اس وقت امریکی کلچر میں عام مفروضہ یہ ہے کہ ہم ایک زبردست زندگی کے مستحق ہیں اور اس کے لیے کسی طور کہیں پر کوئی شخص اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ انھیں سدا بہار خوشی ولولہ انگیز کیریئر،خاندان کی پرورش اور بابرکت ذاتی تعلقات کے حصول میں مدد دے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک شخص جس پر ایک معیاری زندگی گزارنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ شخص آپ خود ہیں۔اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو زندگی میں جس چیز کا بھی تجربہ ہوتا ہے، اس کی آپ کو سو فیصد ذمہ داری قبول کرنا ہوگی اور یہ آسان بات نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ذہن کی ساخت اس طرح سے بن گئی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جس بات کو پسند نہیں کرتے اس کے لیے اپنی ذات سے باہر کسی بھی چیز کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہم اپنے والدین، اپنے ساتھیوں، موسم، معیشت یا پیسے کی کمی پر الزام دھرتے ہیں۔ ہم یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اصل خرابی کہاں واقع ہے اور اس خرابی کا مرکز ہم خود ہیں۔
یہ آپ ہیں جو زندگی کی کوالٹی ،جسے آپ لے کر چل رہے ہیں اور اس کے جو نتائج نکل رہے ہیں، اس کے ذمہ دار ہیں۔آپ ،کوئی اور نہیں۔
ایک سادہ اورمختصرسا فارمولا یہ ہے
واقعہ +ردعمل=نتیجہ
یعنی آپ کو زندگی میں جس بھی نتیجے سے واسطہ پڑتا ہے، وہ کامیابی ہو یا ناکامی، دولت ہویا غربت، صحت یا بیماری ،خوشی یا پریشانی کی بات ہو، وہ نتیجہ ہے کہ آپ نے اس سے پہلے کسی واقعے یا واقعات پر کس قسم کا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ اگر آپ موجودہ نتائج کو پسند نہیں کرتے تو آپ کے پاس دو صورتیں ہیں۔ نمبر ایک، آپ واقعہ کو نتائج کے حاصل نہ ہونے کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں آپ معیشت، موسم، پیسہ نہ ہونے، تعلیم کے نہ ہونے، حکومت یا انتظامیہ کے رویہ، تعاون کے فقدان، سیاسی حالات، سسٹم وغیرہ پہ الزام دھر سکتے ہیں۔ بلا شبہ یہ ساری باتیں وجود رکھتی ہیں، لیکن اگر یہی فیصلہ کن عوامل ہیں تو کوئی بھی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہزار ہا لوگ ہیں جو انھیں حالات میں کامیاب ہوئے۔ تو یہ حالات اور واقعات نہیں جو آپ کو روکتے ہیں، آپ کو روکنے والے آپ خود ہیں۔ ہم خود کو روکتے ہیں۔
ہم مفید فیڈبیک کو نظر انداز کرتے ہیں، خود کو مسلسل تعلیم دینے اور نئے ہنر سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں، زندگی کی معمولی باتوں پروقت ضائع کرتے ہیں، دوسروں کی غیبت میں مصروف رہتے ہیں، غیر صحت مند غذائیں کھاتے ہیں، ورزش نہیں کرتے، اتنا کماتے نہیں جتنا خرچ کرتے ہیں، مستقبل کے لیے سرمایہ کاری نہیں کرتے، سچ بتانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہم ہر چیز کا الزام خارجی حالات و واقعات پر عائد کرتے ہیں۔ آپ کے پاس ہر بات کا بہانہ ہوتا ہے۔ اب آئیں دوسری صورتحال کی طرف ۔ وہ یہ ہے کہ آپ واقعات جیسے کہ وہ ہیں، کےمقابلے میں اپنے رد عمل کو تبدیل کریں یہاں تک کہ آپ وہ نتیجہ حاصل کرلیں جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی سوچ تبدیل کرسکتے ہیں، اپنی گفتگو تبدیل کریں، اپنے دماغ میں اپنے اور دنیا کے بارے میں بنی تصویر تبدیل کریں، آپ اپنا رویہ تبدیل کرسکتے ہیں۔ آپ کا ان چیزوں پر کنٹرول ہے۔
بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر اپنی عادتوں سے ہنکائے جاتے ہیں۔ ہم کبھی انھیں تبدیل نہیں کرتے۔ ہم بنے بنائے رد عمل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہماری سوچ اور رد عمل لگا بندھا ہوتا ہے۔ہم بنے بنائے ذہنی سانچے کا مجموعہ ہیں جو ہمارے کنٹرول سے باہر کام کرتا ہے۔
آپ کو زندگی میں تین چیزوں پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔ خیالات جو آپ سوچتے ہیں۔ خاکے جو آپ اپنے ذہن میں بناتے ہیں اور اقدامات جو آپ اٹھاتے ہیں۔ اگر آپ کو وہ نتیجہ پسند نہیں ہے جو آپ پیدا کر رہے ہیں یا جس کا آپ کو تجربہ ہو رہا ہے تو آپ اپنا ردعمل تبدیل کریں۔ اپنے منفی خیالات کو مثبت خیالات میں ڈھال لیں۔ اپنی عادات کو تبدیل کریں ۔جو پڑھتے ہیں اسے تبدیل کریں۔ اپنے دوستوں کو تبدیل کریں۔ جس طرح سے بات کرتے ہیں ،اسے بدل لیں۔
یہ توقع درست نہیں ہے کہ آپ ایک ہی طرح حرکت کرتے رہیں اور اس کے برعکس نتیجہ حاصل کرنے کی توقع رکھیں ۔یہ نہیں ہونے والا۔ جس دن سے آپ کے ردعمل میں تبدیلی آنے لگے گی، ٹھیک اسی دن سے آپ کی زندگی بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔ اگر آپ کچھ مختلف چاہتے ہیں توپھرآپ کوکچھ مختلف کرناہوگا۔
جب تک آپ اپنے کامیاب نہ ہونے کا الزام کسی فردیا کسی چیز پر عائد کرنا جاری رکھتے ہیں، آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کامیاب ہوناچاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کا اعتراف کرنا ہوگا۔ یہ آپ ہیں جس نے اقدام اٹھایا، خیالات سوچے، احساسات کو محسوس کیا اور وہ انتخاب کیا جو آپ کو وہاں لے آیا جہاں آپ اس وقت ہیں۔ یہ آپ تھے!
(جیک کین فیلڈ کی کتاب
The success principles
سےایک اقتباس)
٭٭٭