ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

اک ستارہ تھی میں – بتول دسمبر۲۰۲۲

پوّن سکول کی حالت بدلنے کے لیے بہت محنت کر رہی ہے ۔ مرمت کا کام بھی جاری ہے اور نئے داخلے بھی ہو رہے ہیں ۔ ایک دن میڈم بچوں کی خوب مار کٹائی کرتی ہیں۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے وہ خود بھی شوہر کے تشدد کا شکار ہیں ۔پوّن بی بی کی شخصیت سے بہت متاثر ہے۔ جن کا کردار خاموش تبلیغ ہے ۔ وہ ان سے بہت کچھ سیکھ رہی ہے ۔ بی بی پون سے اس کے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتیں مگر بی بی کی بیٹی ان سے بالکل مختلف ہے ۔ وہ پون کے بارے میں ہر بات جاننا چاہتی ہے ۔

وہ بڑی دیر سے پودوںکے پاس کھڑی انھیں دیکھے جا رہی تھی ۔ ابھی دو تین دن پہلے تک تو وہ سر نیہوڑائے اُداس پژمردہ کھڑے تھے، ایسا لگتا تھا جان کنی کے عالم میں ہیں دوبارہ کبھی ہرے نہیں ہوں گے ۔ مگر آج اس نے دیکھا پتوں کی بند مٹھیاں دوبارہ کھل رہی تھیں جیسے ہاتھ بڑھا کربہاروںکو آواز دے رہے ہوں ۔
آئو ہمارے پاس آئو … ہم نے مایوسی اور اُداسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے … ہم نے دوبارہ کھلنے اور مسکرانے کا فیصلہ کیا ہے …
وہ انھیں دیکھتے ہوئے انجانی سی خوشی محسوس کر رہی تھی ۔ آج وہ ذرا جلدی سکول آگئی تھی اُس نے صفائی کرنے والی مائی کو موقع پر پکڑنے کافیصلہ کیا تھا تاکہ اُس سے اپنی مرضی کی صفائی کروا سکے۔ چوکیدار بھی آچکا تھا مگر اس کے سامنے آنے سے گریز کر رہا تھا مبادا پھر کسی کام پر لگا دیں ۔ میڈم نے کہا تھا مس پون کے چھوٹے موٹے کام ہیں کردینا مگر انہوں نے تو اس سے پورا باغیچہ لگوا لیا تھا اور پھر شہر کے چکر الگ ۔
’’ ہونہہ! یہ چھوٹے موٹے کام ہیں !‘‘ اس نے نئے کولروں میں پانی ڈالتے ہوئے سوچا۔
’’واہ یعنی آج تو تمہارا باغیچہ بڑا کھلا کھلا لگ رہا ہے ‘‘ حمیرا بھی آکر پوّن کے پاس بیٹھ گئی ۔
’’ ہاں دیکھو نا سب کچھ کتنا اچھا لگ رہا ہے ‘‘۔ وہ بڑی خوشی کیساتھ بولی تھی۔
’’ مگر میں تو اب بھی یہی کہوں گی تم اپنا وقت اور پیسہ یہاں ضائع کر رہی ہو ‘‘۔
’’ ارے نہیں بھئی کچھ بھی ضائع نہیں ہو رہا میں تو بس پڑھائی لکھائی کے لیے فضا ساز گار بنا رہی ہوں ۔ دیکھو ناں آپ جب بچوں کو کمرے میں پڑھا رہے ہوںاور اتنے میں آپ دیکھیں کہ ایک معصوم سا پھول کھڑکی سے آپ کے کمرے میں جھانکنے کی کوشش کر رہا ہے تو سارا ماحول ہی بدل کر رہ جاتا ہے ناں …خوش رنگ خوشگوار ہو جاتا ہے …ایسے ماحول میں تعلیم کا مزا ہی کچھ اور ہے ‘‘۔
حمیرا نے دیکھا وہ باتیں کرتے ہوئے اسی ماحول میں کھوئی ہوئی تھی اس ماحول کے سارے رنگ اس کے چہرے پر تھے ۔ اس نے خوبصورت خوابوں میں رہنے والی اس لڑکی کو بڑی دلچسپی سے دیکھا ۔ وہ اُسے اچھی لگنے لگی تھی ۔
’’ ویسے میڈم تمہاری ہر بات مانتی ہیں ۔ کیا گھول کر پلایا ہے انھیں؟‘‘اُس نے شرارت سے اُسے دیکھا۔
’’نہیں بھئی میں نے انہیں کچھ گھول کر نہیں پلایا یہ جو وہ چار چھوٹی موٹی باتیں انہوں نے مانی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ہر کام کی ذمہ داری خود اٹھائی ہے ۔ اُن سے تو صرف پوچھا ہے وہ بھی اس لیے کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ میں اُن سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہوں ‘‘ اُس نے وضاحت کی ۔
’’ ہوں… اچھی حکمت عملی ہے تمہاری !‘‘ وہ اس کی سمجھ داری سے متاثر ہوئی تھی ۔
’’ اچھا بھئی میں تو کلاس میں چلتی ہوں ‘‘ پون اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ آج کچھ نئے داخلے آنے کی توقع ہے ‘‘۔ وہ کہتی ہوئی کلاس روم میں آگئی اس کا کمرہ کافی حد تک تبدیل ہو چکا تھا ۔ درمیان میں عارضی دیوار بن چکی تھی ۔ یوں ایک کلاس روم دو میں تبدیل ہو چکا تھا ، حمیرا کا الگ اس کا الگ ۔ اس نے کمرے میں سفیدی بھی کروائی تھی اور اب ارادہ تھا دیواروں پر کچھ نقش و نگاربھی بنائے گی ۔
بچے آچکے تھے اور وہ نئے آنے والوں بچوں کے نام رجسٹر پر لکھ رہی تھی۔
’’ سب بچے باری باری اپنا نام بتائیں گے ‘‘اس نے بچوں کو پاس بلا کر کھڑا کیا ہؤا تھا ۔
’’ آپ کا کیا نام ہے ؟‘‘ اس نے آخری بچے سے پوچھا ۔
’’ اظفر !‘‘
’’ اظفر ؟‘‘ اُس کے تیزی سے چلتے ہاتھ رُک گئے تھے ۔ وہ اُس بچے کا چہرہ غور سے دیکھ رہی تھی اور ذہن دور کہیں پیچھے جا چکا تھا ، یہ دنیا کتنی چھوٹی ہو جاتی ہے جب آپ کچھ خاص چہروں اورناموں کو بھلانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہوتے ہیں تب وہی چہرے کسی اور نام کے ساتھ اور وہی نام کسی اور چہرے کے ساتھ بار بار آپ کے سامنے آتے ہیں ۔ کاش اس بچے کا نام کچھ بھی ہوتا مگر اظفر نہ ہوتا اور کاش وہ شخص جس کا نام اظفر تھا ویسا نہ ہوتا جیسا وہ بن چکا تھا ۔ کاش اُس نے وہ سب نہ کیا ہوتا جو اُس نے کیا اور وہ یوں اجنبی جگہوں پر اجنبی لوگوں کے بیچ ایک خوفزدہ زندگی نہ گزار رہی ہوتی !
دن آہستہ آہستہ گزر رہا تھا وہ معمول کے مطابق سارے کام بھی کر رہی تھی مگر ذہن ٹھکانے پر نہیں تھا اس میں اسی ایک نام کی پکار تھی جیسے وہ کتاب زندگی سے مٹا دینا چاہتی تھی، مگر مٹا نہیں پا رہی تھی چھٹی ہو چکی تھی وہ گھر جا رہی تھی مگر اٹھتے قدم کے ساتھ ایک نئی یاد سر اٹھاتی تھی ، نئے سرے سے تکلیف پہنچاتی تھی۔
کاش! تم لوٹ آئو ایک دفعہ تو لوٹ آئو ہم زندگی کا سفر وہیں سے شروع کر دیں گے جہاں تم نے ساتھ چھوڑا تھا ۔ ہم سب کچھ بھلا دیں گے مگر تم ایک دفعہ آئو تو سہی صرف ایک بار …
اُس کا دل صدائیں دے رہا تھا اس میں امید کی کچھ شمعیں ابھی تک روشن تھیں۔ گھر آچکا تھا ۔ اُس نے ساری باتوں اور یادوں کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی ۔ وہ ماریہ کے سامنے اس طرح نہیں جانا چاہتی تھی وہ ذہین تھی فوراً اندازہ لگا لیتی کہ وہ پریشان ہے اور وہ اُسے اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ، اظفر کو رونے کے لیے تو ساری عمر پڑی تھی کسی اور وقت سہی!
رات پھر ماریہ کا سونے کا کوئی پروگرام نہیں تھا وہ خود بھی جاگ رہی تھی اور اُسے بھی جگا ئے ہوئے تھی ۔
’’ یہ کیا بات ہوئی ! میں سارا دن آپ کا انتظار کرتی رہوں اور آپ آکر سو جائیں … یہ تو نا انصافی ہے ‘‘۔
اُس نے اسے جمائی لیتے دیکھ لیا تھا اور اب بولے جا رہی تھی ۔
’’ میں جب چلی جائوں گی ناںتو آپ کو اتنا یاد آئوں گی اتنا یاد آئوں گی کہ بس آپ ہر جگہ مجھے ڈھونڈتی پھریں گی ‘‘۔
’’ اچھا بابا ناراض نہ ہو میں نہیں سوئوں گی ‘‘ وہ اسے منانے لگ گئی۔
’’ اچھا تو پھر ٹھیک ہے کچھ مزے کا کام کرتے ہیں … ہاں یاد آیا میرا پزا کھانے کو دل کر رہا ہے ‘‘۔
’’ تو ؟‘‘ پون نے بھنویں اُچکا کر اُسے دیکھا ۔
’’ تو یہ کہ مجھے پزا بہت یاد آرہا ہے لہٰذاآج ہم ضرور بنائیں گے ‘‘ وہ ارادے کی پکی تھی ۔ پون کو ہنسی آگئی۔
’’ عجیب بات ہے تمہیں اپنے شوہر کی بجائے پزا یاد آ رہا ہے ‘‘۔
’’ ارے بھئی شوہر تو ہر وقت گھر میں ہوتا ہے اسے پیسے دے کر باہر سے تھوڑی منگوا نا پڑتا ہے … چلیں اب دیر نہ کریں ‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ ارے لیکن اون کہاں ہے کیسے بنائو گی ؟‘‘ پون کونیا خیال آیا۔
’’ کس دنیا میںرہ رہی ہیں آپ ‘‘ وہ اُس کی طرف پلٹ کر بولی ۔ ’’ہمارے پاس اون سے بہت آگے کی چیز ایجاد ہو چکی ہے اور اُس کے ہوتے اون شوّن کی کیا حیثیت !‘‘
پون اپنی کم علمی پر شرمندہ نظر آئی ، دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے اور وہ ابھی تک اون کے زمانے میں جی رہی تھی۔
’’اچھا تو وہ نئی ایجاد کیا ہے بھلا ؟‘‘ اس نے سوچا فوراً اپنے علم میں اضافہ کرلے ۔
’’ یہی اپنا تندووور…!‘‘
اُس نے تندور پر اتنا زور دیا تھا کہ اسے ہنسی آگئی ۔ اُف یہ ماریہ بھی ناں ! چلتا پھرتا لطیفہ تھی پورا۔
’’ ہمارے تندوری پزا کے سامنے بڑے بڑے ریستورانوں کا پزا پانی بھرتا ہے ۔ تندور کی ایک الگ ہی خوشبو ہوتی ہے ‘‘وہ پزا تیار کرتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی ۔
خمیرے آٹے سے اُس نے بڑی مہارت سے روٹیاں بنائی تھیں پھر اُس میں کیچپ لگائی ۔
’’ ارے مگر وہ ٹماٹو پیسٹ… ‘‘ پون کہتی ہی رہ گئی ۔
’’ اجی چھوڑیں بھی زندگی کو آسان بنائیں ‘‘۔ وہ روٹی پر پنیر ڈالتے ہوئے بولی ۔
اور پھر دوپہر کا بنا چکن چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اُوپر ڈالا تھا ۔ تندور وہ پہلے ہی لکڑیاں ڈال کر گرم کر چکی تھی اور پھر ٹھیک دس منٹ اور نہایت خوشبو دار اور خوش ذائقہ پزا تیار تھا۔ وہ قائل ہو گئی تھی۔
’’ تم واپس جا کر تندوری پزا کا ایک ریستوران کھول لو ‘‘۔ پون نے کھاتے ہوئے تجویز دی تھی ’’ خوب چلے گا ‘‘۔
’’ ہاں بالکل ! کوئی اور کاروبار نہ چلا تو یہی کروں گی ‘‘ اُس نے بھی پوری سنجیدگی سے یقین دلایا تھا۔
اور آج وہ جارہی تھی ۔ پورا ہفتہ کیسے گزرا تھا پتہ ہی نہیں چلا تھا ۔ وہ تینوں اپنی اپنی جگہ اُداس تھیں ، وہ بی بی کی آنکھوں کی سرخی دور سے بھی دیکھ سکتی تھی ۔ انہیں بیٹی کی جدائی بہت تکلیف د ے رہی تھی ، وہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ جانتی تھی ان کا سارا دھیان جدائی کی گھڑی میں اٹکا ہؤا تھا ۔ ماریہ بھی کتنی دفعہ پیکنگ کرنے کے لیے اندر جا چکی تھی مگر ہر دفعہ کام ادھورا چھوڑ کر باہر آجاتی ۔ کبھی ماں سے لگ کر بیٹھ جاتی کبھی پون سے ۔ آج اس کی بھی بیٹری پوری طرح سے ڈائون تھی۔
’’ پہلے صرف امی یاد آتی تھیں اب آپ بھی یاد آیا کریں گی ، میں دو دو یادیں کیسے سنبھالوں گی !‘‘
وہ اس کے ساتھ لگی اداسی سے کہہ رہی تھی اور پون کو بھی معلوم تھا وہ زندہ دل اور شوخ لڑکی … اُسے بھی بہت یاد آئے گی ۔ اس کی ہنسی اس کے لطیفے اس کے آدھی آدھی رات کے منصوبے اور باتیں … سب کچھ اُسے یاد آئے گا اور دوبارہ یہ دن نجانے کب آئیں گے !
اور پھر وہ جلد آئے کا وعدہ کر کے چلی بھی گئی اور کئی دنوں تک وہ اور بی بی صرف اسی کی باتیں کرتی رہی تھیں تاکہ اس کی کمی کم سے کم محسوس ہو ۔
’’ پوّن بیٹا ! تم ابھی تک جاگ رہی ہو ؟‘‘ وہ پوری طرح سے اپنی یادوں میں کھوئی ہوئی تھی جب بی بی کی آواز آئی وہ شایدپانی پینے اُٹھی تھیں اور اُسے کروٹ بدلتا دیکھ کر سمجھ گئی تھیں کہ وہ جاگ رہی ہے ۔
’’ جی بس ایسے ہی … ‘‘ وہ بستر پر اُٹھ بیٹھی ’’ سوچتے سوچتے نیند ہی اُڑ گئی … آج ماریہ بہت یاد آ رہی ہے ‘‘۔
’’ تو کیا تمہیں بھی ؟‘‘ بی بی مسکرائی تھیں ’’ میں نے بھی ابھی اُسے خواب میں دیکھا ہے ، بڑا ہی خوبصورت لباس پہنا ہؤا تھا اس نے اور اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں تھی ۔ اچھا اب تم بھی سو جائو صبح سکول بھی جانا ہے ‘‘ وہ کہہ کر اپنے بستر پر چلی گئیں ۔ لیکن وہ کافی دیر بعد ہی سو پائی تھی۔
٭…٭…٭
بی بی کے شاگرد آچکے تھے اور آج بھی نہایت خوش الحانی کے ساتھ قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے وہ بڑے غور سے سن رہی تھی۔ سب کی تجوید بہت اچھی تھی ۔ بی بی نے اُن سب پر بہت محنت کی تھی ۔ کیا وہ بھی کبھی اس قابل ہو گی کہ اس کتاب کو ان بچوں کی طرح پڑھ سکے گی ؟ اس نے بڑی حسرت سے سوچا تھا وہ بچے اسے اپنے آپ سے بہت بہتر لگے تھے کیونکہ وہ ’’کتاب‘‘ پڑھ سکتے تھے جبکہ وہ ان پڑھ تھی۔اس کا ارادہ تھا کہ اب وہ مزید روشنی سے دور نہیں رہے گی۔
وہ آج تک ’کتاب‘ نہیں پڑھ پائی تھی ، یہ اس کے ماں باپ کا فیصلہ تھا مگر اب وہ با شعور تھی اور اپنے فیصلوں کی ذمہ دار بھی ! آج وہ جو کچھ بھی کر رہی تھی اسے کہیں نہ کہیں اس کا جواب دینا تھا اور وہ اس دن سے ڈرتی تھی جب اس کا دامن خالی ہوگا اور ہمیشہ کا خسارہ اس کا مقدر ہوگا ۔
بہت دیر تک سوچنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا تھا، اسے پہلا قدم اٹھانا ہی ہوگا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو اور پھر فیصلے کے اگلے ہی لمحے میں وہ بی بی کے پاس موجود تھی۔
’’ کیا آپ مجھے قرآن پڑھا ئیں گی ؟‘ وہ جھجکتے ہوئے اُن سے کہہ رہی تھی ۔
’’ ہاں کیوں نہیں ؟‘‘ وہ اُسی پر سکون اور غیر متجسس انداز میں بولی تھیں ’’ کیا تم نے پہلے نہیں پڑھا ؟‘‘ انہوں نے بڑے ہی سر سری سے انداز میں پوچھا تھا ۔’’ نہیں ۔ وہ در اصل ہمارے گھر میں ماحول ہی نہیں تھا‘‘۔وہ شرمندہ بھی تھی اور اُداس بھی ’’ کوئی بھی نہیں پڑھتا تھاتو میں نے بھی نہیں پڑھا‘‘۔
’’ چلو کوئی بات نہیں ہم ابھی سے شروع کر لیتے ہیں ‘‘۔
اور پھر وہ ابتدائی قاعدے کی پہلی تختی پڑھ رہی تھی ۔
’’ یہ تو بہت آسان ہے …اُردو کے حروفِ تہجی کی طرح ہی ہے ‘‘ پہلی تختی ختم ہونے پر وہ بولی تھی ۔ وہ بالکل کسی چھوٹے بچے کی طرح خوش ہو رہی تھی ۔
پھر دوسری تیسری اور چوتھی تختی بھی اس نے ختم کرلی تھی ۔
’’ میں دو تین دنوں میں ہی سارا قاعدہ ختم کر لوں گی ‘‘ اس نے جیسے بی بی کو اطلاع دی تھی ’’ پھر ہم قرآن شروع کر یں گے ‘‘ اس کی خوشی دیدنی تھی ’’ ویسے آپ نے اتنی اچھی تجوید کہاں سے سیکھی ؟‘‘وہ قاعدہ بند کرتے ہوئے بولی ۔
’’ اپنے والد سے ‘‘ انہوں نے اپنا قرآن غلاف میں لپیٹا ’’ وہ بہت بڑے عالم تھے ہم سب بہنوں اور بھائی نے اُنہی سے قرآن پڑھا تھا ‘‘۔
’’ ویسے بی بی آپ نے ایک بات نوٹ کی ہے ؟‘‘ اُسے ایک نیا خیال آیا تھا ’’ میں جب بچوں کو قرآن پڑھتے ہوئے سنتی ہوں ناں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قرآن کے بہت سارے الفاظ اُردو زبان میں بھی شامل ہیں ۔ کیوں ایسا ہی ہے ناں ؟‘‘ اُس نے بی بی سے تصدیق چاہی۔
’’ ہاںبیٹا تم ٹھیک سمجھیں‘‘ انہوں نے گہری سانس لی اور بولیں ’’اردوزبان کے اکثر الفاظ در اصل قرآن کے ہی الفاظ ہیں ۔ اصل میں جب ہم مسلمانوں کی زندگی قرآن سے جڑی تھی تونہ صرف ہم نے زندگی اس کے مطابق گزاری بلکہ اس کی زبان کوبھی اپنی زبان بنا لیا لیکن اب ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں اب ہمیں غیر قوموں سے محبت ہے لہٰذا اُن کی زبانوں کے الفاظ ہماری زبان میں شامل ہو رہے ہیں اور ہم خوش ہیں کہ ہمیں انگریزی آ گئی ہے ۔انگریزی تو آگئی ہے مگر کس قیمت پر ؟ یہ بھی تو دیکھنا چاہیے ۔ دنیا کی کوئی بھی زبان سیکھنا بری بات نہیں مگر ہم نے تو اس ایک زبان کی خاطر دین دنیا کو لٹا دیا ‘‘۔
وہ بول رہی تھیں اور وہ سر اُٹھائے حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھی۔ گائوں کی رہنے والی کم پڑھی لکھی ایک خاتون سے اسے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی۔
’’ بی بی آپ کی یہاں اس گائوں میں شادی کیسے ہوئی ؟‘‘ اس کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی ۔ وہ اُن کے متعلق مزید جاننا چاہتی تھی۔
’’ ہمارے والد کے انتقال کے بعد ہماری والدہ بچوں کے ساتھ بالکل اکیلی رہی گئیں ۔ والد کے بعد ہمارا اکلوتا بھائی بھی کم عمری میں ہی انتقال کر گیا تو والدہ خود کو مزید تنہا محسوس کرنے لگیں ۔سو جیسے ہی ہم بہنیںکچھ بڑی ہوئیں انہوں نے ہماری جلدی جلدی شادیاں کردیں ۔ میری شادی یہاں ہو گئی ۔ یہ میری والدہ کے دُور کے رشتہ دار تھے ‘‘۔
انہوں نے کہتے کہتے آسمان کی طرف نگاہ دوڑائی جہاں کالے بادل اکٹھا ہونا شروع ہو گئے تھے ۔
’’لگتا ہے آج بارش ہو گی ‘‘انہوں نے پیشین گوئی کی۔
’’ اور آپ کی چھت پھر سے ٹپکے گی ‘‘ پون نے دوسری پیشین گوئی کی۔
بی بی بھی عجیب ہیں ! وہ بارش کے آنے سے پہلے پہلے جلدی جلدی صحن سے چیزیںسمیٹتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔ ہر وقت تیار… اپنی نہیں دوسروںکی مدد کے لیے ۔ یہ نہیں کہ چار پیسے جمع کر کے چھت کی مرمت کرالیں ۔ جو بھی پنشن وغیرہ ملتی تھی وہ ادھر اُدھر دوسروں پر خرچ کر دیتیں جمع کس نے کرنے تھے ۔ رات جم کر بارش ہوئی اور چھت بھی خوب ٹپکی تھی۔
اور پھر اس دفعہ جب اسے تنخواہ ملی تو اس نے چھت کی مرمت کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ بی بی نے تو اسے بہت روکا تھا مگر اس کا فیصلہ اٹل تھا ۔ مرمت کے دوران چونکہ چھت سے مٹی گرنے کا بہت امکان تھا سو زیادہ بھاری سامان پہلے ہی گھسیٹ کر باہر برآمدے میں رکھ دیا گیا تھا ۔ اب وہ گتے کے ڈبوں میں کمرے سے چھوٹا موٹا سامان اکٹھا کر رہی تھی جب اس کی نظر چار پائی کے نیچے رکھے ایک بڑے سے کارٹن پر پڑی تھی۔
اس میں کیا ہے ؟ وہ پاس چلی آئی اُس نے ڈبہ چار پائی کے نیچے سے گھسیٹ کر روشنی کی طرف رکھ کر کھول لیا۔
کتابیں لگ رہی تھیں وہ بھی بہت ساری۔اُس نے سب سے اوپر پڑی کتاب نکال کر دیکھی ۔ شارلٹ برانٹے کا ناول تھا جین ائیر (Jane eyer)اُس نے ایک اور کتاب اٹھائی شارلٹ کا ہی ایک اور ناول تھا دی پروفیسر ۔ اور پھر اس نے حیرت کے عالم میں ایک ایک کرکے ساری ہی کتابیں دیکھ ڈالی تھیں ۔ برونٹے سسٹرز کی سب کتابیں تھیں ۔ چار لس ڈکنز تھامس ہارڈی ، شیکسپیئر ، جارج ایلیٹ ، کیٹس… غرض انگلش کلاسک لٹریچر کا پورا ایک خزانہ دفن تھا اس ڈبے میں اور وہ آج تک بے خبر تھی ۔
آخر یہ اتنی ساری کتابیں کس کی ہیں ؟ کیا ماریہ کی ؟ نہیں یہ اس کی نہیں ہو سکتیں ! اُس نے خود ہی اپنے خیال کی نفی کی ۔ اگر یہ اس کی ہوتیں تو وہ ضرور ذکر کرتی یا پھر کم از کم ایک بار تو انہیں نکال کر دیکھتی ۔ پھر ہو سکتا ہے یہ بی بی کے شوہر کی ہوں ۔نہیں اُسے یہ خیال بھی درست نہ لگا اُسے معلوم ہؤا تھا بی بی کے شوہر تو بہت ہی کم پڑھے لکھے تھے ۔ تو پھر وہ ایسی مشکل کتابیں کیسے پڑھ سکتے تھے !
کتابیں برسوں پرانی لگ رہی تھیں ۔ پھر یہ کس کی ہو سکتی ہیں ؟ اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ جین ائیر کاپہلا صفحہ اُلٹا ایک طرف کچھ مٹا مٹا سا نام لکھا ہؤا تھا ۔ اُس نے بڑی مشکل سے پڑھا تھا ۔ ارے یہ تو بی بی کا نام ہے ! تو کیا یہ ساری کتابیں بی بی کی ہیں؟ وہ سخت حیران تھی … بہت حیران اُسے تو کبھی نہیں لگا تھا کہ وہ اس قدر پڑھی لکھی ہو سکتی ہیں ۔ اُس نے تو آج تک انگریزی کا ایک لفظ اُن کے منہ سے نہیں سنا تھا ۔ پھر یہ سب کیا تھا ؟
اُس نے ایک ایک کر کے ساری کتابیں دیکھ ڈالیں ۔ اکثر پر بی بی کا نام لکھا ہؤا تھا ۔ اب اس میں تو کوئی شک نہیں رہا تھا کہ ساری کتابیں انہی کی تھیں مگر کتنی عجیب بات تھی وہ اتنے عرصے سے ان کے ساتھ رہ رہی تھی مگر اُن کو جان نہیں پائی تھی ۔ ہر دفعہ اُن کی شخصیت کا ایک نیا اور مزید خوبصورت پہلو سامنے آتا تھا ۔ وہ پہلی بار جب اُن سے ملی تھی تو اُسے لگا تھا وہ گائوں کی رہنے والی ایک سیدھی سادھی خاتون ہیں جو ہر ایک سے بہت محبت کرتی ہیں اور بہت محبت سے ملتی ہیں ۔ پھر اُس نے دیکھا گائوں کی خواتین اپنے چھوٹے بڑے مسئلے اُن کے سامنے بیان کرتیں اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق ان کا حل بتاتیں ۔ پھر اس نے دیکھا ان کے پاس جو بھی کچھ مانگنے آتا وہ اسے خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں ، اپنے پاس کچھ نہ ہوتا تو ادھر اُدھر سے قرض لے کر اس کی ضرورت پوری کرتیں اور پھر جب پنشن ملتی یا کہیں سے کچھ پیسے آتے تو وہ یہ قرضے چکاتی پھرتیں ۔ پون نے دینا اُنہی سے سیکھا تھا ورنہ اس سے پہلے وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنے نفس پر دوسروں کی ضرورت کو کیسے ترجیح دی جاتی ہے ۔ اور یہ تو وہ پہلے سے جانتی تھی کہ بی بی گائوں کی عورتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب تھیں ، بات چیت ، ادب آداب طور طریقے ہر لحاظ سے ۔ اُس سے کوئی بھی سوال نہیں کیا تھا انہوں نے … یعنی وہ دوسروں کی زندگی میں ذرا سی بھی مداخلت کی قائل نہ تھیں ۔
مگرآج وہ اُس کے سامنے بالکل مختلف روپ میں کھڑی تھیں ۔ ایک تعلیم یافتہ عورت کے روپ میں جسے اپنی بڑائی بیان کرنا اور فخر جتانا بالکل پسند نہیں تھا ۔ پوّن کے لیے وہ ایک سر بستہ راز بنتی جا رہی تھیں اور اس راز کو اب وہ ہر صورت کھولنا چاہتی تھی ۔ وہ ڈبہ بند کر کے باہر آگئی تھی۔
اس دن قرآن پڑھنے والے بچوں کو چھٹی دے کر فارغ ہی ہوئی تھیں جب وہ دو مگوں میں چائے لیے ان کے پاس آ بیٹھی تھی۔
’’ بی بی آپ نے کون سے سکول میں پڑھا تھا ؟‘‘ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اصل موضوع پر آگئی۔
’’ایک پرائیوٹ سکول تھا میں نے ابتدائی تعلیم وہاں سے حاصل کی تھی لیکن بعد میں وہ سکول چھوڑ دیا تھا ‘‘۔
’’ کیوں ؟ کیوں چھوڑ دیا سکول ؟‘‘ اُس نے فوراً سوال کیا ۔
’’ وہاںدوپٹہ کھول کر لینے کی اجازت نہیں تھی اور سر پر تو بالکل نہیں جبکہ وہ صرف لڑکیوں کا سکول نہیں تھا ۔ اسی لیے میں نے سکول چھوڑ دیا ‘‘۔ وہ بڑے اطمینان سے بولی تھیں ۔’’ پھر اُس کے بعد آپ نے نہیںپڑھا؟‘‘
’’ پڑھا ، کافی کچھ پڑھا مگر کسی سکول کالج میں نہیں ۔ اصل میں یہ نظامِ تعلیم آپ کو اور آپ کے علم کو کچھ مخصوص وقت چند کتابوںاور کچھ ڈگریوں کے علیحدہ علیحدہ ڈبوں میں بند کر دیتا ہے ، محدود کر دیتا ہے ، سومیں نے گھر پر رہ کر دنیا جہان کی کتابیں پڑھیں ۔ ہاں کچھ کا امتحان بھی دیا ‘‘ وہ جیسے اس کے حیرت زدہ چہرے کی تسلی کے لیے بولی تھیں۔
’’تو پھر آپ نے اپنی کتابیں ڈبے میں کیوں بند کر کے رکھ دیں؟‘‘ اُس نے آخر وہ سوال کر ہی ڈالا جو اُسے بڑی دیر سے پریشان کر رہا تھا ۔
وہ اس کی بات پر چونکی تھیں ۔
(جاری ہے )
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x