ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

اپھارہ – آصفہ سہیل

موبائل کی بیل بج رہی تھی۔ اسکرین پر نام دیکھ کر چونک گئی۔ خدیجہ کا فون تھا ضرور کوئی سیریس بات ہوگی جب ہی فون کیا ہے۔
’’ السلام علیکم‘‘۔
’’وعلیکم السلام‘‘ خدیجہ کیسی ہو؟
میں تو ٹھیک ہوں لیکن آپ کہاں غائب ہیں؟ نہ کوئی فون کر رہی ہیں اور نہ واٹس ایپ گروپس میں نظر آرہی ہیں
خدیجہ کی پیاری سی مان بھری ناراضی والی اواز سنائی دی۔ بس یہی بات تو مار دیتی ہے خدیجہ کی اور گھڑوں پانی ڈال دیتی ہے۔
’’ ارے ارے یہیں ہوں تمہارے شہر میں مجھے کہاں جانا ہے‘‘۔ ہم نے شرمندہ ہوتے ہوئے بات کو مزاحیہ رنگ دینے کی کوشش کی۔
نہیں بھئی اتنی سی وضاحت کافی نہیں ۔ آپ مجھے بتائیں کہ اتنے مقابلے ہوئے، مخصوص دن گزرے ان کے حوالے سے میں آپ لوگوں کو باخبر کرتی رہی کہ تحریر بھیجیں۔ بلاگز کے بارے میں معلومات دیں کہ کچھ مختصر ہی لکھ لیں اگر زیادہ لکھنے کا ٹائم نہیں ہے تو لیکن آپ ٹس سے مس نہ ہوئیں‘‘۔
آئے ہائے بچی بڑی ڈس ہارٹ ہو رہی ہے۔ اب کیا بتاؤں شرمندگی ہو رہی ہے۔ لیکن خیر سچ بتانا ہی پڑے گا۔
’’ارے بھئی بات کچھ سیریس تو نہیں لیکن کچھ نہ لکھنے کی وجہ بس سمجھو اپھارا ہے ‘‘۔
’’ہیں!! اچھا خیریت تو ہے کیسی طبیعت ہے…. کیا ہو گیا‘‘ ۔ خدیجہ کی تشویش بھری آواز سنائی دی
’’ ارے بھائی تمہیں پتہ ہے نا کہ اپھارے میں ہمیشہ پیٹ بھرا بھرا سا لگتا ہے۔ کچھ کھانے کی اشتہا نہیں ہوتی ہے بلکہ بعض دفعہ تو دیکھنے کا بھی دل نہیں چاہتا تو ایسے میں طبیب حضرات یہی مشورہ دیتے ہیں کہ کچھ دن مرغن کھانوں سے دور رہیں بلکہ دن میں ایک کھانا کم ہی کھائیں تو آہستہ آہستہ یہ کیفیت صحیح ہو جائے گی‘‘ ۔ ہم نے آہستہ آہستہ سمجھاتے ہوئے بتایا
’’ اوہو اچھا اچھا آپ کو اپھارا ہو گیا ہے‘‘۔ خدیجہ بولی۔
’’ نہیں خیر یہ والا اپھارا تو نہیں ہؤا ہے‘‘ ۔ ہم نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
’’ ہیں تو پھر کون سا اپھارا ہو گیا ہے‘‘؟ خدیجہ حیرت سے بولی۔
’’ بھئی جو تم شروع میں شکایت کر رہی تھیں نا کہ کچھ لکھ نہیں رہی ہیں تو اسی کی تمہید تھی اسی کے تناظر میں بتانا چاہ رہی تھی کہ کچھ عرصے سے کچھ تو کتابوں کا مطالعہ چل رہا تھا پھر نیٹ پر بھی آج کل مختلف ادبی گروپس بنے ہوئے ہیں جو مختلف کتابوں کے حوالے سے بہت اچھا اچھا چھاپ رہے ہیں اور اب بلاگز کی شکل میں تو اچھا لکھنے والے اتنا کچھ لکھ رہے ہیں کہ ان کو فالو کرتے کرتے اپنے طور پر کچھ کرنے کا ٹائم ہی نہیں مل پاتا…. اور پھر یہ بھی ہے کہ کون سے ٹاپک پر لکھوں ہر ٹاپک پر ہر شخص ہی بہت کچھ لکھ رہا ہے۔ کہیں سیاسی، کہیں مذہبی، کبھی سماجی اور معاشرتی اور کہیں خاندانی موضوعات پر ہر ایک اتنا لکھ رہا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ جو کچھ میں لکھنا چاہ رہی ہوں وہ دوسرے اتنے تواتر اور کثرت سے لکھ رہے ہیں کہ میرے لکھنے کو تو شاید اب کچھ بچا ہی نہیں۔ تو بس کیا بتاؤں یہی ’’ادبی اپھارے‘‘ والی کیفیت طاری ہے کہ اتنا سارا پڑھ کر ہضم کر کے اب طبیعت کچھ مائل نہیں ہو پا رہی ہے اسی لیے تھوڑا سا بریک لیا ہے تاکہ کچھ افاقہ ہو تو لکھنے کی طرف رجحان بنے ۔ آج کل تو مرزا غالب کا یہ شعر اکثر گنگناتی ہوں
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اورہم زباں کوئی نہ ہو‘‘
ہم نے آہستہ آہستہ اپنے مرض کی طرف نشاندہی کی۔
’’ او ہو آنٹی آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ جسے آپ نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے اور اپنے ذہن کو تالا لگا کر بیٹھ گئی ہیں۔ بس کافی ریسٹ کر لیا اب اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دی جائے گی بس جلدی سے قلم اٹھائیں اور لکھ ڈالیں کوئی شاہکار‘‘۔
خدیجہ کی سرزنش نے تو گویا چورن کا کام کر دیا اور ہماری ادبی طبیبہ نے تو گویا ہمیں کھڑا کر ہی دیا ۔ تو اب قلم کو نشتر بنا کر سب سے پہلے خود پر ہی چلا لیا ہے۔
’’ اب انشاءاللہ کوتاہی نہیں ہوگی‘‘۔
’’ یہ ہوئی نا بات!!! ‘‘خدیجہ کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔اور ہم نے کاغذ قلم سنبھال لیا۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
3 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x