ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سلاخوں کے پیچھے – آسیہ راشد

کوٹ لکھپت جیل میں یہ ہمارا تیسرا دورہ تھا ۔ وہاں کے ماحول سے کچھ کچھ شناسائی ہوتی جا رہی تھی ۔ اب پہلے والی گھبراہٹ بھی باقی نہ رہی تھی ۔جس کمرے میں ہمارا کلینک سجتا تھا اس کے راستے کوبھی ہم پہچان چکے تھے ۔
اپنے کلینک کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے ہمیںتیز میوزک کی آواز سنائی دی ہمارے بڑھتے قدم رک گئے ۔ اپنی دائیں جانب دیکھا تو چھوٹی سی عمارت کے دو کمروں کے باہر دو حبشی عورتیں جودرمیانی عمر کی تھیںتیز میوزک پرناچ رہی تھیں۔ ہم حیرت سے انہیںدیکھنے لگے جیل میں ایسا تفریحی منظر ہمارے لیے حیران کن تھا ۔ انہوںنے جب چھ سات خواتین کواپنی جانب دیکھتے ہوئے پایا تو وہ تیوریاںچڑھا کر اندر چلی گئیں دونوںکمروں کے دروازے کھلے ہوئے تھے اور دونوںساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے ، اندر کامنظر بخوبی دیکھاجا سکتا تھا ۔ دونوںکمرے جدید سہولتوں سے آراستہ تھے ۔ فوم کے گدوں والے بیڈ ، کولر، فرج ، ٹی وی ، ڈیک اور بے شمار الیکٹرونکس کی اشیا تھیں جو کمرے میں پوری نہ آنے کی وجہ سے باہر رکھ دی گئی تھیں ۔کمروںکی دیواریں جلتی بجھتی چھوٹی چھوٹی بتیوںسے آراستہ تھیں جوڈیک کے میوزک کے ساتھ جل بجھ رہی تھیں۔
یہ کیسی جیل تھی ! یہ کون سی خواتین تھیں جو اتنے پروٹو کول کے ساتھ جیل کی زندگی کو بارونق بنا کر لطف اندوز ہو رہی تھیں ! ہم نے آگے بڑھ کر ان کے کمروںکی اشیا کو دیکھناشروع کیا تو وہ تن کر آگے کھڑی ہو گئیں اور ہمیںوہاںسے جانے کا اشارہ کیا ۔ ان کے بگڑے تیور دیکھ کرہم ان کے کمروںسے باہر آگئے ۔
وہاںپوچھا کہ یہ سیاہ فام حبشی عورتیںکس جرم میں قید ہیں تو معلوم ہؤا کہ وہ اسمگلنگ کے جرم کی پاداش میںیہاںہیں ۔ چونکہ یہ امریکن نیشنل ہیں اس لیے ایمبسی کی جانب سے انہیں ہرطرح کی سہولت دینے کے احکام جاری ہوئے ہیں ۔
ہم انگشت بدانداں تھے ۔ جیلوںکے اندر کے جو احوال ہمیں میڈیا اور اخبارات بتاتے ہیں اس کی ایک جھلک ہم نے دیکھ لی تھی ۔ یہاں ہر طاقتور اورپیسے والے کو ہر طرح کی سہولت میسر ہے ۔ پاکستان کی جیلوںکے بارے میںکہا جاتا ہے کہ جیلیں ریاست کے اندر ریاست ہیں۔ یہاں ظلم کے قانون اور جبر کے ضابطے لاگو ہیں ، یہاں کرپشن اوربدعنوانی کا راج ہے ۔ جو قوانین ہماری پارلیمنٹ بناتی ہے اور جو ضابطے لاگو کرتی ہے جیل کے اندر ان پر عمل درآمد نہیںہو سکتا ۔ یہاں پرصرف طاقتور کا راج ہے اور غریب ظلم وستم کا شکار رہتے ہیں ۔ امرا کوان کی طاقت اورروپے کے حساب سے سہولتیں اورآسودگیاں ملتی ہیں ۔ ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق پروٹو کول دیا جاتا ہے ۔ ان دولت مندوں کی راتیں ان کے اپنے ذاتی گھروںمیں گزرتی ہیں اوردن کے اجالے میںیہ جیل کی سلاخوںکے پیچھے رات ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کی ملاقاتیں بھی جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں کروائی جاتی ہیں جبکہ عام قیدی آہنی سلاخوں اور جالیوں کے پیچھے سے اپنے پیاروں سے بات کرتے ہیں جہاں وہ ان کو چھو بھی نہیں سکتے ۔ ان کے چہرے بھی صاف طور پردکھائی نہیں دیتے ۔ان کی آواز بھی بعض اوقات واضح طور پر نہیں سن سکتے توانہیں انٹر کام کی سہولت دی جاتی ہے ۔ اپنے عزیر و اقارب کوجیل کے اندر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے جیل حکام کورشوت دینی پڑتی ہے جو لاکھوںروپے بنتی ہے تاکہ حکام کے ظلم و ستم سے بچ کر جیل میں زندہ رہ سکیں۔
ان آسانیوں سے پُر حبشی عورتوںکا سیل دیکھ کر ہم کہے بغیر نہ رہ سکے کہ جیل ان کے لیے تفریح، عیاشی اور آسودگی کا گھر ہے ، انہوں نے جیل کو تفریح گاہ بنا رکھا ہے جہاں چند دن آرام و آسائش سے رہے اور پھر باہر آگئے اور دوبارہ اپنا کالا کاروبار شروع کردیا۔
آج خالدہ بٹ صاحبہ نے ہماری ملاقات شانزے فصیح اللہ خان سے کروانی تھی ۔ ہم لوگ خالدہ صاحبہ کی ہم رکابی میں جیل کی کوٹھڑیوں کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک کوٹھڑی کے باہر رک گئے ۔آہنی سلاخوں اور لوہے کی بنی ہوئی جالیوںمیں سے ہمیںدور ایک خاتون دکھائی دیں جو دیوار کی طرف منہ کیے کھڑی تھی جیل کی کوٹھڑی کی خاموشی میں اندھیرا کسی خاموش ساتھی کی طرح کونوں میں دکھائی دے رہا تھا اور اس اندھیرے میںاس کا وجود ایک سائے کی مانند نظر آتا تھا ۔ ہمیں بمشکل وہ خاتون نظر آئیں ۔
جالی کے بہت نزدیک جا کر میں نے زور سے السلام علیکم کہامگر ادھر سے کوئی جنبش نہ ہوئی اور کوئی جواب نہ ملا ۔ میںنے تقریباً دس بارہ مرتبہ پکارا مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ میں نے مڑ کرخالدہ صاحبہ کی جانب دیکھاتو وہ بولیں آپ آجائیں کمرے میں بیٹھتے ہیں ، میں آپ کو اس کی کہانی سناتی ہوں۔
کہنے لگیں’’یہ اپنے خونی رشتوں کی ڈسی ہوئی ہے ۔ یہ نہیں بولے گی ، ظلم سہ سہ کر ذہنی مریضہ بن گئی ہے ۔ یہ تمام دن اسی طرح دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑی رہتی ہے ۔بمشکل اسے کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ جب یہ جیل میں آئی تھی تو اچھی خاصی خوبصورت ماڈرن لڑکی تھی ۔ کافی پڑھی لکھی بھی ہے ۔ اب اتنے سالوں میں اس کی رنگت پیلی اور سانولی ہو گئی ہے ، جسم بھی ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ گیا ہے ۔ یوں لگتا ہے یہ بولنا بھول گئی ہے‘‘۔
’’ اتنے سالوں میں اسے کوئی بھی چھڑوانے نہیں آیا ؟‘‘ میں نے پریشانی سے پوچھا۔
’’ نہیںکوئی نہیں ….. اس کے سگے بھی اس کے دشمن ہو چکے ہیں۔ یہ شمالی پنجاب کے کسی بہت امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے ، اب ویمن ایڈ ٹرسٹ والے اس کے کیس کو دیکھ رہے ہیں ، امید ہے یہ جلد رہا ہوجائے گی کیونکہ اتنے سال کسی نے اس کے کیس کو نہیں سنا۔ اسے بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ اسے اس جرم کی سزا دی گئی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ، یعنی بے گناہ جیل میں بند ہے ‘‘۔
یہ سب لکھتے ہوئے مجھے عافیہ صدیقی کا خیال آگیا جو برس ہا برس سے اغیارکی قید میں جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہی ہے ۔ جسے اس کے بچوں سے جدا کر دیا گیا ۔ قید و بند کی صعوبتوں نے اس کے ایمان کو ڈگمگایا نہیں ۔ صرف ذکر الٰہی کی قوت اسے جینے کا سہار دیے ہوئے ہے ۔ میرے دل سے دعا نکلی کاش کوئی عافیہ صدیقی کے کیس کوبھی دیکھ لے ۔
خالدہ بٹ جیل کی ایک ذمہ دار آفیسر کو بلا لائیں اور مجھے ان کےساتھ ایک کمرے میںبٹھا دیا ۔ وہ آفیسر اپنے ساتھ ایک رجسٹر بھی لائی تھیں ۔ شمیم چیمہ نے رجسٹر کھولا اور شانزے فصیح اللہ کی کہانی شروع کی۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x