ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سنہرے کھیت – مارچ ۲۰۲۱

چیف منسٹر کا پی اے، شرما بہت دیر سے ان کی خواب گاہ کے باہر ٹہل رہا تھا مگر گیا رہ بجنے کو آئے تھے وہ اب تک سو کر نہ اٹھے تھے ۔
مجبورا ً شرما نے ان کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور انہیں اٹھا یا۔ اٹھتے ہی ہمیشہ کی طرح انہیں سب سے پہلے تازہ سنگترو ں کا جوس پیش کیا گیا اور تازہ تین ا نڈ وں کا آ ملیٹ، خستہ تازہ تیارہوئی ڈ بل روٹی کا ناشتہ کروا یا گیا ۔ نا شتے کے فورا بعد انہیں خا لص دودھ سے بنی ملا ئی والی چائے پینے کی عادت تھی وہ دی گئی ۔
سب چیزوں سے فا رغ ہو کر پہلی دفعہ چیف منسٹر پی اے کی طرف متوجہ ہوئے اور اکتا ہٹ سے پو چھا ۔
شرما کیا افتاد آن پڑی تھی جو صبح صبح مجھے پریشان کرنا شروع کر دیا ؟
شرما کے چہرے پر کھسيا نی مسکرا ہٹ پھیل گئی اور وہ شرمندگی سے بولا۔
سر ،وہ جو….. وہ لوگ ہیں نا جو بہت دن سے….
کیا بڑ بڑ کر رہے ہو…. کون لوگ ؟وزیر اعلیٰ نے درمیان میں ہی ٹو کا۔
سر، وہ جو بہت دن سے د ھر نا دیے بیٹھے ہیں۔ ان میں وہ جو ایک تھا نا…. کرتا ر سنگھ ….
ابے کیا وہ وہ وہ لوگ کی تکرار کر رہےہو….. کون کرتا ر سنگھ ؟مکھ منتری نے پھر غصے سے ٹوکا۔
سر، وہ جو لوگ تھے دھر نے والے ان میں سے دو بھوک ہڑتال کرنے سے کل رات مر گئے ….کرتا ر سنگھ اور بھشن لال۔
تو اس میں میں کیا کروں؟میرا کیا قصور ہے ؟ہیں !!!
مکھ منتری نے ٹیبل پر پڑ ے سنگ مر مر کے سیب کو زور سے لاٹو کی طرح گھما تے ہوئے خفت سے کہا ۔
لیکن سر، وہ ….
پھر وہ وہ وہ شروع کر دی تم نے ۔ صبح صبح میرا موڈ خراب نہیں کرو۔جاؤ ابھی ،آج مجھے کچھ دیر میں گو لف کی لیے بھی نکلنا ہے ڈرائیور کو کہو میرا گو لف کا سامان سب تیار کرے ۔
جی سر !پی اے بولا اور جلدی سے باہر نکلنے لگا ۔
اور ہاں! با ورچی موتی لال سے کہو کی آج دو بجے ہم بھوجن کر یں گے۔ لنچ میں تازہ سرسوں کا ساگ اور تازہ مکئ کے آٹے کی رو ٹیا ں بنوائے اور ہاں بھنڈی اور کر یلے کی ترکا ری بھی ضرور بنا ئے مگر صرف نا ریل کے اصلی تیل میں۔آج میرا ایک پرانا دوست جج گپتا بھی ساتھ لنچ کرے گا ۔دو بجے تک سب تیار رہے سب ۔
جی سر مگر سر…. آپ پچھلے گیٹ سے باہر نکلیے گا ….وہ سب کسان دو لا شیں لیے مین گیٹ کے باہر پہنچ چکے ہیں ۔
ہیں…. کیا بکواس کر رہے ہو تم؟یہ را توں رات کیسے یہاں پہنچ گئے ؟
راتو ں رات نہیں سر صبح آٹھ بجے آ گئے تھے سب لوگ اب تو ساڑ ھے گیا رہ بج رہے ہیں سر! اسی لیے میں صبح سے آپ کے کمرے کے باہر آپ کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ شرما نے ڈ ر تے ڈ ر تے کہا۔
ذرا ایس پی کو کال کرو….ابھی فوراً۔ بلکہ رہنے دو اس جاہل کو ….آئی جی سے ہی بات کروا ؤ۔زندگی نرگ بنا دی ان مو رکھو ں نے ….صبح صبح دن خراب کر دیا تم لوگوں نے میرا ، اوپر سے کل رات گئے غزلوں کے پروگرام میں دیر ہو گئی نیند بھی پوری نہیں ہوئی میری جسم اب تک تھکا ہؤا ہے ۔
سر، آئی جی صاحب لائن پر ہیں بات کریں ۔
ہاں فون دو۔
ہیلو !ہاں جو گیندر یہ سب کیا ہورہا ہے بھئی ؟یہ کیا چک چک ہے یار ؟
سر، صورت حال آپ کے سامنے ہی ہے۔ میں نے تو پردھان منتری سے ملا قات کے دوران آپ کو بھی اور انہیں بھی بتا دیا تھا کہ حالات کافی گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں ۔کسان برا دری بہت وا ویلا کر رہی ہے ۔ہر ماہ خود کشیا ں بڑھ رہی ہیں اگر انہیں کنٹرول نہ کیا تو سرحد پار کا دشمن ملک اس کا فا ئدہ اٹھائے گا اور ان مو ر کھو ں کو ساتھ ملا کر ہمیں ٹف ٹائم دے گا ، مگر آپ کو یاد ہو گا پی ایم نے ہنستے ہوے کہا تھا سرحد پار والوں کا پہلے ہی سب کام ٹھپ پڑا ہے ان کا اپنا بیڑ ہ غرق ہے اور ویسے بھی ان کی اتنی پسلی ہی نہیں کہ ہم سے ٹکر لیں ۔
آئی جی نے تفصیلی بات کی ۔
لیکن جوگیندر کیا تمھیں اب بھی لگتا ہے کے یہ گیم باہر سے کنٹرول ہو رہی ہے ؟مکھ منتری دوبے نے منہ میں ٹوتھ پک گھسا کر کہا۔
سر ،کرنٹ صورت تو اب انٹیلی جنس والے ہی بتا سکتے ہیں میں گرداری سے بات کرتا ہوں ۔آئی جی جوگیندر بولا۔
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے دیکھا جا ئے گا۔ لیکن جو گیندر فی الحال تم ذرا اپنے کا ہل ایس پی کو کہو وہ ان جا ہلوں پر آنسو گیس اور تھوڑا لاٹھی چا رج وغیرہ کرے تا کہ میں باہر آ جا تو سکوں ۔
بلکہ پانی پھینکو فائر بر یگیڈ والوں کو بول کے تا کہ ان جا ہلوں کے چودہ طبق روشن ہوں ۔
جی سر، جی سر ، میں کہتا ہوں آپ بالکل فکر نہ کریں سر ۔
اور ہاں جوگیندریاد آیا، پچھلے سال جو با سمتی چا ول تم نے بھیجے تھے وہی اعلیٰ قسم کے سیم…. دو بارہ بیس پچیس بو ری بھجوا دو پھر آج کل مہمان داری ظہرا نے عصرا نے عشایئے بہت زیادہ کرنے پڑ رہے ہیں ہمیں۔اپنی اس ٹنیور میں کلچر کو پروموٹ کرنے کا بیڑ ہ بھی میں نے اٹھا رکھا ہے ،چا ہتا ہوں ہماری ثقا فت پھلے پھولے ۔
جی سر، ہو جا ئے گا کوئی مسئلہ نہیں اسی ہفتے پہنچ جائیں گے سر ،سیم چا ول ۔
تھینکس جوگیندر ۔
مینشن ناٹ سر!سر ،میرے تبادلے والی فا ئل کا ذرا دیکھ لیجیے گا میں یہیں آپ کی چتر چھا یہ میں ہی کام کرنا چا ہتا ہوں ۔
آئی جی نے خو شا مد ا نہ لہجے میں کہا۔
ہاں فکر نہیں کرو میں سب سنبھال لوں گا ۔
تھینک یو ویری مچ سر !سو نائس آف یو !
اٹس اوکے کہہ کر مکھ منتری دوبےنےلائن کاٹ دی اور سامنے پڑے ڈ را ئی فروٹ کی ایک مٹھی ہا تھ میں پکڑ کر ایک ایک دانہ چبا نے لگا۔
شرما یہ پکڑو فون۔ دوبے نے شرما کو فون تھما یا۔
آدھا گھنٹہ خراب کر دیا میرا آج کی میری گو لف کا سا را پروگرام کا ستیا ناس کر دیا ۔ لگتا ہے شوگر بھی ڈ ا ؤ ن ہو رہی ہے میری ۔شرما فریش جوس دو مجھے ذرا۔
جی سر ،سر، تازہ گنے کا جوس پلا ؤں آپ کو ؟ شرما نے وزیر ا علیٰ کا مو ڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا۔
ہاں لاؤ اور تھوڑی تازہ بیریز اور فریش انگور بھی لاؤ تا کہ میری توا نائی واپس آ سکے ۔
جی سر ابھی منگوا تا ہوں سر…. ایک منٹ میں ابھی سب آتا ہے۔
دیا ل، پردیپ ، موتی لال ، شیوا نی کہاں مر گئے سب ؟شرما نے سب ملا زموں کو آ وا زیں دینی شروع کیں ۔
سارے ملا زم ملزموں کی طرح قطار بنا کر ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔شرما نے سب کو ڈ ا نٹا اور کہا کہ صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ان کے دوست جج گپتا جی بھی دو بجے لنچ کے لیے آ رہے ہیں تازہ مکئی کی رو ٹیا ں اور تازہ سرسوں کا ساگ بنا نا ہے اور کریلے اور تازہ توڑی ہوئی بھنڈ ی کی تر کاری بھی بنا نی ہے ۔
جی شرما جی سب سامان فریش منگا یا جا چکا ہے اور ہم دل لگا کر اسے بنا رہے ہیں کلدیپ جی کی پسند کا اصلی گھی میں ۔
لیکن کلدیپ جی تو نہیں آ رہے….گپتا جی بولا ہے میں نے کان بند ہیں کیا تم لوگوں کے ؟ کان کھول کر سن لو انہیں صرف اصلی ناریل کے تیل میں پکا بھوجن پسند ہے ۔اور ماس مچھی انڈہ نہیں لیتے وہ…. اپنے صاحب کو ڈ نر میں یہ سب دے دینا، لیکن لنچ میں ٹوٹل ویج بھوجن ہو نان ویج کوئی چیز ٹیبل پر نہ ہو ۔
ٹھیک ہے شرما جی میں سمجھ گیا۔ شیوانی نے یک دم درمیان میں جلدی سے کہا ۔
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے جلدی سب کام پر جا ؤ بس اب ۔
اس دوران باہرہاؤ ہو کی اونچی اونچی آ وازیں سنائی دینے لگیں۔ کوئی کسان سپیکر پر تقریر کر رہا تھا ۔
اس ملک میں اگر ہم زمین میں ہل نا جوتیں تو اس ملک کے محلوں میں رہنے والے سب امرا بھوکے مر جا ئیں ۔ تب انہیں پتہ لگے گا كکھیتی باڑ ی کے بغیر یہ دیش دس دن بھی نہیں چل سکتا۔ صرف کمپیوٹر پروگرام بیچ کر اپنے بچوں کو برگر کتنے دن کھلا لو گے ؟ اناج تو ہم اگا تے ہیں ۔
مجمع میں پھر شور و غوغا نعر ے بازی شروع ہو گئی ۔
وزیرا علی نے گنے کے جوس کا ایک گھونٹ پی کر ہنستے ہوئے کہا۔ سن رہے ہو شرما ان مو ر کھو ں کی با تیں؟ بندہ پوچھے جا ہلو بے وقوفواند ھو ، مر تو تم خود رہے ہو اس ملک سے غدار ری کر کے ،دشمن ملک کی کٹھ پتلی بن کرخود بھوک کاٹ رہے ہو، آئے دن خود کشی کرتے ہو کام چو ر و…. اور قصور دوسروں کو دے رہے ہو ؟جاہل مو رکھ بے وقوف کہیں کے ۔
مکھ منتری نے بلغم تھوک کر کہا۔
پی اے شرما مکھ منتری کی طرف دیکھتے ہوئے زبردستی اپنے پورے دانت نکا ل کر زور سے ہنسا اور بولا ۔
بالکل ٹھیک بات کی سر آپ نے ،سولہ آنے ٹھیک بات ہے آپ کی ۔ بس سر ،کیا کریں تعلیم کی کمی ہے بہت ہمارے ملک کے اس حصے میں ورنہ اگر ان جا ہلوں میں عقل ہوتی تو کھیتوں میں کام کرتے اور اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پا لنے کی فکر کرتے نا کہ یہاں بیٹھ کر بھوک ہڑتال کی ایکٹنگ ۔
ایکٹنگ ؟مکھ منتری دوبے نے ایک انگور منہ میں ڈ ا لتے ہوے کہا ۔
جی ہاں سر! شرما جھٹ سے بولا۔
مجھے ایک اندر کے بندے سے پتہ لگا وہ جو دو کسان بھوک سے مرے ہیں نا سر، وہ پہلے سے ہی بیمار تھے سر، بلکہ ان میں سے ایک تو بیماری سے تنگ آ کر ایک بار خود کشی کی بھی کوشش کر چکا تھا سر ۔ وہ تو رسی ٹوٹ گئی اور وہ سالا بچ گیا ۔سر ،میں نے یہ بات ان سب رپورٹرز کو بتا دی ہے جن کو آپ کی طرف سے ماہانہ خرچ ملتا ہے ۔ سب کل اس جھوٹ کا پردہ فاش کر دیں گے کہ یہ کسان کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں دشمن دیش کی اور ان کو کوئی ایسا ویسا مسئلہ نہیں ہے، سب بھلا چنگا ہے۔ اور وہ دونوں بندے بھی بھوک سے نہیں طبعی موت مرے ہیں اپنی۔
پی اے نے راز دا رانہ لہجے میں وزیر ا علیٰ کو بتا یا ۔
ہمم ….تو یہ ڈ را مے چل رہے ہیں!گڈ گڈ شرما، ٹھیک کیا تم نے بالکل ٹھیک ہے ۔ گڈ ویری گڈ! ان دیش دیو ریوں ، اپنی دھرتی کے دشمن ،جا ہلوں، مو ر کھوں سے ایسی ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ طبعی موت مرے ہوؤں کو بھی شہید بنا لیں ۔
شرما پھر با چھیں کھلا کر زبر دستی ہنسنے کی کوشش کرنے لگا ۔
اس دوران پھر لا ؤڈ سپیکر سے ایک نئی تقریر شروع ہوئی۔
بھائیو جاگو اور آج سے وچن لو، جب تک ہمارے جائز مطا لبات پورے نہیں ہوتے نہ ہم ان منتر یوں کی شوگر ملوں کو اپنا محنت سے اگا یا گنا دیں گے نہ ان کی آ ٹے کی ملوں کو گندم ،نا کپڑ ے کی فیکٹر یوں میں کپا س اور نہ ان آ ڑ ھتیوں کی سبزی منڈ ی میں کوئی تازہ سبزی اور نہ ہی کوئی پھل اتا را جائے گا ۔
دوبےنے شرما کی طرف دیکھا اور زور سے قہقہہ لگایا۔ سنا شرما تم نے ؟مجھے یہ رَنویر کی آواز لگ رہی ہے…. وہی ہے نا یہ جو پچھلے سال اپنی سائیکل پر میری پرا ڈ و کے نیچے آتے آتے بچا تھا…. وہی جاہل ہے نا یہ ؟کتنے دن میرے پاس نوکری دے دیں بولنے آتا رہا مگر کون ان پڑھو ں کو کام دے سکتا ہے،نقل کر کے پاس ہو جاتے ہیں بس ۔
مکھ منتری نے کان میں انگلی ڈال کر زور سے گھما تے ہوئے کہا ۔
جی ہاں سر مجھے بھی یہ وہی لگ رہا ہے۔ جب سے اس کے باپ نے حالات سے تنگ آ کر خود کشی کی ہے اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔بالکل جھلا سا ہو گیا سر، پاگل ہے سر پاگل، دفع کریں اس کو سر ۔
ہاں شرما بندہ پوچھے ان مو ر کھو ں سے اگر یہ فصل نہیں اگا ئیں گے تو خود کیا ان کے لیے من و سلو ی اترے گا سورگ سے ؟ ان پاگلوں کو یہ بھی نہیں پتہ جتنی گندم یہ سال میں پیدا کرتے ہیں اتنی تو امیر ملک سمندر میں گرا کر پھینک دیتے ہیں ۔ہم ان سے امداد میں لے لیں گے اگر یہ نہیں اگا ئیں گے چا ول…. با سمتی نہ بھی کھا یا تو کیا، دوسرے چاول باہر سے منگا لیں گے۔
مجھے تو جاپا نی چاول بہت پسند ہیں پچھلی دفعہ ٹو کیو گیا تو کھا ئے تھے ۔کپاس بھی دوسرے ملکوں میں ٹکہ ٹوکری ملتی ہے کوئی محتاجی تھوڑی ہے ہمیں ان کی…. دوسرے صوبے کے کسان تو ان کی طرح پاگل نہیں ہیں ۔
جی بالکل سولہ آنے ٹھیک بات کی سر آپ نے ۔
لاؤڈ سپیکر پرپھر تقریرکی آواز گونجی۔ بھائیو کیوں نہ ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گیٹ توڑ کر اندر جائیں اور دیکھیں کہ اس کے با ورچی خا نے میں کون کون سی ایسی خو را ک ہے جو ہما ری محنت اور ہاتھوں کے بل بوتے پر اگائی گئی ہے، کیوں نہ وہ سب خو را ک ہم وہاں سے چھین کر اپنے قبضے میں کریں تا کہ انہیں پتہ لگے سما رٹ فونوں اور کمپیو ٹرو ں سے پیٹ کی آگ نہیں بجھتی ۔ کیا خیال ہے بھائیو ؟
مکھ منتر ی د و بے اور پی اے شرما کے ماتھے پر پہلی دفعہ پسینے کی قطر ے نمو دار ہوئے ۔
شرما فون دینا ذرا ….یہ ایس پی جاہل ابھی تک آیا کیوں نہیں ۔ذرا آئی جی کو کال کرو…. جلدی کرو….ابھی !
یہ لیں سر، آئی جی صاحب لائن پر ہیں۔ شرما نے سرعت سے فون ملایا۔
جوگیند ر ابھی تک کوئی آیا نہیں ۔یہ جاہل تو اندر آنے کے لیےپر تول رہے ہیں ۔یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟
سر ،باہر حالات بہت خراب ہیں۔ آپ کہیں محفوظ کمرے میں رہیں۔ دو کلو میٹر تک سب کسان ہی کسان ہیں۔ پولیس سب بے بس ہے۔ ہم آپ کے دروازے تک کم سے کم بھی تین گھنٹے سے پہلے نہیں پہنچ سکتے ۔
ہیں ں ں ں…. یہ کیا کہہ رہے ہو تم جو گیندر ؟
سوری سر ،میں نے جنرل پرشاد کو بھی ہیلپ کے لیے بول دیا ہے وہ دو گھنٹے میں ہیلی کاپٹر پر کسی کو آپ کی مدد کے لیے بھیج رہے ہیں ۔ مجمع بہت زیادہ غصے میں ہے سر ،انہیں روکنا آسان نہیں ہو گا ۔سر ،آپ اپنی سیفٹی پر فوکس کریں سر ۔
جوگیندر آئی جی نے ہا نپتے ہوئے کہا۔
ہیں….! یہ یکا یک کیا ہو رہا ہے…. کل تک تو سب نا رمل تھا۔ یہ کیا بکواس ہے ؟مکھ منتری نے کپکپا تی آواز میں پوچھا ۔
جی سر بس آج صبح پانچ بجے سے یہ سب نا جانے کیسے ریڈ ایریا کراس کر کے آگے آپ کے راج دھو ن تک پہنچ گئے۔ اب انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے فوج ہی کچھ کرے تو کرے ہمارے بس میں اب کچھ نہیں رہا سر…. کچھ بھی نہیں ۔
آواز نہیں آ رہی آپ کی سر ہیلو ہیلو ہیلو….
جوگیندر جوگیندر جو گیندر ۔مگر لائن ڈ را پ ہوگئی ۔دوبے کی حالت غیر ہورہی تھی۔
شرما مجھے جلدی سے میرے کمرے میں کہیں چھپا دو اگر یہ سب اندر آ گئے تو ہم سب کی خیر نہیں ۔جلدی چلو۔
سر آپ فکر نہیں کریں میں نے تینوں گارڈ ز کو کہہ دیا ہے وہ اپنی ایم ایم سیون بند و قیں لوڈ کر کے رکھیں، اگر کوئی گیٹ کراس کرنے کی کوشش کرے تو فائر کھول دیں ۔
شرما ان کی پرانی گھو ڑ ے والی بندو قیں، پندرہ سال پرانی، زنگ آلود….صرف ڈ را نے والی ہیں بس….ان سے کچھ نہیں رکنے والا…. تم بس مجھے کہیں چھپا ؤ جلدی ….اندر چلو بس۔
اب شرما کو اپنی بھی فکر لگ گئی تھی۔ ہنسی ونسی سب رفو چکر ہو کر اس کی جگہ ہوائیا ں چہرے پر نمو دار ہونے لگی تھیں ۔اس نے مکھ منتری کوپچھواڑے کے ایک کمرے کی الماری میں چھپا یا اور خود مالی کے حلیے میں با غ کو پانی دینے لگا ۔
اتنے میں گیٹ ٹوٹنے کی زور دار آواز سنا ئی دی۔تیس پینتیس کسان وزیر ا علیٰ ہا وس کے ا حا طے میں دا خل ہوچکے تھے۔سب سے پہلے مالی کو ایک کسان پکڑ کر رنویر کے پاس لایا ۔ رنویر فوراً پہچان گیا۔
شرما ! اچھا تو تم نے اپنا حلیہ بھی بدل لیا۔ احمق سمجھ رکھا ہے تم نے ہم سب کو ۔
کچھ نوجوانوں نے پکڑ کر اس کے ہاتھ پیچھے باندھے اور اسے ساتھ لے کر راج دھون کی تلاشی لینے لگے۔آخر کار ایک کمرے سے وزیر اعلیٰ صاحب مل گئے۔
اس دوران با ورچی خا نے سے کچھ کسان مل کر تازہ ساگ مکئی کی روٹیا ں بھنڈ ی اور کریلے کی ترکا ری میز پر لے آئے تھے۔ سب کسان کھا نا کھا نے لگے۔بھوک تومکھ منتری صاحب کو بھی شدید لگی تھی۔ انہوں نے آج خاص کھانا بنوایا تھا،بھوکی نظروں سے وہ ان سب کو اور کھا نے کو دیکھنے لگے۔ ان کی حالت دیکھ کر رنویر نے میزپر پڑ ا سنگ مر مر کا سیب اٹھایااور اسے ایک پلیٹ میںکانٹے اور چھر ی کے ساتھ مکھ منتری کو پیش کیا۔
آج اسے کھا ئیے منتری جی تا کہ آپ کو پتہ لگے اصل خو راک ، کسان اور محنت کے درمیان کیا تعلق ہوتا ہے!
د و بے چھچھو رے انداز اور بے ہودہ آواز میں رونے اور منت سماجت کرنے لگا۔ کسان اس کی حالت پر ہنستے ہوئے تازہ سا گ اور مکئی کی روٹیاں کھا رہے تھے۔مکھ منتری کا راج دھون جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی، آج ہر طرف اس میں معمولی کپڑے پہنے محنت کش کسان گھوم رہے تھے۔
اگلے ہی دن حکومت کی طرف سے اعلان ہؤا کہ کسانو ں کے تمام جائز مطا لبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔البتہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گیٹ توڑ کر داخل ہونے اور کسانوں کو حکومت کے خلاف اکسانے پر رنویر کے خلاف کئی مقدمے بن گئے تھے۔ اس نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔مقدمہ چلا اور رنویر کو چھ سال قیدکی سزا سنا ئی گئی۔مگر اس کی چلائی تحریک رکی نہیں۔ کسانوں کی مسلسل حق تلفیوں کے خلاف عوامی احتجاج کئی ریاستوں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں را شٹر پتی اور پردھان منتری دونوں کو اپنے عہدوں سے ہٹنا پڑا ۔
چھ سال بعد رنویر رہا ہو کر آیا، مگر اب وہ ایک حق تلفیوں کا مارا ہؤا معمولی کسان نہیں بلکہ کسان برادری کا محبوب و مقبول لیڈر تھا۔دیہات کے محنت کش عوام کو امید تھی کہ سنہرے کھیتوں کی حرمت کا علمبردار ان کا نمائندہ اس ملک کی تقدیر بدل دے گا۔

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
2 years ago

سلمان بخاری کا افسانہ سنہرے کھیت پڑوسی ملک کی سچی کہانی لگ رہی ہے۔ پلاٹ بھی خوب ہے اور مکالمے بھی زبردست ہیں۔

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x