ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سمندر کے ساتھ پیاسا گوادَر – بتول جنوری ۲۰۲۲

اہل گوادر کے آئینی حقوق کس کی ذمہ داری ہے؟گوادر کی ابھرتی قیادت جو بلوچ عوام کی آواز بن گئی

یہ پیشین گوئی بھی کی جا رہی ہے کہ پانچ برسوں کے اندر اندر گوادر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا

بلوچستان کی سرزمین اپنے قدرتی حسن اور پاکستان کا نصف رقبہ ہونے کے اعزاز کے ساتھ ہمیشہ سے منفرد اہمیت کی حامل رہی ہے۔ یہاں کی تہذیب، رہن سہن، رسوم و رواج بھی منفردہیں۔ یہ سر زمین پہاڑوں دریاؤں سمندروں میدانوں اور صحراؤں کے ساتھ قدرتی وسائل سے مالا مال بھی ہے۔ یہاںسیندک کی کانیں اور گیس کے ذخائر کے ساتھ کرومائیٹ اور کوئلہ کی کانیں جہاں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں وہاں ملکی اور بین لاقوامی طور پر اپنی پہچان اور اہمیت رکھتی ہیں۔
اسی بلوچستان کا ضلع گوادر ہے جو اس وقت پوری دنیا میں اور خاص طور پر وسط ایشیا کے ممالک میں اہمیت کا حامل بنا ہوا ہے۔ گوادر پاکستان کے ساحل پر بحیرہ عرب کے شمال مغرب میں واقع ہے۔یہ حصہ یکم جولائی1977 کو پاکستان کا حصہ بنا اور 2011 میں بلوچستان حکومت نے گوادر کو سرمائی دارالحکومت بنایا۔
ضلع گوادر کی آبادی تقریباً تین لاکھ ہے۔یہ 15210 مربع کلومیٹر پر اور 600 کلو میٹر ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ ضلع گوادر 4 تحصیلوں پر مشتمل ہے جن میں جیوانی ،پسنی ،اُر ماڑااور شامل ہیں۔
گوادرکی تاریخ بہت ہی دلچسپ اور منفرد ہے۔ 1883 میں خان آف قلات نے تیمور سلطان مسقط کے ہارنے والے حکمران سے گوادر کی خودمختاری حاصل کی ۔سلطان نے جب دوبارہ مسقط کو فتح کیا تو انہوں نے گوادر پر اپنی حکومت دوبارہ قائم کر لی اور ایک گورنر تعینات کیا۔
62 سال قبل 1954 میں جب پہلی بار اس علاقےکی اہمیت سامنے آئی تو اس وقت یہ شہر سلطنت عمان کا حصہ تھا اور یہ ایک چھوٹا سا بے آباد علاقہ تھاجو مچھلیوں کا گاؤں کہلاتا تھا ۔پاکستان نے اس کو 8 ستمبر 1958 کوعمان سے ساڑھے 5 ارب روپے میں خریدا۔ اس وقت سلطان محمد شاہ جو آغا خان کہلاتے تھے انہوں نے اس رقم کی ادائیگی میں بہت بڑا حصہ ادا کیا۔خریداری کے اس معاہدے کی دو اہم شقیں یہ تھیں:
۱۔سارا بلوچستان عمان کے لئے فوجی چھاؤنی بنے گا جس کے نتیجے میں بلوچ عمانی فورسز کا اہم حصہ شمار ہوں گے۔
۲۔گوادر کے وسائل پر مزید اضافہ کیا جائے گا۔
گوادر کا مطلب ’’ہوا کا دروازہ‘‘ ہے۔ گوادر پورٹ 637 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے خلیج فارس تک رسائی ممکن ہے اور گوادر پورٹ کو دبئی پورٹ کے متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پورٹ دنیا کے 196 ملکوں کے ساتھ 4764 سمندری جہازوں کے ذریعے تجارت کی سہولت دے سکتی ہے۔ یہ تجارت کی نئی روایت کے ساتھ ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ کرہ ارض پر 224 سال قبل کنٹینرز کے ذریعے تجارت کی روایت کو مانے رکھیں تو نئے دور کی یہ بندرگاہ جو سہولیات دے رہی ہےوہ نہایت اہم ہیں۔

1954 میں امریکی جیالوجیکل سروے نے گوادر کو ڈیپ سی رپورٹ کا بہترین مقام قرار دیا تھا

گہرے پانیوں کی یہ بندرگاہ تجارتی اعتبار سے دنیا کے تین انتہائی اہم علاقوں ،تیل سے مالامال مشرق وسطیٰ ،وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔گوادر پورٹ کے حوالے سے یہ پیشین گوئی بھی کی جا رہی ہے کہ پانچ برسوں کے اندر اندر گوادر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا جہاں سالانہ 13ملین سامان کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہو گی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 2030 تک یہ بندرگاہ 400 ملین ٹن تک کا سامان ہینڈل کر سکے گی۔
1993 میں حکومت پاکستان نے ایک منصوبہ بنایا جس کے تحت گوادر کو بین الاقوامی بندرگاہ میں تبدیل کیا جانا تھا۔ 2007 میں گوادر بندرگاہ کا افتتاح ہؤا۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ 1954 میں امریکی جیالوجیکل سروے نے گوادر کو ڈیپ سی رپورٹ کا بہترین مقام قرار دیا تھا۔حکومت نے افتتاح کے بعداس نئی نویلی بندرگاہ کو چلانے کا ٹھیکہ سنگاپور کی ایک کمپنی کو بین الاقوامی بولی کے بعد دے دیا۔
پھر یہ معاملہ اس وقت متنازعہ ہؤااور شکوک و شبہات کی زد میں آیا جب حکومت نے اس بندرگاہ کو چلانے کا ٹھیکا سنگاپور کی کمپنی سے لے کر چین کی ایک کمپنی کو دے دیا ۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کی باتیں سامنے آنے لگیں اور اسی دوران اس وقت کے وزیراعظم نےاعلان کیاکہ چینی حکومت پاکستان میںاربوںڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔چنانچہ چین کے ساتھ طے پانے والے منصوبے کو پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا نام دیا گیا ہے جو بنیادی طور پر خنجراب کے راستے چین کو گوادر کی بندرگاہ سے ملانے کا منصوبہ ہے۔
2015 میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے تو معلوم ہؤاکہ اس منصوبے میں سڑکیں، ریلوے لائن ، بجلی کے منصوبوں کے ساتھ ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس وقت کے صدر نے گوادر کے نواحی علاقوں کی ترقی کے لئے بھی پانچ کروڑ دینے کا اعلان کیا بلکہ یقین دلایا کہ وفاقی حکومت گوادر میں تعلیم ،صحت، اور سیوریج کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید ایک کروڑ کی رقم فراہم کرے گی۔
پھر 2015 میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ شہر اور بندرگاہ میں سی پیک منصوبے کے تحت 1.62 بلین ڈالر یعنی ایک ارب 62 کروڑ ڈالر سے مزید ترقیاتی کام شروع کیے جائیں گے .اور اس منصوبے کے تحت شمالی پاکستان کو مغربی چین کے ساتھ بندرگاہ کے ذریعے ملانا بنیادی مقصد تھا ۔بندرگاہ ایل این جی لانے کے لیے بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوگی جس میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ اور گوادر نواب شاہ پروجیکٹ بھی شامل ہیں۔
گوادر فری زون اس وقت مکمل ہوچکا ہے ۔ورلڈ شپنگ کونسل نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ شپنگ کنٹینرز کے استعمال کا رواج انوکھانہیں ،جدید کنٹینرز کی طرز کے باکس 1792 میں انگلینڈ میں بھی استعمال ہوتے تھے۔ امریکہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی چھوٹے سائز کے کنٹینرز استعمال ہوتے تھے۔
گوادر بندرگاہ گرم پانی کی بندرگاہ ہے جو دنیا میں بہت ہی کم پائی جاتی ہے اورساتھ میں یہ ’’ڈیپ سی‘‘ بھی ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گرم پانی والے سمندری حصے پر تمام سال تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے ۔اس اہمیت کے ساتھ اللہ نے اس بندرگاہ کو پہاڑ کی اوٹ دے کر اس کو ہوا کے روکنے کا ذریعہ بنا کر مزید اہم کر دیا ہے۔
یہ خاموش ساکت سمندر اپنی خوبصورتی کے ساتھ نیلے پانی کا ایسا ساحل ہے جو دلوں اور نگاہوں کو مسحور کر دیتا ہے ۔اس سمندر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ شام کے ڈھلنے کا منظر ایسا نظر آتا ہے کہ سورج اس پانی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔گوادر کی اہمیت اپنی جگہ

یہ خاموش ساکت سمندر اپنی خوبصورتی کے ساتھ نیلے پانی کا ایسا ساحل ہے جو دلوں اور نگاہوں کو مسحور کر دیتا ہے ۔اس سمندر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ شام کے ڈھلنے کا منظر ایسا نظر آتا ہے کہ سورج اس پانی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔گوادر کی اہمیت اپنی جگہ ، اس کی بین الاقوامی اہمیت بھی ہمارے لئے فخرومسرت کا باعث ہے۔ اگر آپ گوادر کے حالات دیکھیں تو وہ سارے وعدے جو یہاں کی مقامی آبادی کی ترقی کے لیے اور یہاں کے لوگوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی کے لئے کیے گئے تھے آج تک وفا نہ ہو سکے۔
بحیرہ عرب کا یہ خوبصورت شہر مسائل کی آماجگاہ بن گیا۔ اس شہر کی اہمیت نے تعلیم، صحت، پینے کاصاف پانی اور سیوریج سسٹم کچھ بھی تو اس شہر کو نہیں دیا ۔یہاں کے 95 فیصد لوگ کشتی بنانے کے کام میں ماہر ہیں۔ان کشتیوں کے ذریعے یہ لوگ سمندر میں جا کر مچھلی پکڑتے ہیں جس کی فروخت ان کا واحد روزگار ہے۔
شہری سہولتوں کا عالم یہ ہے کہ ایک ہسپتال تو ہے مگر ادویات کے بغیر۔ اگر کسی آپریشن کی ضرورت ہو یہاں تک کہ بچوں کی پیدائش کے وقت خواتین کو آپریشن کی ضرورت پڑے تو 700 کلومیٹر کا زمینی سفر طے کرکے کراچی جانا پڑتا ہے.اس طرح پینے کے پانی کا مسئلہ بھی اس علاقے کا اہم مسئلہ ہے۔ صرف ایک ڈیم آکڑہ ڈیم میں بارش کا پانی جمع کرکے اس کو پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔گوادر کو 24 گھنٹوں میں سےچند گھنٹے ہی بجلی جیسی نعمت ملتی ہے، یہ مسئلہ بھی یہاں کے رہنے والوں کا اہم مسئلہ ہے ۔ گوادرمیں کوئی یونیورسٹی بھی نہیں ۔
سی پیک ترقیاتی منصوبے کے آغاز کے بعد گوادر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہونا تو دور کی بات، ان کا واحد ذریعہ روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا۔ کوسٹ گارڈ یہاں کے ماہی گیروں کی مچھلیوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ٹرالنگ کرنے والوں کی وجہ سے ان کے جال خراب ہوجاتے ہیں اور غریب ماہی گیراپنی روزی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ سمندری طوفان سے متاثر افرادکے لیے بھی کوئی بندوبست نہیں ہو پاتا۔ یہاں کے نوجوانوں کے لیے سی پیک میں ملازمتوں کے حصول کا مسئلہ بھی ایک نمایاں مسئلہ ہے۔
اگرچہ مستقبل کے گوادر کی خوبصورت تصویریں بڑے بڑے پوسٹر اشتہارات کی شکل میں مختلف مقامات کی زینت بن رہی ہیں اور دبئی اور نیویارک سے ملتا جلتا شہر دکھایا جا رہا ہے۔اس کے صحراؤں اور ساحلوں کی قیمتیں بھی وصول کی جائیں گی۔ متعلقہ محکمے ، ادارے اور کمپنیاں خوب پیسہ کمائیں گی۔مگر یہاں کے مسائل جوگڈانی سے لیکر جیوانی تک بلوچ عوام کے مسائل ہیں ان کو آج تک کسی نے سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ ساحل جو گرم پانیوں کے ساتھ اپنی خاموشی کی وجہ سے سارا سال قابل استعمال رہتا ہے، یہ معتدل سمندر جواپنے اندر ہر قسم کی سمندری محلوق بھی رکھتا ہےاس پر ان بلوچ عوام کا حق پہلے ہے جو صدیوں سے یہاں کے باسی ہیں۔ یہ ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں ا ور یہیں سے پاکستان کو لاکھوں ارب سالانہ زر مبادلہ ملتا ہے۔ ماہی گیری پیشہ سے وابستہ آلات جن میں جال کشتیاں اور چھوٹے جہاز تک شامل ہیں ، وہاں کے لوگ خود ہی بناتے ہیں ۔ یہ اس کام کے بڑے ماہر ہیں البتہ پرانے انداز ہی سے اسے لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ برطانوی دور سے لے کر آج تک کسی نے یہاں کے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔
راقمہ نے جب بھی گوادر کا سفر کیا ، وہاں کے لوگوں کو محنت کش، اپنے ہنر سے محبت کرنے والا اور ماہر پایا۔ سمندر کی لہروں کو چیرنے والے اور سمندر کی بے کراں حدود سے اپنے حصے کا رزق تلاش کرنے والوں کے علاقے میں جب جدید جہازوں اور ٹرالرز کے ذریعے سمندری حیات کونیست ونابود کرنے کا سلسہ شروع ہؤا اور ساتھ ہی ماہی گیروں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جانے لگا تو وہاں زندگی تڑپ اٹھی ۔محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی ہے کیونکہ سی پیک کی ترقی کا ایک ہلکا سا اثر بھی گوادر کے عوام پر نظر نہیں آرہا تھا، الٹا ان کی زندگی مشکلات کا شکار ہو رہی تھی۔

ان حالات پر احتجاج کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں نے گاہےبگاہے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ۔ بلوچ عوام کی اس آواز کو توانائی اس وقت ملی جب ان کو ایک دلیر قیادت میسر آگئی اور اس قیادت کو آواز دینے والی امام زینی تھی۔ 70 سال کی عمر کی یہ عورت جو گوادر پورٹ کے دروازے پر دھرنا دیتی ہے۔ وہ ماہی گیر کا بیٹا جو یہاں ہونے والے استحصال ،زیادتیوں، گمشدگیوں، جبری اڈوں کے خلاف کئی دفعہ احتجاج کی قیادت کر کے یہاں کے ماہی گیروں کی آواز بن چکا تھا، مولانا ہدایت الرحمن نامی اس جرأت مند شخص نے اپنے قافلے کا رخ اماں زینی کی طرف کیا۔ پھر کیا تھا، ایک چنگاری جو اس خاکستر میں تھی شعلہ جوالہ بن گئی۔ اس تحریک نے پورے بلوچستان کے اندر ایک تحرک پیدا کر دیا۔ بچے بوڑھے جوان خواتین سب ہم آواز ہو کر اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے۔ پہلے بچوں نے اس عنوان سے کہ ’میرا والد پریشان کیوں ہے‘ مظاہرہ کیا کہ والد جب سمندر سے اپنے جال اور ٹوکری کے ساتھ خالی ہاتھ گھر آتا ہے تو وہ پریشان ہوتا ہے جس کی وجہ سے سے پورا گھر پریشان ہوتا ہے۔ اس کے بعد مردوں نے کفن پوش مظاہرے کیے۔عوام کے اس وسیع احتجاج کے باوجود ابھی تک کسی سطح کی بھی حکومت نے ان مظاہروں کا نوٹس نہ لیا اور مظاہرین کے مطالبات جاننے کی کوشش نہ کی۔
پھر یہ ہوا کہ وہاں کی خواتین گھروں سے نکلیں۔ یہ بھی گوادر کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا تھا۔ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سولہ ہزار کے قریب خواتین پورے مکران سے اکٹھی ہوکرگوادر پہنچیں۔ تب قومی میڈیا کے کیمروں اور تجزیہ نگاروں کو بھی اپنا رخ گوادر کی طرف کرنا پڑا۔ بلوچ عورت جو اپنے بھائیوں باپوں شوہروں کی تذلیل برداشت نہیں کر پا رہی تھی میدان عمل میں نکل آئی۔
اس کے بعد بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکلی جس میں لاکھوں انسان موجود تھے۔ میڈیا نے رپورٹ کیا کہ گوادر پورٹ پرسمندر کے ساتھ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بہہ رہا ہے۔ اس تحریک نے مزید زور پکڑا مگر ابھی تک یہ کسی بھی بڑی سیاسی قوت کی سرپرستی سے محروم تھی۔ میڈیا کی اپنی ترجیحات تھیں۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مولانا ہدایت الرحمان کی درخواست پر وہاں پہنچے اور گوادر کے عوام سے اظہار یک جہتی کیا۔ان کی آمد اور جماعت اسلامی کی سرپرستی نے اس تحریک کو وہ قوت بخشی جس نےاربابِ اختیار کو متوجہ ہونے اور بات سننے پر مجبور کیا۔تحریک میں شامل خواتین کی بڑی تعداد کے پیش نظر حلقہ خواتین کی سربراہ محترمہ دردانہ صدیقی بھی اپنے وفد کے ہمراہ آئیں اور خواتین کے دو بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔
بالآخر 16 دسمبر کو صوبائی حکومت نے گوادر کے عوام کے مطالبات جو ’’حق دو‘‘ تحریک گوادر میں پیش کیے گئے تھے وہ مان لیے اور کچھ مطالبات کے لئے ایک ماہ کا وقت مانگا۔ چنانچہ ان مذاکرات کے نتیجے میں یہ دھرنا 33 دنوں کے بعد ختم ہؤا۔
وہ حقوق جو یہاں کے عوام کی آواز بنے یہ تھے:
1-ضلع گوادر کے سمندرکو ٹرالرز مافیا سے پاک کیا جائے۔ فشریز آرڈیننس 1986 میں ترمیم کرکے 12ناٹیکل مائلز کو 30 ناٹیکل مائیلز کیا جائے ۔ماہی گیروں کو آزادی کے ساتھ سمندر جانے دیا جائے ۔انٹری ٹوکن اور وی آئی پی کے نام پر ماہی گیروں کی تذلیل بند کی جائے۔
۲۔مکران بارڈرکھولا جائے ،اس میں ٹوکن ایمپنگ اور لیٹنگ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے ۔ گاڑیوں کی تعداد کامحدود پیمانہ ختم کیا جائے ۔ ایف سی اور کوسٹ گارڈ کو بارڈر کے امور سے بے دخل کیا جائے ۔ بارڈر امور کو ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے ۔مکران میں ماضی کے

تمام کراسنگ پوائنٹس کو بحال کیا جائے۔
3-کوسٹ گارڈ ایف سی اور کسٹم کے پاس عوام کی جتنی بھی گاڑیاں کشتیاں اور لانچیں ہیں وہ مالکان کے حوالے کی جائیں۔
4-گوادر کے تینوں شراب خانوں کے لائسنس فوری منسوخ کیے جائیں۔
5-سیکیورٹی کے نام پر عوام کی شہر اور بارڈر پر تذلیل بند کی جائے۔ ضلع گوادر اور پنجگور میں غیر ضروری پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔جیوانی سے کراچی تک کوسٹل ہائی وے اور گوادر سے کوئٹہ شاہراہ پر قائم غیر ضروری چیک پوسٹ ختم کی جائے ۔مکران ڈویژن میں تمام تعلیمی ادارے ہسپتال تفریحی مقامات شہر اور دیہات کی آبادی سے تمام فورسز کو ہٹایا جائے۔
6-محکمہ تعلیم کے تمام نان ٹیچنگ اسٹاف کی آسامیوں کے آرڈر 15 دن کی مدت میں جاری کیے جائیں ۔مقامی افراد کے مالی نقصان کے باعث ضلع گوادر کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔ یوٹیلیٹی بلز کے بقایاجات معاف کر دیئے جائیں ۔ان کے مقامی صارفین کو ماہانہ 300 رہائشی یونٹ کی سبسڈی دی جائے۔
7-ایکسپریس وے متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
8-حق دو تحریک کے کارکنان پر تمام مقدمات کا پندرہ دنوں میں خاتمہ کیا جائے اور حق دو تحریک کے قائد کے نام کو فورتھ شیڈول سے فوری خارج کیا جائے۔
9-دربیلہ متاثرین کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر پندرہ دنوں میں عملدرآمد کیا جائے۔
10-ماہی گیروں کے سمندری طوفان کی وجہ سے نقصانات کا پندرہ دنوں میں ازالہ کیا جائے۔
11-وفاقی صوبائی محکموں میں معذور افراد کے کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے اور ان کو ہاؤسنگ سکیم میں کوٹا دیا جائے۔
12-پاک ایران بارڈر ٹریڈ میں چھوٹی گاڑیوں کو خوردونوش اورتعمیراتی مواد لانے اور لے جانے کی اجازت دی جائے۔
13-مکران ڈویژن کی رہائشی جگہوں پر ڈرون کیمرہ کی پرواز چادر اور چاردیواری کی پامالی ہے لہذا ڈرون کیمروں کی پرواز کو فوری ختم کیا جائے ۔عوام الناس اور سرکاری اداروں کی گاڑیوں اور ان کے کالے شیشوں کو فورا ًختم کیا جائے جو شہر کے امن کو خراب کر رہے ہیں۔
14- بلوچستان یونیورسٹی کے تین طلبا رمیز بلوچ جمیل بلوچ اور محبوب بلوچ جو 2 دسمبر سے لاپتہ ہیں ان کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
15 ۔گوادر میں یونیورسٹی بنائی جائے۔
گوادراور مکران ڈویژن کے مکین اپنے حقوق کے لئے لمبے عرصے سے سراپا احتجاج تھے۔ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ مقامی آبادی کو وسائل دینے کے ساتھ ان کے جائز آئینی ، قانونی ،معاشی ، معاشرتی حقوق ان کو دیے جائیں اور بنیادی انسانی ضروریات زندگی جو اس ملک کا آئین بطور شہری ان کوفراہم کرتا ہے ان کو دی جائیں تاکہ کوئی قوم اپنے آپ کو محروم نہ سمجھے۔

؎۱سابق ممبر بلوچستان اسمبلی

٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x