۲۰۲۳ بتول مارچرمضان میں قیام لیل - بتول مارچ ۲۰۲۳

رمضان میں قیام لیل – بتول مارچ ۲۰۲۳

تراویح کے بارے میں معلومات کا خلاصہ

 

تراویح کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :
(۱)نبیؐ دوسرے زمانوں کی بہ نسبت رمضان کے زمانے میں قیامِ لیل کے لیے زیادہ ترغیب دیاکرتے تھے۔ جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ چیز آپ کو بہت محبوب تھی۔
(۲)صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ رمضان المبارک میں تین رات نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور پھر یہ فرما کر اسے چھوڑ دیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے اس سے ثابت ہوتاہے کہ تراویح میںجماعت مسنون ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ تراویح فرض کے درجہ میں نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ حضورؐچاہتے تھے کہ لوگ ایک پسندیدہ سنت کے طور پرتراویح پڑھتے رہیں مگر بالکل فرض کی طرح لازم نہ سمجھ لیں۔
(۳)تمام روایات کو جمع کرنے سے جو چیز حقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضورؐ نے خود جماعت کے ساتھ رمضان میں جو نماز پڑھائی وہ اوّل وقت تھی نہ کہ آخر وقت میں۔ اور وہ آٹھ رکعتیں تھیں نہ کہ بیس۔(اگرچہ ایک روایت بیس کی بھی ہے مگر وہ آٹھ والی روایت کیا بہ نسبت ضعیف ہے)اور یہ کہ لوگ حضورؐ کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز کے بعد واپس جا کر اپنے طور پر مزید کچھ رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔ وہ مزید رکعتیں کتنی ہوتی تھیں؟ اس کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں ملتی۔ لیکن بعد میں جوحضرت عمرؓ نے ۲۰ رکعتیں پڑھنے کا طریقہ رائج کی اور تمام صحابہؓ نے اس سے اتفاق کیا اس سے یہی سمجھ میں آتاہے کہ وہ زائد رکعتیں ۱۲ہوتی تھیں۔
(۴)حضورؐ کے زمانہ سے لے کر حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانہ تک باقاعدہ ایک جماعت میں سب لوگوں کے تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج نہ تھا، بلکہ لوگ یا تو اپنے اپنے گھروں میں پڑھتے تھے یا مسجد میں متفرق طور پرچھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ اسی تفرق کو دور کرکے سب لوگوں کو ایک جماعت کی شکل میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔اس کے لئے حضرت عمرؓ کے پاس یہ حجت موجود تھی کہ حضورؐ نے اس سلسلہ کو یہ فرما کر بند کیا تاکہ کہیں یہ فرض نہ ہو جائے۔ اور حضورؐ کے گزرجانے کے بعد اس امر کا اندیشہ باقی نہ رہاتھا کہ کسی کے فعل سے یہ چیز فرض قرار پاسکے گی،اس لیے حضرت عمرؓ نے ایک سنت اور مندوب چیز کی حیثیت سے اس کو جاری کردیا۔ یہ حضرت عمرؓ کے تفقہ کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے کہ انہوں نے شارع کے منشا کو ٹھیک ٹھیک اور امت میں ایک صحیح طریقے کو رائج فرمادیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اس پر اعتراض نہ کرنا، بلکہ بسروچشم اسے قبول کرلینا یہ ثابت کرتاہے کہ شارع کے اس منشا کو بھی ٹھیک ٹھیک پورا کیاگیا کہ ’’اسے فرض کے درجہ میں نہ کردیاجائے۔‘‘چنانچہ کم ازکم ایک بار تو ان کاخود تراویح میں شریک نہ ہونا ثابت ہے جب کہ وہ عبدالرحمن ؓبن عبد کے ساتھ نکلے اور مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھتے دیکھ کر اظہار تحسین فرمایا۔
(۵)حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب باقاعدہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کا سلسلہ شروع ہؤاتو باتفاقِ صحابہ بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھیں اور اسی کی پیروی حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی ہوئی۔ تینوں خلفاء کااس پر اتفاق اور پھر صحابہؓ کا اس پر اختلاف نہ کرنا یہ ثابت کرتاہے کہ نبی کریمؐ کے عہدسے لوگ تراویح کی بیس ہی رکعتوں کے عادی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ اور امام احمد ؒتینوں بیس ہی رکعت کے قائل ہیں، اور ایک قوم امام مالکؒ کا بھی اسی کے حق میں ہے۔ دائود ظاہریؒنے بھی اسی کو سنتِ ثانیہ تسلیم کیا ہے۔
(۶)حضرت عمر بن عبدالعزیز اورحضرت ابان بن عثمان نے ۲۰

کے بجائے۳۶ رکعتیں پڑھنے کا جو طریقہ شروع کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کی تحقیق خلفاء راشدین کی تحقیق کے خلاف تھی، بلکہ ان کے پیش نظر یہ تھاکہ مکہ سے باہر کے لوگ ثواب میں اہل مکہ کے برابر ہوجائیں۔ اہل مکہ کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ تراویح کی ہر چار رکعتوں کے بعد کعبے کا طواف کرتے تھے۔ ان دونوں بزرگوں نے ہر طواف کے بدلے چارکعتیں پڑھنی شروع کردیں۔ یہ طریقہ چونکہ اہل مدینہ میں رائج تھااور امام مالک اہل مدینہ کے عمل کو سند سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے بعدمیں بیس کے بجائے۳۶ کے حق میں فتویٰ دے دیا۔
(۷)علماء جس بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جس بستی یا محلے میں سرے سے نمازتراویح باجماعت ادا ہی نہ کی جائے اس کے سب لوگ گنہ گار ہیں، وہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنت الاسلام ہے جو عہدِ خلافتِ راشدہ سے تمام امت میں جاری ہے۔ ایک ایسے اسلامی طریقہ کو چھوڑ دینا اور بستی کے سارے ہی مسلمانوں کامل کر چھوڑ دینا، دین سے ایک عام بے پروائی کی علامت ہے جس کو گوارا کرلیاجائے تو رفتہ رفتہ وہاں سے تمام اسلامی طریقوں کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔
(۸)اس امر میں اختلاف ہے کہ تراویح کے لیے افضل وقت کون ساہے۔ عشاء کا وقت یا تہجد کا؟دلائل دونوں کے حق میں ہیں، مگر زیادہ تررحجان آخر وقت ہی کی طرف ہے۔ البتہ اول وقت کی ترجیح کے لیے بات بہت وزنی ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی اول وقت ہی کی تراویح پڑھ سکتے ہیں، آخر وقت اختیار کرنے کی صورت میں امت کے سواداعظم کا اس ثواب سے محروم رہ جانا ایک بڑ انقصان ہے اور اگر چند صلحاء وقت کی فضلیت سے مستفید ہونے کی خاطر اول وقت کی جماعت میں شریک نہ ہوں تو اس سے یہ اندیشہ ہے کہ عوام الناس یا تو ان صلحاء سے بدگمان ہوں، یا ان کی عدم شرکت کی وجہ سے خود ہی تراویح چھوڑبیٹھیں، یاپھر ان صلحاء کو اپنی تہجد خوانی کا ڈھنڈورہ پیٹنے پر مجبور ہوناپڑے۔ھذا ماعندی والعلم عنداللہ وہو اعلم بالصواب۔
حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری کابیان ہے کہ رمضان کی ایک رات میں، میں عمر بن ؓ خطاب کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا۔ دیکھا کہ لو گ مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی تن تنہا نماز پڑھ رہاہے۔ کچھ کسی ایک کی امامت واقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا:میرا خیال ہے کہ میں ان سب کو ایک قاری کے ماتحت جمع کردوں کہ وہ انہیں نماز پڑھائے تو یہ مثالی اور عمدہ بات ہوگی۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے عزمِ صمیم کے ساتھ لوگوں کی ابی ابن کعب کی اقتداء پر اکٹھا کردیا۔ عبدالرحمن کا بیان ہے کہ پھر میں نے ایک رات حضرت عمرؓ کے ساتھ نکل کھڑا ہؤاتو دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی قاری کے پیچھے اکٹھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر فرمایا’’یہ بدعت تو بہت اچھی ہے‘‘ان کا مطلب یہ تھا کہ رات کہ آخری حصّہ میں (نماز تراویح)پڑھنا اول حصے میں پڑھنے سے بہتر اور افضل ہے۔
لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے
حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ’’ رسول ؐ اللہ نے فرمایا:لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق (اکیس، تیئس،پچیس، ستائیس اور انتیس )راتوںمیں تلاش کرو۔‘‘
قدر سے کیا مراد ہے؟
قدر کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہیں کہ وہ رات بہت ہی احترام کے قابل اور بڑی عظمت والی ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن مجید نازل کیاگیا۔ اس کے علاوہ قدر کا لفظ قضا وقدر کے معنوں میں بھی ہوسکتاہے کیونکہ قرآن مجید میں یہ بیا ن کیاگیا ہے ۔تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِّنْ کُلِّ اَمرِ’’ملائکہ اور جبریل ؑاس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہرطرح کے احکام وفرامین لے کر نازل ہوتے ہیں۔‘‘چنانچہ اس کے معنی تقدیر بنانے کی رات کے بھی ہوسکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قدر کو ضیق اور تنگی کے معنوں میں لیا ہے اور وہ لیلتہ القدر کا مفہوم یہ قرار دیتے ہیں کہ اس معاملے میںاللہ تعالیٰ نے تنگی کی ہے کہ اس کی صحیح تاریخ لوگوں کو بتائی جائے۔ لیکن یہ ایک دور کا مفہوم ہے۔
لیلتہ القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ رمضان کی کون سی رات ہے۔نبی ؐ نے جو کچھ بتایا وہ بس یہ ہے کہ وہ رات رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ اس لیے اسے انہی راتوں میں

تلاش کرو۔
لیلتہ القدر کا قطعی طورپر تعین نہ کرنے میں یہ حکمت کارفرما نظرآتی ہے کہ آدمی ہر طاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور میں کھڑہو کر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلتہ القدر ہو۔ لیلتہ القدر اگر اس نے پالی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس چیز کا وہ طالب تھا وہ اسے مل گئی۔ اب اس کے بعد اس نے جو چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
امام ترمذی کہتے ہیں نبیؐ کی اکثر روایات میں ہے کہ اس رات کو تم آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
اور نبیؐ سے یہ بھی مروی ہے کہ لیلتہ القدر اکیس، تئیس، پچیس،ستائیس اور رمضان کی آخری رات میں ہوتی ہے۔
امام شافعیؒ کی رائے ہے کہ میرے نزدیک اقویٰ روایات کی بنیاد پر اکیس تاریخ کی رات ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں ابی بن کعب سے مروی ہے کہ وہ قسم کھا کرکہاکرتے تھے کہ وہ ستائیسویں تاریخ کی رات ہے اور وہ کہا کرتے تھے کہ رسولؐ نے ہمیں اس کی علامت بھی بتائی تھی ہم نے اسے یادرکھا ہے۔ ابوقلابہ سے مروی ہے ان کا خیال ہے کہ لیلتہ القدر آخری دس دنوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
لیلتہ القدر کے بارے میں صحابہؓ کرام کا خواب
’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ کے کئی صحابہؓ کو خواب میں دکھایا گیا کہ لیلتہ القدر رمضان کی آخری سات تاریخوں میں ہے۔ جب یہ بات رسولؐ کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپؐ نے فرمایا:میں دیکھ رہاہوں کہ تم لوگوں کے خواب رمضان کے آخری سات دنوں کے بارے میں متفق ہوگئے ہیں۔ پس اب جو شخص لیلتہ القد ر کی تلاش کرے تو وہ رمضان کی آخری سات تاریخوں میں تلاش کرے۔‘‘
تشریح: یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو متعدد احادیث ایک دوسرے سے مختلف آئی ہیں ان کے اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کوئی حدیث ، زمانی اعتبار سے پہلے کی ہو اور کوئی بعد کی۔ کیونکہ رایوں نے احادیث کی روایت کرتے وقت ان کا زمانہ بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بھی ایسا کوئی تعین نہیں کیاگیا ہے کہ کس زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اوپر حضرت عائشہؓ کی روایت میں حضورؓ کا یہ ارشاد نقل ہؤا ہے کہ لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔ یہاں بہت سے صحابہؓ کے ایک خواب کا ذکر کیاگیا ہے جس کے مطابق وہ رمضان کی آخری سات راتوں میں سے کوئی رات ہے۔ چنانچہ رسولؐ نے یہ دیکھ کر کہ کئی صحابہؓ کو ایک ہی خواب نظرآیا ہے یہ فرمایا کہ اب لیلتہ القدر کو رمضان کی آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ حضرت عائشہؓ کی روایت پہلے کی ہے اورحضرت عبداللہ بن عمرؓ کی بعد کی ہے(واللہ اعلم بالصواب)ایسی احادیث کو یہ کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتاکہ یہ باہم متضاد ہیں۔ بلکہ درحقیقت ان میں اختلاف ترتیبِ زمانی کی تقدیم وتاخیر کی وجہ سے ہؤا اور اس نوع کا اختلاف ان کو متضاد یا غلط قراردیے جانے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
شب قدر کے متعلق اتنا اختلاف ہؤا ہے کہ قریب قریب۴۰ مختلف اقوال اس کے بارے میں ملتے ہیں لیکن علمائے امت کی بڑی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ رمضان کی آخری دس تاریخوں میں سے کوئی ایک طاق رات شب قدر اور ان میں بھی زیادہ لوگوں کی رائے یہ کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔
حضرت ابوذرؓ سے اس دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا حضرت عمرؓ، حضرت حدیفہؓ اور اصحابِ رسولؐ میں سے بہت سے لوگوں کو اس میںکوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ (ابن ابی شیبہ)
حضرت ابوبکرؓ کی روایت ہے کہ ۹دن باقی ہوں سات دن یا پانچ دن یاتین دن یاآخری رات۔ مراد یہ تھی کہ ان راتوں میں لیلتہ القدر کو تلاش کرو۔(ترمذی۔ نسائی)
اس معاملے میں جو روایات حضرت معاویہؓ، حضرت ابنِ عمرؓ، حضرت ابنِ عباسؓ وغیرہ بزرگوں سے مروی ہیں ان کی بناء پر علمائے سلف کی بڑی تعداد ستائیسویں رمضان ہی شب قدر سمجھتی ہے۔ غالباََ کسی رات کا تعین اللہ اور اس کے رسول ؐکی طرف سے اس لیے نہیں کیاگیا ہے

کہ شب قدر کی فضلیت سے فیض اٹھانے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی رات پر اکتفا نہ کریں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جس وقت مکہ معظمہ میں رات ہوتی ہے اس وقت دنیا کے ایک بڑے حصے میں دن ہوتاہے، اس لیے ان علاقوں کے لوگ تو کبھی شب قدر کو پاہی نہیں سکتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں اکثر رات کالفظ دن اور رات کے مجموعے کے لیے بولاجاتاہے۔ اس لیے رمضان کی ان تاریخوں میں سے جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصہ میں ہو اس کے دن سے پہلے والی رات وہاں کے لیے شب قدر ہوسکتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ نبیؐ کے کئی صحابہؓ کو خواب میں دکھایا گیا کہ لیلتہ القدر رمضان کی آخری سات تاریخوں میں ہے۔ جب یہ بات رسولؐ کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپؐ نے فرمایا:میں دیکھ رہاہوں کہ تم لوگوں کے خواب رمضان کے آخری سات دنوں کے بارے میں متفق ہوگئے ہیں۔ پس اب جو شخص لیلتہ القدر کی تلاش کرے تو وہ رمضان کی آخری سات تاریخوں میں تلاش کرے۔
لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں
میں تلاش کرنے ہدایت
’’حضرت عبداللہ عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا:لیلتہ القدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں، یعنی اکیس یاانتیس کو، تئیس یا ستائیس کویا پچیس کو۔‘‘
تشریح: حدیث کے متن میں فی تاسعہ تبقیٰکے اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آئے ہیں۔ یہ دراصل عربی زبان میں اعداد بیا ن کرنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ اگر ان کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو مفہوم خبط ہوجائے گا۔ عربوں میں چونکہ لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا اس لیے وہ اپنا حساب کتاب عام طورپر انگلیوں سے کیاکرتے تھے اور ان کے ہاں اعداد بیان کرنے کے بعض دوسرے طریقے رائج تھے۔ انہی میں سے ایک خاص طریقہ یہ بھی تھا جس کے مطابق یہاں گنتی کرکے تاریخوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
حدیث کے متن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کا زمانہ بھی وہی ہے جو حضرت عائشہؓ کی روایت کا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کی روایت میں آخری عشرے کی طاق راتوں کاذکر کر کے چھوڑدیاگیا ہے لیکن حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت میں تاریخوں کی صراحت بھی موجود ہے کہ لیلتہ القد رکو آخری عشرے کی ان راتوں میں تلاش کرناچاہیے۔ا س طرح یہ حدیثیں باہم مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ دراصل ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here