناتھامگر دھاندلی کی وجہ سے حکومت نہ بن سکی اور پوری قوم نے احتجاج کیا۔ روز جلوس نکلتے اور گرفتاریاں ہوتیں ۔آخر 9 اپریل 1977 کو بڑا احتجاجی جلوس نکلا اس میں خواتین بچے بچیاں سب شامل تھے۔ اس دن گولیاں بھی چلیں، لاٹھیاں چلیں، شیل پھینکے گئے۔ ابا جی کو کمر میں شیل لگا، آپا جان بیگم مودودی اوردیگر خواتین بھی زخمی ہوئیں۔ یہ ایک ایسا معرکہ تھا جس میں ہم سب شریک تھے۔1980-1990 میں امی نے پنجاب کانظم اور دوسری کئی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1990 کے بعدامی کی گھریلو ذمہ داریاں بچوں کی شادیوں کے باعث بڑھ گئی تھیں اور تحریکی سرگرمیاں کچھ کم ہو گئی تھیں۔فلاحی سرگرمیاں اسی زور و شور سے قائم رہیں۔ آہستہ آہستہ تحریکی ذمہ داریاں کم ہوئیں، کچھ عرصہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری رہی اور شوریٰ کی رُکنیت اور مالیات کی ذمہ داری تا دیر نبھائی۔ بحیثیت مربی تو نظم کو ہمیشہ میسر رہیں۔
بچوں کی شادیاں
1977 کے بعد امی کے پاس بیٹیوں کی شادیوں کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔سب سے پہلے آپا ذاکرہ جو جماعت کی رکن بھی تھیں اور مہاجر کالونی میں درس دیتی تھیں اور تقسیمِ امداد کی نگران بھی تھیں ان کی نظر انتخاب آپا پہ پڑی۔ انہوں نے استخارہ کیاتھا اور بیگم مودودی کے ذریعے کہلوایا تھا۔یوں آپا کا رشتہ طے پا گیا۔
آپا کےتین سال بعد 1983 میں میری شادی ہوئی۔ میری شادی کے لیے آپا زبیدہ بلوچ صاحبہ کے ذریعے پیغام آیا تھا ۔ میری ساس کا تعلق گوجرخان سے تھا اور انہوں نے آپا زبیدہ بلوچ صاحبہ کو خط لکھ کر میرے رشتے کی بات کی تھی حالانکہ 1968 سے لاہور شفٹ ہو چکی تھیں اور ہمارے گھر بھی ان کا بہت آنا جانا تھا ،امی کے ساتھ جماعت کے کاموں میں جاتی تھیں خاص طور پراعانت ،الیکشن فنڈ، سیلاب فنڈ وغیرہ جمع کرنے گھر گھر جایا کرتی تھیں اور اب جماعت اسلامی کی بہت مخلص کارکن تھیں، امی کے درس کی شاگرد تھیں اور امی کو استاد مانتی تھیں ۔ انہوں نے امی کے ساتھ جماعت کے لیے بڑے ہی خلوص سے کام کیا ۔ آپا زبیدہ بلوچ صاحبہ ہمارے گھر ان کے ساتھ تشریف لائیں اور ہماری ممانی کو بلوایا اور یوں میری بات طے ہو گئی۔
میری شادی کے اگلے سال نومبر میں راشد کی شادی ہوئی۔ اس کی شادی ہماری تایا زاد بہن ناصرہ سے کراچی میں ہوئی ۔ راشد کی شادی کے کچھ عرصے بعد امی جی اور ابا جی حج کو گئے اور سب بچوں کو کراچی راشد کے پاس چھوڑ کے گئے۔ اس کے تقریباً پانچ سال بعد ناصر کی شادی ہوئی۔ ناصر کی دلہن امی نے خود منتخب کی ۔مغل پورہ میں قرآن کی کلاس جن کے گھر پڑھانے جاتی تھیں ان کی بیٹی کو امی نے پسند کیا۔ 90 19میں ناصر اور راحیلہ کی شادی ہوئی ۔راحیلہ کا رشتہ بھی جماعت کے گھرانے میں ہؤا۔ اس کے سسرعبدالغنی صاحب رکن ِجماعت تھے۔راحیلہ کے بعد حفصہ کے لیے بھی آپا ذاکرہ نے اپنے دوسرے بیٹے کے لیے رشتہ مانگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رشتے کے لیے بھی استخارے میں انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے بشارت ملی اور حفصہ کی شادی1 199 میں ہو گئی۔ تیسرے بھائی عامر کی نسبت ہمارے بڑے تایاکی نواسی سے طے ہوئی اور دسمبر 1993 میں عامر کی بھی شادی ہو گئی۔ پھر چھوٹی بہنیں پڑھائی میں مصروف تھیں عفیفہ نے ایم اے اسلامیات کر لیا تھا ۔اس کا رشتہ بھی جماعت کےتعلق سے ہوا۔ توقیر خان صاحب جہلم کی جماعت کے رکن تھے اور ان کی اہلیہ آپا ذاکرہ کی چھوٹی بہن خالدہ تھیں۔ توقیر صاحب کے بھانجے کے لیے عفیفہ کا رشتہ آیا یہ 1996 تھا رشتہ طے ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ہی عفیفہ کی بھی شادی ہو گئی ،اور پھر ربیعہ کی شادی بھی اپریل 1998 میں ہو گئی ۔حمیرا کی شادی بھی جماعت کے تعلق سے ہوئی۔ چیچا وطنی میں رکن جماعت اور ضلعی امیر بشیر احمد صاحب کی بہن نے اپنے نواسے کے لیے حمیرا کا رشتہ لیا ۔ حمیرہ کے ساتھ ہی سعدیہ کا رشتہ بھی ایک تحریکی گھرانے میں طے ہو گیا اور ان دونوں بہنوں کی شادیاں ایک ساتھ ایک ہفتے کے وقفے سے ہو گئیں۔ پھر عمار کے رشتے کا سلسلہ چلا اور معروف ادیب محمد اظہار الحق صاحب کے گھر رشتہ ہؤا۔سب سے چھوٹی بہن کا رشتہ ہماری ماموں زاد بہن کے بیٹے سے طے ہؤا اور 2004 کے اگست میں ایک ہفتے کے وقفے سے عمار اور عائشہ کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ یوں امی اور ابا جی تمام بچوں کی شادیوں سے 2004 میں بفضلِ خدا سبکدوش ہو گئے۔
سماجی و فلاحی سرگرمیاں
1981میں پنجاب میں شدید طوفان باد وباراں آیا۔اکثر دیہات کے لوگوں کے گھر بہہ گئے،آندھی طوفان سے مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں۔ اس وقت امی پنجاب کی ناظمہ تھیں۔ متاثرہ دیہات میں امدادی سامان اور رقوم تقسیم کرنے گئیں تو وہاں نارنگ منڈی کے علاقے میں جماعت اسلامی کے کارکن اللہ رکھا صاحب نے وہاں تقسیم کرنے میں مدد کی۔وہاں کا بڑا مسئلہ تعلیم کا تھا، لڑکیوں کے لیے پرائمری سے آگے تعلیم کا بندوبست نہیں تھا۔ امی نے ان سے وعدہ کیا کہ ہم دیہات کی بچیوں کی تعلیم کا بندوبست کریں گے۔ جب آپا زبیدہ بلوچ سے تذکرہ ہؤا تو انہوں نے امی کو بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ ہ وسلم نے مجھے ایک جگہ کا اشارہ کیا ہے کہ وہاں اس کام کا آغازکرو ۔ انہوں نے اس جگہ کی تلاش شروع کر دی۔ وہ لاہور کے اکثر علاقوں میں درس کے لیے جاتی تھیں جس میں جھگیاں شہاب دین، بابو صابو اور جیا بگا کے علاقے شامل تھے ۔انہی علاقوں میں گھومتے ہوئے ایک جگہ ایسی محسوس ہوئی کہ شاید وہی جگہ ہے جیسی زبیدہ آپا نے خواب میں دیکھی بیان کی تھی لیکن انہوں نے اظہار نہیں کیا ۔اسی دوران ہمارے گھر ہونے والے ہفتہ وار درس میں دلو خورد سے گورنمنٹ سکول کی ہیڈ مسٹرس آتی تھیں۔ ان سے ذکر ہوا تو انہوں نے کہا آپ تعلیمی ادارہ کھولنا چاہ رہی ہیں تو میں اپنے گھر کا ایک کمرہ دے دیتی ہوں پھر جب جگہ بن جائے تو آپ شفٹ کر لیں۔ یوں آپا زبیدہ بلوچ صاحبہ اور امی وہ جگہ دیکھ کر آئیں تو آپا جی نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے خواب میں یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ اس طرح امی نے دلوخورد میں لڑکیوں کا ایک تعلیمی ادارہ کھولا ۔ اس وقت فی سبیل للہ ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔ ہمارے ابا جی اس کےصدر تھے اور ڈاکٹر ثمین ذکا ٹرسٹ کی نائب صدر تھیں ۔بعد میں امی نے ابا جی کے قائم مقام کے طور پر صدارت سنبھالی تھی ۔ آغاز سے مدرسے اور سکول کا انتظام امی نے ہی دیکھا اور ہم بہنوں نے امی کے ساتھ انتظام سنبھالا ۔ امی کی وفات سے کچھ مہینے قبل ہم نے اس کا انتظام ٹرسٹ کے حوالے کر دیا۔
ان کے فلاحی کاموں میں سیلاب زدگان، زلزلہ زدگان ،یتیم ، بیواؤں، طالب علموں کی مالی امداد ،اور جماعت اسلامی کے کاموں میں مالی تعاون شامل تھا جو تاعمر جاری رہا۔ایک عیسائی لڑکی نے امی کے پاس آکراسلام قبول کیاتو اسے اپنی بیٹی بنایا اور اپنے گھر سے شادی کر کے رخصت کیا۔پھر جماعت اسلامی کی ایک کارکن جو کہ غیر شادی شدہ تھیں ان کی شادی جماعت کے معزز رکن سے کروائی ۔ کئی لڑکیوں کو بیٹیاں بنا کر گھر میں رکھاجنہوں نے ہمارے گھر رہ کر تعلیم مکمل کی۔ بہت سےتعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی اور کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچائے جن میں دلو خورد کا مدرسہ اور سکول سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تھا جس سے ہزاروں طالبات مستفید ہوئیں اور جن کو اسناد دینے کے بعد ان کے اپنی رہائشی جگہوں پر مدرسے کھول کر دیے۔ ان میں مری ایبٹ آباد شکرگڑھ پنڈی اور کھاریاں کے مدرسے شامل ہیں جنہیں امی کی تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ شاگردیں چلا رہی ہیں۔
وہ شخص اب اک سحر کی صورت جہاں میں پھیلا ہؤا ملے گا
رہِ خدا کے سپاہیوں کی دعاؤں میں وہ رچا ملے گا
ستیزہ گاہوں میں جاں لڑاؤ وہاں وہ خود تم سے آ ملے گا
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا
امی کی زندگی ایک تاریخ ہے جو ہمارے دلوں میں دھڑکتی ہے۔ لامتناہی یادوں کو الفاظ میں منتقل کرنا ممکن نہیں۔امی نے جتنی بھرپور اور پررونق زندگی گزاری بہت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی بھرپور طریقے سے کی اپنے بچوں کو بھرپور توجہ دی گھر پر مکمل کنٹرول رکھا ۔ہم جس پہلو سے دیکھیں ان کی زندگی مثالی نظر آتی ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں ایسی والدہ عطا کیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ جنتوں میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کے قصوروں سے درگزر فرمائے اور ان کو ان کی محنتوں کا اجر عظیم عطا کرے،ہمیں ان کا صدقۂ جاریہ بنائے،آمین۔
٭٭٭