بتول مارچ ۲۰۲۱امانت کا مفہوم اور اہمیت - مارچ ۲۰۲۱

امانت کا مفہوم اور اہمیت – مارچ ۲۰۲۱

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقیدہ سے لے کر عبادات اور اخلاق سے لے کر معاملات تک ہر معاملے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ان ہدایات کواللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے ذریعے مختلف قوموں اور علاقوں میں وقتاً فوقتاً بھیجتا رہااور ان پر وحی کے ذریعے اپنا پیغام القا کرتا رہا۔ یہ پیغامات ’’روح الامین‘‘ جبریلؑ کے ذریعے بھیجے جاتے۔اور نبی آخر الزمان ﷺکے اخلاق کی شان یہ تھی کہ وہ وحی ملنے سے پہلے بھی اپنی قوم میں’’ امین ‘‘ کا لقب پا چکے تھے۔ یعنی یہ پیغام بھی ایک امانت تھا جو روح الامین کے ذریعے ایک امین ہستی کی جانب بھیجا گیا، جن کے امانت دار ہونے کا پورا معاشرہ گواہ تھا۔
قرآن کریم میں امانت اور امانات (جمع کا صیغہ)کا تذکرہ پانچ مقامات پر آیا ہے اور اتباع، عہد اور جوابدہی کا پیغام دے رہا ہے، البتہ سورۃ البقرہ میں اسے مالی امانت اور اس کی ادائیگی کے مفہوم میں بیان گیا گیا ہے۔یعنی جسے کوئی مال امانت کے طور پر دیا جائے، یا جس نے قرض لیا ہو تو اس کی واپسی کو یقینی بنائے۔
امانت کے معنی
امانت ’’امن‘‘ سے ہے جس کے معنی طمانیت ِ نفس اور عدم خوف کے ہیں،اور یہ کسی چیز کو کسی کے سپرد کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ پس امانت ایسی چیز ہے جس پر کسی کو مامون مقرر کیا جائے۔ امانت کا متضاد ’’خیانت‘‘ ہے۔ اصطلاح میں امانت سے مراد ہر وہ حق ہے جس کی ادائیگی اور حفاظت آپ پر لازم ہے۔
راغب اصفہانی ؒ کہتے ہیں: امانت سے مراد مختلف قسم کی اشیا ہیں جو ایک محدود وقت کے لیے کسی کے پاس رکھوائی جاتی ہیںاوراسے ان پر امین بنایا جاتا ہے، انہیں واپس لوٹانا ہوتا ہے۔اور اس سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو عقل قبول کرتی ہے اور ان کا رد نہیں کر سکتی جیسے ’’لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی امانت، جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق انسان نے قبول کی (ہم نے اس امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا )۔
کفوی ؒکہتے ہیں :کہ اس سے مراد یہ ہے کہ: جو کچھ بندوں پر فرض کیا گیا ہے وہ ایک امانت ہے، جیسے نماز اور روزہ، زکوٰۃ اور قرض کی ادائیگی کرنا، اور سب سے زیادہ تاکید ان امانتوں کی ہے جوکسی شے کی صورت میں آپ کے سپرد کی جاتی ہیں، اور راز بھی ایک امانت ہے جس کے چھپانے کی تاکید کی گئی ہے۔
امانت کی تین قسمیں ہیں:
۱۔عفاف الامین: اس کی حفاظت کرنا اور اسے بچا کر رکھنا ہے۔وہ شے اس کی ہے نہ اس میں اس کا کوئی حق ہے، وہ دوسروں کے لیے اس کی حفاظت کرے۔
۲۔ اداء الامین: امانت داری ادا کرنا، اور اس سے مراد دوسروں کے حقوق ہیں، اور وہ ذمہ داریاں جو اہل افراد کے سپرد کی جائیں۔
۳۔ حرص الامین: وہ اسے چھپا کر رکھے، اور اس کی حفاظت میں کوئی کسر نہ چھوڑے۔جہاں خرچ کی ضرورت ہو وہاں کرے، اور جہاں بچایا جا سکتا ہو بچائے۔
قرآن کریم میں امانت کے ضائع کرنے کو خیانت کہا گیا ہے، ارشادِ الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو، اور اپنی امانتوں میں غدّاری کے مرتکب نہ ہو‘‘۔ (الانفال، ۲۷)
یہاں ’’اپنی امانتوں‘‘ سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیںجو کسی پر اعتبار کر کے اس کے سپرد کی جائیں، خواہ وہ عہدِ وفا کی ذمہ داریاں ہوں، یا اجتماعی معاہدات کی، یا جماعت کے رازوں کی، یا شخصی اور جماعتی اموال کی، یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شخص پر بھروسا کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۱۳۹)
امانت کے مفہوم کی وسعت
اس کرہ ارض پر امت مسلمہ کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں، ان کو ترک کرنا اور ان سے دست بردار ہو جانا خدا اور رسولؐ کے ساتھ خیانت ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ِ ایمان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس دنیا پر عملی جدو جہد سے اللہ کا کلمہ بلند کرنا ضروری ہے، چاہے مال قربان کرنا پڑے یا جان کی قربانی دینا پڑے۔ اور خلیقۃ اللہ کی حیثیت سے جو ذمہ داریاں اس پر عائد کی گئی ہیں ان سے دست کش ہوناخیانت ہے۔اور جو مسلمان ان فرائض کو ادا نہیں کرتا گویا اس نے امانت کا بار اٹھانے میں کوتاہی کی ہے اور وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ؐ کی بیعت کو توڑ رہا ہے اور اس میں خیانت کر رہا ہے۔(دیکھیے: فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)
حفظِ امانت کی ترغیب
قرآن کریم ترغیب دیتا ہے کہ کسی کو ذمہ داری سپرد کرتے ہوئے اس کی اہلیت کو مدّنظر رکھا جائے:
’’مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیںاہلِ امانت کے سپرد کرو‘‘۔ (النساء، ۵۸)
یعنی مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا کہ نا اہل ، کم ظرف، بد اخلاق، بد دیانت اور بد کردارلوگوں کو امانتیں سپرد کرو۔ بلکہ ان افراد کو امانت کا بار اٹھانے کے لیے منتخب کرو جو با صلاحیت ہوں۔
امانت داری کے فضائل
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو امانت داری کی صفت اختیار کرنے اور امانتوں کی ادائیگی کا حکم دیا ہے؛ امانت کے انفرادی واجتماعی طور پر بہت عمدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں:
٭ یہ ایمان کے کامل ہونے اور اس کی قوت کی دلیل ہے، کیونکہ مومن خائن نہیں ہوتا۔
٭ امانت داری بنیادی اوصاف میں سے ہے جو پوری زندگی کے اعمال پر اثرانداز ہوتی ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے اپنے فلاح پانے والے مومنوں کی صفت کے طور پر اسے بیان کیا ہے: ’’اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگہداشت کرتے ہیں‘‘۔ (المؤمنون، ۸)
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو امانت کی ادائیگی کی ترغیب دی ہے اور اس پر اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ امانت کی ادائیگی واجب ہے اور خیانت کی تمام شکلوں سے منع کیا ہے اور اسے منافق کی صفات میں شمار کیا ہے۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’صدقات کو اللہ کی خاطر درست طریقے سے تقسیم کرنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، حتیٰ کہ وہ واپس لوٹ آئے‘‘۔ (رواہ الالبانی، رقم ۷۷۳، حدیث حسن)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’امانت دار خازن، جو دل کی خوشی سے مقرر کردہ مال لوگوں میں تقسیم کرتا ہے، وہ صدقہ کرنے والوں کی مانند ہے‘‘۔ (رواہ البخاری، ۲۲۶۰)
امانت ایک بہت بڑی اور بنیادی اخلاقی خوبی ہے، جو نہ صرف قومی طور پر تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے بلکہ یہ ایسا وصف ہے جو لوگوں کے دلوں میںالفت پیدا کرنے، محبت بڑھانے، اور ایک دوسرے کی تکریم کا ذریعہ ہے۔ کسی بھی قوم کا اخلاق اس کی تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے، اور جو لوگ امانت کے زیور سے آراستہ ہوتے ہیںوہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے اموال کی بھی!امانت دار شخص صرف آخرت میں ہی خیر نہیں پائے گا بلکہ اسے دنیا کی حسنات بھی ملیں گی۔
امانت کا تعلق محض دین سے نہیں ہے، بلکہ ہر دین کے ماننے والوں میں امین بھی ہوتے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ نے یہود کی اخلاقی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دوتو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ‘‘۔(سورۃ آل عمران، ۷۵)
امانت دار رسول
رسول اللہ ؐ تمام نوع ِ انسانی کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔آپؐ کی زندگی میں امانت داری کی بہترین مثالیں ہیں، نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی! بعثت ِ نبویؐ سے چند برس پہلے تعمیر ِ کعبہ کے موقع پر حجر ِ اسودنصب کرنے کے موقع پر پیدا ہونے والے جھگڑے کو اپنی بہترین تدبیر سے حل کر دیا تھا۔آپؐ کے اعلیٰ اخلاق، سچائی اور امانت داری نے حضرت خدیجہ ؓ کو آپؐ سے نکاح پر مائل کیا تھا۔
بعثت کے بعد آپؐ نے سب سے بڑھ کر پیغمبری کی امانت کا حق ادا کیا، اور اس میں کسی مخالفت کی پروا کی نہ ملامت کرنے والوں کی ملامت کی۔
طاقت ور امین
حضرت موسیٰؑ کو مدین میں ایک کنویں کے پاس دو عفت مآب لڑکیاں نظر آئیں، جو اپنے جانوروں کو پانی پلانا چاہتی تھیں، حضرت موسیؑ نے ان کی مدد کی، ان کے والد نے حضرت موسیٰؑ کو اجرت دینے کے لیے بلایا تو ان کی صاحبزادی نے والد سے ان کی دو صفات بیان کیں، تاکہ انہیں ملازم رکھ لیا جائے، یعنی طاقت اور امانت۔
’’بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو‘‘۔ (القصص، ۲۶)
اور یہ دونوں صفات صالح خاندان کی بنیاد کے لیے اس قدر ضروری ہیں کہ والد نے انہیں بیٹی سے نکاح کی پیش کش کر دی۔
خیر خواہ امین
حضرت ہودؑ نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام دیتے ہوئے اپنی دو صفات کا ذکر کیا:
’’میں ربّ العالمین کا رسول ہوں، تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جو امانت دار(قابلِ بھروسہ) ہے‘‘۔ (الاعراف، ۶۸)
ایمان اور امانت
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں‘‘۔ (مسند احمد، ۱۲۴۰۶)
اس سے مراد ایمان ِ کامل ہے، کیونکہ امانت ایمان کا ماحصل ہے۔انسان کے اعضاء میں جو حیثیت دل کو حاصل ہے وہی اعمال میں امانت داری کو حاصل ہے۔امانت جسم کے سات اعضاء میںبمنزلہ قلب پائی جاتی ہے؛ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، پیٹ اور شرم گاہ۔ جس نے اس کے ایک جز کو ضائع کیا اس نے اپنے ایمان کو بیمارکرلیا، اور اس کے ایمان میں سے اتنا حصّہ کم ہو گیا۔(فیض القدیر شرح جامع الصغیر، ج۶،ص۳۸۱)
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو خالص رکھے اور توحید میں شرک کی ملاوٹ کر کے اس میں خیانت نہ کرے۔اور اپنی عبادت کو ریا اور شہرت سے آلودہ کر کے اس میں خیانت نہ کرے۔
عمل اور معاملات میں امانت داری
رسول کریم ؐ کی زندگی سچائی اور امانت داری کا بہترین نمونہ تھی، ایک ایسی ہستی جو نبوت سے پہلے بھی اپنے معاشرے میں ’’امین‘‘ کہلاتی تھی، جن کی امانت داری کا یہ حال تھا کہ مکہ میں دشمن بھی اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھواتے، ہجرت ِ مدینہ کرتے ہوئے ان امانتوں کی ادائیگی کا آپؐ کو اس قدر احساس تھا کہ حضرت علی ؓ کو اس کام پر مامور کیا کہ سب کی امانتیں لوٹا کر مدینہ آئیں۔
معاملات میں آپؐ نے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کے حوالے سے امین قرار دیا، آپؐ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک راعی ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا‘‘۔ (رواہ مسلم، ۴۸۲۸)
امانت اور قیامت
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ ؐ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک اعرابی آیا اور پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہؐ بات کر رہے تھے آپؐ نے بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس کی بات کو پسند نہیں کیا،اور بعض نے کہا کہ آپؐ نے اس کی بات سنی نہیں ۔ جب آپؐ نے بات ختم کر لی تو پوچھا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: میں یہ ہوں یارسول اللہ ؐ۔ آپؐ نے فرمایا: جب امانت ضائع ہونے لگے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔ وہ بولا: وہ کیسے ضائع ہو گی؟ فرمایا: جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا‘‘۔(رواہ البخاری، ۵۹)
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ؐ سے پوچھا: ’’آپؐ مجھے کسی جگہ کا عامل نہیں بناتے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے میرے کندھے کے پیچھے ہاتھ مار کر کہا: اے ابوذرؓ، تو کمزور ہے، اور یہ تو ایک امانت ہے، اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگی، سوائے اس کے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور جو ذمہ داری اس پر عائد تھی اس کو ادا کیا‘‘۔ (رواہ مسلم، ۴۸۳۰)
مؤمنانہ خصلت
امانت داری مومنانہ خصلت ہے، خیانت کو منافق کی خصلت شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے‘‘۔ (رواہ البخاری، ۳۳)
امانت کی صورتیں
امانت ایک وسیع اخلاقی صفت ہے، جس کے دو پہلو ہیں؛
۱۔ وہ امانتیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے۔
۲۔ وہ امانتیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔
٭ دین، اور اس کی امانت سب سے اہم ہے۔اور یہ تمام انسانوں کے کندھوں پر ہے۔ اور اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سامنے اس امانت کو ادا کرے، یعنی اسی طرح ان تک اس دین کا پیغام پہنچائے جس طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیھم السلام نے پہنچایا ہے۔اور ان کے بعد علماء اور دین کے داعی اس کے لیے کوششیں کرتے رہے۔عبادات اور فرائض کی ادائیگی بھی امانت ہے، جو اللہ کی جانب سے عائد کی گئی ہے، اور انہیں اسی طریقے سے ادا کرنا جیسے اللہ کے نبیؐ نے سکھائی ہیں۔
٭ دوسروں کے مال، یہ بھی امانت کے زمرے میں ہیں، کہ جو مال آپ کی ملکیت نہیں، وہ دوسروں کی امانت ہے۔اسی طرح مسلمان کے مال میں دوسرے لوگوں کے حقوق رکھے ہیں، جیسے والدین، قرابت دار اور حاجت مند۔ اور یہ مال بھی اس کے پاس امانت ہیں، اس لیے ان کی حفاظت بھی اسی طرح کرنا لازم ہے جیسے وہ اپنے مال کی کرتا ہے۔
٭ دوسروں کی عزت؛ ہر مسلمان دوسروں کے معاملات میں تجسس اور غیبت اور قذف سے بچ کر رہے۔ ہر مسلمان خود کو دوسروں کے ہاتھ اور زبان سے محفوط تصور کرے، ہر ایک دوسروں پر دست درازی اور عزت پر ہاتھ ڈالنے سے خود کو مامون سمجھے۔
٭علوم و فنون؛ ہر صاحب ِ علم و فن اپنے علم اور مہارت کے لیے ایک امین کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوسروں میں منتقل کرے۔
٭ حکومت کی ذمہ داری ؛ہر صاحبِ امر امین ہے، کہ وہ حکومت کا انتظام اور ذمہ داریاں اہل لوگوں کے سپرد کرے،اور مملکت کے رازوں کی حفاظت کرے۔وہ اپنی رعایا کے حقوق کی حفاظت بھی کرے اور ان تک خالص دین پہنچانے کی کوشش کرے۔
٭ شہادت وگواہی؛ بھی ایک امانت ہے، جسے کسی کمی و زیادتی کے بغیر بیان کرنا ہی امانت داری ہے۔
٭ عدل و انصاف کے ایوان میں بیٹھے منصفین؛ امین ہیں کہ وہ حق و انصاف کے مطابق فیصلے کریں، اور جو امانت انہیں دی گئی ہے اسے عدل اور راستی کے ساتھ استعمال کریں۔
٭ کاتب؛ جب لکھنے کا فریضہ ادا کرے تو امانت داری کے ساتھ سچی دستاویز لکھے اور اس میں تحریف نہ کرے، نہ ہی حقائق کو مسخ کرے۔
٭ راز ؛ بھی امانت ہیں کہ انہیں چھپا کر رکھا جائے۔
٭داعی؛ بھی امین ہے کہ وہ حق کے پیغام کو لفظا ً لفظاً بھی پہنچائے، اور عملی طور پر بھی، اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔
٭ قوتیں؛ انسان کو جو قوتیں اور طاقتیں ملی ہیں وہ بھی ایک امانت ہے، زبان، نگاہ، سماعت، اور جسم و جان کو باطل راستوں میں نہ لگایا جائے، کیونکہ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت میں خیانت ہے۔
٭ اہل و عیال؛ بھی امانت ہیں،ان کی پرورش اور صحیح تربیت کی ذمہ داری بھی عائد ہے۔
٭ ہر شخص اپنے پیشے ، تجارت یا مہارت کو بھی اپنی بہترین صلاحیت استعمال کرتے ہوئے ادا کرے کہ جیسے ایک امین پورے اخلاص سے اپنا کام کرتا ہے۔
٭ زوجین؛ ایک دوسرے کے امین ہیں، شوہر بیوی کے رازوں کا اور بیوی شوہر کے۔ بیوی شوہر کے مال، اولاد اور گھر کی امین ہے۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن اللہ کے سامنے سب سے بری منزلت اس شخص کی ہو گی جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے، اور پھر اس کے راز کا افشا کر دیتا ہے‘‘۔(رواہ مسلم، ۱۴۳۷)اور یہ امانت کی سب سے بڑی خیانت ہے۔
قرآن کریم میں سورۃ المطففین میں ناپ اور تول میں گھاٹا دینے والوں کو ملامت کی گئی ہے۔اور یہ رہنمائی ہر پیشے کو اختیار کرنے والوں کے لیے ایک معیار ہے، کہ لینے اور دینے کے پیمانے الگ نہ رکھیں۔ جہاں تجارت میں دھوکے کو ناپسندیدہ قرار دیا اور آپؐ نے فرمایا: ’’جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں‘‘، وہاں یہ بھی فرمایا: ’’سچا تاجر انبیا، صدیقین اور شہداکے ساتھ ہو گا‘‘۔ (البیھقی،۱۰۷۱۹)
تجارت میں تاجروں کا مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیاء کی قیمتیں بڑھانا، اور اپنے لوگوں کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کر کے منافع کے ناجائز طریقے اختیار کرنا بھی خیانت میں شامل ہے۔موجودہ زمانے میں تاجروں کا اشیا پر درج ’’تاریخ الانتہاء‘‘ یا ایکسپائری کی تاریخ کو بدل دینا یا چھپا دینا بھی نہ صرف خیانت میں شامل ہے بلکہ لوگوں کو مضر صحت اشیا بیچنے کا گھناؤنا فعل بھی ہے۔جو ادارے یا کمپنیاں مضر صحت اشیا تیار کرتی ہیں، یا صرف پیداوار بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کرتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضرر رساں ہیں وہ بھی قومی اور معاشرتی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔وہ ہسپتال اور ڈاکٹر جو محض اپنے نفع کو بڑھانے کے لیے مریض کوبلا حقیقی ضرورت مختلف ٹیسٹ اور سرجری اور دوائیں لکھ کر دیتے ہیں وہ بھی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
امانت کا اٹھایا جانا
حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ؐ نے دو باتیں بیان فرمائیں۔ ان میں سے ایک کو میں نے دیکھ لیا ہے اور دوسری کا منتظر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تھا: ’’امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ (گہرائی) میں اتری (یعنی اسے فطرت کا حصّہ بنایا گیا) پھر قرآن نازل ہؤا اور انہوں نے اسے قرآن اور سنت سے جانا۔ پھر آپؐ نے ہمیں بتایا کہ امانت اٹھ جائے گی۔ آپؐ نے بتایا کہ آدمی سوئے گا اور امانت (اس کے دل سے) قبض کر لی جائے گی، پس اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح رہ جائے گا، پھر وہ سوئے گااور امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، پس اس کا اثر آبلے کی مانند باقی رہ جائے گا، جیسے ایک انگارہ ہو اور تو اسے اپنے پیر پر لڑھکائے تو اس سے چھالہ نمودار ہو جائے، پس تو اسے ابھرا ہؤا دیکھتا ہے اور اس میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر آپؐ نے ایک کنکری لی اور(مثال سمجھانے کے لیے) اسے پیر پر لڑھکایا۔ پس لوگ صبح کے وقت باہم خرید و فروخت کرتے ہوں گے، ان میں سے کوئی امانت ادا کرنے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ہو گا، حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کی اولاد میں ایک امانت دار آدمی تھا (یعنی امانت دار اتنے کمیاب ہو جائیں گے ،اور ایمان بھی اسی طرح عنقا ہو جائے گا) حتی کہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کس قدر مضبوط، ہشیار اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہو گا۔حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ مجھ پر ایک ایسا وقت گزر چکا ہے جب مجھے یہ پروا نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے خرید و فروخت کروں، اس لیے کہ اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین مجھ پر میری چیز لوٹا دے گا اور اگر عیسائی یا یہودی ہے تو اس کا ذمہ دار مجھے میری چیز واپس کر دے گا لیکن آج میں تم میں سے صرف فلاں فلاں آدمی سے خرید و فروخت کرتا ہوں‘‘۔ (متفق علیہ)
حضرت حذیفہؓ اور ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: قیامت کے دن (پل صراط پر)امانت اور صلہ رحمی کو چھوڑا جائے گا، اور وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی ہو جائیں گی، پس تمہارا پہلا گروہ بجلی کی طرح (سرعت سے) گزر جائے گا…پھرہوا کے گزرنے کی طرح، پھر پرندے کے گزرنے کی طرح اور پیادہ تیز دوڑنے والے مضبوط ترین آدمیوں کو ان کے اعمال لے جائیں گے، اور تمہارے پیغمبرؐ پل صراط پر کھڑے ہوں گے اور فرماتے ہوں گے، اے میرے رب بچا، بچا! یہاں تک کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت ہی نہیں رکھے گا، وہ صرف گھسٹ کر چلے گااور پل صراط کے دونوں طرف آنکڑے (لوہے کے مڑے ہوئے ٹکڑے) لٹکے ہوں گے، جنہیں حکم دیا گیا ہے کہ جس کے بارے میں حکم ہو اسے پکڑ لیں، پس بعض زخمی ہوں گے لیکن نجات پا جائیں گے اور بعض کو اندھا کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہؓ کی جان ہے، یقیناً جہنم کی گہرائی ستر سال (کی مسافت کے برابر)ہے۔(رواہ مسلم)
امانت کا تعلق عقیدے سے بھی ہے اور عمل سے بھی، خواص سے بھی اور عوام سے بھی! جب دل امانت کی قدر جان لیں تو یہ انفرادی زندگی سے ہوتی ہوئی اجتماعی ثمرات بھی لاتی ہے، ورنہ خائن افرادِ معاشرہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور آخرت میں تو ان کا کوئی حصّہ ہی نہیں۔

٭٭٭

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here