ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آرام دہ بستر – بتول جنوری ۲۰۲۳

ہر برسرِ روزگار فرد گھر بسانے سے پہلے اپنے ٹھکانے کی فکر کرتا ہے۔ چھوٹا سا مکان ہو جو زندگی کو آگے چلا سکے۔ اور اس کے لیے باعث سکون ہو۔
جب انسان تھک جاتا ہے تو تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے صوفہ کرسی استعمال کرتا ہے مگر آرام کی اصل جگہ انسان کا بستر ہوتا ہے۔ دنیا میں آتے ہی بچے کو بستر کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر یہ ضرورت ساری عمر رہتی ہے۔
مشترکہ خاندان میں بھی ایک نئے جوڑے کے لیے ذاتی کمرے کا انتظام لازمی امر ہے۔ وسیع و عریض گھر میں بھی وہی ایک کمرہ ذاتی ملکیت کا احساس دلاتا ہے جہاں فرد اپنی ذاتی اشیاء رکھتا اور رات گزارتا ہے۔ اور اس کمرے میں بھی ہر فرد کی مکمل دلچسپی اس بستر سے ہوتی ہے جہاں اس نے سونا ہے بلکہ بستر کی دائیں یا بائیں طرف اور اپنا ہی تکیہ نیند کے مزے لینے کو آسان بناتا ہے یعنی انسان کو جس چیز اور جگہ سے انسیت ہو جاتی ہے وہی باعثِ سہولت ہے۔ اسی لیے اکثر لوگوں کو کسی نئے مقام تکیے یا بستر پہ نیند نہیں آتی۔
انسان اپنی آرام گاہ کا انتظام کرتا ہے، اس سے مانوس ہوتا ہے اور اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ سارا دن محنت مشقت بھاگ دوڑ کے دوران اس کا دھیان اس بستر کی طرف جاتا ہے جو اس کے تھکے اعصاب کو سکون دے گا اور اگلے دن کے لیے اسے نئے سرے سے توانائی فراہم کر دے گا۔
بستر ماں کی گود کی طرح ہے، وہ گود جو امیر ہو یا غریب اولاد کے لیے سکون و راحت کا باعث ہوتی ہے۔ بستر امیر کا ہو یا غریب کا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کی شکر گزاری اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت کو سکھائی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو فرماتے:
’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، وہی ہمارے لیے کافی ہے، اور اسی نے ہمیں رہنے کے لیے جگہ دی، اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی کفالت کرنے والا اور ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے‘‘ (مسلم: ۲۷۱۵)۔
اپنی عمر کا نصف حصہ انسان اپنے بستر پہ گزار دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک ایسے بستر میں جا سوتا ہے جس کے سرہانے جلی حروف میں آخری آرام گاہ لکھا ہوتا ہے۔ اپنی متعین عمر کی مشقت کے بعد انسان اس بستر کا بلا شرکتِ غیرے تنہا مالک ہوتا ہے۔کیا وہ بستر واقعی آرام گاہ ہوتا ہے؟ یہ کس کو خبر ہے؟دراصل ہر رات بستر پہ لیٹے مومن کو یہ بھی یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ ایک وہ بستر بھی تمہارا منتظر ہے جس سے حشر کے دن ہی جگایا جائے گا۔
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر فرماتے:
اللَّهُمَّ قِنِى عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
یا اللہ! مجھے عذاب سے اس دن محفوظ رکھنا جب تُو اپنے بندوں کو قبروں سے اٹھائے گا۔ (ابو داود: ۵۰۴۵)
نیند سے بیدار ہونے پہ جو ذکر سکھایا گیا ہے اس میں بھی توجہ اس دن کی طرف دلائی گئی ہے جب اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے:
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کےبعد زندگی بخش دی، اور (ہم کو) اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے” (صحیح بخاری:

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کےبعد زندگی بخش دی، اور (ہم کو) اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے” (صحیح بخاری: ۸۵\۸ اور صحیح مسلم: ۷۸\۸)
ہر انسان کے لیے دن بھر کی حسبِ حال مشقت کے بعد نیند ایک طبعی ضرورت ہے، بستر جھلنگا چار پائی ہو یا لاکھوں کی لاگت سے مزین، نیند کی پَری کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا اس نے آنا ہو تو کہیں بھی آ جاتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ فرد نے اپنی رات کو نیند کی کس کیفیت میں گزارا۔ ضمیر کے بوجھ نے نیند کی راحت کو تج دیا اور کسلمند بے چین اٹھا۔ یا مطمئن دل کے ساتھ سویا اور دوسروں کی دعاؤں کے حصار میں رہا، رات بھر کی پرسکون نیند نے تازہ دم کر دیا اور صبح ہشاش بشاش اٹھا۔
بے شک اس چیز کی اہمیت ہے کہ انسان کس جگہ سویا مگر اہم بات یہ ہے کہ جب اٹھا تو کس حال میں اٹھا ۔ نئے دن کے تقاضے پورے کرنے کی سکت پا رہا ہے یا نہیں۔ کسلمند، بیمار ہے، مزاج میں تلخی ہے یا کل کی ساری مشقتوں کے باوجود ہشاش بشاش تازہ دم میدانِ عمل میں اترنے اور اپنی گزشتہ کل کی کارکردگی پہ حسن و قبح کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
ہر انسان پُرسکون نیند کے لیے مثالی خواب گاہ کا تصور رکھتا اور اس کے خواب دیکھتا ہے اگرچہ اس کی تکمیل کے لیے وہ اسباب و وسائل رکھتا ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ خواب و خیال پہ نہ پابندی ہے نہ کچھ خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان اپنی آخری آرام گاہ کے متعلق بھی بہت سہانے خواب دیکھتا ہے۔
ہر مسلمان کی تمنا یہی ہے کہ موت کے وقت وہ زندگی کے بہترین عمل میں مصروف ہو، خاتمہ بالخیر کی دعا عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔مرنے کے تصور کے ساتھ ہی یہ تمنا زندہ ہو جاتی ہے کہ زبان پہ کلمہ شہادت ہو، جب سر سجدے میں ہو تو موت کا فرشتہ جسم کے پنجرے سے جان ایسے نکال لے جیسے پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پرندہ آزاد ہو جاتا ہے۔
اسی طرح مدینہ طیبہ میں موت اور جنت البقیع میں دفن ہونا ہر مومن کی آرزو ہوتی ہے۔جنت البقیع کے فضائل کی روشنی میں یقیناً ہم سب یہی چاہتے ہیں اور بجا طور پہ رشک کرتے ہیں کہ بہت ہی خوش نصیب ہیں جو حشر تک کے لیے مدینے میں جا بسے۔اسباب و وسائل ہوں یا نہ ہوں اچھے خواب دیکھنا اور اچھے کی تمنا کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بہت زیادہ فضائل وارد ہوئے ہیں، جن کے لیے محدثینِ کرام نے مستقل ابواب قائم فرمائے ہیں۔ ان دونوں مقاماتِ مقدسہ میں رہنا اور وہاں موت کا آ جانا بلاشبہ ایک مسلمان کے لیے باعثِ سعادت ہے، لہٰذا مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں دفن ہونے کی تمنا اور دعا کرنا درست ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین سے یہ بات ثابت ہے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا ہے:
’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت اور رسول اللہ کے شہر میں موت نصیب فرما‘‘ (صحیح بخاری: ۱۸۹۰)
باشعور مسلمان موت کو یاد رکھتے ہیں اور سب مرنے کے وقت کی کیفیت اور دفن ہونے کی جگہ کے بارے میں فکر بھی کرتے ہیں۔ نزع کے وقت کی آسانی کے لیے دعا کرتے اور اپنے کسی فوت شدہ عزیز کے پہلو میں جگہ بھی مخصوص کر لیتے ہیں۔
رشتہ داروں کے پہنچنے نہ پہنچنے کی فکر بھی لاحق رہتی ہے اور لا شعور میں اپنی میت کے روشن چہرے کا تصور اور لوگوں کے متوقع تبصرے بھی گونجتے رہتے ہیں۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس کے متعلق یہ سب سوچیں فطری ہیں۔
فکر کی اصل بات یہ ہے کہ جس طرح دن بھر کی مشقت کے بعد میٹھی نیند کی طلب ہوتی ہے اور نیند سے بیدار ہو کر تازہ دم ہشاش بشاش ہونے کی چاہت ہوتی ہے اسی طرح ہماری شعوری فکر اور توجہ قبر کے بستر کی میٹھی نیند اور حشر کے دن قبر سے اٹھنے کی کیفیت پہ مرکوز رہنی چاہیے۔ اور نامعلوم مدت کی برزخی زندگی اور آرام دہ بستر حاصل ہونے کے لیے نیک اعمال کے ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
اے اللہ! ہمیں ایسے قابلِ قبول نیک اعمال کی توفیق عطا کیجیے کہ ہماری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جائے۔ (آمین)

آخری آرام گاہ صرف ایک نشانی ہے وارثوں کے لیے، اصل میں خوف کی بات یہ ہے کہ قبر کا بستر واقعی آرام گاہ ہو گا یا نہیں اور اس جگہ سے نکلنے کے بعد کا معاملہ کیا ہوگا؟
یہ بھی کسی کو علم نہیں کہ کسی کو موت احادیث کے حوالے سے پسندیدہ وقت، دن، مہینہ اور جگہ پہ آئے گی یا نہیں۔
صرف تمنائیں اور دعائیں کرنے سے موت اپنی پسند کے طریقے پہ آنا ضروری نہیں، یہ تو خالص غیب اور رب العالمین کی حکمتِ بالغہ کا معاملہ ہے۔ کیا بہت سے متقی لوگ یا ولی اللہ اچھی، آسان موت کی تمنا اور التجائیں کرنے کے باوجود کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے نہیں چلے جاتے؟ اور بہت سے نیک لوگوں کو ایسی بے بسی کی حالت میں موت آتی ہے کہ غسل، کفن دفن بھی نصیب نہیں ہوتا اور کس طرح کے اندوہ ناک حادثے مرنے والے کے چہرے کی شناخت تک چھین لیتے ہیں بلکہ کچھ حادثے تو میت کی باقیات بھی نہیں رہنے دیتے۔
اور جنازے پہ شرکا کی تعداد کا مت سوچئے اور بہت حتمی بیان مت جاری کیجئے، کتنے ہی سچے مجاہدوں اور شہیدوں کو کندھا تک دینے اور قبر میں لٹانے والے چار لوگ بھی نہ نصیب ہوئے۔
’’موت کب کس حال میں آئے گی؟‘‘ ایسا چیستان ہے جس کے سوالوں کا جواب کسی کو نہیں معلوم۔
اور دوسری طرف بظاہر کتنے ہی علانیہ گنہگار شان و شوکت سے سپرد خاک کیے جاتے ہیں اور جنازے کے شرکا کی ایسی کثرت دیکھنے کو ملتی ہے کہ زندہ لوگ رشک کرتے ہیں۔ قبرستانوں میں کس قبر میں کیا حالات ہیں کوئی نہیں جان سکتا۔ فاسق و فاجر، منافق اور متقی پرہیزگار سب دیکھنے میں مٹی کا ڈھیر ہیں۔
ہر قبر کے کتبے پہ آخری آرام گاہ تو لکھ دیا جاتا ہے مگر کون جانے یہ آرام گاہ پھولوں کا بستر ہے یا کانٹوں کی آماجگاہ۔
آخری آرام گاہ کی حقیقت کے بارے میں تو حشر کے میدان میں ہی معلوم ہو گا کہ اس بستر سے اٹھا کر کون کس حالت میں کن لوگوں کی معیت میں کھڑا کیا جاتا ہے، پژمردہ، کسلمند، آنے والے حالات سے خوف زدہ یا مطمئن، خوش اور ہشاش بشاش۔
اسی لیے تو دعا سکھائی گئی کہ چھوٹی موت کی آغوش میں جاتے وقت اس بڑی موت کے بعد کی کیفیت یاد رکھی جائے اور عذاب سے بچنے کی فکر کی جائے جس کا نقشہ جابجا قرآن پاک میں درج ہے۔
’’جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے‘‘۔ (الزاریات: ۴۴)
’’لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹِڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے‘‘۔ (القمر: ۷،۸)
حشر کے دن مومنین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اپنے اپنے گروہ کے ساتھ ایک جگہ اکٹھے کئے جائیں گے۔ پھر عام فرماں برداروں کی گروہ بندی ہوگی۔
مجرمین کی الگ گروہ بندی ہوگی۔ غرض ہر کسی کو قبر سے نکلتے وقت خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ اسے کس گروہ میں جا کر کھڑا ہونا ہے اور میرا اب انجام کیا ہونے والا ہے۔ اور اس دن حسبِ حال گروہ میں شمولیت اور ظاہری و باطنی کیفیت زبانِ حال بتا رہی ہو گی کہ یہ کسی آرام گاہ سے اٹھ کر آیا ہے یا کانٹوں کے بستر سے۔
آج سے ہر رات اپنے بستر پہ جا کر ہم نے اگلے دن کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ فکر بھی کرنی ہے کہ اگر اس آرام دہ بستر پہ چھوٹی موت، حقیقی موت بن گئی تو آخری آرامگاہ اس عارضی بستر سے بہتر ہوگی یا نہیں اور وہاں سے جاگنے کے بعد، محشر جیسے طویل ترین دن میں ہمارا کیا حشر ہونے والا ہے۔
٭٭٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x