ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

احساس کی لہریں – عصمت اسامہ حامدی

مسز بیگ اپنے سامنے قدآدم آئینے میں خود کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود پیپر سے دیکھ کر تقریر یاد کر رہی تھیں ۔
’’ تم عورت ہو مگر مرد کے شانہ بشانہ کام کرتی ہو ،تم دکھ درد کی ساتھی ہو ، تم ٹھنڈا سایہ ہو جس کی چھاؤں میں تھکے ہارے آرام کرتے ہیں اور تازہ دم ہوجاتے ہیں ،تم مرض کی دوا ہو ،تم فیملی کی مسیحا ہو ،دنیا کے دیے ہوئے زخموں کا مرہم ہو ،تم جاب کرتی ہو ،گھر چلاتی ہو ،تم ماں ہو تو جنت تمہارے قدموں تلے ہے ،تمہاری عظمت سے کون انکار کرسکتا ہے…. ‘‘
یہاں رک کر مسز بیگ نے ایک نظر خود پر ڈالی اور بے اختیار تالیاں بجا کر خود کو داد دی ،کل صبح یہ تقریر انھیں ایک کانفرنس میں کرنی تھی۔ پھر انہوں نے اپنی وارڈروب سے نیا ڈریس نکالا، لائٹ گرے سوٹ پر سلور ڈیزائننگ بہت گریس فل لک دے رہی تھی ۔ کل کا میلہ میرا ہی ہوگا ،وہ دل میں سوچتے ہوئے سونے چل دیں مگر اچانک میسج ٹون نے موبائل کی طرف متوجہ کردیا ۔
دوسری طرف ان کی پرانی دوست فاکہہ تھی جو چند روز قبل دوبئی سے فیملی کے ہمراہ پاکستان آئی تھی اور مسز بیگ نے اسے کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی تھی۔ مسزبیگ نے فون پر کانفرنس کی تفصیلا ت بتائیں اور ٹائم پر پہنچنے کی تاکید کی ۔مسز بیگ ایک این جی او کے ساتھ کام کر رہی تھیں جو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بہت سرگرم تھی اور آئے دن کوئی نہ کوئی پروگرام یا کانفرنس کرواتی رہتی تھی ۔ مسز بیگ اس کی ریجنل برانچ سیکرٹری تھیں اور ایلیٹ کلاس سے فنڈنگ بھی کرتی تھیں ، سوشل ورک کے حوالے سے بھی ان کا بہت نام تھا۔
اگلا دن انتہائی مصروفیت کا دن تھا ،مقامی لگژری ہوٹل میں میڈیا پرسنز اور اینکر خواتین بھی مدعو تھیں ۔اندرون اور بیرونِ ملک سے مہمان لیڈیز کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ۔کچھ دیر بعد کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ، معزز مہمان تقاریر سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھیں۔وقتاً فوقتاً اٹھنے والی تالیوں کی گونج ،کامیاب ایجنڈے کی عکاسی کر رہی تھی۔
دوسری طرف فاکہہ اپنی جواں سال بیٹی کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے نکل تو پڑیں مگر پورے دس سال بعد وطن واپس آنے کی وجہ سے راستے کی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ایک جگہ ٹریفک جام میں گاڑی پھنسی تو پون گھنٹے بعد خلاصی ہوئی ۔
’’ماما ، ہم بہت لیٹ ہوگئے ہیں ،گھر سے بھی دیر سے نکلے تھے ، گوگل میپ کے باوجود راستوں کی سمجھ نہیں آرہی تو اب کیا کریں ؟اب تو کانفرنس ختم ہونے والی ہوگی‘‘ بیٹی نے کہا۔
’’ اچھا ، ایسا کرتے ہیں کہ ہوٹیل کی بجائے اس کے گھر چلتے ہیں ، اس کا راستہ مجھے یاد ہے‘‘ فاکہہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
جلد ہی وہ مسز بیگ کی گیٹ بیل دے رہی تھیں۔ گارڈ نے گیٹ کھولا اور سلام کر کے کہنے لگا کہ میڈم تو گھر نہیں ہیں مگر چھوٹی بی بی اندر موجود ہیں ۔
’’اوکے ہم ان سے مل لیتے ہیں تب تک شاید مسز بیگ بھی آجائیں‘‘، فاکہہ یہ کہتے ہوئے گھر میں داخل ہوگئیں مگر ایک سناٹا سا محسوس کر کے رک گئیں۔ پھر گارڈ نے ایک کوریڈور کی طرف اشارہ کیا جہاں چھوٹی بی بی کا روم تھا۔ انھوں نے دو تین بار دستک دی تو اندر سے نحیف سی آواز آئی ۔
’’ آجائیں‘‘۔
فاکہہ ،اپنی بیٹی کے ساتھ روم میں داخل ہوئی تو ایک حیرت کدہ منتظر تھا۔ ایک کمزور سی لڑکی جو بمشکل انیس بیس برس کی ہوگی ،بیڈ پر لیٹی تھی اور ساتھ ایک پیارا سا نومولود بچہ سو رہا تھا ۔ بیڈ پر پیمپرز اور بچے کے کپڑوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر بھی پڑا تھا اور سائیڈ ٹیبل پر پانی کی بوتل اور گلاس۔ لڑکی انھیں دیکھ کے کچھ حیران ہوئی اور اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر درد کی شدید لہر نے اسے نڈھال کردیا ،اس کا پیلا چہرہ مزید زرد پڑگیا۔
’’ ارے ،بیٹھو بیٹھو ، بلکہ ہم تمہارے پاس بیٹھ جاتے ہیں ‘‘، فاکہہ نے بچے کے تولیے اور پیمپرز کو سائیڈ پر کرتے ہوئے جگہ بنائی’’ تم کون ہو بیٹی اور اس حالت میں تنہا کیوں ہو ؟‘‘ فاکہہ نے بے ساختہ پوچھا۔
’’میں مسز بیگ کی بہو ہوں اور یہ ان کا پوتا ہے ، میری امی وفات پا چکی ہیں ورنہ وہ مجھے اس حالت میں کبھی تنہا نہ چھوڑتیں ، بہن کوئی ہے نہیں۔ تین روز قبل میرا سیزیرین ہؤا ہے تو اٹھنا بیٹھنا مشکل ہے ، آنٹی آپ پلیز گارڈ سے کہیں کہ آپ کے لیے کولڈ ڈرنکس لے آئے‘‘ لڑکی کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔
’’ کوئی ضرورت نہیں ،ہم گھر سے کولڈ ڈرنکس پی کر ہی آئے ہیں ‘‘ فاکہہ نے تسلی دی۔
’’ یہ بتاؤ کہ آپ کے شوہر کس وقت آتے ہیں ؟ ‘‘ فاکہہ نے پوچھا۔
’’ وہ رات کو دیر سے آتے ہیں اور پھر جلد سوجاتے ہیں کیوں کہ صبح آفس جانا ہوتا ہے‘‘ لڑکی نے نحیف سی آواز میں کہا ۔
’’ آنٹی ذرا گارڈ انکل سے کہیں کہ چائے بنادے ، میرا دل ڈوب رہا ہے‘‘ ،اس نے یہ کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں تو فاکہہ اٹھ کے باہر نکل گئیں۔
کچھ دیر کے بعد مسز بیگ گھر داخل ہوئیں اور اپنے روم میں جا کے ڈریس چینج کر رہی تھیں کہ بہو کے کمرے سے آنے والی آوازوں نے انھیں چونکا دیا۔جب بہو کے کمرے میں داخل ہوئیں تو آگے منظر انھیں حیران اور شرمسار کرنے کے لیے کافی تھا ۔
ان کی دوست فاکہہ اپنے ہاتھ سے ان کی بہو کو سوپ پلا رہی تھی اور اس کی ’’بس کافی پی لیا ‘‘ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اصرار کر کے مزید پلا رہی تھیں کہ کچھ صحت ہوگی تو بچے کو سنبھال سکو گی، ان کی بیٹی ،روتے ہوئے بے بی کو گود میں لے کر کمرے میں ٹہل رہی تھی ۔ کمرے کی صفائی بھی ہوچکی تھی اور ہر چیز چمک رہی تھی ،سب سے زیادہ چمک اس محبت اور احساس کی تھی جس کی نرم گرم لہریں پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھیں۔
مسز بیگ کے قدم دہلیز پر گڑے کے گڑے ہی رہ گئے !
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x