دولہا کی بارات ۔ سعد حیدر

کوئی تبصرہ نہیں

آج بھی اس کی مسکراہٹ کسی دیکھنے والے کے خزاں رسیدہ دل کو پل بھر میں مسکرانے پر مجبور کر دینے والی تھی۔ وہی چمکتا دمکتا زندگی سے بھرپور چہرہ، گفتگو میں پہاڑوں سے امڈتے تازہ چشموں سا بہاؤ اور بے ساختہ پن….. نہ جانے یہ دبلی پتلی من موہنی صورت لڑکی کس مٹی کی بنی ہے کہ اس کے چہرے مہرے پر قیامت خیز طوفان کے گزرنے کے ذرہ برابر اثرات نہیں۔
میں آج اسے تین ماہ کے وقفے کے بعد اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دیکھ رہی تھی۔ اور یہ تین ماہ میں نے بڑی بے چینی اور ہزاروں اندیشوں اور واہموں کی شورش کا سامنا کرتے گزارے تھے۔ تاہم اسکرین کے اُس پار وہی سکون …..زندگی کی ہماہمی…..عزم …..امیدوں سے پُرآنکھیں اور مسکراہٹوں بھرا پر رونق چہرہ تھا۔
” السلام علیکم ورحمۃ اللہ اخت عندلیب! کیسی ہو؟“
مسکراتے ہوئے فاطمہ گویا ہوئی ۔میری کھوجتی آنکھیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں اور غم اور حزن کی کسی لکیر کو تلاشنے میں مصروف تھیں۔ میرا دل غم سے بھرا ہؤا تھا۔
” وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! میں تو ٹھیک ہوں الحمدللہ۔ تم سب ٹھیک ہو ناں؟“ میں نے جلدی جلدی پوچھا کہ میرا دل اندیشوں کی آماجگاہ بنا ہؤا تھا۔
” الحمدللہ سب بہترین ہیں۔ اے عائشی…..عائشہ! ادھر آؤ۔ عندلیب سے بات کرو ‘‘۔فاطمہ نے اپنی چھوٹی بہن کو آواز دی اور وہ دوڑتے دوڑتے کمرے میں داخل ہوئی۔
” وہ آنے والے ہیں…..وہ آنے والے ہیں!“ عائشہ کا سانس پھولا ہؤا تھا۔
” کون آنے والا ہے، فاطمہ؟“ میں نے تجسس کے مارے سوال کیا تو وہ مسکرانے لگی ۔
”جناب ہمارے دولہا بھائی آنے والے ہیں‘‘۔
” ارے عمار کی شادی ہو رہی ہے؟ واہ! پھر تو صحیح وقت میں تم سے رابطہ ہو گیا الحمدللہ‘‘۔
اب میرے دلِ بے چین کو قرار سا آنے لگا ۔گھر میں شادی ہو رہی ہے….. اس کا مطلب ہے سب ٹھیک ہے۔ سب خیریت ہی رہی ہے ۔
”عندلیب! تم ذرا عائشہ سے باتیں کرو۔ میں نے کچھ انتظامات کرنے ہیں ۔شادی والا گھر ہے بھئی! مجھ اکیلی ہی کو سارے کام کرنے ہوتے ہیں۔ والدین تو ہیں نہیں۔ ایک دولہا میاں اور ایک یہ ہماری لاڈلی سی بہنا عائشہ…..“
یہ کہتے ہوئے فاطمہ تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ ابھی بھی میرے ذہن میں بہت سے سوالات گردش کر رہے تھے مگر میں نے سوچا شادی کا موقع ہے۔۔ اکلوتے بھائی کی شادی ہے….. ایسے موقع پر ایسے سوالات نہ ہی کروں تو بہتر ہے۔
” عائشہ میڈم! کیسی ہیں آپ ؟عبایہ میں بڑی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ!“
میری فاطمہ کی چھوٹی بہن سے بھی بڑی دوستی تھی۔ یہ میٹرک میں پڑھتی تھی اور بہت ہی باتونی تھی۔ مگر نہ جانے کیوں آج وہ مجھے خاموش خاموش سی لگی۔ ایسی ہنسوڑ اور ہر دم چہچہا نے والی بلبل آج اداس اداس تھی۔
” اخت عندلیب! میں الحمدللہ ٹھیک ہوں۔ بڑے عرصے بعد آپ سے بات ہو رہی ہے۔ ہمیں دعاؤں میں تو یاد رکھا ناں؟“
اس نے کچھ ایسی معصومیت سے پوچھا کہ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہؤا محسوس ہونے لگا۔ شرمندگی کے باعث ایک گلٹی سی میرے حلق میں ابھری ۔ان لوگوں کا سامنا کرنا اب ساری زندگی ہم سب کے لیے کتنا مشکل ہوگا۔ ہر دم احساس ِجرم و ندامت سانپ بنا ہمیں ڈسے گا، میں نے کرب کے عالم میں سوچا ۔
”میری پیاری گڑیا !یقین مانو ہر دم تم لوگوں کے لیے دعائیں جاری رہیں۔ قنوت ِنازلہ جاری رہی‘‘۔
ماحول میں سوگواریت ابھرنے لگی اور اسی لمحے مجھے اسکرین پر کمرے میں فاطمہ داخل ہوتی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں بڑا سا ٹوکرا تھا۔ عائشہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فاطمہ نے اس سے مسکراتے ہوئے کہا:
”لو عائشہ! عندلیب کو مٹھائی نہیں کھلاؤ گی کیا؟“ فاطمہ نے مٹھائی کا ٹوکرا سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور مٹھائی کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اسکرین کے اوپر لگے کیمرے کے سامنے لے آئی۔” عندلیب….. منہ کھولو ….. آآ…..“
میں بے ساختہ ہنسنے لگی۔
”ارے فاطمہ! اب سائنس نے اتنی بھی ترقی نہیں کی کہ تم وہیں غزہ میں بیٹھے ہوئے مجھ اسلام آباد میں بیٹھی ہوئی عندلیب کو مٹھائی کھلا دو‘‘۔
عائشہ بھی مسکرا رہی تھی اور اس کا چہرہ گلاب کے تازہ پھول کی طرح کھلکھلاتا اور خوشبو بکھیرتا محسوس ہو رہا تھا۔
” اخت عندلیب کے حصے کی مٹھائی مجھے کھلا دو فاطمہ! “ عائشہ نے منہ کھولا تو فاطمہ نے اسے مٹھائی کا ٹکڑا کھلا دیا اور پھر بڑے پیار سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے میری طرف دیکھا ۔ کہنے لگی:
” مہمان آنے ہی والے ہوں گے ۔میں آتی ہوں‘‘۔
” تم کہہ رہی ہو کہ میں آتی ہوں حالانکہ جا رہی ہو۔ کیا کہنے بھئی تمہارے ۔ “
فاطمہ کرسی سے اٹھتے اٹھتے اس بات پر کھلکھلا کر مسکرا دی ۔
”تمہاری اس بات نے اسلامی یونیورسٹی یاد کرا دی ۔کتنا یادگار وقت گزارا ہم نے وہاں۔ چلو تم عائشہ سے بات کرو ۔میں آتی ہوں۔ نہ نہ۔ میرا مطلب میں جاتی ہوں ‘‘۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔
” عائشہ !تمہاری بہن کو ہم یونیورسٹی میں چھلاوا کہتے تھے۔ ہوسٹل سے کیمپس جاتے وقت اتنا تیز چلتی تھی کہ بس! ہم اس سے کہتے کہ بھئی کس بات کی جلدی ہے ۔ہماری کیوں ایکسرسائز کرا رہی ہو…..تو یہ مسکرا دیتی اور کہتی۔ ہمیں منزل کو جانا ہے۔ ہمیں رکنا نہیں آتا۔ یہ اردو نظم ہے۔ تمہاری بہن کو اچھی بھلی اردو آگئی ہمارے ساتھ رہتے رہتے اور اس کی بدولت مجھے عربی۔ گو کہ ہمارا کورس اصول الدین عربی میں ہی تھا۔ مگر میرا خیال ہے کہ اگر فاطمہ سے میری دوستی نہ ہوتی تو میں کبھی عربی بول چال نہ سیکھ پاتی‘‘۔
عائشہ نے حسبِ معمول ٹھوڑی اپنی ہتھیلی پر جما رکھی تھی اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں جھپکاتے خاموشی سے اور دھیمی مسکان چہرے پر سجائے میری باتیں سن رہی تھی۔
” اخت عندلیب! مجھے معلوم ہے کہ آپ اب کیا کرنے لگی ہیں…..“
عائشہ نے مسکراتی آنکھوں میں شرارت بھرتے ہوئے کہا تو بے اختیار میں بھی ہنس پڑی۔
” بڑی تیز ہو تم۔ ہاں….. بس میں ایک منٹ میں کافی بنا کر لاتی ہوں پھر گپ شپ لگائیں گے۔ تب تک دولہا میاں بھی آ جائیں گے۔ نہ جانے کدھر گھوم پھر رہے ہیں۔ شادی کا دن ہے اور حضرت ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ آنے تو دو آج ا سے….. خوب ڈانٹ پلاؤں گی۔ آخر کو عمار میرا بھی چھوٹا بھائی ہے ‘‘۔
یہ کہہ کر میں اٹھنے لگی تو اسکرین پر نظر پڑی۔ عائشہ سر جھکائے اپنا جیبی مصحف کھول رہی تھی۔ اور میں دل میں ابھرتے رشک کے جذبات لیے کچن کی طرف چل دی ۔عجیب قوم ہے یہ فلسطینی بھی…..ہر لمحہ مصروفِ عمل….. فراغت اور سستی سے شدید نفرت …..اور قرآن سے ایسا گہرا تعلق! مجھے اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں فاطمہ کے ساتھ گزارا وقت یاد آیا ۔وہ اپنے بھائی عمار کے ہمراہ اسلام آباد پڑھنے آئی تھی۔ ہر وقت مصحف اپنے پاس رکھتی اور جہاں تھوڑی فراغت ملتی مصحف کھولا اور گرد و پیش سے بے پرواہو کر تلاوت شروع کر دی ۔میں اب بھی جب اس بات کو یاد کرتی ہوں حیران ہوتی ہوں۔ دو سمسٹر کرنے کے بعد تین ماہ کی چھٹیاں غزہ میں گزار کر واپس اسلام آباد لوٹی تو اس کے چہرے پر عجیب بہار اور رونق آئی ہوئی تھی۔ ہم نے پوچھالگتا ہے منگنی ہو گئی ہے۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگی کہ منگنی بھی ہو جائے گی، ابھی تو میں سمر کیمپ میں قرآن حفظ کر کے آئی ہوں الحمدللہ۔ اور ہم ورطۂ حیرت میں پڑ گئے۔ تین ماہ میں حفظ قرآن !سبحان اللہ! واقعی بڑی عجیب قوم ہے….. اسی قران سے گہرے تعلق کی وجہ ہی سے تو بڑی سے بڑی آزمائش ہنس کھیل کر جھیل لیتے ہیں۔
یہی سوچتی نہ جانے کب میں کچن میں گئی، کب کافی بنائی اور کب واپس کمرے میں لوٹی۔ خیالات کی دنیا سے میری واپسی تب ہوئی جب میرے کانوں میں سپیکر سے آتی عائشہ کی مسحور کن تلاوت کی آواز پڑی ۔ اُف! پندرہ، سولہ سال کی لڑکی ہے مگر تلاوت ایسی پرسوز جیسے تازہ تازہ وحی آسمان سے سیدھی دل پر اتر رہی ہو۔
”اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ کے احسا ن کو جو اُس نے تم پرکیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے۔جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔جب خوف کے مارے آنکھیں پتھراگئیں، کلیجے مُنہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔
ہائے اللہ! یہ تو سورۂ احزاب پڑھ رہی ہے۔ اور پھر جیسے میری آنکھوں کے سامنے تین ماہ قبل کا وہ اندوہناک منظر کھلنے لگا جب اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر لیا تھا….. ہر طرف سے محاصرہ…..بالکل غزوۂ احزاب کی طرح ۔ خوراک اور ادویات کی ترسیل مفقود۔ آسمان سے ہمہ وقت وحشیانہ بمباری …..اور جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تم پرچڑھ آئے۔
عائشہ مصحف پر نظریں جمائے انہماک کے ساتھ تلاوت کیے جا رہی تھی۔ اس کی آواز میں آسمان سے برستی بارش جیسی تازگی تھی۔ اسے معلوم بھی نہ ہؤا کہ میں واپس آ کر اسکرین کے سامنے بیٹھ چکی ہوں۔
”یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اوراگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ بدوؤں کے ساتھ صحرا میں جابیٹھیں (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے‘‘۔
مجھے لگا جیسے اس آیت کے ذریعے عائشہ نے…..تمام غزہ والوں نے…..مجھ سے شکوہ کیا ہو۔ ساری امت سے شکوہ کیا ہو۔ تم لوگوں نے بھی تو ہم سے منافقوں والا ہی سلوک کیا ناں! بس ہماری خبریں ہی نیٹ اور اخبارات پر پڑھتے رہے ۔اپنے عافیت کے گوشوں میں آرام سے بیٹھے ہم پر تبصرے کرتے رہے …..یہی گمان کرتے رہے کہ اس مرتبہ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی…..کوئی ذی روح سانس لینے کو باقی نہ رہے گا۔ پھر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ مگر دیکھو غزہ …..گو زخموں سے اس کا بدن چور چور ہے مگر غزہ زندہ ہے….. غزہ والے زندہ ہیں….. اور شہدا….. شہدا تو حیاتِ جاوداں پا چکے ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔
”ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچّا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ اور انہوں نے (اپنے رویےمیں) کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔
مجھے عائشہ کی آواز بھیگی بھیگی معلوم ہوئی۔ بالکل ایسے جیسے کوئی صبح سویرے دھندلکے میں سرسبز باغ کی نرم نرم ریشمی گھاس پر قدم رکھے تو اسے شبنم کے قطرے پاؤں کو بوسہ دیتے معلوم ہوں۔
”تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے‘‘۔
مجھے خوف سے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے ہوئے معلوم ہوئے۔ یہ منافقت ہی تو ہے جس کے ہم مرتکب ہوئے۔ غیور فلسطینی مسلمان تنِ تنہا اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن سے ٹکرا گئے اور پھر ڈٹے رہے اور ہم فقط تماشہ دیکھتے رہے۔ اے اللہ! ہمیں معاف کر دینا! ہم سے بڑی تقصیر ہوئی۔ ہم نے اپنے فلسطینی بھائی بہنوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ ان کی مدد کو نہ پہنچے۔ معاف کر دینا میرے رب! معاف کر دینا !میرا رواں رواں شرم ساری اور خجالت کے عالم میں مصروفِ دعا تھا۔
” اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے سمیت اس حال میں کہ وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑا قوی اور زبردست ہے ‘‘۔
یہ آیت پڑھتے ہوئے عائشہ کی آنکھیں جھِل مل کرنے لگیں اور اس کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ در آئی جو بن بولے کہتی تھی” اے اللہ! بے شک تو ہمارے لیے کافی ہو گیا۔ بے شک تو ہمارے لیے کافی ہو گیا ۔ اور تیرے کافی ہونے کے بعد میرے اللہ! ہمیں کسی اور کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ادھر میرا یہ حال تھا کہ سارا وجود شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا۔
” ارے اخت عندلیب !آپ کب واپس آئیں؟“عائشہ نے مصحف بند کرتے ہوئے نظر اٹھا کر دیکھا تو چونک سی گئی۔
” ارے میں تو دو منٹ بعد ہی واپس آگئی تھی ۔پھر تمہاری پیاری تلاوت سننے میں ایسی مگن ہوئی کہ کافی پینا ہی بھول گئی‘‘۔ میں نے لیپ ٹاپ کی سائیڈ پر دھرے کافی کے کپ پر نظر ڈالی۔ کافی پڑے پڑے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
” آپ نے ہمارے گلیڈی ایٹرز (gladiators)کی ویڈیوز دیکھی تھیں؟“ ایک دم پُرجوش ہو کر عائشہ نے مجھ سے پوچھا۔
” ہاں دیکھی تھیں۔ بڑی قربانیاں دی ہیں ان لوگوں نے۔ کیسے بہادر نوجوان تھے ۔صحابہ کی یاد تازہ کر دی سبحان اللہ!“
” اختی! آپ کو معلوم ہے اتنے زیادہ نوجوان اس فدائی مشن پر جانے کے لیے تڑپ رہے تھے اور باقاعدہ ضد کر رہے تھے کہ حماس کے بڑوں کو قر عہ اندازی کرتے ہی بنی‘‘۔ عائشہ کا چہرہ جذبات کی حدت سے تمتمانے لگا اور گلنار ہو گیا ۔
”اختی! اسرائیلی فوج نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لیا مگر وہ ہم سے ایک انچ غزہ کا نہ لے سکے۔ انہوں نے ہمارا محاصرہ کر لیا تھا۔ اختی! جب جیٹ بمبار طیارے چنگھاڑتے ہوئے سروں پر آتے تومائیں اپنے چھوٹے بچوں کو ایسے اپنے آپ میں سمیٹ لیتیں جیسے مرغی خطرہ محسوس کرنے ہی پر اپنے چوزوں کو پروں میں سمیٹ لیتی ہے ۔ یقین جانیں اللہ کی اتنی نشانیاں اس جنگ میں دیکھنے کو ملی ہیں کہ کیا بتاؤں ۔اتنی واضح اللہ کی نصرت نازل ہوئی ہے کہ بس “۔
میں دم بخود ہوئے اس معصوم سی لڑکی کی ایمان افروز باتیں سن رہی تھی جو اپنی ترنگ میں بولے جا رہی تھی،بولے جا رہی تھی۔
”آپ نے اسرائیلی فوجیوں کا وہ بیان میڈیا پر سنا ہوگا کہ ہم حماس سے تو لڑ سکتے ہیں مگر اس سفید پوش مخلوق سے نہیں لڑ سکتے جو ہم پر ایسے ہتھیاروں کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے جس کا ہمارے پاس کوئی توڑ نہیں۔ اور اخت عندلیب !آپ کو میرے چچا سعد یاد ہیں؟ ان کا تعارف فاطمہ نے آپ کو کروایا ہوگا۔ ان کے فلیٹ پر بمباری ہوئی اور سارا فلیٹ دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہو گیا۔ چار دن بعد جب ملبہ ہٹایا گیا تو سب شہید ہو چکے تھے ۔چچا سعد، چچی عمارہ اور ان کی بیٹیاں حمنہ، خولہ اور مسفرہ سبھی شہید ہو چکے تھے۔ مگر سبحان اللہ! اللہ کی شان دیکھیے ۔ان کا چھوٹا پانچ سالہ بیٹا خالد بھی وہیں تھا مگر اسے ایک خراش تک نہیں آئی۔ اس کے پاس پھلوں کا ڈھیر لگا ہؤا تھا۔ جب اسے ہمارے پاس لایا گیا تو ہم نے اس سے پوچھا کہ خالد تمہارے پاس یہ پھل کہاں سے آیا؟ اس وقت پورے غزہ میں شاید ہی کسی کے پاس پھل ہوں۔ کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔ اس سے آگے نہیں بتاتا تھا۔ اور اس کے والدین اور بہنوں کے شہید جسموں سے چار دن بعد بھی تازہ خون نکل رہا تھا اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ بس سب کہتے تھے کہ یہ جنت کی خوشبو ہے …..دنیا کی نہیں۔ میں نے نا ان کے خون میں اپنا رومال بھگویا اور یقین مانیں اختی! اب بھی اس سے خوشبو آرہی ہے ‘‘۔
مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ کب میرے گال آنسوؤں سے تر ہونا شروع ہوئے ۔یہ کیسی قوم ہے؟ میں نے ہاتھوں کی پشت آنکھوں پر رگڑتے ہوئے سوچا ۔ان کے نزدیک کامیابی کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ان کی گفتگو قرآن سے شروع ہوتی ہے، پھر رباط اور جہاد سے ہوتے ہوئے شہادت اور جنت پر جا کر ختم ہوتی ہے۔
” عائشہ تم نے عندلیب کو کیوں رلا دیا ہے؟“
میں نے دھندلائی نظروں سے سر اٹھا کر سکرین پر دیکھا تو وہاں عائشہ کے ساتھ فاطمہ کو بیٹھا پایا۔ اس نے عائشہ کے کان پکڑے ہوئے تھے اور انہیں کھینچ رہی تھی ۔
”میں نے تو کچھ نہیں کیا فاطمہ! “
میں نے جلدی جلدی آنسو صاف کیے۔
”ارے چھوڑو اس کے کان ۔ اس معصوم نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ غزہ والوں کی ایمان افروزباتیں بتائی ہیں۔ ان کو سن کر بس دل بھر آیا ۔ اب چھوڑ بھی دو اس شہزادی کے کان…..ورنہ میری مشہورِ زمانہ کمبل کُٹ یاد ہے نا؟“
فاطمہ نے یہ سن کر فوراً عائشہ کے کان چھوڑے اور اپنے کان پکڑ لیے جس پر ہم تینوں ہنس پڑے ۔
”کمبل کُٹ سے تو مجھے معاف ہی رکھو! اف عندلیب تم کتنی ظالم تھیں۔ پورے ہاسٹل میں ہر لڑکی کو ہمیشہ دھڑکا ہی لگا رہتا تھا کہ آج اس کی عندلیب صاحبہ کے ہاتھوں کمبل کٹ ہی نہ لگ جائے‘‘۔
عائشہ نے اپنا سر اپنی بڑی بہن فاطمہ کے کندھے پر ٹکا دیا تھا اور پورے انہماک کے ساتھ ہماری باتیں سن رہی تھی۔
” پتہ ہے عائشہ! یونیورسٹی جوائن کرنے کے پہلے ہی دن ،پہلی ہی کلاس کے بعد ہمارا آپس میں تعارف ہوا اور ہم دوست بن گئے۔ یاد ہے نا فاطمہ؟“
” سب یاد ہے بھئی! تمہارے اسلام آباد کی کیا بات ہے۔ اور ہماری اسلامی یونیورسٹی کی تو کیا ہی بات ہے۔ چار سال جیسے پل بھر میں ہی گزر گئے‘‘۔
” اور فاطمہ یاد ہے نا تم ہر وقت عمار کا ذکر ہی کرتی رہتی تھیں۔ عمار یہ کہتا ہے، عمار وہ کہتا ہے“۔
عائشہ نے میری نقل کی تو فاطمہ نے ہنستے ہوئے اس کا ناک پکڑ لیا۔
” تو اور کیا‘‘ اب عائشہ ناک میں بات کر رہی تھی’’ اب آپ دونوں پھر اپنی ہوسٹل لائف کو یاد کرنا شروع کر دیں گی ۔ میرے تو سن سن کر کان ہی پک گئے ہیں‘‘۔
”چلو ٹھیک ہے بھئی۔ نہیں کرتےہم تمہیں بور ۔فاطمہ! دولہا بھائی کدھر رہ گئے ہیں؟ مہمان کب آ رہے ہیں؟“
میں نے بے چینی سے پوچھا تو فاطمہ کہنے لگی:
”عزیر کا فون آیا تھا کہ بیس پچیس منٹ مزید لگیں گے۔ خالہ سعیدہ اور ان کی بیٹیاں بھی استقبال کرنے کے لیے آنے والی ہیں‘‘۔
” دلہن کیسی ہے؟ پیاری ہے؟“
میں نے تجسس کے مارے پوچھا ۔دونوں بہنوں کی نظریں آپس میں ملیں۔ پھر فاطمہ کہنے لگی” یہ تو عائشہ بتائے گی کہ اس کی بھابھی کیسی ہیں“۔
میں نے دیکھا کہ عائشہ کا چہرہ گلنار ہونے لگا ہے۔
” اخت عندلیب! میری بھابھی بے حد بے حد۔ بہت بہت زیادہ خوبصورت ہے‘‘۔
اتنے میں پیچھے کچھ چلت پھرت سنائی دینے لگی۔
” لگتا ہے مہمان آ رہے ہیں “۔
دونوں بہنیں تیزی سے اٹھیں اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد عائشہ ایک خاتون اور چار لڑکیوں کو لیے کمرے میں داخل ہوئی۔میرے دل کو یکدم دھچکا سا لگا اور وہ سوالات جنہیں میں اپنی زبان پر لانے سے گھبرا رہی تھی ان کے جوابات ایک تلخ حقیقت بنے میرے سامنے آتے جا رہے تھے۔ سارا ننھیال…..بس یہ کمرے….. سارا ددھیال ….. صرف خالد….. میرا سر چکرانے لگا ۔یا اللہ! سارا خاندان مٹ گیا….. اور یہ دو بہنیں اور ایک بھائی….. میرا ذہن ماؤف ہونے لگا۔ یہ بہنیں پھر بھی مسکرا رہی ہیں اور اپنے بھائی کی شادی منا رہی ہیں۔
” اختی عندلیب !پلیز اب روئیے گا مت ۔وہ سب جنت ہی میں تو گئے ہیں۔ رونا ہے تو ہم پر روئیں کہ ہم شہادت سے محروم رہ گئے‘‘۔
میں نے بھیگی آنکھوں سے بمشکل اسکرین پر دیکھا تو وہاں عائشہ کو کیمرے پر یوں جھکے ہوئے پایا جیسے اس کا بس چلے تو وہیں سے مجھے گلے لگا لے۔ اس کی آنکھوں سے دو موتیوں جیسے قطرے نکلے اور چپکے سے اس کے گالوں کا بوسہ لیتے ہوئے اس کے اسکارف میں جذب ہو گئے۔ خالہ سعیدہ اور ان کی بیٹیاں پیچھے دیوار سے لگی کرسیوں پر بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔
”عائشہ !تم بہن بھائی اور خالہ اور خالد سب ہمارے پاس پاکستان آ جاؤ‘‘۔
میں نے دل کے نہاں خانوں میں ابھرتی خواہش کو الفاظ کے قالب میں ڈھالا تو عائشہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
” اختی الحبیبہ! اکیا ہم انبیاء کی سرزمین کو ان کے ناپاک عزائم کے لیے خالی چھوڑ دیں؟“ اس کی آواز میں تلخی سی ابھری ۔”آپ کو یاد ہوگا کہ اس جنگ کے آغاز میں اسرائیل نے ہمیں الٹی میٹم دیا تھا کہ غزہ خالی کر دو ورنہ ہم آپریشن شروع کر دیں گے ۔اس وقت مجاہدین نے ہم سے کہا تھا کہ آپ لوگ چلے جائیں مگر ہم سب نے انکار کر دیا تھا۔ لاکھوں میں سے چند ہزار لوگ ہی صرف غزہ چھوڑ کر نکلے۔ مگر موت نے ان کا تعاقب بھی نہ چھوڑا اور ان پر بمباری ہوئی اور ہزاروں کے قافلے آنِ واحد میں شہید ہو گئے۔ اختی ہم کبھی اس ربا ط و جہاد کی سرزمین کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ ہمیں تو اپنی مسجدِ اقصیٰ بھی واپس لینی ہے اور آپ ہمیں غزہ چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں‘‘۔
مجھے اس لمحے عائشہ کی آواز ناراض ناراض سی لگی۔ اسکرین میں مجھے دکھائی دے رہا تھا کہ کمرہ اب عورتوں اور بچوں سے پُر ہوتا جا رہا ہے۔ فاطمہ بھی بار بار کمرے کا چکر لگا رہی تھی اور بچیوں کو گلاب کی پتیوں سے بھری ٹوکریاں پکڑاتی جا رہی تھی۔
” عائش !میرا مطلب ہرگز یہ نہ تھا۔ میں تو بس تم لوگوں کو محفوظ دیکھنا چاہتی ہوں‘‘۔ میں نے بے بسی سے کہا۔ عائشہ کی باتوں نے مجھے اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔
”اخت عندلیب! ہمارے ایک بہت بڑے شیخ تھے، شیخ عبدالعزیز رنتیسی۔ “
میں نے دیکھا کہ عائشہ کی ایک ہم عمر لگتی پیاری سی لڑکی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی اور ہماری گفتگو سننے لگی۔
” یہ ناصرہ ہے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں رہتی ہے۔ میری بہت اچھی دوست ہے ‘‘۔
اس بچی نے بڑے احترام اور اپنائیت کے ساتھ سلام کیا ۔پھر عائشہ گویا ہوئی۔
” میں بتا رہی تھی شیخ عبدالعزیز رنتیسی کے بارے میں ….. انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر موت اپاچی یا کینسر میں سے کسی ایک سے آنی ہی ہے تو میں اپاچی کی شیلنگ میں شہید ہونے کو ترجیح دوں گا۔ اور سبحان اللہ! ٹھیک ایک ہفتے بعد وہ اپاچی کی شیلنگ سے شہید ہو گئے۔ موت تو خود زندگی کی محافظ ہوتی ہے‘‘۔
سکرین کے پار کمرے میں گہما گہمی بڑھتی جا رہی تھی۔ گلاب کی پتیوں بھرے ٹوکرے ٹیبل پر دھرے تھے ۔کچھ ٹوکرے بچیوں نے ابھی سے اٹھا رکھے تھے۔ سب بے چینی سے دولہا میاں اور مہمانوں کے منتظر تھے۔
” ناصرہ !یہ میری اور فاطمہ کی دوست اور بہن ہیں،پاکستان میں رہتی ہیں عندلیب نام ہے ان کا۔ “
”عندلیب ! ماشاءاللہ!“
کمرے میں شور بڑھ گیا تھا اور اس وجہ سے باتیں کرنا دشوار سا محسوس ہو رہا تھا۔
”اخت عندلیب! ایک فلسطینی لڑکی تھی ،ہماری ہی طرح میٹرک کی طالبہ….. اس نے میٹرک کے پیپرز کے دوران خود کو حملے کے لیے پیش کیا اور اپنا آخری پیپر دے کر یہودی فوجیوں پر حملہ کر دیا۔ پتہ ہے اختی! اس نے آخری پیپر اس حال میں دیا کہ اس نے شہیدی حملے کے سارے لوازمات زیب تن کیے ہوئے تھے۔ مگر آفرین ہے اس کے سکون اور اطمینان پر کہ جب رزلٹ آیا تو اس کی فرسٹ پوزیشن تھی اور اس پیپر میں اس کے سب سے زیادہ نمبر تھے‘‘۔
عائشہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اس لڑکی کا واقعہ سنا رہی تھی۔پھر پوچھنے لگی۔
” اس لڑکی کا نام کیا تھا بھلا؟“لمحاتی توقف کے بعد خود ہی مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
” اس کا نام عندلیب تھا!“
مجھے اپنے دل کے اندر اس نام کی باز گشت سی سنائی دینے لگی…..عندلیب…..عندلیب…..
” اس وجہ سے بھی ہمیں آپ سے بہت پیار ہے کہ آپ عندلیب ہیں‘‘۔
عائشہ بڑی محبت سے بولی۔کسی نے جیسے میرے دل کو اپنی مٹھی میں لے کر زور سے بھینچ ڈالا ہو۔ اس قوم نے تو قربانیوں کی حد ہی کر دی ۔ معصوم نوخیز کلیوں تک نے اپنے خون سے گلشن کی آ بیاری میں حصہ ڈالا….. اور ہم…..افسوس ہے ہم پر!
عائشہ اور ناصرہ باری باری کچھ بول رہی تھیں مگر میرا دماغ اپنی سوچوں کے بھنور میں پھنسا ہؤا تھا۔ میں عندلیب….. عدالت کے کٹہرے میں بطور مجرم کھڑی تھی اور وہ فدائی عندلیب …..اپنے معطر لہو میں بھیگی مجھے میرے خلاف گواہی دیتی محسوس ہوئی۔ مجھے اپنا سارا وجود کانپتا ہوا محسوس ہوا اورایسے لگا کہ جیسے میرے دل کی دنیا بدلتی جا رہی ہے۔ اس لمحے مجھے اپنے دل کی دھڑکن ان غیور اہل ِایمان فلسطینی ماؤں بہنوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی محسوس ہوئی جو اس پرفتن دور میں سورۂ توبہ وانفال کی تفسیر اپنے بابرکت و معطر خون سے لکھ رہی ہیں۔
یکدم لیپ ٹاپ کے سپیکر سے زوردار فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ مجھے اپنا خون خشک ہوتا محسوس ہوا۔ کہیں ظالم اسرائیلیوں نے حملہ تو نہیں کر دیا؟ میں نے فکرمندی سےاسکرین کی طرف دیکھا ۔فائرنگ کی آواز ہنوز جاری تھی۔
”اخت عندلیب! میرا دولہا بھائی آگیا ہے…..اس کے ساتھی اس کے استقبال کے لیے محلے میں ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں‘‘۔
یہ کہتے ہوئے عائشہ نے لیپ ٹاپ کو ایسے رخ پر کر دیا کہ مجھے پورا کمرہ اور اس کا دروازہ دکھائی دینے لگا۔ عائشہ اور ناصرہ دونوں تیزی سے اٹھیں۔ انہوں نے گلاب کی پتیوں والے ٹوکرے اٹھا لیے۔ سب خواتین کا جوش و خروش دیدنی تھا ۔خود میرے جذبات اتھل پتھل ہو رہے تھے۔
” واہ عمار میاں واہ!آج تمہاری شادی ہو رہی ہے ۔سدا خوش رہو….. لمبی لمبی عمر پاؤ….. ڈھیر سارے بچے ہوں “۔
میرا دل اس وقت عمار کے لیے سراپا دعا تھا۔ فاطمہ بالکل دروازے کے پاس کھڑی باہر کی جانب تک رہی تھی۔ اس کا گلابی چہرہ نور کے ہالے میں لپٹا معلوم ہوتا تھا۔ فاطمہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور عائشہ اور دیگر بچیوں کو اشارہ کیا تو وہ مل کر بڑے مسحور کن لہجے میں کوئی نظم پڑھنے لگیں۔ میں پُر اشتیاق نظریں لیے دولہا اور دلہن کی منتظر تھی اور سوچ رہی تھی کہ کیسی ہوگی اس کی دلہن ۔
’’یا حوار الخلود…..یا حوار الخلود‘‘
دروازے سے دو نوجوان اندر داخل ہوتے ہوئے دکھائی دیے اور میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ بچوں نے نظم پڑھتے ہوئے ان پر گلاب کی پتیاں پھینکنا شروع کردیں۔
’’یا حوار الخلود…..قد اتاک الشھید‘‘
یہ کیا؟ بچیاں یہ نظم کیوں پڑھ رہی ہیں؟
دونوں نوجوان چند قدم آگے بڑھے تو مجھے ان کے کندھوں پر تابوت دکھائی دیا۔ میری تو گویا سانس رک گئی۔ شادی…..تابوت ۔ میری بھابھی بے حد خوبصورت ہے۔
’’یا حوار الخلود…..قد اتاک الشھید…..فافرش الارض وردا…..وامنحیہ الصعود!‘‘
اے جنت کی حورو!
تمہارے پاس شہید آرہا ہے
زمین پر گلاب کے پھولوں کا فرش سجا دو
اور اسے خوشیوں سے مالا مال کردو!
نوجوان تابوت اندر رکھ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔ بچیاں شہید کے استقبال میں نظم پڑھ رہی تھیں اور گل پاشی کیے جا رہی تھیں۔
عمار شہید ہو گیا؟ دولہا شہید ہو گیا ہے؟
عائشہ اور فاطمہ تابوت کے دائیں بائیں بیٹھی ا پنے شہید بھائی کا ماتھا چوم رہی تھیں۔ مجھےعمار کا مسکراہٹ بھرا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے سوتے ہوئے کوئی سہانا خواب دیکھتے ہوئے مسکرا رہا ہو ۔میری آنکھیں بار بار آنسوؤں سے دھندلا جاتیں۔
” اختی! میرا دولہا بھائی کیسا لگ رہا ہے ؟ دیکھو اس کے سینے سے اب بھی تازہ خون رس رہا ہے جبکہ اس کی شہادت کو دو ماہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں ساتھیوں سمیت اندر دور تک جا کر لڑا اور وہیں شہید ہؤا ۔آج اسرائیل نے اس کی لاش واپس کی ہے‘‘۔
فاطمہ کی آنکھیں نم ناک تھیں۔اس نے عمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
” بے شک آنکھیں رو رہی ہیں اور دل غمگین ہے مگر زبان وہی کہے گی جس سے ہمارا رب راضی ہوتا ہے۔ اے عمار! بے شک ہم تمہارے فراق سے غمگین ہیں‘‘۔
” واللہ! راحئۃ المسک! اللہ کی قسم! مشک کی خوشبو آرہی ہے ‘‘۔
یہ خالہ سعیدہ تھیں ۔ کمرے میں تسبیح و تحمید کی آواز گونجنے لگی۔ عائشہ ایک دم لیپ ٹاپ کے قریب آگئی اور پھولی سانسوں سے کہنے لگی۔
”اخت عندلیب! سارا کمرہ خوشبو سے معطر ہو گیا ہے۔ یہ دنیا کی خوشبو نہیں ہے ۔یہ میرے دولہا بھائی کی جنت کی خوشبو ہے‘‘۔
فاطمہ میری جانب اپنی نظر جماتے ہوئے کہنے لگی۔
” عندلیب! ہم نے تو اپنا اسماعیل…..اپنا عمار اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ امت کی مائیں ، بہنیں اقصیٰ کی خاطر آخر کب اپنے اسماعیل اور عمار پیش کریں گی؟“
میری نظر شرم سے جھک گئی۔
سامنا ہم تمہارا کریں کس طرح
غفلتوں میں پڑے، ساحلوں پر کھڑے
اپنی آنکھوں میں تابِ نظارہ کہاں
موجِ طوفان سے جس طرح تم لڑے
دل میں ایک عزم ِنوکی کونپل سی پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔اور پھر میں نے اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
” میری فاطمہ! عائشہ! ہم اپنے بچوں کو تیار کریں گی ان شاءاللہ۔ اور تم دیکھو گی باذن اللہ کہ ہمارے بچے تمہارے چچا سعد کے بیٹے خالد کے شانہ بشانہ مسجد اقصیٰ کو نجاست سے پاک کرنے کے لیے لڑیں گے ان شاءاللہ‘‘۔
اور اس لمحے اچانک میری نظر عمار شہید پر پڑی تو مجھے اس کی مسکراہٹ واضح طور پر گہری ہوتی محسوس ہوئی۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp