ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

تعمیر وطن – بتول اگست ۲۰۲۲

بھرتے ہیں وہ لمحے میری یادوں میں شرارے
جب راہ میں ہر سمت اندھیروں کے ستوں تھے
اک آگ کے دریا کا سفر تھا ہمیں در پیش
ہم قافلہ درقافلہ اس آگ سے گزرے
جلتے ہوئے شہروں کی فضائوں سے گزر کر
ہم نورِ یقین دل میں بسائے ہوئے آئے
اس آگ سے ہم نے کئی گلزار بنائے
پرچم پہ اتر آیا ہلال اور ستارا
چوکس رہے برجوں میں جمائے ہوئے نظریں
جب بھی کسی دشمن نے ہمیں گھور کے دیکھا
دھرتی پہ ، سمندر میں، ہوائوں میں لڑے ہم
یہ دیس ہے پائندہ سبھی مل کے پکارے
افلاک سے اترے کئی رحمت کے اشارے
پھر آج ہر اک سمت یہ نفرت کا دھواں ہے
آواز دو وہ جذبہِ تعمیر کہاں ہے
وہ نورِ یقیں پھر سے اندھیروں سے نکالو
طوفان ہے طوفان ہے کچھ خود کو سنبھالو
تخریب کے طوفان سے پھر لڑنا ہے ہم کو
تعمیر وطن کے لیے ہر سمت بڑھیں گے
تنظیم کے سورج کی بکھرتی ہوئی کرنیں
ہم اپنے ارادوں میں نگاہوں میں بھریں گے
ہم کل بھی بپھرتی ہوئی ظلمت سے لڑے تھے
ہم آج بھی نفرت کے اندھیروں سے لڑیں گے

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x